حمیدہ شاہین

حمیدہ شاہین

دودھ کا جلا

    اک آہٹ سی دستک بن کر مرے دل کش رنگ بھرے خوابوں کی تال بنی پھر سر میں ڈھلی اک گیت لہو میں پھیل گیا میں اس کو پینگ بنا لیتی میں قوس قزح کو چھو آتی پر گیت کا سر ہی ٹوٹ گیا اور سپنا سارا جھوٹ ہوا اب پہر ڈھلے شب گلیوں میں جب گھومتی ہے جب آہٹ دستک بنتی ہے میں سوچتی ہوں ہے کون بھلا کوئی ہے بھی سہی