وہ جس نے باغ اُگایا ہے پھول بھی دے گا
-
وہ جس نے باغ اُگایا ہے پھول بھی دے گا دیے ہیں لفظ تو حسنِ قبول بھی دے گا یہ لَو سنبھال کے رکھو اگر چراغ ہو تم یہ رات ہے تو خدا اِس کو طول بھی دے گا مسافرت میں ہیں کیا پیرہن کی فکر کریں جو راستہ ہمیں گھر دے گا دُھول بھی دے گا زمانہ مجھ کو سکھا دے گا جنگ کے آداب وہ زخم ہی نہیں دے گا اُصول بھی دے گا کبھی تو کوئی پڑھے گا لکھا ہوا میرا کبھی تو کام یہ شوقِ فضول دے گا