نیا ذائقہ ہے مزہ مختلف ہے
-
نیا ذائقہ ہے مزہ مختلف ہے غزل چکھ کے دیکھ اِس دفعہ مختلف ہے سنو ! تم نے دنیا پھری ہے پرندو یہ تنہائی کیا ہر جگہ مختلف ہے؟ صدا کام کیسے کرے گی یہاں پر گلی تو وہی ہے گلہ مختلف ہے ہماری تمہاری سزا اک نہیں کیوں؟ ہماری تمہاری خطا مختلف ہے؟ تم اب تک منافق دلوں میں رہی ہو میرے دل کی آب و ہوا مختلف ہے وہ روتے ہوئے ہنس پڑا اور بولا خدا آدمی سے بڑا مختلف ہے