Toggle navigation
شاعری
نظم
غزل
مثنوی
نعت
حمد
قصیدہ
قطعہ
نثری نظم
شعری تراجم
شعری مزاح
نثر
نثر نگار
افسانہ
ناول
ناولٹ
ڈرامہ
خاکہ
مضامین
ادبی کالم
یاداشتیں
تنقید
نثری تراجم
انشائیے
فنون-لطیفہ
موسیقی
مصوری
خطاطی
رقص
فن تعمیر
رسائی ادب
سلام
مناقب
مرثیہ
شعرا
(current)
ای-کتاب
عالمی ادب
ارسال کریں
حمیدہ شاہین
لڑکیاں اور تتلیاں
ایک سی پرواز
ایک سے انداز
ایک جیسا حسن
ایک جیسا ناز
حسن اور نازکی
رنگ اور پرواز کی
ایک جتنی عمر
لڑکیاں ہیں تتلیاں
نظم
غزل
لغت محدود ہے
مائیں بوڑھی ہونا بھول چکی ہیں
لڑکیاں اور تتلیاں
میرا جی چاہتا ہے
اُلٹا چکر
پرائے موسم کا سود
پردیسی
دودھ کا جلا
جنگل
بھنور بنتی ہوئی راتیں ہماری
اُگتے ہوئے نہ روند ، لگے مت خراب کر
شجرِ سایہ نما ہم بھی ترے پاس جِیے
رابطے یوں ہوں کہ دل کی روشنی قائم رہے
کچھ نہ کچھ توڑتے رہتے ہیں بناتے ہوئے لوگ
میرے جوتے مِرے اپنے ہی لہو سے تَر ہیں
ذرا سا شر تھا اگر خیر سے نکل جاتا
مجبور انگلیوں نے وہ نمبر مِلا لیا
تفصیل کا نہیں وہ ،خُلاصوں میں بانٹ دے