ارادہ
ترجمہ: افضل احسن رندھاوا
پس پھر ہم ہی تھے وہ سستی مارے لوگ
جنہوں نے بوئیں اپنی امیدیں
کوڑے کرکٹ والے ڈھیر اور قبرستان کے درمیان
اور ہم عمر ہمارے، تڑکے تڑکے پہنچے
صحراؤں میں سے ہوتے ہوئے، بیجوں کی پرانی وادیوں میں
اب ہم کو کوسنے دیتے ہیں کیوں
غصے میں، چوزوں، بھیڑوں اور بکریوں سے لڑتے
اور خرچ کرتے ہوئے اپنی امیدوں کو
اپنے خوف کے گردا گرد اک باڑ بنانے میں