سید سبط علی صبا

سید سبط علی صبا

مسافروں میں ابھی تلخیاں پرانی ہیں

    مسافروں میں ابھی تلخیاں پرانی ہیں سفر نیاہےمگر کشتیاں پرانی ہیں یہ کہہ کے اس نے شجر کو تنے سے کاٹ دیا کہ اس درخت میں کچھ ٹہنیاں پرانی ہیں ہم اس لئے بھی نئے ہم سفر تلاش کریں ہمارے ہاتھ میں بیساکھیاں پرانی ہیں عجیب سوچ ہے اس شہر کے مکینوں کی مکاں نئے ہیں مگر کھڑکیاں پرانی ہیں پلٹ کے گاؤں میں ِمیں اس لئے نہیں آیا مرے بدن پہ ابھی دھجیاں پرانی ہیں سفر پسند طبیعت کو خوفِ صحرا کیا صبا ! ہوا کی وہی سیٹیاں پرانی ہیں