قیصر قلندر

قیصر قلندر

مذہب اور موسیقی

    مذہب اور موسیقی

    قدیم ترین تہذیبوں کی تاریخوں کے دستیاب حوالوں سے پتہ چلتا ہے کہ موسیقی اور مذہب ایک دوسرے سے گہرا ربط رکھتے آئے ہیں۔ یونانی،مصری، رومن، ایران، ساسانی، آریائی اور ہندوستانی ثقافتوں میں موسیقی مختلف عقیدوں سے منسلک رہی ہے۔ برصغیر پاک و ہند میں پرا چین بھارت میں سنگیت کو مقدس مذہبی مقام حاصل رہا ہے جس کی بدولت پر م آتما (ہستی مطلق) تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے ۔ ہندوستانی گائین کو نادیو گا "یعنی افاقی ندا کی مشق کہتے ہیں جس کی بدولت تنفس یادم یا سانس پر قابو حاصل ہو سکتا ہے اور روحانیت میں بلند ترین مقام پر پہنچا جا سکتا ہے یہ رُتبہ حاصل کرنے کے لئے یعنی "سمادھی ناد" "اَن ہاتہ" اور "اہاتہ" سے مدد ملتی ہے۔ تنفس پر قابو اور پھر خارجی کیفیت سے استفادہ۔ دونوںمل کر مطلقِ حقیقی تک پہنچے میں معاونت کرتے ہیں۔ یہ عقیدہ رہا ہے بھارتی سنگیت کاروں کا۔

    بھارتی دیو مالا کے مطابق وری کائنات میں ایک ہی صدا یا آہنگ یا آواز محیط و مسلط تھی جس کی وساطت سے برہما، ویشنو اور مہیش (تین اعلیٰ ترین دیوتا) نے سنگیت پیدا کیا ہے۔ ان کے بعد سرسوتی، نارو، ہنومان،بھرت اور ثمبرو کے نام آتے ہیں جن کا عمل دخل موسیقی کی تدوین و ترتیب میں رہا ہے۔ اسی لئے بھارت میں سنگیت صرف الہامی ہی نہیں ہے بلکہ الُوہیت کی تجسیم ہے۔ اور اسی لئے (غالباً) وید ساہتیہ (VEDIC LITERATURE)  کو ہندوستانی سنگیت کا قدیم ترین ماخذ گردانتے ہیں۔ منتروں کا ُچارن بھجنوں کا گائین اور کیرتن سب دھرم سے منسلک رہے ہیں۔ وید منتروں کی ابتدائی ادائیگی پر خوش کوانی (RECITATION) کا گمان آتا تھا۔ اور قدیم ترین گائیکی میں دو ابتدائی سروں "اُوداتہہ" اور "انود داتہہ" سے شروع ہو کر "سوریتا" کے شامل ہونے سے ایک طرح کی وسعت آ گئی اور سامی منتروں میں نئی نہج کی نشان دہی ہوئی۔

    بھرت کی لافانی تصنیف "ناٹیہ شاستر" (پہلی اور چوتھی صدی عیسوی کے درمیانی وقفہ میں) کے مطابق سنگیت کی تین واضح اور نمایاں قسمیں تھیں یعنی 1۔اپوتر سنگیت ۔ مندروں اور دھار تک تقریبوں سے متعلق۔ 2۔مہاراجاؤں کے درباروں میں اور 3۔ ناٹکوں میں متداول سنگیت۔ یہ ابتدائی تقسیم، تصور کی جاتی ہے ظاہر ہے کہ موسیقاروں کی بھی انہی تین قسموں کے حوالے سے تربیت اور حوصلہ افزائی ہوا کرتی تھی۔ چنانچہ بعض موسیقی شناسوں کا خیال ہے کہ دھار مک ریتی رواج اور بلی کے موقعوں پر گانے والوں کو "اُووگاتری " کہا جاتا۔ وہ سامی منتر (سام وید کے منتر) گایا کرتے تھے۔ جبکہ مناجات اور بھجن دوسرے ہی گائیک پیش کیا کرتے تھے چنانچہ مختلف رَتبوں کے پیشِ نظر اُنہیں "اُوکات"۔ "پرستت"۔ "پرتی ہارتا"۔"نِدھانہ" اور "آپ گاتہ" کے ناموں سے جانا اور پہچانا جاتا تھا۔

    بھارت میں سنگیت، ناچ اور ناٹک ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ رہے ہیں جب بھی فنونِ لطیفہ کا ذکر آیا ہے اور دھرم سے وابستگی کی بات چلی ہے تو مندروں اور دھارمک تقریبوں میں اِن تینوخ کا مظاہرہ ہوتا رہا ہے۔ دیو داسیاں، نرتکیاں اور گائیک مندروں سے منسلک رہے ہیں تو ولم و فنِ موسیقی کے ساتھ رققص و تمثیل کی اس حد تک حوصلہ افزائی ہوتی گئی کہ دیکھتے دیکھتے بعض خامیاں بھی پیدا ہوئیں ۔ جن کے تدارک میں بہت وقت صرف ہوا۔ (موجودہ مضمون میں اُن خامیوں کو زیر بحث نہیں لایا جا سکتا ہے)

    کئی سنسکرت شاعروں کو اپنی تصانیف کی تحریر کی ترغیب دھرم یا کسی دھارمک موضوع سے ملتی رہی ہے اور ایسی نگارشات میں موسیقی کا خاصا عمل دخل رہا ہے۔ کالید اس کی تخلیق "وکرمادتیہ" موسیقی سے واقفیت کی ایک بین مثال ہے۔ جے دیو کی تصنیف"گیت گووندھ" بارہویں صدی عیسوی) رادھا کرشن کی پریم کتھا کے اردگرد گُھومتی ہے جو سنگیت کی ایک اور عمدہ مثال کے ساتھ لے اور تال اور نغماتی پیکروں کی خوب صورت تصویر پیش کرتی ہے۔

    گیارہویں اور پندرھویں صدیوں کے درمیانی برسوں میں جہاں شورو شغب اور معرکہ آرائیوں نے کلچرل زندگی کو کافی حد تک متاثر کیا وہاں ثقافتوں کے جذب و قبول کا زمانہ رہا اور ایک نئی مشترکہ تہذیب کی نیو پڑی۔ اُسی عرصے میں(خاندانِ غلامان میں خاص طور سے) امیر خسرو نے ترانہ، قول، قلبانہ وغیرہ کی ایجاد سے موسیقی کو ایک نئی ڈگر پر

    ڈگر پر ڈال دیا۔ اس کے بعد مغلوں کے عہدِ اقتدار میں صوفیوں کے مزاروں اور درسگاہوں میں سنگیت محفلِ سماع اور ذکرو اذکار کی صورت میں جوہ گر ہوا۔ ولی اور آس پاس میں حضرت بختیار کاکی، حضرت نظام الدین ، حضرت امیر خسرو، حضرت نصیر الدین چراغ دہلوی اور دوسرے صوفی سنتوں کے مزاروں پر دین دارانہ موسیقی کی محفلیں آراستہ ہوتی رہیں۔ دوسری طرف مشہور و ممتاز مندروں میں سنگیت نے پوچا پاٹھکا روپ دھار لیا ان مندروں میں نتھ دوار۔ وشنو پوری۔ جگن ناتھ۔ متھرا اور وِرناربن میں سنگیت کی روایت اور رواج کی سختی سے پابندی ہوئی۔ بھارت بھر میں آج بھی مندروں میں سنگیت پوجا پاٹھ بھجن کیرتن اور آرتیوں کے رُوپ میں ملتا ہے۔ ایسا عمل مندروں تک ہی محدود نہیں رہا ہے بلکہ گردواروں اور گرجا گھروں اور جینی اور بدھ عبادت گاہوں میں پرستش عقیدت مندانہ التزام و احترام سے ہو رہی ہے۔ صوفی سنتوں کے مزاروں پر محافلِ سماع منعقد ہوتی ہیں جہاں حمد، نعت اور منقبت قوالیوں کی صورت میں پیش کی جاتی ہیں۔ دیکھا جائے تو پُوجا پاٹھ، شبد کیرتن، بودھ شلوک اور منتر۔ حمدیہ اور مدھیہ ابیات۔ وغیرہ بے قرار روح کی تسکین اور دیوی دیوتاؤں کو عقیدت کی بھینٹ نذر کرنے کے مختلف ذرائع ہیں۔ قدیم مصری تہذیب میں فطرت اور کائنات میں گونا گون عناصر کو دیوی دیوتاؤں کے مظاہر سمجھا جاتا تھا اور محیرالعقول اشیاء   کی پرستش اور نذر و نیاز کے مواقع پر طرح طرح کے گیت گائے جاتے۔ یہی حال مختلف مذہبی تقریبوں کا تھا جن میں مختلف مفہوم کے گیت گانے کا رواج ہزاروں برس تک جاری رہا اور اس طریقہ عبادت میں کسی قسم کی تبدیلی کی اجازت نہیں ہوتی تھی۔

    مصر میں بھی عقیدے سے وابستگی کی وجہ سے موسیقی مقدس اور پاکیزہ تصور ہوتی تھی۔ ایک اور پابندی کہیے یا شرط یہ تھی کہ عموماً مندروں کے کاہن یا ان کی اولاد کو ہی مذہبی موسیقی گانے کا حق حاصل تھا۔ کبھی کبھی "رعایت خاص" کے تحت اونچے خاندان اور رُتبے والوں کو یہ موسیقی پیش کرنے کی اجازت ہوتی تھی اور کم درجہ اور معمولی خاندانوں کے افراد زیادہ سے زیادہ ساز بجا سکتے تھے۔

    یونانی تاریخ تمدن سے صاف ظاہر ہے کہ یونانی سماج میں بھی موسیقی مکتلف دیوی دیوتاؤں سے منسلک تھی۔ فیثا غورث نے ہندوستان سے مراجعت کے وقت کہا تھا کہ یونانی موسیقی ہندی سنگیت کی طرح عبادت گاہوں میں مقبول ہی نہیں بلکہ مصری مندروں کی سرپرستی میں پنپ رہی تھی۔

    دیگر تہذیبوں میں موسیقی مذہب کی سر پرستی میں رہی۔ رومی تہذیب تھی یا کوئی اور کلچر میں مذہبی موسیقی قابلِ احترام گردانی جاتی تھی اور اس میں کسی طرح کی تحریف اور تبدیلی کو عقیدوں کے خلاف سمجھا جاتا تھا۔

    اسی طرح سے طلوع اسلام سے پہلے سر زمیں عرب میں گانے بجانے کا بہت رواح تھا۔ اور خصوصیت کے ساتھ یمن، حرا وغیرہ میں عبادت گاہوں سے لے کر شادی بیاہ اور شادی کی مختلف تقریبوں میں کافی عمل دخل تھا۔ مکہ معظمہ دنیا کے بہت بڑے بُت کدے، زیارت، یا ترا اور تجارت کیلئے مشہور تھا تو بتول کو جگانے، اور خوش رکھنے کے لئے موسیقی کا وافر استعمال ہوتا تھا۔ یا تراؤں کے دنوں میں رقا صائیں، نائیکائیں اور گائیکائیں اندرون ملک سے لے ہمسایہ ملکوں یعنی حبش۔ مصر۔ روم اور ایران سے وہاں جا کر فنکارانہ پیشکش کے علاوہ کاہنوں کی وساطت سے مکتلف بُتوں کو خوش کرنے کے لئے رقص و موسیقی کی محفلیں آراستہ کیا کرتی تھیں۔ بعض موسیقی دانوں کا خیال ہے کہ کاہنوں کو خوش کرنے کے لئے نائیکاوں اور گائکاؤں کو بہت کچھ کرنا پڑتا تھا۔ یہی وجہ ہے کاہنوں میں ہواؤہوس کی تسکین" کی لَت پڑ گئی تھی تو مذہبی موسیقی کے تقدس پر آنچ آتی رہی۔ پرستش میں ہوس پرست   ذہن نے آلودگی کا عنصر ملا دیا۔یونانی،رومی، اور ایرانی موسیقیوں کی   داستانیں عہدِ عتیق سے شروع ہوتی ہیں بعض مھققین نے لکھا ہے کہ چھ سو سال قبل ازولادتِ مسیح علیہ اسلام سے باضابطہ طور پر ان موسیقیوں کی تاریخ دستیاب ہے اور یہ سب دھرم اور عقیدوں سے وابستہ نغموں سے منسلک رہی ہیں۔

    مقدس اوستا کا قدیم متن دیکھئے تو گاتہا بھی مترنم آواز میں پیش کیا جاتا۔ انجیل مقدس بھی ایک خاص مترنم انداز میں تلاوت ہوتی ہے۔ عیسائی حمدیہ ابیات اور خوشی کے گیت (COROL) سکھوں کی گرنتھ صاحب، بودھوں کے شلوک، جینیوں کے منتر سب اپنی اپنی مخصوص لَے اور نغماتی آہنگ کے ساتھ ادا کئے جاتے ہیں۔ گویا کہ مترنم آہنگ اُن مقدس الفاظ و اشعار میں موجود ہونے کے سبب وزن اور لَے تال کے ساتھ ادا کرنے کی تحریک ملتی ہے تجربہ گواہ ہے کہ حمدیہ یا مدھیہ مناقب میں تن من مصروف رہنے کی بدولت، پورے شوق، احترام اور عقیدت سے گانے میں ذہنی اور روحانی سرور سا میسر آتا ہے۔

    عروج اسلام سے پہلے عرب دُنیا میں موسیقی سماجی زندگی میں ممتاز مقام پا چکی تھی۔ گائین اور سازوں کی ترویج میں کئی اہم موسیقاروں اور سازشناسوں نے مقدور بھر شہرت حاصل کی تھی۔ اس زمانے کی موسیقی کو لوک سنگیت" کلاسیکی موسیقی، رقص و نغمہ، قصیدیہ اشعار رجسزیہ ہجویہ اور مدحیہ گانوں میں مُنقسم کر سکتے ہیں۔ گویا کہ عربوں کی زندگی میں عبادت سے مبازرت تک موسیقی کسی نہ کسی رُو پ میں نمایاں تھی۔ اگر اپمیہ عہدِ حکومت تک موسیقی کچھ پس منظر میں رہ گئی تھی لیکن اُس خاندان کے آخری ایام میں موسیقی فن کے طور پر درسی اور تدریسی نصاب میں شامل ہو گئی اور پھر عباسیہ عہد میں موسیقی کے پہنچے اور ترقی پانے کے بے شمار مواقع حاصل ہوئے۔ مورخین کہتے ہیں کہ حضورِ رسالت مآب ﷺ کے وقت میں بھی محدود پیمانے پر غنا کو قبولِ عام میسر تھا۔

    مسلمانوں کی عبادت میں مُوذن سے لے کر قاری اور امام تک کے لئے لازم ہے کہ وہ خوش الحان ہوں۔ بھدی اور بھونڈی آواز کس طرح سے دعوتِ نماز دے سکتی ہے یا خرخت آواز قرآن مجید کے جمال ترتیب کو بُری طرح سے متاثر کر سکتی ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ابو موسیٰ اشعری ایک ایسے خوش آہنگ فرد تھے جنہیں لطیف و دلنواز آواز و دیعت ہوتی تھی، ان کی قرآت آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم پسند فرماتے تھے اور کہتے: "لھنِ داودی ابو موسیٰ اشعرِی" کے آہنگ میں باز   یاب ہُوئی ہے ابوموسیٰ اشعری سے فرماتے:

    "قرآتِ کلام پاک کی تزئین اپنی خوش آہنگ آواز سے کرو کیوں کہ ہر شے کوئزئین و زینت کی ضرورت ہوتی ہے اور کلام پاک کی قرآت کی زینت دل کش آواز ہے۔"

    ظہورِ اسلام سے پہلے یہودی ورثہ میں مذہبی موسیقی کو خاص مقام حاصل رہا ہے۔ اس کا اہم اور بنیادی ماخذ کلیسائی (کیتھولک) موسیقی ہے جو یہودی عبادت گاہوں۔ (SYNAGOGUES) میں مرکوز تھی۔ عیسائی مذہبی موسیقی کی شناخت یونانی ماخذ سے بھی ملتی ہے۔ اسی طرح اسیرین، سریانی، فونیشین اور دوسری اقوام کے مذہبی معاملات میں موسیقی ایک اہم جز رہی ہے۔ ماہر آثارِ قدیمہ پروفیسر استیفن لنگڈن کا کہنا ہے کہ اسیرین اور یہودیوں کی موسیقی میں بہت قریبی اور گہرا تعلق رہا ہے اسی طرح سے زمانہ جاہلت میں عربوں میں موسیقی کا عام رواج تھا۔ عورتیں مرثیہ اور نوحہ گانے کے علاوہ جز گانے میں مہارت رکھتی تھیں۔ قوم کسی شکل میں مبتا ہو جاتی تو بڑے بڑے معبدوں میں دعائیہ گیت پُر سوزانداز میں گایا کرتیں۔ حضور سرور کائینات ﷺ تک   یہی رواح قائم رہا۔