ہر اک جابر سے انکاری رہے گی
-
ہر اک جابر سے انکاری رہے گی محبت حمد ہے جاری رہے گی یونہی نادعلی پڑھتا رہوں گا میری للکار دو دھاری رہے گی تو کیا پھر ملتوی سمجھوں یہ بوسہ یہ تیاری بھی تیاری رہے گی بھلے تم جس قدر آنسو بہا لو اداکاری! اداکاری رہے گی ہم ایسے کہنے والے جب تلک ہیں غزل بندوق پہ بھاری رہے گی علی اک شعر ایسا سن لیا ہے کئی دن تک تو سرشاری رہے گی