اُن نگاہوں کو ہم آواز کیا ہے میں نے
-
اُن نگاہوں کو ہم آواز کیا ہے میں نے تب کہیں گیت کا آغاز کیا ہے میں نے ختم ہو تاکہ ستاروں کی اجارہ داری خاک کو مائل پرواز کیا ہے میں نے آپ کو اک نئی خفّت سے بچانے کے لئے چاندنی کو نظر انداز کیا ہے میں نے آسمانوں کی طرف اور نہیں دیکھوں گا اک نئے دور کا آغاز کیا ہے میں نے اور بھی ہوں گے کئی چاہنے والے لیکن آپ کے نام کو ممتاز کیا ہے میں نے شاعروں سے جو ترے بعد کبھی ہو نہ سکا کام وہ حافظِ شیراز کیا ہے میں نے