نینا عادل

نینا عادل

گھیرا

    من میں رستہ ڈھونڈ رہا ہے چڑھتی ندی کا شور بھیگ رہی ہے دھوپ سنہری ڈوب رہے ہیں پیڑ، پرندے ، بستی ، پربت ، ابر ڈول رہا ہے نیل گگن تک تن بھیتر بانہیں پھیلائے گھیرا ڈالے چھینٹ اُڑائے لہر لہر میں جادو منتر رکھ دے روپ سروپ بدل کر او ری میا پانی رستہ کیسے ڈھونڈے دیکھ سنبھل کر