سید سبط علی صبا

سید سبط علی صبا

جلتے جلتے بجھ گئی اک موم بتی رات کو

    جلتے جلتے بجھ گئی اک موم بتی رات کو مر گئی فاقہ زدہ معصوم بچی رات کو آندھیوں سے کیا بچاتی پھول کو کانٹوں کی باڑ صحن میں بکھری ہوئی تھی پتی پتی رات کو کتنا بوسیدہ دریدہ پیرہن ہے زیبِ تن وہ جو چرخہ کاتتی رہتی ہے لڑکی رات کو صحن میں اک شور سا ہر آنکھ ہے حیرت زدہ چوڑیاں سب توڑ دیں دلہن نے پہلی رات کو جب چلی ٹھنڈی ہوا بچہ ٹھٹھر کر رہ گیا ماں نے اپنے لال کی تختی جلا دی رات کو وقت تو ہر ایک در پر دستکیں دیتا رہا ایک ساعت کے لئے جاگی نہ بستی رات کو