عرفان صدیقی

عرفان صدیقی

تشنہ رکھا ہے نہ سرشار کیا ہے اُس نے

    تشنہ رکھا ہے نہ سرشار کیا ہے اُس نے میں نے پوچھا ہے تو اقرار کیا ہے اُس نے گر گئی قیمتِ شمشاد قداں آنکھوں میں شہر کو مصر کا بازار کیا ہے اُس نے وہ یہاں ایک نئے گھر کی بنا ڈالے گا خانۂ درد کو مسمار کیا ہے اس نے دیکھ لیتا ہے تو کھلتے چلے جاتے ہیں گلاب میری مٹی کو خوش آثار کیا ہے اس نے دوسرا چہرہ اس آئینے میں دکھلائی نہ دے دل کو اپنے لیے تیار کیا ہے اس نے