گائیکی
گائیکی
1947ء سے قبل
ریڈیو کشمیر سے ا وپربراڈ کاسٹ ہونے سےقبل آل انڈیا ریڈیو کے کئی سٹیشنوں میں اس فنِ تحریر کو کئی نامور شاعروں نے جن میں مختار صدیقی، سلام مچھلی شہری، ساغر نظامی، رفعت سروش و غیرہ اپنے اظہار کا ذریعہ بنایا تھا اُس کے بعد عمیق حنفی نے بھی اوپر لکھے ہیں۔ ہندی بھاشا میں کئی اوپرا اور سنگیت روپک لکھے گئے ہیں۔ اور اب بھی یہ سلسلہ تحریر و پیش کش جاری ہے۔ بلکہ یوں کہنا مناسب سا لگتا ہے کہ ٹیلی ویژن کی بدولت اوپرا پیش کرنے میں سٹیج کا سالطف آنے لگا ہے۔ ٹیلی ویژن تو بیلے (BELLET) پیش کرنے کے لئے موزون ذریعہ اظہار و تفریخ ثابت ہوا ہے۔
اُردو غزل گائیکی
برصغیر پاک و ہند میں غزل خوانی یا گائیکی کے سلسلے میں کہا گیا ہے کہ (غالباً) ابتدا امیر خسرو سے ہوئی ہے جو اپنی دلگداز آواز میں سلطان فیروز خلجی کے دربار میں مترنم انداز میں غزلیں پیش کیا کرتا۔ تو غزل خوانی کی ابتدا ایران میں مے خانوں سے ہوئی تو ہندوستان میں امیر خسرو نے اسے دربار میں پہنچا دیا۔ دربار سے غزل خوانی صوفیا کی مجالسِ اذکار میں جلوہ بار ہونے کی دیر تھی کہ عوام نے اسے گلے لگایا۔ بقول امیر عنصر المعالی(قابو س نامہ)"غزل و ترآنہ بدار" "خنیا گری" (طربیہ انداز) میں بدل گئی تھی اور "سرودِ غزل" اظہار کی صنف بن گئی تھی۔
شہاب سرمدی نے مقالہ: "غزل سراخسرو" میں غزلوں کی دھنوں کے بارے میں لکھا ہے: "خسرو، شِعر غزل کی تصنیف اور نغمہ غزل کی تالیف ایک ساتھ کیا کرتے تھے۔ ان کی غزلیں اپنی دُھن اپنے ساتھ لاتی تھیں۔ یہی وجہ تھی کہ رواجِ خاص تو تھا" نواہائی خسروانی" اور "دستانِ باربدی" کا مگر خسرو اور ان کے ہم نواؤں نے قبولِ عام بخش دیا اُن "دھنوں" کو جنہیں ایرانی توراتی ہی نہیں ٹھیٹھ ہندوستانی بھی نہیں کہا جا سکتا"۔۔۔۔۔۔۔۔۔خیال کی گائیکی کو جس نے "نک سِک سجایا ہے اُس کی مشاطہ اول غزل ہی تھی۔(اسکی ایک دلیل، ناقبال تردید یہ کہ غزل ہی غنائی شاعری کی وہ مخصوص صنف تھی جو کوچہ و بازار سے لے کر دربار۔ سرکار تک اور محفلِ قال سے لے کر حلقہ وجد وجال تک یکساں دُھومیں مچایا کی۔ اُس کی اس سُہاونی گونج میں اہل پیشہ اور اہل شوق دونوں کی آوازیں شامل تھیں۔"
تو یہ مان لیں کہ سردِ غزل کہئے یا غزل خوانی کی ابتدا امیر خسرو سے ہوئی اور غزل گائیکی راہِ غنا کی اَنیک منزلیں طے کر کے عصر حاضر تک آ پہنچی ہے۔ اتنے طویل سفر کی روئداد ضبط تحریر میں لانا (فی الحال) دشوار ہے۔ کتنے نامی گرامی گلو کار اور گلوکارائیں غزل گائیکی میں نام پیدا کر چکی ہیں؟ صرف ایک لفظ "بے شمار" کہہ کرنا چار آگے بڑھتے ہیں۔ آپ کے گوش گزار کروں کہ "غزل گائیکی اور غزل سراؤں" کی تفصیل، عہد بہ عہد، رقم نہیں ہوئی یا میری نظر سے نہیں گزری ہے۔ ہاں اتنا تو کہہ سکتے ہیں کہ پچھلے ساٹھ، ستر برسوں میں کئی غزل گائک منظرِ فن پر نمودار ہوئے اور اپنا نقش" ثبت کر گئے ہیں۔ کچھ نام بادی النظر میں ذہن میں آتے ہیں جو عہد بہ عہد سلسلہ وار تو نہیں ہیں البتہ یاداشت کے طور پر حاضر ہیں: برکت علی خان، بیگم اختر، طلعت محمود، جگ موہن، مختار بیگم، ملکہ پکھراج، کندن لال سہگل، کجن بیگم، ماسٹر نثار، کے سی دے، زینت بیگم، محمد رفیع، سی ایچ آتما، فریدہ خانم، نسیم بیگم، اقبال بانو، زہرہ بائی، شمشاد بیگم، ثریا، محمد یعقوب، غلام مصطفیٰ خان،غلام علی، مہدی حسن،افضل حسین، جگجیت سنگھ، مجدد نیازی اور نئے غزل گائیکوں کی کافی بڑی تعداد ہے۔
ملکہ پکھراج۔ مختار بیگم اور بیگم اختر کی گائیکی کی اساس عموماً کلاسیکی سنگیت پر رکھی رہی۔ یہ نہیں متصور کرنا چاہئے کہ وہ جدید طرز میں غزلیں نہیں گاتی رہیں۔ ایسا نہیں ہے۔ سہگل نے فلموں میں گانے کے ساتھ غیر قلمی غزلیں صدا بند کرنے کی ابتدا کی تھی۔ موجودہ دور میں (یعنی گزشتہ بیس پچیس برسوں میں) غزل گائیکی کے فن کو نئی جہت بخشنے میں مہدی حسن نے طرح ڈال دی ہے۔ اُس نے رموزِ غزل کو اپنی پُر اثر آواز سے سامع پر ظاہر کئے اور اب بھی "مشق سخن" جاری ہے۔ میر تقی میر کی یہ غزل
دیکھ تو دل کہ جاں سے اُٹھتا ہے یہ دُھواں سا کہاں سے اُٹھا ہے
کتنی بار نظر سے گزری ہو گی مگر مہدی حسن نے گا کر اس کا سمعی حسن واضح طور پر نمایاں کر دیا ہے۔ اسی طرح سے غلام علی نے حسرت موہانی کی "یاد ہے" ردیف والی غزل جس انداز سے گائی ہے تو یوں لگتا کہ مصرعوں کے ساتھ ساتھ تنفس کی رفتار تیز اور مدھم ہونے لگتی ہے۔ ان سے پہلے بیگم اختر نے شکیل بدایونی کی غزلیں مشاقانہ طور سے گا کر ایک نئی طرحِ ادائیگی ڈالی تھی۔ ایک گفتگو کا ذکر کروں جو 1972ء میں بیگم اختر سے "غزل گائیکی" کےحوالے سے ہُوئی تھی۔ اِتنی بلند قامت گلوکارہ سے جب مہدی حسن کی غزل گائیکی کی بات ہوئی تو بے چون و چرانے وہ کہہ اُٹھی:
"مہدی حسن نے غزل گانے کے فن کو نئی راہ سمجھائی ہے"۔ (اُن دنوں میں سرینگر ریڈیو کشمیر کا سٹیشن ڈائریکٹر تھا اور انٹرویوریکارڈکیا جو سامعین کے ہر طبقہ خیال نے بے حد پسند کیا تھا) اب تو یہ حال ہے کہ بیگم اختر کی غزل گائیکی کے انداز کو کئی گلوکاراؤںنے اپنا نے کی کوشش کی ہے۔ ان دنوں مہدی حسن اور غلام علی کی گائی ہوئی غزلوں کے علاوہ فریدہ خانم اور اقبال بانو کی نقل، کُھلے بندوں ہو رہی ہے مگر اصل اصل ہے۔ مہدی حسن کی غزل سرائی کے بارے میں معروف ترین (فلمی موسیقار نوشاد علی نے کہا ہے: مہدی حسن نے غزل کی آبرو بڑھائی ہے۔ عصر حاضر میں بھارتی غزل اسراؤں میں جگجیت سنگھ اب اپنا انفرادی رنگ قائم کر رہا ہے۔ امیر میںائی کی غزل" سرکتی جائے ہے رُخ سے نقاب آہستہ آہستہ" اگرچہ مسرت نزیر کی گائی ہوئی محسن زیدی کی غزل چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہ(موسیقی خلیل احمد) کے بعد بازار میں آئی ہے مگر آئی تو اپنا الگ سٹائل لے کر۔ مسرت نذیر کے گانے میں کمپوزر کی پُرکشش طرز کی کارفرمائی ہے جب کہ جگجیت سنگھ اپنے گانوں کی طرزیں خود تیار کرتا ہے۔ فریدہ خانم نے صوفی تبسم کی غزلیں خُوب گائی ہیں۔ ملکہ ترنم نور جہان نے غالب اور اقبال کی غزلیں اُن کی صد سالہ ولادت کی تقریبوں میں گا کر ثابت کر دیا کہ وہ "ملکہ ترنم" ہے۔ لتا منگیشکر اور آشا بھونسلے نے بھی غزلیں گانے کی کوششیں میوزک ڈائریکٹرکی وساطت سے کی ہیں مگر وہ کامیابی نہیں ہوئی جو خالص غزل سراؤں کو ہوئی ہے۔ اُن کے برعکس ثریا اور عابدہ پروین نے بڑے سلیقہ سے اساتذہ کی غزلیں گائی ہیں۔
اصل میں غزل ہرایرے غیرے نتھو خیرے نہیں گا سکتا۔ ہر غزل کا اپنا غنائی آہنگ ہوتا ہے بحر اور وزن کی بدولت۔ الفاط کی نشت و برخاست اپنا ترنمی سانچہ لے کر آتی ہے۔ صحیح تلفظ ہی نہیں بلکہ درست لہجہ غزل کی ادائیگی کے لئے بہت ضروری ہے۔ ورنہ غزل کی عنائیت بُری طرح سے مجروح ہو جاتی ہے۔ سُہراب مودی کی فلم "شیش محل" تھی۔ یاد نہیں اس کا میوزک ڈائریکٹر کون تھا مگر اتنا یاد ہے کہ غالب کی ایک مشہور غزل ہیروئن(پشپاء ہنس) نے گائی تھی تو طرز میں کھپانے کے لئے یہ مصرع: "دل نادان تجھے ہوا کیا ہے" کو یوں ادا کروایا تھا "دل ناداں تجھے ہُوا ہُوا کیا ہے" دوسرا مصرع جوں کا توں رہنے دیا۔ بھلا بتائیے کہ عروض کے لحاط خارج از بحر ہوا نا پہلا مصرع! برعکس اس کے فلموں میں غزلیں گائی گئی ہیں اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے تو طرزیں بنانے والے ہندوستان میں مدن موہن، روی، غلام محمد، نوشاد،ناشاد، خیام، اقبال قریشی، نیر، جیسے موسیقار ہوں تو غزلوں کے منفرد غنائی پیکر سلامت رہتے ہیں۔
ایچ۔اے۔پاپلے کی غزل گائیکی کے بارے یہ رائے قابلِ توجہ ہے۔ "غزل اور دادراہندوستانی سنگیت کے دو نغمے ہیں جو اصولاً صرف انترا ہی کے حامل مگر سادہ ہیں۔ غزل عموماً رومانی ہوتی ہے۔ عیسائیوں کے کلیساؤں کے حمدیہ سنگیت میں ہندوستانی غزلیں گائی جاتی ہیں۔ "کیسی "دلچسپ" رائے ہے یہ جو مزید تنقید کے بغیر بھی مصنف کی کم علمی یا ناشناسائی کی غمازی کرتی ہے۔ غزل میں عشق سے لے کر تصوف تک کے ایسے مضامیں آتے ہیں جو انسان کی زندگی کے کسی نہ کسی پہلو سے متعلق ہوں۔ غزل (ادب میں) گھوڑے ہی "شاعری کی آبرو" کہلاتی ہے؟ قطعِ نظر اس رائے کے جب غزل قوال کے ہاتھ آتی ہے تو نہ کہ انداز بدل جاتے ہیں بلکہ حُسن سماعت کی دل پذیر صورتیں بنتی سنورتی جاتی ہیں۔ جب قوال غلام صابر اور ہمنوا، عزیز وارثی اور ساتھی ہوں۔ ستم ظریفی نہیں بلکہ غزل کا اعجاز ہے کہ اُردو سے نا آشنا اورخدا واسطے کا بیر رکھنے والے بھی غزلوں کے شعر یا مصرع اپنی تقریروں اور تحریروں میں بے کھٹکے استعمال کرتے ہیں۔ ایسی صورتحال کے ذمہ دار وہ غزل سرا ہیں جو ریڈیو ٹیلی ویژن یا فلموں کے علاوہ غزلیں ریکارڈ یا ٹیپ کرتے رہتے ہیں۔ گویا کہ ہماری سماجی زندگی میں مُجرا سے لے کر سیاسی سٹیج تک غزل گائیکی کی دارائی ہے آج ہر گلوکار یا گلورہ غزل گانے کی خواہش میں گرفتار، بے بسی کے عالم میں "گیت نما" طرزوں میں غزلیں گانے لگے ہیں۔ تو آپ اور ہم کیا کر سکتے ہیں ۔
قوال بھی۔ آن۔اوں۔ ہاں۔ ہوں اور۔توں وغیرہ ہمہچو قسم کی آوازوں سے غزل کو اتنا بوجل کر دیتے ہیں کہ اصل کی پہچان میں دِقت سی پیدا ہو جاتی ہے۔ سارے قوال ایسے تو نہیں ہیں؟البتہ اکثر قوال بڑے نستعلق طریقے سے غزلوں کو پیش کرتے ہیں۔ ایسے قوالوں کی پچھلی نصف صدی میں، اتنی تعداد بڑھ گئی ہے کہ سب کے نام گنوانے سے احتراز کرنے میں عافیت ہے۔
غلام صابر قوال اور ساتھیوں کی نعتیہ قوالی(تاجدارِ مدینہ) عزیز وارثی (حیدر آباد) اور ہمنواؤں کی گائی امیر خسرو کی غزلیں۔ مبارک علی فتح علی،حبیب پنیٹر،حافظ عطا محمد، جعفر حسین اور ان کے ساتھیوں کی بعض قوالیاں بار بار سُننے کو جی کرتا ہے۔ آخر کیوں؟ اس لئے غزل کا اپنا ترنم برقرار رکھتے ہوئے موزوں موسیقی مرتب کی گئی ہے تو سننے کی دل پسند چیز بن گئی ہے۔
فلموں میں سنگیت
غزل کے حوالے سے فلمی سنگیت کی بات ہوئی ہے تو اختصار سے یہ کہتے چلیں کہ فلموں می دو طرح کی موسیقی ہوتی ہے ایک تو وہ ہے جو مختلف مناظر کو مزید دلاآویز بنانے یا کرداروں کی نقل و حرکت کی مناسبت سے ترتیب دیجاتی ہے اور دوسری وہ جو کسی موسیقار، شاعر یا سنگیت کار کی زندگی کے اردو گرد گھومتی ہے جب انہی میں سے کسی کی زندگی پر فلم تیار ہو رہی ہو۔ ان دونوں طرح کی موسیقی کے علاوہ پس منظر یا موضوعات سنگیت فلموں میں ترتیب دیا جاتا ہے۔ آج سے دس پندرہ سال پہلے اس قسم کا فرق اوراس طرح کی تمیز ہُوا کرتی تھی لیکن اب یہ عالم ہے موسیقی کم اور ہنگامہ زیادہ، متانت کم اور بے ہنگم اُچھل کُود اور بدن کی کسرت کے لئے جو کچھ سنگیت تیار ہوتا ہے اُس کا اثر نہایت ہی محدود وقت کے لئے ذہن قبول کرتا ہے مقابلتاً پرانی فلموں کی موسیقی کی متانت اب چند ہی پرانے تجربہ کار با سلیقہ موسیقار مرتب کرتے ہیں۔ شور شرابا اور جسم کی ورزش تو اور سب کچھ ہو سکتا ہے موسیقی نہیں۔ ایک بنیادی سوال سنگیت کے حوالے سے اُبھرتا ہے۔ کیا سنگیت کی اشد ضرورت ہے فلم میں؟ اگرہے تو ڈائریکٹر اور پروڈیوسر، میوزک ڈائریکٹر کے ساتھ مل کر ایسی موسیقی تیار کرے جو لمحاتی تاثر (MOMEATORY EFFECT) ہی نہ دے بلکہ دیر پا اثر کی حامل ہو۔ ایسی موسیقی کو ہم ہنر مندانہ موسیقی (ART MUSIC) کہہ سکتے ہیں۔ فلموں میں دوسرے سنگیت کو رسمی موسیقی (FUNCTIONAL MUSIC) کہہ سکتے ہیں۔ اول الذکر سنگیت کا اثر موضوع و مفہوم کے تناظر میں ادبی اور فنی صلاحیت کا حامل ہوتا ہے اور الفاظ کا مناسب انتخاب اور سُر سنگیت کی ہم آہنگی و اششتراک خوش آئیند ترنمی پیکر پیش کرتا ہے۔ ایسے سنگیت سے سامع کی نفسیاتی وابستگی ہو جاتی ہے۔ موخر الذکر قسم کی موسیقی، ماحول، یا کرداروں کی نفسیاتی یا ذہنی کیفیتوں کے پیشِ نظر مرتب ہوتی ہے جو کہیں ہیجانی روپ دھار لیتی ہے تو کہیں سُبک و پُر اسرار صورت اختیار کر جاتی ہے دونوں صورتوں میں پُوری فلم متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی۔
تجربہ و تحقیق سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ برصغیر پاک و ہند کے علاوہ ایشائی ملکوں کے45فیصد نوجوان عصری فلمی سنگیت کو اپنانے میں دل چسپی رکھتے ہیں ۔ تھوڑے سے عرصے تک اِسے خط بھی اُٹھاتے ہیں تو کچھ دیر کے بعد "اُچھل کود اور جسمانی کسرت" والا سنگیت بدل کر دوسرے ہی قسم کے سنگیت کو جگہ دیتا ہے۔
صنفِ قوالی
چند ممتاز قوالوں کے نام کہیں کہیں اس سے پہلے لئے گئے ہیں لیکن قوالی کی صنف پر بات نہیں ہو سکی ہے۔ چلئے فلمی سنگیت کے حوالے سے شروع کر کے کچھ تاریخی پس منظر کی بات ہو جائے۔ غزل گائیکی کے ساتھ ساتھ ہی (غالباً) فلموں میں صنفِ قوالی نمودار ہوئی فلم میں منظر یا موقع محل کے اعتبار سے یا ضرورت کے پیش نظر قوالی باریاب ہوئی ہے۔ روایتی طرز ادا میں بھی تبدیلی آتی گئی۔ فلم میں مردوں کی ٹولی کے ساتھ یا مقابل عورتوں کی ٹولی بھی قوالی سے "شغف" کرتی ہوئی دکھائی جانے لگی۔ ایسی قوالی میں اکثر نرمی رُومانی اور بعض دفعہ سوفیانہ اشعار گائے جانے کے ساتھ ساتھ کچھ عجیب و غریب جسمانی حرکتیں بھی کی جانے لگیں جو اصلی قوالی کے "وجد وحال" سے دُور کا واسطہ نہیں رکی تھیں۔ یوں لگتا ہے کہ مُجرا ہو رہا ہو اور روایتی خالص قوالی بہت کم۔
قوالی برصغیر ہندو پاک کی دین ہے جو ایرانی محفلِ سماع کا مُتبادل رُوپ ہے۔ قوالی فنکارانہ اظہار کا موثر ذریعہ ہے جس کی بدولت دھیان گیان اور مراقبہ میں مدد ملتی ہے تا کہ خالق و مالک کائنات کی قربت کا شرف نصیب ہو۔ اسی لئے ایسے اشعار گائے جاتے ہیں جن کے مزاج و معانی روحانیت سے میل کھاتے ہوں۔ قوالی فرد واحد کہئے یا بشر اور خالقِ کُل کے مابین رُوحانی تعلق قائم کرنے میں معاونت کرتی ہے اور جب اس کی تاثیر و سوزو گداز اپنے عروج کو پہنچتے ہیں تو بقول اقبال "یکے بین و یکے باش" کی عملی صورت نکل آتی ہے۔ اور اسے منطقی انجام کہا جائے تو جائز ہو گا۔
ایک ہزار سال سے زائد عرصہ گزرا ہے کہ قوالی خانقاہوں سے شروع ہو کر نئے گرددوپیش میں پنپتی رہی ہے۔ خانقاہ میں جہاں مرشد کے حضور خلوصِ عقیدت کا نذرانہ ادا کیا جاتا ہے وہاں مختلف ماحول میں جُداگانہ ضرورت کے پیشِ نظر اس صنف سے استفادہ ہو رہا ہے۔ "قوالی" لفظ پر ذرا دھیان دیں۔ تو یہ قول(یعنی بول، اظہار اور بیان) سے مشتق ہے اور قوالی چشتیہ سلوک سے وابسطہ مشتق ہے اور قوالی چشتیہ سلوک سے وابستہ کی ذکر و مراقبہ کی محفلوں منسلک ہو گئی۔ بادشاہ التمش کے عہد تک چشتیہ درگاہوں میں قوالی گائیکی نے لازمی رواج کی صورت اختیار کر لی تھی۔ قوالی بلا شُبہ حضرت امیر خسرو کے تخلیقی اور فن کارانہ فطانت کی بدولت وجود میں آئی۔ ابتداً میں قوالی کے ساتھ کوئی ساز نہیں بجایا جاتا تھا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کئی سازوں جن میں ڈھولک، طبلہ۔ سارنگی،ہارمونیم، کلارنٹ وغیرہ اس سے منسلک ہوتے گئے۔
روایتی قوالی گانے کی واضح ادئیگی ہے۔ اولاً حمدیہ اشعار اور پھر نعتیہ شعر گائے جاتے ہیں اُس کے بعد منقبتِ مُرشد بعض موسیقی دانوں نے قوالی کے لئے تین لازمی ضرورتوں کا ذکر کیا ہے یعنی۔، (الف) زمان (ب) مکان اور (ج) اکوان "زمان"۔ قوالی ان اوقات میں گائی جانی چاہئیے جو نماز سے متصادم نہیں ہوتے۔ "مکان"۔ قوالی ایک ایسی جگہ گائی جانی چاہئے جو پاک و صاف ا عزلت نشاں ہو۔
"اخوان"۔ ایسے سامع کے درمیان جن کا فکرو عمل منزہ اور پاک ہو۔
عموماً ایسے ماحول میں قوالی کی تاثیر اس قدر ہوتی ہے کہ جان جان آفریں کی طرف رجوع کر جاتی ہے۔ اس سلسلے میں "موسیقی اور قدرت" کے باب میں چند ایک مثالیں پیش کی جائیں گی۔ گویا کہ کیفیت وجد اور حال مل کر سامعین کو بے سپدھ کرتے ہیں اور عروج پر پہنچ کر قوالی کی وجہ سے کپڑے پھاڑے جاتے ہیں، سردیواروں سے ٹکرائے جاتے ہیں یا ایسا رقص پیش ہونے لگتا ہے جو پُوری طرح سے اعصاب و افکار کو اپنے بس میں کرتا ہے۔ تو ہم اس نتیجے پر پہنچ جاتے ہیں کہ قوالی، شعر خوانی،لے اور آہنگ،گائین اور ناچ کے عناصر سے بنتی ہے۔
بعض موسیقی شناسوں کا خیال ہے کہ قوالی "انسانی سازینہ" سے بنتی ہے یعنی آواز، تالیاں اور جسمانی حرکات و سکنات، گویا قوال ایسی کیفیت پیدا کرتا ہے کہ سامع بھی متزکرہ مدراج میں محو ہو جاتا ہے اور بقدرِ استعداد رُوحانی فیض حاصل کرتا ہے۔
قوالی گائیکی ایک مُوثر فن ہے جو صوفی سنتوں کی محفلوں سے شروع ہو کر صاحبانِ ذوق و شوق کے دلوں میں جگہ بنا چکا ہے۔ صوفیوں کے لئے رُستاری کا وسیلہ، عبادت کا ذریعہ مالکِ کل سے قُربت کا سبب بن جاتا ہے اور دوسروں کے لئے تفریح کے ساتھ ذکر و فکر کا موجب۔
قوالی گانے میں راگ راگنیوں کا بھر پور استعمال ہوتا ہے۔ کہتے ہیں حضرتِ نظام الدین اولیا کم سے کم ایک قوالی کو پپوروی راگنی میں سُننا پسند کرتے تھے اور تفریحاً کہا کرتے تھے "میں عمر رسیدہ ہُوا ہوں مگر یہ راگنی سدا جوان رہی ہے۔"
دیکھا جائے تو "غزل خسرو کی خصوصیت یا فنِ قوالی ضرورت و مصلحت کہ بدشوں میں سُروں کے اُتارچڑھاؤ اور عوضی ارکان کے دروبست میں زیر وبم اس حد تک شیر و شکر ہو جاتے ہیں کہ تالیاں کبھی سم اور بھری، خالی کی رعایت سے پڑتی تھیں اور کبھی تقطیعی ٹکڑوں کی گت پر خسرو نے اسے "دستکِ با اصول" کہنا پسند کیا ہے اور طرح طرح سے اس کی پذیرائی کی ہے۔"
یقیناً قوالی کے فن کی ایجاد خسرو سے ہوئی۔ ہندوستانی موسیقی کو اس نابغہ روزگار کی یہ ایک اور دین تھی۔ اور لے اور تال کے معاملے میں مخصوص ہندوستانی تال یعنی کہورا، دادرا، روپک، فاختہ، وغیرہ اس فن سے متعارف کرائے۔ قوالی میں بحر اور لے وزن اور گت کا خیال رکھا جانے لگا۔ مختلف اقوال، بول، دوہڑے اور چھند وغیرہ بھی قوالی میں حسبِ محل و مقام استعمال ہوتے رہے ہیں۔ "لو" "آہے""واہے"۔"پیا"۔ "خواجہ" "آقا"۔"مولا"۔ "سائیں" کی صورت میں بقولِ شہاب سمدی سُر اورے کو لقمے دئیے جانے لگے کچھ بھی ہو قوالی گائیکی میں دھرم، عقیدہ اور فرقہ بندی کا کبھی عمل دخل نہیں رہا۔ بلکہ قوالی ایک بھرپور جاذِب توجہ فن کے طور پر ثقافی ورثہ میں فنِ موسیقی کا اہم اور گراں مایہ جاندار عنصر رہا ہے۔
سَرُود سماع ہر صاحبِ ذوق کے لئے اس کے مزاج طبیعت اور آگہی کے مطابق اثر رکھتے ہیں۔ موسیقی کا یہ اصول قوالی کے شائقین اور مداحوں پر راست پپورا اُترتا ہے۔ صوت وآہنگ کا امتراجِ حسین ماہر قوال پیش کرے تو صوفی سنت مالکِ حقیقی کے استغراق کے لئے ایک ظاہری وسیلہ تصور کرتے ہیں۔ جب قوال مختلف ٹکڑے یعنی اصل غزل یا گیت کے علاوہ شروں کو لاپ کے طور پر جوڑتا ہے تو پُورے گائین کی کیفیت میں پُر اثر اضافہ ہو جاتا ہے اور راگ کے نقوش بھی واضح ہو جاتے ہیں۔ اسی لئے کہتے ہیں کہ خانقاہ ہو یا درگاہ یا کوئی کنسرٹ ہال قوال دل پذیر سماں باندھتی ہے۔
برصغیر پاک و ہند کے نامی گرامی موسیقار نوشاد علی نے خانہ ایران کے اہتمام سے منعقدہ ماہ مئی 1978ء جشن قوالی میں ایک مختصر ساتعارفی مقالہ پیش کیا۔ اس جشن کے ججوں میں میرے ساتھ اٹل بہاری باجپائی، وی شنکر، علی سردار جعفری، جہاں بخش دارولا، بہروز کیا، علی حسین وکیل، ایم کے کامران اور ایرانی سفیر غلام رضا تاج بخش تھے۔ اُس مقالہ سے چند کلمے حاضر ہیں:" قوالی ہندوستان کا ایک عظیم فن ہے۔ یہ اُن صوفیائے کرام کی دین ہے جو ہمارے ملک کا نہایت قیمتی اور بیش بہار سرمایہ ہیں اور جنہوں نے اپنی عظمت کردار سے مہذب اور رُوح پرور موسیقی کو درجہ عطا فرمایا تھا۔ یہ وہ موسیقی تھی جس کا سرچشمہ کیف و سرمستی اور طہارت و پاکیزگی تھا۔" "اج کل قوالی کے نام پر جو کچھ سننے کو ملتا ہے۔ اسے کچھ بھی کہا جا سکتا ہے قوالی نہیں۔