تصوف اور موسیقی
تصوف اور موسیقی
موجودہ ہندوستانی تہذیب، عمل اور ردِ عمل سے ظہور پذیر ہوئی ہے جس میں مختلف قوموں اور عقیدوں کا دخل رہا ہے اور یہ کہنا بہت دشوار ہو جاتا ہے کہ کونسا عمل یا اثر کس ڈھب سے ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتا رہا ہے۔ شاید اسی لئے سر شیک عبدلقادر نے اپنی ایک تقریر میں کہا تھا: کہ "یہ کہنا مشکل ہو جاتا ہے کہ اسلام کے ہندوستان کی تہزیب و تمدن پر اثر انداز ہونے کے بعد جو موجودہ سبھتا وجود میں آئی وہ دو تہذیبوں کا ایک حسین امتزاج نہیں ہے"۔ (ہرڈوڈمیومریل لیکچر۔ رائل۔ سوسائٹی آف آرٹس دسمبر 13، 1935ء) لیکن اس بات سے انکار نہیں ہے کہ ہندوستانی سنگیت، دوسرے فنونِ لطیفہ کی طرح ہندوؤں اور مسلمانوں کے اظہارِ فن اور اظہارِ خیال کا ذریعہ بن گیا۔ موسیقی میں دونوں نے ایک دوسرے سے استفادہ کیا اور یہ عمل تا حال جاری ہے۔
سماجی زندگی میں سنگیت ہر پہلو سے وابستہ رہا ہے۔ شادی سے لے کر مرثیہ اور نوحہ تک، لوری سے لے کر رُت بدلتے تک پھولوں سے لے کر دیوی دیوتاؤں تک، مندروں سے لے کر صوفی سنتوں کے مزاروں اور درگاہوں تک۔ غرض ہندوستانی سماج کے کسی نہ کسی پہلو تک سُر سنگیت کی رسائی اور دارائی رہی ہے۔
بھارت میں تصوف اور اسلام کے حوالے سے کئی نظریات ہیں۔ کچھ حضرات تصوف کا آغاز اسلامی بنیاد پر تصور کرتے ہیں کچھ ہندوستانی ویدانت اور نوفلا طونیت کے اثرات تلاش کرتے ہیں۔ بعض ویدانت اور عیسائی تصوفیوں کی تعلیمات کے امتزاج سے تصوف کا وجود وابستہ کرتے ہیں۔
یہاں مقصد یہ ہے کہ تصوف کے حوالے سے موسیقی کی بات ہو نہ کہ خالص تصوف، اُس کا آغاز، مراحل اور مذہبی عقائد پر بحث ہو ۔ بھارت میں صوفیوں نے رُوحانی تسکین اور رب الموجودات تک پہنچنے میں سنگیت کو ایک ذریعہ قرار دیا ہے۔ صوفیوں کا مشرب و مسلک یہ رہا ہے کہ ذکر واذکار کے ساتھ حمدیہ سنگیت مختلف مدارج طے کرنے میں اعانت کرتا ہے۔ ظاہری جاہ وحشم کے بدلے فقیرانہ طرز زندگی کا اختیار کرنا، اور جسم کو تکلیف آمادہ کرنا اور خواہشات نفسانی سے خلاصی وغیرہ صوفی مسلک کے عناصر میں شامل سمجھے جاتے ہیں۔ اس سلسلے میں خلیق احمد نظامی نے "شیخ فرید الدین گنج شکر" اور "ابتدائی ہندوستانی مسلمان صوفی" تصانیف میں شیخ فرید اور نظام الدین اولیا کی زندگیوں سے مثالیں پیش کی ہیں کہ کس طرح سے انہوں نے فقروفاقہ اور عسرت میں زندگیاں بسر کیں اور حرام و حلال میں فرق کیا۔
یہ بات تو اظہر من الشمس ہے کہ اسلام کے ابتدائی ایام میں فنِ موسیقی کو دھچکا لگا اور مصوری کی طرح اس فن کی کوئی حوصلہ افزای کہیں ہوتی رہی۔ لیکن عربی تمدن کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ عربی موسیقی کی ترویج و تدوین ہوتی رہی۔ اور جب ایران میں اسلام کا عروج ہوا تو دھیرے دھیرے مسلمانوں کے نظریہ موسیقی میں تبدیلی رونما ہوتی گئی جس کے زمہ دار صوفی حجرات تھے۔ حقیقت ہیں ظہور اسلام کے ابتدائی برسوں میں ایک جماعت پیدا ہوئی تھی جو قرآن مجید کی تعلیمات اور فرمودہ رسول ﷺ سے پُوری آگاہی حاصل کرنے اور رات دن رب العالمیں کی عبادت میں صرف کرنے کی خاطر فقیرانہ زندگی گزارنے لگے تھے اور یادِ الٰہی میں ہمہ تن محور رہنے کیلئے گہما گہمی سے عاری، صبر و قناعت اور فقرو سادگی سے خاموشی میں زندگی گزارتے تھے اور خدائے برتر و افضل کو سمجھنے اور اس کا وجود محسوس کرنے کیلئے پیار محبت اور پاک بازی کی تعلیم دیتے۔ اپنے مقصد کے حصول کے لئے اس گروہ نے موسیقی کو ایک مُوثر زریعہ سمجھا۔ یہ گروہ "صوفی"کہلاتا اور موسیقی کو رُوح کی رفعت اور عرفانِ الٰہی کا اہم سنگ میل سمجھتا تھا۔ چنانچہ چوتھی صدی ہجری کے آخری برسوں میں صوفیوں کا مسلک توجہ کا مرکز بن گیا۔ ادھر ہندوستان میں بھی اس اندازِ فکر نے زور پکڑا یہاں تو دھرم اور دھارمک تقریبوں سے سنگیت کی بہت پُرانی وابستگی تھی ہی توج مسلمانوں نے ہندوستان کو مستقلاً اپنا وطن بنایا تو مقامی ماحول و اثرات نے اللہ سے فقر و غناکی وساطت سے لَو لگانے اور اس کی تلاش و جستجو کو متاثر کیا۔ کیوں کہ اُن کے اِرد گرد ہندو ہم وطن سنگیت کو عزیز ہی نہیں رکھتے تھے بلکہ اپنی مذہبی رسوم اور تفریحی میں اس کے عمل دخل کو محسوس کرتے رہے۔
جس طرح سے فارسی غزل ایران سے ملتان سے ہوتی ہوتی دہلی اور دوسرے خطوں اور زبانوں میں ظہور پذیر ہوئی اسی طرح سے سماع کی مجلسوں نے صوفیوں کی زندگی میں بار یابی حاصل کی۔ محققین نے ایرانیوں کی زندگی پر تصوف کی گرفت کے حوالے سے لکھا ہے کہ اُنہیں غور و فکر اور ریاضت کے نئے میلانات میسر آئے۔ چنانچہ مشہور محقق پروفیسر اے، جے، آر بری کا خیال ہے کہ "ایران میں تصوف کو جمالیاتی۔حیثیت سے پنپنے کا موقع فراہم ہوا اور نئے مسلک فکر نے شاعری کو کافی ھد تک متاثر کیا۔" تو جزیرہ نما رب سے لے کر ہندوستان تک ایک وسیع و عریض علاقہ میں تصوف نے۔ پڑھے لکھے طبقے کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ گویا عرب، عراق شام اور مصر سے ایران و خراسان کے بعد تصوف کے لئے ہندوستان بڑی سازگار فضا ملی چنانچہ فارسی کے علاوہ اُردو، پنجابی اور کئی علاقائی زبانوں کی شاعری میں تصوف کا عنصر شامل ہو گیا تھا۔ یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ تصوف نے عقیدوں کو متاثر کیا۔ ہندوستان میں چوں کہ سنگیت کی وابستگی دھرم سے پہہلے ہی تھی تو مسلم صوفیوں نے موسیقی کو ذکر و اذکار کے لئے موزون وسیلہ سمجھ لیا۔ محافلِ سماع کا سلسلہ شروع ہوا۔ اس کے برعکس مسجدوں اور خانقاہوں میں شریعت کے اصولوں اور قواعد کے تحت سختی سے عبادت دریافت ہوتی رہی اور موسیقی کا ایسی جگہوں سے گزر تک نہیں ہوتا۔ صوفیوں کی محفلوں میں براہ راست اور بلاتا مل موسیقی نے راہ پائی۔ حالاں کہ مقبول محمد محی الدین ابن العربی (پیدائش560ھ وفات: 638ھ مطابق: 1151ء) "تصوفِ اسلامی کا منشاء قرآتِ قرآن کریم اور عام طور پر اُس کی دائمی تلاوت ہے جس کے لئے معین مجالس ہوں نہ کر زکر جہری کی مجالس۔ بعد کو مجالس زکر، مجالسِ سماع میں تبدیل ہو گئیں۔ اولین متصوفین جیسے ذوالنونِ مصریؒ جنیدؒ اور حلاج کا قول ہے کہ سماع وجد پیدا کرتا ہے" ابن عربی اور دوسرے مسلم مفکروں اور دانشوروں نے موسیقی کو ازروئے اسلام جائز ہونے کے مسئلے پر غور کیا ہے اور ساتھ ہی انہوں نے کئی آلاتِ موسیقی کا ذکر بھی کیا ہے جو ان کے ایام زندگی میں رائج تھے۔ ہنری جارج فارمر نے اپنی تصنیف THE LEGACY OF ISLAM میں موسیقی کے حوالے سے ان سازوں کا ذکر کیا جو مسلم صوفیا اپنی محافِل سماع و زکر میں بھی استعمال کیا کرتے تھے۔
ابن العربی نے صوفیا کے ان فرقوں کا بھی ذکر کیا ہے جو رقص۔ لونڈیوں کے گانے اور عیش و طرب کی محفلوں کو جائز مجھتے تھے اور ذکر و حال کے عالم میں اپنے کپڑے چاک کیا کرتے۔ دھیرے دھیرے جب ذکر کا عمل مفقود ہو گیا تو ایسے اعمال کی ابتدائ ہوئی جو شعیدوں سے ملتے جلتے تھے اور اُن فِرقوں کے طریقوں کو سخت ناپسند کیا گیا۔ یہ بات یہاں ضمناً درج کی گئی ہے کیوں کہ تصوف کا منشایہ تو نہیں تھا کہ تصوف تو خدائے عزوجل کے وجود کو سمجھنے اور اس کی قربت حاصل کرنے اور مخلوق سے پیار کرنے کا سبق دیتا ہے نہ کہ لہو و لعب اور تسکین شہوانی ضروریات۔اگرچہ اسلام کے قواعد کے اعتبار سے موسیقی اور آلاتِ موسیقی کی سخت مناہی کی گئی تھی مگر پھر بھی موسیقی کی ترویج و تزئین کی طرف مسلمانوں کامیلان رہا۔ الغزبی(450ھ تا 505ھ مطاق 1058ء تا 1111ء) کے بارے میں کہتے ہیں کہ اس نے موسیقی کو سُرور و کیف کا ذریعہ قرار دیا اور کہا ہے کہ اس کے سُننے سے صوفیا کو روھانی آسودگی ملتی تھی۔ یاہں مجھے الف لیلیٰ کا ایک جملہ یاد آتا ہے: "کسی کے لئے موسیقی غذا ہے اور کسی کے لئے دوا و شفا"۔ لیکن اس کا مقصد یہ نہیں ہے کہ اسلام نے اس فنِ لطیفہ کو حرام قررار نہیں دیا۔
ہندوستان میں مسلمان صوفیوں نے سنگیت کو سینے سے لگایا اور اسے فردوس گوش و ہوش کہہ کر حق و خالقِ باری کو پانے کا ایک وسیلہ سمجھا۔ موسیقی کی جو صنف قوالی کے رُوپ میں ہمارے پاس موجود و محفوط ہے وہ ان ہی صوفیوں کی محافِل سماع کی پیداوار ہی نہیں بلکہ اختراع ہے۔ ماہرینِ موسیقی جہاں امیر خسرو کی ہندوستانی سنگیت کی دین کئی راگ راگیوں اور سازوں کے رپوپ میں دیکھتے ہیں وہاں اُسے قوالی گائیکی کا موجد بھی لکھتے ہیں اور یہ بھی امر مُسلمہ ہے کہ صوفیانہ اصولوں کے پیش نظر حمدِ باری تعالیٰ، نعت رسول ﷺ اور مناقب اولیا کو غنائی رپوپ سے متعارف کرایا۔ امیر خسرو خود بلند پایہ شاعر اور موسیقی دان ہی نہیں بلکہ عظیم المرتبت صوفی اور حضرتِ نظام الدین اولیا کے مریدِ خاص تھے۔
موسیقی نے کس طرح سے تصوف کی محافل میں راہ پائی ہے؟ اس سلسلے میں کچھ بات ہوئی ہے اور اسے آگے بڑھاتے ہوئے کچھ جوابات تلاش کرنے کی سعی کریں اور دیکھیں کہ صوفیوں نے اِسے روحانی کمالات کے حصول کا ایک ذریعہ کیسے سمجھا!
تصوف ہے کیا؟
تصوف کے کیا معنی ہیں؟ سوال کا جواب ابن العربی کی تحریروں کی روشنی میں تلاش کریں گے! "علم تصوف کی ابتدا اور ترقی تیسرے دور سعینی دورِ عباسیہ میں ہوئی۔ یہ جدید علومِ شروعی سے ہے اور اس کا اصل الاصول کثرتِ عبادت، خدائے تعالیٰ کی جانب کی امل انہماک،دنیوی زیب و زینت، لذت کمال وجاہ سے احتراز اور خلق سے پہلوتی کر کے خود عبادت کے لئے وقف کر دینا ہے"۔ لفظ "تصوف" یا لفظ "صوفیہ" کی اصلیت میں علمائے اسلام کو اختلاف ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ "صفا" یا صفہ " سے مشتق ہے۔ دوسروں کا خیال کچھ اور ہے۔ ابن خلدون۔ 722ھ تا 808ھ ) کا کہنا ہے: لفظ کا "صوف" سے اشتقاق ہے۔ ایلِ تصوف کے صوف (موٹے اونی کپڑے) پہننے کے لحاط سے قرینِ قیاس معلوم ہوتا ہے" بعضوں نے اس توجیہہ کو غلط قرار دیا ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یونانی نقط۔ THESOPHICA سے مشتق ہے جس کے معنی "حکمتِ الٰہی" ہے۔ ایسی توضیح کو ایچ۔اے۔ گِبس خیال آرائی سے تعبیر کرتا ہے۔ ابن خلدون کی بات مان لی جائے تو صوفی وہ حکیم ہے جو حکمتِ الٰہی تک پہنچنا ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ صوفیہ جو کچھ بھی حقیقتِ اعلیٰ کے متعلق کہتے ہیں یا لکھتے ہیں اس پر وہ فلسفیانہ بحث کرتے ہیں۔ ہماری رائی کی تائیداس ہوتی ہے کہ صوفیہ نے اس علم کا اظہار اپس وقت تک نہیں کیا اور نہ ہی خود کو اِس صفت سے متصف کیا جب تک کہ یونان کی کتابوں کا ترجمہ عربی میں ہو کر فلسفے کا لفظ اس میں داخل ہوا۔ بہرحال یہاں تصوف کی تاریخ اور اس کے مراتب و درجات وغیرہ پر بحث کرنا مقصود نہیں ہے کیوں کہ وہ سب کچھ زیر نظر دائرہ تحریر سے فی الحال باہر ہے۔ مگر یہاں یہ کہنا ضروری تھا کہ کچھ پسِ نظر کے ساتھ موسیقی اور تصوف کے رشتے پر نظر ڈالی جائے تو ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ تصوف کے تین معنی ہیں:۔
1۔ صوفی وہ ہے جس کی معرفت کا نُور اس کے تقویٰ کی روشنی کو زائیل نہیں کرتا۔
2۔ صوفی وہ ہے جس کا باطنی علم، کتاب اللہ اور سنت نبویﷺ کے ظاہری معنی کے خلاف نہیں ہوتا۔
3۔ کرامتیں اس کو اللہ کے محارم کے پردوں کو چاک کرنے پر آمادہ نہیں کرتیں۔
غور سے دیکھا جائے تو ان باتوں سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ مجاہدہ اور شداید کے مقابلہ سے صوفیہ، ذوق کے مرتبہ پر فائز ہوتے ہیں۔
تصوف اور موسیقی کا رشتہ؟
جب ہم ان ہی باتون کی روشنی میں تصوف اور موسیقی کے "رشتے" کو پرکھیں گے تو ہمارے زہنوں میں ایک سوال بار بار اُبھرتا ہے کہ آخر جس بات سے اسلام نے منع کی تھی وہی معرفتِ الٰہی کے "حصول کی سزاوار" کیسے بن گئی ہے؟ تو میاں یہ کہنا ضروری ہو گا کہ تصوف کی مکمل داغ بیل صوفیہ نے تیسری صدی ہجری میں ڈال دی اور زوالنونِ مصری نے معارفہ سے اسلام کو روشناس کرایا جو مروج علم و ادراک سے بالکل جدا ہے اور اس کے بعد بایزید بسطامی نے غالباً ہندو دھرم سے متاثر ہو کر غنا اور بقا کے معاملات سے واقف کرایا۔ چوں کہ اسلام پر ایرانی عقیدوں اور ایرانی عقیدوں پر اسلام کے اثرات رہے اس لئے "لین دین" کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوا جس میں ایک دوسرے کے بعض مروجہ اور سنگین بنیاد والے نظریوں کی گنجائش نکالنا ڑی۔ نکلسن نے یہ بھی لکھا ہے۔ "حقیقت تو یہ ہے کہ روم وایران اور دوسرے علاقوں کی فتوحات کے بعد ہی اہل عرب کا وہ ذوقِ موسیقی پھر جاگ اُٹھا جو آنحضور ﷺ کے دورِ حیات میں غالباً دب سا گیا تھا اور رغنا نے معاشرہ میں پھر اپنا مقام ڈھونڈ نکالا تھا۔ اہلِ تصوف کا یہ عقیدہ رہا ہے کہ موسیقی اُن کی زہنی اورباطنی گرہیں کھولنے میں بدستور مدد گار ثابت ہو سکتی ہے۔ اس طرح تصوف سے زاہد دل ضمیر کا معاملہ بنتا گیا یہ نسبت اس کے یہ فکر انگیز فلسفہ بن جاتا جس کی نگاہ سے وہ اخلاقی اقدار اور مذہبی احساسات پیدا ہو جائے جو قدیم صوفیوں کے مشرب و معاملہ کا خاصا رہا ہے۔"
شروع شروع میں قرآن حکیم کی آیات کی تلاوت سے جذب و مستی کا کام لیا جاتا اور بعد میں عشقیہ شاعری نے " کارِ خیر" انجام دیا۔ بے شمار رُومانی غزلیں گائی جاتی تھیں جب اس ریاجتِ نفس میں ترنم کی باریابی ہوئی تو پھر عشقیہ شاعری کے اقتباس "ترنم" کی حدود سے نکل کر"زیروبم" کا ساتھ دینے لگے اور پھر رفتہ رفتہ زیروبم کے دوسرے لوازم بھی محافلِ تصوف سے ملحق ہوتے گئے اور اہل تصوف کی بزم محفلِ سماع بنتی گئی۔ اس بات کو جانتے ہوئے کہ از رُوئے اسلام یہ سلسلہ غلط ہے پھر بھی متصوفین نے اس طرح کی "جدت" کے لئے طرح طرح کے جواز تلاش کئے اور کہا کہ اس سے سروروکیف اور جذب و مستی میں مدد ملتی ہے اور کم سے کم تر دو سے یادِ الٰہی میں مستغرق ہونے کی سبیل پیدا ہو جاتی ہے۔ حتی کہ پھر ایرانی شاعری کی رومان انگیز غزلیں اور نظمیں بھی تصوف سے منسوب و منسلک ہوتی گئیں اورپنج گنجِ نظامی کی اکثر کہانیوں کو اہل تصوف "اپنی ہی نظر" سے دیکھنے لگے۔
پھر وہ زمانہ بھی آیا جب ان کے علاوہ اور طرح کی نظمیں محفلِ سماع میں گائی جانے لگیں جو پندو نصائیح سے کچھ زیادہ نہ تھیں۔ جیسے "حدیقتہ الحقیقہ" میں شامل بیشتر تخلیقات ہیں۔ ظاہر ہے جو موسیقی امرا اور وزرا کی محفلوں تک محدود درہ گئی تھی وہ دھیرے دھیرے ایک اور دائرہ سماعت میں داخل ہو گئی جہاں متشرع حضرات بھی دامِ غنا میں گرفتار ہوتے گئے۔ یہ سلسلہ بنو اُمیہ حکمرانوں سے لے بڈشاہ تک بد ستور جاری رہا اور اس سے دانش و روں اور فلسفیوں نے بھی استفادہ کیا۔ یہاں تک امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ "ایک مسلمان جو دوسرے مسلمانوں کو آلاتِ موسیقی مثلاً بربط،نے، سورنائی وغیرہ سکھایا کرے وہ کوئی قانونی اقدام نہیں کرے گا اور اسے نقصان کا ذمہ دا ر ٹھہرانا نہ چاہیے لیکن غنا کو حرام گرداننا چاہیے۔ مگر حقائق سے واضح ہوتا ہے کہ اہل تصوف کی اکثریت نے ساز نوازی کو نہ صرف تسلیم کیا بلکہ غنا اور رقص کو ذاتِ باری کی عقیدت اور محبت کے لئے ضروری قرار دیا۔ کیوں کہ اس میں لطیف و متین جمالِ اللہی شامل ہے"۔
یہ اقتباس پروفیسر اے۔ایم۔اے شوستری کی کتاب THE OUTLINES OF ISLAMIC CULTURE سے ماخوذ ہے جس کا دیباچہ نامی گرامی دانشور سر شیخ عبدالقادرنے لکھا تھا اور تصوف اور اہلِ تصوف کے سلسلے میں یوں لکھا: "صوفیوں نے اسلام میں ایک سے زیادہ طریقوں سے ایک خاموش انقلاب برپا کر دیا اور کئی (DOCTRINES) عقیدے جوکم و بیش بنیادی طور پر غیر ملکی تھے۔ شامل کئے۔ خود تو وہ اپنی تعلیمات و تفہیمات کی روشنی میں ایسی حسین زندگیاں گزارتے کہ اس وطیرہ کا ان کے گردونواح کے لوگوں پر بڑا اثر پڑتا۔"
یہ صحیح کہ صوفی حجرات اسلام میں کئی طرح کے انقلاب کے بانی ٹھہرائے گئے ہیں۔ ترنم کے شمول کا مسلمان کی زندگی میں جو ایک طرح سے حضرت بلالؒ اور شیخ الموزنین شیخ حسن کے وقت سے چلا آیا ہے۔ یہاں اگر مولانا ابو الکلام آزاد کے خط کا اقتباس پھر پیش کیا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔
"صدرِ اول سے لے کر جس کا حال ہم کتاب الاغانی اور عقلہ افرید و غیرہ میں پڑھ چکے ہیں۔ آج تک حجازیوں کا ذوقِ موسیقی غیر متغیر رہا ۔ یہ ذوق ان کے ضمیر میں کچھ اس طرح سے پیوست ہو گیا تھا کہ اذان کی صداؤں تک کو موسیقی کے نقشوں میں ڈھال دیا۔"
حُسنِ نَوا کے سلسلے میں قرآنِ حکیم کا فرمودہ پہلے لکھا جا چکا ہے اور اگر اعادہ کیا جئاے تو مضائیقہ نہیں:۔ اِن اَنکوو الاصوات تصوات الحمیر۔
(آوازوں میں سب سے زیادہ مکروہ اور بھدی آواز گدھے کی ہے)
دیکھئے حسین آواز، خوش گلوئی اور پُر تاثیر آہنگ کی ایک طرح کی تعریف ہوئی ہے۔
بنو امیہ جن کی سلطنت اسپین سے شمالی افریقہ، جنوبی یورپ، مغربی ایشیاسے ہوتی ہوئی چین تک پھیل گئی تھی موسیقی اور زندگی کے دوسرے تفریحی اور تعیش آمیز کاموں میں مصروف ہو گئے اور ان کی دیکھا دیکھی رعیت میں غنا کی تعلیم عام ہو گئی۔ حقیقت یہ تھی کہ جب عنانِ حکومت ہاتھ آئی اور وسیع و عریض علاقے پر اقتدار حاصل ہوا تو دو تبدیلیاں سماجی زندگی میں نمایاں طور پر پیدا ہو گئیں: ایک یہ کہ نشہ اقتدار رگ وپے میں اُسی طرح سے سرایت کر گیا جیسا کہ اُن سے پہلے حکمرانوں کی زندگیوں میں انیک بے راہ رویوں کا سبب بن گیا تھا۔ اس طرح سے سادہ زندگی، میانہ روی اور انصاف و حق پرسی کا فقدان پیدا ہو گیا۔ دوسرے یہ کہ پرانے قبائلی عادات و خصائل عُود کر آئے جن میں موسیقی اور رقص و نغمہ سے شفف، خاص کی اجازت تھی۔ تو یہ ساری نئی عادتیں اور روشیں اسلامی اصول کی نفی کرتی رہیں اور رُوحانیت کے بدلے میں مادیت نے مسلمانوں خاص طور سے حکمرانوں، امیروں اور وزیروں کو اپنے بس کر لیا۔ مذہب کی روحانی برتری بُری طرح سے متاثر ہوئی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ایک ایسا طبقہ پیدا ہوا جو روحانیت آمادہ تھا۔ اور لہو و لعب کو ناپسند کرتا تھا اور معارفت اور طریقت پر زور دیتا اور خالقِ حقیقی سے لو لگاتا اور رُوحانی مسرت کے متلاشی تھا۔ اس نے اربابِاقتدار سے کنارہ کشی کی اور فقر وفاقہ کی زندگی کو امارت دو دولت پر ترجیح دی۔
شاید تاریخ اسلام سے واقفیت رکھنے والے کلیفہ یزید (دوم) کے عہد کی دو حسین ترین مُغنیاؤں کو سلامہ اور ھبانہ جانتے ہوں گے جنہوں نے خلیفہ کو اپنے دام نوا اور سحرِ حُسن و جمال میں اس طرح سے گرفتار کر لیا تھا کہ وہ امورِ سلطنت کی طرف رُجوع کر ہی نہیں سکتا تھا اور جب ہی وہ اس دام وسحر سے چھٹکارا پا گیا جب اس کی روح قفسِ عنصری سے پرواز کر گئی۔ موت کی وجہ بھی یہی آتش نوا مغینائیں تھیں کیوں کہ ان میں سے ایک اچانک فوت ہوتی تو خلیفہ صدمہ جدائی برداشت نہ کر سکا اور عدم کی راہ لی۔
خلیفہ ہارون الرشید کے عہد میں دواور حسین و جمیل آتش نو افکارائیں زریاب اور زر تاج تھیں جنہوں نے خلیفہ سے لے کر ارباب حکومت کو اپنے بس میں کر لیا تھا۔ قریب تر دیکھئے کو اورنگ زیب کے عہد میں مشہور مفنیہ زین آبادی نے متشرع عالمگیر کو حسن و جمال اور فہم و فراست سے اپنے بس میں کر دیا تھا جس نے نغمہ اور حسن کی تیر افگنیوں سے اُسے زخمی کر دیا تھا۔ صاحبِ آثر الامرا نے لکھا ہے: "بڑی منت و الحاج کر کے اپنی خالہ سے زین آبادی کو حاصل کیا اور باوجود اُس زہد خشک اور خالص تفقہ کے جس کے لئے اُس عہد میں بھی مشہور ہو چکا تھا۔ اُس (زین آبادی) کے عشق و شیفتگی میں بے قابو ہو گیا۔" (مولانا ابو الکلام آزاد غبارِ خاطر) جب حالتِ وارفتگی انتہا تک پہنچے والی تھی تو زین آبادی انتقال کر گئی۔
دیکھا گیا ہے کہ متشرع حضرات ایک طرف اور عوام دوسری طرف موسیقی اور رقص سے والہانہ وابستگی رکھتے ہوئے ملتے ہیں۔ متشرع لوگ سنگیت روھانی منازل طے کرنے اور استغراق کا ایک اہم وسیلہ سمجھنے لگے لیکن وہ ایک بات نظر انداز نہیں کر سکتے تھے کہ "تحریم شدہ" شے بلاواسطہ سر پرستی سے مُسلم معاشرہ میں کیسے شامل ہو گئی۔ اور جب مسلمانوں نے ہندوستان کے نئے ماحول کا جائزہ لیا تو یہاں دھرم کے ساتھ سنگیت اور ناچ کی وابستگی کا احساس شدت سے ہوا۔ اہل تصوف نے ایران کی محفلِ سماع کے بدلے میں بھارتی سنگیت کو "روحانی غذا" تصور کیا اور پھر یہی غزا، مزاروں، درگاہوں تکیوں اور خانقاہوں کے قرب و جوار میں ارزاں طور پر ملنے لگی۔
یہاں "ہندونی اسلام" سے ایک اقتباس بے محل نہ ہو گا۔ جس میں موسیقی اور تصوف کے ربط و تلفیق کا ذکر کیا گیا۔ مَرے ٹٹمِس (MURRAY TITMAS) نے علامہ اقبال کے حوالے سے لکھا ہے کہ ہندوستان پہنچ کر اسلام میں کون کون سے "خاموش انقلاب" آئے اور کس طرح سے اس میں ہندوستانی آب و ہوا نے ایک جُدا رطوبت اور تاثیر سموئی۔ چنانچہ وہ لکھتا ہے:
کہ علامہ اقبال نے فرمایا۔ "کیا اس سر زمیں میں اسلام کی وحدت دہئیت بدستور قائم رہی؟ مذہبی"معرکہ بازوں" نے نے فرقوں اور برادریوں کو قائم کیا جو ہمیشہ ایک دوسرے سے آمادہ پیکار رہنے اور ہندوؤں کی طرح ذات پات کا خیال رکھتے یقیناً ہم نے ہندوؤں کو بھی مات کر دکھایا ہے۔ ہم دو گونہ ذات پات کی تقسیم سہہ رہے ہیں۔ معنی مذہبی ذات پات۔ فرقہ بندی اور سماجی ذات پات جو یا تو ہم نے ہندوؤں سے سیکھ لی ہے ورنہ وارثت میں حاصل کر لی ہے۔"
اس فرمودہ کی روشنی میں جب ہم قوالیوں اور موسیقی کی محفلوں کا جائزہ لیتے ہیں تو ہم پر ایک اور راز آشکار ہو جاتا ہے کہ ایران کی مجالس عزایا تغریہ اور ہندوستان کے معبدوں کی آرتھی اور بجناولیدونوں طریقوں نے ایک نئے رُوپ میں مسلمان کو زیر اثر کر لیا۔ اتنا ہی نہیں بلکہ کلیساؤں، ویہاروں اور دوسری عبادت گاہوں میں مروج طریقہ عبادات نے رفتہ رفتہ مسلمان کو متاثر کیا۔ عشقِ مجازی کی ظاہری حدود سے نکل کر عشقِ حقیقی کی تلاش میں سماع و گنا کی محفلیں آراستہ کرنا، اسلامی اصولوں سے انحراف ضرور تھا مگر حق و حقیقت پرست اس دام غنا میں اس لئے گرفتار ہوتے گئے کہ وہ ایک طرح کی ذہنی آسودگی چاہتے تھے تا کہ (شاید) باطن و روح کو بالیدگی ملتی۔ شاید اسی لئے کہا جاتا ہے کہ حواس خمسہ میں سے کوئی نہ کوئی حصہ کسی نہ کسی طرح سے کسی فنِ لطیف سے تعلق رکھتا ہے مصوری، بصری (VISUAL SENSE) سے راست منسلک ہے لیکن موسیقی بالا تر ہے۔ آنکھیں کوئی جاذب توجہ شے دیکھتی ہیں تو ایک طرح کا سُرور ملتا ہے جو وقتی ہوتا ہے۔ کوئی لذیز شیریں چیز چکھنے سے زبان چٹخارے لینے میں مدد کرتی ہے۔ یہ لذت بھی عارضی ہوتی ہے لیکن بقول شمس العما ءمحمد امیں عباسی" موسیقی کا قبضہ براہ راست روح پر ہوتا ہے جس قدر اس فن نے تری کی اس کی دلفریبی اور قوتِ تسخیر بڑھتی گئی۔ انسان، حیوان یکسان اس سے متاثر ہوئے۔ اس کی ہمہ گیری میں مذہب، قوم، ملت اور ملک کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔"(مقالہ: فن موسیقی)
گویا کہ بے چوں و چرابیٹھے سرمدھر آواز اور اچھے بول میں یہ صلاحیت اور قدرت ہے کہ انسان کے دل و نظر اور حواس رپوح کو متاثر کئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ دُھر پدسے لے کرکشمیر کی "صوفیانہ موسیقی" اور لوری لے کر جدید ترین طرز کی مغربی موسیقی تک اپنی طرف متوجہ کرواتی ہے۔ پسند کی یا ناپسند کی کیفیتیں کئی مقامات و منازل سے گزرتی ہین تو ہم اس نتیجے پر پہنچ جاتے ہیں۔ "یہ وہ فن ہے جس کی اپیل اتنی پُر اثر ہوتی ہے کہ بچنا حقیقتاً محال ہو جاتا ہے۔ یہ اپیل اتنی آفاقی ہے کہ بلا شک و شُبہ وہی کشش اور تاثیر اس میں بھی پائی جاتی ہے جو اشک و تبسم میں ملتی ہے۔ " اس وقت تک جن باتوں اور واقعات کا ذکر ہوا ہے اُن پر ذرا غور فرمائیے اور ساتھ ہی ساتھ مندرجہ ذیل نتائج دھیان میں رکھ کر یہ سوچئے کہ کس طرح سے موسیقی یاد الٰہی اور عرفانِ حق و حقیقت میں معاون بنتی ہے:
1۔ موسیقی روح کی غذا ہے۔ صوفی سنت اسے روحانی عرفان حاصل کرنے میں کارآمد پاتے ہیں۔
2۔ سنگیت جس میں ناچ گانا دونوں شامل ، ہندوؤں کے گیان دھیان اور بھکتی کار یہ مدد یتا ہے۔
3۔ موسیقی سے ذکر و فکر کے کچھ مرحلے طے کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔
4۔ موسیقی سے استغراق و انہماک صوفی سنت کو میسر ہوتے ہیں۔
5۔ صوفی، سنت اور ریشمی موسیقی کو تفریح کا نہیں بلکہ عرفان حق کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔
6۔ موسیقار اگر عشقیہ اشعار بھی گاتا ہے تو صوفی حضرات ان میں بھی عشق حقیقی کی جھلک محسوس کرنے لگے ہیں۔ موسیقار بلبل شیراز کے رومان برور نغمے ہوں یا سعدی شیرازی اور مولانا روم کے پندو نصائیح، امیر خسرو، جامہ، قدسی، نظیری، غنی کاشمیری، محسن فانی، عبد القادر بیدل اور دوسرے فارسی گویان ہندو ایران کے علاوہ اُردو، پنجابی، سندھی، ہندی کے علاوہ کشمیری کے قدیم و جدید شاعروں کے متصوفانہ اشعار قوالیوں کے روپ میں یا تنہا (SOLO) انداز میں گاتے رہے ہیں۔ اور صوفی منش سامعین و ناظرین کی طبعتوں کے لئے "روحانی غذا" پیش کرتے رہے ہیں۔
قرآت سے ترنم تک۔ ترنم سے غنا تک اور غنا سے رقص تک موسیقی کئی مراحل سے گزرتی رہی ہے۔ شیخ فرید، بُلھے شاہ، سچل سرمست، وارث شاہ، شاہ حسین کبیر جائسی نورالدین ولی، للہ عارفہ، میراں بائی، گورونانک دیو اور دوسرے کئی شاعروں کا کلام۔ قوالیوں کے رُوپ میں خواجہ اجمیری سے لے کر خواجہ نظام الدین اولیا کی آرام گاہوں پر عرس کے دنوں پر موسیقاروں کی منڈلیاں اور پارٹیاں عقیدت کا اظہار پورے خشوع و خضوع کے ساتھ کرتے رہتے ہیں۔ کبھی کبھی وجد میں آ کر عقیدت مند بے سدھ اور بے ہوش ہو جاتے ہیں۔ کشمیر کے علاوہ کئی دوسری جگہوں میں مقیم راہِ تصوف کے جادہ پیماؤں کو غنائی عصا کا سہارا لینا پڑا ہے اُنہیں عالم محسوسات کی "گرفت" سے آزاد ہونے میں اس فنِ لطیف نے مدد کی ہے البتہ نقشبند یہ اور سہروردیہ مسلک کے بغیردہ اہل تصوف جو صوفیانہ موسیقی سے استفادہ کرتے رہے ہیں۔ وہ اسے دنیائے دُنی سے کنارہ کشی کا وسیلہ سمجھتے رہے ہیں۔ وہ وجد و حال کی محفلوں میں موسیقی کی نقش آرائیوں میں وجدان کی آسودگی اور روح کی بالیدگی کا سامان تلاش کرتے رہے ہیں۔ کشمیر میں اہل تصوف اور صوفیانہ موسیقی لازم و ملزوم ہو کر رہ گئے ہیں۔ اور خُداشناس حضرت، غنا دوست بھی رہے ہیں۔ شعر اور موسیقی کا چولی دامن کا ساتھ رہا ہے تو شعر آنے رومانی مضامیں کے ساتھ ساتھ صوفیانہ موسیقی لازم و ملزوم ہو کر رہ گئے ہیں۔ اور خُدا شناس حضرات، غنادوست بھی رہے ہیں۔ شعرا ور موسیقی کا چولی دامن کا ساتھ رہا ہے تو شرا آنے رومانی مضامیں کے ساتھ ساتھ صوفیانہ رنگ میں سخن گوئی کی ہے شاید اسی لئے شیخ علمی حزین کے اس مقولہ کو علامہ اقبال نے اپنے ایک مقالہ میں کچھ شکوک رفع کرنے کے لئے لکھا تھا۔
تصوف برائے شعر گفتن خوب است
تو علامہ نے تصوف کا ذکر کیا ہے اور کہا ہے کہ "شعرابھی اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکے"۔ شعرا نے اس بات کا ثبوت دیا ہے کہ وہ حقیقتِ حال سے آگاہ تھے۔ ایسے میں یہ کیوں ممکن تھا کہ ہندوستان میں اسلامی تخیل اپنے عملی ذوق کو محفوظ رکھ سکتا۔ مرزا عبدالقادر بیدل لذتِ سکون کے اس قدر دل دادہ ہیں کہ اُن کو جنبشِ نگاہ تک گوارا نہیں:۔
نزاکت ہا است در آغوش بنیا خانہ حیرت
مژہ برہم، مزن تانِشکنی رنگِ تماشارا
کیا اس "لذتِ سکون" اور "رنگِ تماشا" کی بدولت لوگ خدامست اور غنا پرست بن گئے؟ یہی تصوف کی معراج ہے یا موسیقی کے اثرات کا کرشمہ ؟ شاید اسی تصوف اور موسیقی کےطفیل اُنہیں وہ لذتِ سکون ملتی ہے جس کے بارے میں علامہ اقبال نے یہ کہا تھا۔
مسلمانوں پر ایک ایسا تصوف مسلط ہوا جس نے حقائق سے آنکھیں بند کر لی تھیں۔ جس نے عزم کی قوتِ عمل کو ضعیف کر دیا تھا اور اُن کو ہر قسم کے توہم میں مُبتلاکر رکھا تھا۔ تصوف اپنے اُس اعلیٰ مرتبہ سے جہاں وہ روحانی تعلیم کی ایک قوت رکھتا تھا نیچے گر کر عوام کو جہالت اور زود اعتقادی سے فائدہ اُٹھانے کا ذریعہ بن گیا تھا۔ اس نے بتدریج اور غیر محسوس طریقہ پر مسلمانوں کی قوت ارادی کو کمزور اور اس قدر نرم کو دیا تھا کہ مسلمان اسلامی قانون کی سختی سے بچنے کی کوشش کرنے لگے۔ "علامہ اقبال نے یہ بھی کہا ہے"انیسویں صدی کے مُصلحین نے اس قسم کے تصوف کیخلاف علم بغاوت بلند کیا اور مسلمانوں کو عصر جدید کی روشن دعوت دی۔ یہ نہیں کہ مُسلمان مادہ پرست تھے۔ لیکن ان کا مقصد یہ تھا کہ مسلمان اسلام کی اس رُوح سے آشنا ہو جائیں جو مادہ سے گریز کرنے کے بجائے اس کی تسخیر کی کوشش کرتے ہیں۔"
علامہ اقبال کے افکار کا اعادہ اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کرتا کہ اہل تصوف ذکر و فکر اور جذب و حال میں موسیقی کو ذریعہ عرفان مانتے ہوئے اسلامی رُوح سے نا آشنا تھا۔ بلکہ مرے ٹٹمسِ کے لفظوں میں یہ "ہندوستانی اسلام" کی دین تھی جو "ایرانی اسلام"سے بھی متاثر تھا۔ اس سلسلے میں یہاں ڈاکٹر ای۔بی۔ جیونز کے کلمات کو دُہرانے میں کوئی عیب نہیں جو مختلف "مذاہب کا مقالسہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
"جب کسی دوسرے علاقے یا ملک پر "بدیسی" یا "اجنبی"مذہب اپنا اثرو اقتدار مسلط کرتا ہے تو اصلی باشاندوں کے مذہبی نظریوں کو سراسر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بلکہ "لین دین" کا ایک سلسلہ شروع ہو جاتا ہے جس میں اس "اجنبی" اور "غیر ملکی" مزہب کے مقلدوں اور معتقدوں کو اصلی باشاندوں کے عقاید اور نظریات کے سمونے کی گنجائش نکالنا پڑتی ہے۔"
ہندوستان میں سنگیت دھرم سے وابستہ رہا تھا اور سنگیت کو پرم آتما کے حصول اور گیان دھیان کا بہت اہم وسیلہ سمجھا جاتا تھا تو صوفیوں نے پیار محبت سے مقامی لوگوں کو اپنے حلقہ اثر میں لا کر یاد الٰہی میں موسیقی کو کم و بیش دہی مقام دیا جو ہندو دھرم کے ماننے والوں نے دیا تھا۔ شاید موروثی اور حقیقی مذہب کے بارے میں مولانا ابوالکام آزاد کے یہ خیالات پیش کرنا بے جا نہ ہو گا۔
ایک مذہب تو موروثی مذہب کہ باپ دادا جو کچھ مانتے آئے ہیں۔ مانتے رہے ہیں۔ ایک جغرافیائی مذہب ہے کہ زمیں کے کسی خاص ٹکڑے میں ایک شاہراہِ عام بن گئی ہے۔ اسی پر چلتے ہیں۔ آپ بھی چلتے رہے۔۔۔۔۔۔ایک رسمی مذہب ہے کہ رسموں اور تقریبوں کا ایک سانچہ ڈھل گیا ہے۔ اسے نہ چھیڑئے اور اسی میں ڈھلتے رہئے۔ لیکن اُن تمام مزہبوں کے علاوہ بھی مذہب کی ایک حقیقت باقی رہ جاتی ہے۔ تعریف و امتیاز کے لئے اسے "حقیقی مذہب" کے نام سے پکارنا پڑتا ہے اور اسی کی راہ گم ہو جاتی ہے۔
ہمیں ورق کہ سیہ گشت مدعا این جاست
ان قتباسات کا مقصد یہ نہیں کہ اہل تصوف "اصل راہ" سے بھٹک کر موسیقی کی دنیا میں کھو گئے ہیں بلکہ ڈاکٹر روح اللہ خاقی کے ان خیالات کا اظہار تھا جو "موسیقی مذہبی" میں "سرگز شتِ موسیقی" چاپ اول صفحہ 333پر مندرج ہیں:۔
موسیقی مذہبی ایک قدیم ترین قسم ہُنر و فن ہے جو کم و بیش ہر ملک میں متداول رہی ہے۔ یور میں اسے بہت اہم مقام حاصل رہا ہے۔ جہاں باخ (BACH) اور ہذل (HANALE) جیسے موسیقار بھی کلیسائے عیسوی سے منسلک رہے۔۔۔۔ اہل ایران موسیقی مذہبی سے اسلام سے قبل واقف تھے۔ گاتھا یا زرتشی مذہب کے نغمے گانے میں آہنگِ موسیقی سے استفادہ کرتے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔ مسجدوں میں اذان اور مناجات متدوال تھیں تو ایک دوسرے طرح کی موسیقی مذہبی یعنی نوجہ و تعزیہ شیعہ فرقہ میں رواح پا گئی۔۔۔۔۔۔۔ تغریہ کرنے والوں یا نوحہ خوانوں کا خوش گُلو اور موزِ آہنگ و نَواسے آگاہ ہونا لازمی تھا تا کہ ادائیگی پُرتاثیر ہواور سوزوگداز کی حامل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
تو اہل تصوف بھی مقصد برآری کے لئے موسیقی کا سہارا لئے بغیر نہیں رہتے۔ آج بھی خواجہ معین الدین چشتی اور شیخ نظام الدین اولیا اور دوسرے بزرگ صوفیا کے مزاروں پر موسیقی میں قوالی کی ادائیگی صدائے بازگشت کے برابر ہے۔
ہندوستانی تصوف کے بارے میں مختلف دانشوروں نے الگ الگ اور بعض دفعہ متضاد رائیں قلم بند کی ہیں جس کی وجوہ میں مُسلم تصوف کو متاثر کیا ہے۔ "مسلم سماجیات" کے حوالے سے ہندوستان میں مسلم صوفیا کی بدولت ترویج اسلام کی بات کرتے ہوئے کچھ لوگوں کا خیا ل ہے کہ "عرس، ہندوؤں کے یا تراکی مانند ہے جب کہ کسی صوفی سنت یا شہید کے مزار یا روضہ پر اجتماع ہوتا ہے۔ گانا بجانا عرس سے وابستہ ہو گیا ہے۔ قوال اور خاص طور سے عورتیں مرحوم صوفی سنت یا شہید کی شان میں مدحیہ اشعار گاتی اور مُجرا کرتی ہیں۔" تو سر شیخ عبدالقادر کی رائی کہ ہندوستان میں اسلام کے آنے کے بعد کون سا دھرم کس قدر ایک دوسرے کو متاثر کر چکا ہے۔ اس سلسلے میں کوئی صحیح انداز لگایا نہیں جا سکتا ہے۔ سنگیت اگر مُسلمان صوفیوں سے منسلک ہُوا ہے تو مقامی زندگی کے اثرات کی وجہ سے ہوا ہے۔ اور محفلِ سماع نے قوالیوں اور بعض دفعہ رقص و نغمہ کا رُوپ دھارن کیا ہے۔