نینا عادل

نینا عادل

سماں باندھو

    سماں باندھو ! کہ شب کی سرد خلوت میں اُترتی نیند کی پریاں کوئی اچھا شگن لائیں سمے کی بوڑھی آنکھوں میں شراب ِ غم بھی ہے لیکن لطافت خواب کی لائیں مرے ہاتھوں میں اپنے ہاتھ دو پلکوں پہ بوسہ دو سرابوں سے کئی منظر چراتی گرم جوشی کو ابھی مت سرد پڑنے دو نجانے کس گھڑی کس پل دلوں میں آگ روشن ہو حقیقت کی حسین دیوی ہمیں عریاں نظرآئے ہمیں تاب ِ نظارہ ہو ہمیں اس کیفیت میں رقص اندر رقص کرنا ہے سماں باندھو ! کہ ناچے توڑ کے بیرون کی زنجیر ہر لمحہ کہ آزادی کا دھن برسے درون ِ دل ہراک تاریک گوشہ جھلملا اُٹھے سماں باندھو ! ہے مدو جزر کی یہ آخری ساعت خمارِ آرزو اب دھیرے دھیرے ختم ہونا ہے بنام ِ خواب و بیداری ابد آثار رخصت کا قرینہ جاننے والی ہوا کے نرم سینے پر ہمیں سر رکھ کے سونا ہے