محمد اظہار الحق

محمد اظہار الحق

اُس پر اس کا اثر تو کیا ہوگا

    اُس پر اس کا اثر تو کیا ہوگا دیکھ کر اور خوش ہُوا ہوگا کیسے اس بات کا یقیں آئے تو بھی اس خاک سے بنا ہوگا جو بھی ملتا ہے پوچھ لیتا ہوں سوچتا ہوں اسے پتا ہوگا صرف ہم جان سے ہی جائیں گے تیرے جانے سے اور کیا ہوگا راستہ میں کہیں کھڑا ہوگا پھر خلاؤں میں تک رہا ہوگا رہگذاروں میں آج بھی تنہا کوئی دیوانہ گھومتا ہوگا