وارث علوی

وارث علوی

معنی کون سی چٹان پر بیٹھا ہے

    معنی کون سی چٹان پر بیٹھا ہے

    وارث علوی

     

    ایک طرف فنکا ر ہے اور دوسری طرف زندگی کا پھیلا ؤ ۔ زندگی اور خارجی دنیا کا تجربہ وہ دوسرے لوگوں کی طرح اپنے حو اس کی مدد سے کرتا ہے۔ اس معاملہ میں وہ دوسرے آدمیوں سے مختلف نہیں۔ ایسا بھی نہیں کہ چونکہ وہ فنکا ر ہے اس لیے قدرت کی طرف سے اسے حواس کی قوت دوسرے لوگوں سے زیادہ ودیعت کی گئی ہو۔ یہ بھی ممکن ہے اور اکثر ایسا ہوا ہے کہ وہ حواس کے معاملہ میں بدنصیبوں کا بھی شکار رہا ہو۔ آخر فنکار اندھے بھی تو ہوتے ہیں۔ کسی میں حسِ سماعت بہت تیز نہیں ہوتی اور کسی میں قوتِ شامہ کمزور ہوتی ہے۔ پھر ایسا بھی نہیں کہ چونکہ ایک آدمی فنکا رہے اس لیے زندگی اسے تجربات کی دولت سے مالا مال کرنے کے لیے کوئی خصوصی اہتمام کرتی ہو۔ وہ بھی عموماً ایسے ہی تجربات سے گزرتا ہے جن سے ایک عام آدمی گزرتا ہے ۔ اس کے لیے یہ ممکن نہیں کہ زندگی کے تمام تجربات سے گزرے۔ تمام تجربات سے گزرنے کا مطلب ہے تمام لوگوں کی زندگی جینا اور یہ ممکن نہیں۔ نہ وہ پائلاٹ بن کر ہوا میں اُڑتا ہے اور نہ ملاح بن کر سمندری طوفانوں کے خطرات جھیلتا ہے ۔ نہ وہ پہاڑ چڑھتا ہے نہ رنڈی کے کوٹھے ۔ نہ وہ الیکشن لڑتا ہے نہ جنگ ۔ زندگی کے ہزاروں کا موں میں سے وہ وہی کام کرتا ہے جو قسمت سے اس کے حصہ میں آئے ہیں۔ کبھی کبھی تو وہ بہت ہی غیر دلچسپ اور سپاٹ سی زندگی گزارتا ہے۔ اس کا دنیا کا تجربہ دوسرے عام لوگوں کے تجربات کے مقابلہ میں نہایت ہی محدود اور ارزاں ہو سکتا ہے۔ یہ ممکن ہے کہ دوسرے لوگوں نے اس سے زیادہ ممالک کا سفر کیا ہو، زیادہ عورتوں سے عشق لڑائے ہوں، زیادہ قسم کی شرابیں پی ہوں اور زیادہ مہمات سرکی ہوں۔ وہ فنکار جس کے تجربات کا دائرہ وسیع ہو لازمی طور پر بڑا فنکار نہیں بنتا۔ تجربات کی کثرت اور رنگا رنگی کسی فنکار کے فن کی صفت ہو سکتی ہے قدر نہیں ۔ ذاتی تجربات کا دائرہ محدود ہونے کے با وجود فنکار بڑا فن تخلیق کر سکتا ہے ۔

    فی الحقیقت یہ فنکار کی قوتِ تخیل ہے جو اسے ایک زندگی میں ہزار لوگوں کی زندگی جینے کا اہل بناتی ہے۔ تخیل کی مدد سے وہ زمان و مکان کی حدود کو پار کر سکتا ہے، جو کچھ اس پر نہیں بیتی اس کا تجربہ حاصل کر سکتا ہے، اور جو کچھ اس نے نہیں دیکھا یا بھگتا اُسے دیکھ اور بھگت سکتا ہے ۔ وہ ایک حاسد کو دیکھتا ہے اور سوچتا ہے ، حسد کی آگ میں سلگنے کے کیا معنی ہیں، وہ ایک خونی کو دیکھتا ہے اور سوچتا ہے آدمی کا قتل کر کے ایک آدمی کتنا آدمی رہ سکتا ہے، کہیں وہ اخبار میں پڑھتا ہے کہ ایک عورت نے عشق میں نا کام ہو کر خودکشی کرلی اور وہ سوچتا ہے کہ عشق میں کامیابی اور نا کامیابی کے کیا معنی ہیں ۔ مشاہدہ فنکا رکے ذہن میں یادداشت کی شکل میں محفوظ رہتا ہے اور تخیل مشاہدہ سے اپنی غذا حاصل کرتا ہے۔ فنکار نے اس دنیا میں جو کچھ دیکھا ہے اور جو کچھ تحریر کیا ہے اسے اپنے تخیل کی مدد سے ایسی گہرائی اور پہنائی بخشتا ہے جو محض ذاتی اور انفرادی تجربہ سے کہیں زیادہ شدید اور معنی خیز ہوتی ہے۔ یعنی فنکار کے تخیل میں اتنی قوت ہوتی ہے کہ وہ ایک عام تجربہ کی تمام وسعتوں اور گہرائیوں کی تھاہ لے سکے اور تجربہ کو اس کی آخری حدود تک پہنچائے ۔

     تخلیقی سرگرمی عبارت ہے خارجی دنیا اور گردو پیش کی تہذیبی فضاؤں سے ایک ایسا رشتہ قائم کرنے سے جو حر کی ہو۔ یہ رشتہ لاگ کا بھی ہو سکتا ہے اور لگاؤ کا بھی۔ انحراف بھی اسی سے کیا جاتا ہے جس سے انسان کا رشتہ شدید ہو۔ اردو کا شاعر غزل کے خلاف بغاوت کر سکتا ہے، سانیٹ یا ہائی کو کے خلاف بغاوت کے کوئی معنی نہیں ہوتے ۔ فنکار خارجی دنیا سے غافل یا بے نیاز نہیں ہوتا۔ لیکن خارجی دنیا کا تجربہ اس کا اپنا ہوتا ہے جسے وہ شخصی رنگ میں پیش کرتا ہے، کیونکہ وہ سائنسداں نہیں ہوتا جو معروض کا علم غیر شخصی انداز میں حاصل کرے۔ خارجی دنیا کو فنکار نے جیسا پایا اور بھگتا ہے، فنکار کا فن اسی کا آئینہ ہوتا ہے حادثات کی دنیا سے ٹکرا کر فنکار کا احساس ایک موہوم شکل میں اسے بے چین کرتا رہتا ہے۔ وہ نہیں جانتا کہ اسے کیا کہنا ہے تا وقتیکہ وہ کہہ نہیں لیتا۔ اگر وہ جان لے کہ اسے کیا کہنا ہے تو اس کے معنی ہوں گے کہ وہ تخلیق کی ہوئی چیز کو پھر سے تخلیق کر رہا ہے۔ تخلیق کا مطلب ہے موہوم دُھند لے منتشر مواد کو فارم کے نظم وضبط کے ذریعہ ایک مخصوص شکل عطا کرنا۔ اسی لیے فنکار نہیں جانتا اور جان بھی نہیں سکتا کہ جو چیز وہ تخلیق کر رہا ہے وہ اپنی آخری شکل میں کیسی ہو گی ۔ وہ اُن مقاصد سے بالکل مختلف بھی ہو سکتی ہے جو لکھتے وقت اس کے سامنے تھے۔ اس کا مقصد ہوتا ہے شیطان کو خبیث اور مکروہ بتانے کا لیکن شیطان شر کی قوت کا تاریک حُسن پیدا کر لیتا ہے۔ کبھی وہ شیطان کی تصویر کشی کرنا چاہتا ہے لیکن یہ دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے کہ وہ تو فی الحقیقت اپنی ہی تصویر بنا رہا ہے۔ سادہ لوح فکر یہ سمجھتی ہے کہ فن پارہ کسی ایک خیال یا ایک نکتہ کو پیش کرتا ہے، حالانکہ فن پارہ ایک ایسے تجربہ کا بیان ہوتا ہے جو پیچیدہ اور پہلو دار ہوتا ہے اور اسے نچوڑ کر کسی ایک خیال ،یا ایک نکتہ کو حاصل کرنے کی کوشش بار آور ثابت نہیں ہوتی۔ اس سوال کا بھلا کوئی کیا جواب دے سکتا ہے کہ ہملٹ یا میکبتھ میں شیکسپیئر نے کون سا خیال پیش کیا ہے ؟ یا ویسٹ لینڈ میں ایلیٹ کون سے نکتہ کو پیش کرنا چاہتا ہے۔ نظم وہی کہتی ہے جو کچھ کہ وہ ہوتی ہے۔ نظم میں معنی کا بیان ایک یا دو شعروں میں دو ٹوک انداز میں نہیں ہوتا ، بلکہ معنی استعاروں، علامتوں اور پیکروں، حتیٰ کہ لفظوں کی آوازوں کے شکنجہ میں اس طرح جکڑا ہوتا ہے کہ جہاں آپ نے معنی کو الگ کرنے کی کوشش کی تو معنی کے ساتھ ساتھ استعاروں کے دھاگے بھی الجھے چلے آتے ہیں ۔ تخلیق کے لمحہ میں معنی الفاظ میں ڈھلتے جاتے ہیں اور الفاظ معنی کی تشکیل کرتے جاتے ہیں۔ تخلیق کے عمل کے دوران فنکا را حساس کی ایک دھند آلود لینڈ سکیپ سے گزرتا ہے۔ وہ چیزوں کو وضاحت بخشتا ہے، واہمہ کو شکل عطا کرتا ہے، تجرید کو ٹھوس بنا تا ہے اور لاشعور کی دھندلی فضاؤں کو اُجالتا ہے اور اس طرح دھند چھٹتی ہے اور احساس کی موہوم سرزمین کھلی دھوپ میں چمک اُٹھتی ہے۔ جب آپ اس سے پوچھیں گے کہ وہ کون سی بات کہنا چا ہتا تھا تو وہ پورے لینڈ سکیپ کی طرف اشارہ کر دے گا ۔ لینڈ سکیپ میں درختوں کا جھنڈ، چٹانیں اور جھرنوں کا پانی ہوتا ہے۔معنی کسی چٹان پر بیٹھا وعظ کرتا نظر نہیں آتا۔

    شلر نے فارم کو تخلیق کی اندھی جبلت کے ہاتھوں مادے کی تباہی کہا ہے ۔ خود ارسطو کے یہاں یہ تصور ملتا ہے کہ فارم فنکار کے ذہن میں ہوتا ہے جبکہ مادہ یا مواد خارج کی چیز ہے۔ مجسمہ کا تصور فنکار کے ذہن میں ہوتا ہے جسے وہ پتھر کی سل میں منتقل کرتا ہے۔ پتھر ایک پتھر کی حیثیت سے گویا تباہ ہو جاتا ہے اور ایک مجسمہ کی شکل میں نیا روپ اختیار کرتا ہے۔ اب آپ مجسمہ پر ایک پتھر کی حیثیت سے، یا ایک پتھر کے جزو کی حیثیت سے غور نہیں کرتے بلکہ ایک فن پارہ کے طور پر اس پر دھیان مرکوز کرتے ہیں معاشرتی نقادوں کی مصیبت یہی ہے کہ وہ سماجی افسانہ پر غور نہیں کرتے بلکہ اکثر و بیشتر افسانہ کو نظر انداز کر کے پورے سماج ہی پر بحث شروع کر دیتے ہیں۔ فن پارہ ایک ترکیبی وحدت ( organic whole ) ہوتا ہے۔ یعنی وہ تمام عناصر جو ایک فن پارے کو جمالیاتی سالمیت بخشتے ہیں وہ سب اس کے اندر موجود ہوتے ہیں، فن پارے کے باہر نہیں ہوتے ، اور اگر با ہررہ گئے ہیں، یا ہم یہ محسوس کرتے ہیں کہ باہر رہ گئے ہیں تو اس میں قصور فن پارے کا نہیں ہمارے علم کی حدود کا ہے۔ وہ تصویریں یا نظمیں جن کا موضوع یونانی اساطیر سے لیا گیا ہے ان سے لطف اندوز ہونے کے لیے اساطیر کی واقفیت ضروری ہے۔ اعلیٰ ادب کا مطالعہ ایک ایسے پختہ اور تربیت یافتہ ذہن کا مطالبہ کرتا ہے جو گردو پیش کی دنیا اور اس کے تہذیبی ورثہ سے بے خبر نہ ہو۔ جس طرح فنکار اپنی پوری نسل کے تہذیبی ورثہ اور دانشمندی کو اپنے لہو میں تحلیل کر کے تخلیق فن کرتا ہے، اسی طرح ایک تربیت یافتہ قاری اپنے علمی اور تہذیبی سرمایہ کوجز و شخصیت بنا کر فن پارہ کی طرف بڑھتا ہے۔ صاف بات ہے مطالعہ کا یہ طریقہ ریلوے بک سٹال سے کوئی بھی دیدہ زیب کتاب خرید نے اور دوسرے اسٹیشن پر پھینک دینے سے نوعی طور پر مختلف ہے۔ کہنے کا مطلب یہ کہ اعلیٰ ادب سے فیضیابی کے لیے کسی اختصاصی علم کی ضرورت نہیں ہوتی، اور جس علم کی ضرورت ہوتی ہے وہ ایک تعلیم یافتہ ذہن اپنی دانشورانہ سرگرمیوں کے ذریعہ غیر شعوری طور پر حاصل کرتا  رہتا ہے۔  اپنی زبان کے مقابلہ میں اسے دوسری زبانوں کے تہذیبی ورثہ کو زیادہ عرق ریزی سے سمجھنا پڑتا ہے، اسی لیے دوسری زبانوں کی شاعری کو محض پڑھا نہیں جاتا بلکہ دیدہ ریزی سے ان کا مطالعہ کر نا پڑتا ہے ۔ فن پارہ کے قائم بالذات ہونے کے ایک معنی یہ بھی ہیں کہ وہ اپنے اندر ایک جہانِ معنی لیے ہوتا ہے ۔ اور اس معنی کی آگہی فن پارہ کے اندر رہ کر حاصل کی جاتی ہے، باہر رہ کر نہیں اور قاری کے لیے ضروری نہیں ہوتا کہ وہ دوسرے علوم اور ماخذات سے معلومات حاصل کرلے یا کسی خاص علم میں مہارت پیدا کرے۔ اس کے لیے زندگی اور گردو پیش کی دنیا کا وہ علم کافی ہے جو ایک باشعور انسان کے طور پر وہ حاصل کرتا ہے۔ فنکاری، جیسا کہ براڈلے نے بتایا ہے ، فنکار کے جمالیاتی تجربہ کو اس بکھرے ہوئے مواد سے علیحدہ کرنے کا عمل ہے جیسے زندگی اور کائنات فنکار کے سامنے پیش کرتی ہے۔ جس طرح تصویر کو فریم کر کے ہم اسے کمرے کی دوسری چیزوں سے علیحدہ کرتے ہیں، اسی طرح فن کار زندگی کے بھرے ہوئے مواد سے اس حصہ کو منتخب کرتا ہے جو اس کے لیے کوئی قدر رکھتا ہے اور اسے فارم عطا کر کے باقی مانده مواد سے علیحدہ کرتا ہے اور اس طرح اسے جمالیاتی سطح پر ہمارے لیے قابل قبول بناتا ہے۔ یادرکھیے کہ فارم محض فریم نہیں ہے۔ فریم میں زندگی کا مواد جیسا ہے ویسا ہی رہتا ہے اور اس طرح صحافتی حقیقت نگاری کا نمونہ بنتا ہے۔ فارم میں یہ مواد ایک نئی ترتیب و ترکیب پاتا ہے اور اسے نئی ترتیب دینے میں فنکار کے طرز ِاحساس اور شخصیت کا بڑا حصہ ہوتا ہے۔ آرٹ میں اب محض زندگی کا عکس نہیں ہوتا ، بلکہ اس زندگی کا عکس ہوتا ہے جسے فنکار نے دیکھا ہے۔ اسی لیے فن کار کے لیے ممکن نہیں کہ وہ مستعار نقطۂ نظر سے زندگی کو دیکھے تا وقتیکہ وہ اپنی شخصیت کو مکمل طور پر مٹا کر دوسروں کے نظریات کا حلقہ بگوش نہ ہو جائے۔ اسی لیے نقاد زیادہ سے زیادہ یہ کر سکتا ہے کہ وہ دیکھے کہ زندگی کا جو عکس فن میں نظر آتا ہے وہ کیسا ہے، یا فنکار جو کچھ دیکھ رہا ہے وہ ٹھیک سے دیکھ رہا ہے یا نہیں۔ فنکار سے یہ مطالبہ کہ وہ زندگی کو نقاد کے نقطۂ نظر سے دیکھے قابل عمل نہیں ہے، کیونکہ آدمی کے لیے ممکن نہیں کہ وہ دوسروں کے طرزِ احساس اور شخصیت کے مطابق اپنی شخصیت کو ڈھالے ۔ اوپر کے تجزیہ سے یہ بھی واضح ہو گیا ہوگا کہ فارم نے مادہ کو تباہ کر دیا۔ اور فن پارہ میں جو مواد ہے اس نے ایک خاص شکل اختیار کرلی ہے جو فارم کی عطا کردہ ہے۔ اب آپ فارم کے مواد پر اس طرح غور نہیں کر سکتے گو یا وہ زندگی کا مواد ہے ، زندگی کا مواد فنکارانہ مواد بن گیا ہے جس پرغور کرتے وقت ہمیں فنی حدود کا خاص طور پر خیال کرنا پڑتا ہے۔

    وہ لوگ جو ادب میں موضوع پر اصرار کرتے ہیں اُن کا کہنا ہے کہ فارم کا لفظ بذاتِ خود کسی نہ کسی Content کی طرف اشارہ کرتا ہے اور انتہائی داخلی شخصی اور غنائی نظم میں بھی کوئی نہ کوئی خیال، تجربہ یا واقعہ ایسا ہوتا ہے جسے نثر کی زبان میں بیان کیا جا سکتا ہے۔ اُن کے برخلاف ہیئت پسندوں کا کہنا ہے کہ نظم کا germinal idea     تو نشو و نما پا کر اب شاخوں، پتوں، اور پھولوں میں بدل گیا ہے، اور اس پورے ہرے بھرے درخت سے یعنی فن پارہ سے اب آپ اُس بیج   کو الگ نہیں کر سکتے جس سے درخت پھوٹا ہے۔ شاعری کا یہ نباتاتی تصور جو ایک طرف تو  افلاطون کے نظریۂ نقل کا توڑ ہے اور دوسری طرف  اخلاقی اور تلقینی بدعت کی تنسیخ ہے ، رومانیوں کا دیا ہوا ہے جو بعد میں علامت پسندوں اور روس کے ہیئت پسندوں میں مقبول ہوتا ہوا ہمارے زمانہ تک پہنچا ہے۔ ہمارے زمانہ میں ہیئت اور موضوع کے organic تصور نے جو مقبولیت حاصل کی ہے اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ مارکسی خیالات کے تحت اشترا کی حقیقت نگاری والے ادب نے موضوع کو ہیئت سے الگ کر کے اس کی سماجی معنویت پر اتنا زور دیا کہ فنکاری محض مشاطگی بن گئی۔ یعنی فنکار کے لیے ایک اچھا کرافٹ مین ہونا کافی ہے، باقی موضوع تو اسے سماج یا ریاست بھی دے سکتی ہے۔ اور اس کا کام اس موضوع کو گو یا عوام کے لیے دلکش اور دلنشین بناکر پیش کرنا ہے ۔ جو لوگ ادب اور آرٹ کی جمالیات سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ یہ تصور کتنا ناقص ہے۔ یہ تصور اس غلط مفروضہ پر مبنی ہے کہ فنکار کے پاس اسلوب اور زبان کا رنگ و روغن ہوتا ہے جس سے وہ کسی بھی موضوع کو چمکا کر پیش کر سکتا ہے ۔ اسی تصور کا ایک شاخسانہ یہ تصور بھی ہے کہ آرٹ، فلسفہ اور دوسرے علوم کے پیچیدہ اور مشکل مسائل کو آسان بنا کر پیش کرتا ہے۔ اول تو یہ کہ آرٹ اور خصوصاً جدید آرٹ کتنا آسان ہے اس سے ہم بے خبر نہیں ۔ دوم یہ کہ دوسرے علوم خصوصاً فلسفہ اور ہمارے زمانہ میں نفسیات، اقتصادیات اور عمرانیات کے تصورات کے ساتھ ادب اور آرٹ نے جو سلوک کیا ہے اس کا اگر غور سے مطالعہ کیا جائے تو اِن علوم کے ماہرین کو خوش ہونے کے مواقع کم ہی میسر آئیں گے ۔ ذرا ڈانٹے کے طربیۂ خداوندی کے ذریعہ سینٹ تھامس کی summa theologica کوسمجھنے کی کوشش کیجیے۔ یا اقبال کی شاعری کی مدد سے نطشے برگساں، یا عبد الرحمٰن جیلی کے فلسفوں کو سمجھنے کی کوشش کیجیے اور دیکھیے کہ اس راستہ پر آپ کتنی دور چل سکتے ہیں۔ ارے خود مارکسی نقاد مارکسی شاعروں سے خوش نہیں رہ سکے، کیونکہ شاعروں کے یہاں انہیں ایسے عناصر نظر آئے جو آرتھوڈوکس مارکسزم کے بنیادی عقائد سے ہم آہنگ نہیں تھے۔ وجہ یہ ہے کہ فن کسی نظام ِافکار کی پیروی کرنے کی بجائے اس نظام سے اپنے کام کی چیز لے لیتا ہے اور جو کچھ وہ لیتا ہے اسے فنکار کا تخیل اس قدر بدل دیتا ہے کہ فن پارہ کے خیال کا اصل ماخذ اب اس خیال کی کسوٹی نہیں بن سکتا۔ فن پارہ جو حقیقت بیان کرتا ہے اس کی صداقت کی پرکھ فن پارہ کے اندر ہی رہ کر ممکن ہے۔ گو یا نقاد کا کام یہ دیکھنا رہ جاتا ہے کہ فنکار نے دوسرے علوم سے مستعار خیالات سے کیا کام نکالے ہیں۔ موضوع کو ہیئت سے الگ کر کے دیکھنے کا ایک ناگوار نتیجہ یہ آیا ہے کہ موضوع پر ایک سماجی علوم کے ماہر کی طرح غور کرنے لگتا ہے، اور محسوس کرنے لگتا ہے کہ جو بات سماجی اور سیاسی اعتبار سے اتنی اہم اور بنیا دی ہو اُس سے بھلا فنکار بے نیازی کیسے برت سکتا ہے ؟ آپ تو جانتے ہی ہیں کہ روزانہ اخبار میں کم از کم پانچ دس خبریں تو ایسی آتی ہی ہیں جو ہماری دنیا کے اہم ترین واقعات کی خبر دیتی ہیں۔ ڈالر کا بحران ایک ماہر اقتصادیات کے پیٹ میں پھوڑے پیدا کر سکتا ہے، لیکن فنکار ان پھوڑوں کی بجائے اپنے زخمِ جگر ہی کا ذکر کر تا رہتا ہے۔ کسی لبرل مسلمان سے پوچھیے ۔ وہ تو یہی کہے گا کہ آج کے زمانہ میں شاعری کا موضوع تو مسلم پرسنل لاء کا مسئلہ  ہی ہو سکتا ہے ۔ ایٹم بم کی موجودگی میں پھول اور عورت پر شعر کہنا ز بر دست ذہنی عیاشی ہے۔ اگر اس طرزِ فکر کو جاری رکھا جائے تو آج کے زمانہ میں اردو شاعروں کا موضوع اردو زبان کے سوا دوسرا ہو ہی نہیں سکتا۔

     ہیئت پسند جب کہتے ہیں کہ نظم کے معنی و ہی ہیں جو نظم کے ایک ایک لفظ میں سرایت کیے ہوئے ہیں اور نظم کا مواد اس کی ہیئت سے الگ نہیں ، اور نظم کی قدر اس کے موضوع ، معنی، یا مواد میں نہیں بلکہ اس کی ہیئت ہی میں ہے تو وہ بات غلط نہیں کہتے ، لیکن اس سے اس قاری اور نقاد کا مسئلہ حل نہیں ہوتا جو نظم کے معنی ، موضوع ، یا بنیادی خیال یا مرکزی تجربہ کی ڈور پکڑے نظم کی پر پیچ راہوں سے گزرنا چاہتا ہے ۔ وہ یہ قبول کرنے کو رضا مند نہیں ہو گا کہ نظم محض زبان، اسلوب، استعاروں ، علامتوں، اور شعری پیکروں کا جال ہے ۔ وہ موضوع ، معنی، اور مواد کو ہیئت سے الگ کر کے دیکھنا، سمجھنا اور پرکھنا چاہے گا، غنائی، شخصی اور داخلی شاعری میں یہ کام شکل ہے۔ اس کے با وجود کسی بھی غنائی نظم کی تنقیدی بحث محض اس کی ہیئت تک محدود نہیں رہی اور نقادوں نے نظم کے باریک سے باریک معنی اور نازک سے نازک خیال کو بھی نظم سے الگ کیا ہے۔ ان کی موٹی انگلیوں کا لمس پا کر معنی کا یہ نازک آبگینہ چاہے داغدار، یا مسخ ہو گیا ہو، یا ٹوٹ پھوٹ کر رہ گیا ہو۔ اس کے باوجود، اور اس احساس کے باوصف کہ معنی یا موضوع کو اس طرح پوری نظم سے الگ کرنا مناسب طریقۂ کار نہیں ، اپنی تنقیدی مجبوریوں کے تحت نقادوں نے اس طریقۂ کار کو روا رکھا ہے، کیونکہ اس طریقۂ کار کے بغیرفن پارہ کی تنقید ممکن نہیں۔غنائی شاعری میں تو مواد کا عنصر بہت ہی مہین اور نازک ہوتا ہے لیکن ڈراما، ناول، افسانہ اورمختلف اور متنوع قسم کی بیانیہ شاعری مواد کو کافی دبیزتہیں لیے ہوتی ہے۔ نقاد کے لیے اب مواد ہیئت سے الگ کرنا مشکل نہیں رہتا۔ وہ ناول اور ڈراما کے کردار، کرداروں کی نفسیاتی الجھنیں، اخلاقی کشمکش، سماجی رویوں کا تجزیہ اور محاکمہ کرتا ہے۔ وہ ناول کی واقعہ نگاری ، جزئیات نگاری، حقیقت پسندی کی بھی بحث کرتا ہے۔ وہ بھی دیکھتا ہے کہ ناول کا موضوع کیا ہے، اس کی سماجی اور اخلاقی اہمیت کیا ہے ۔ اس کے بعد وہ ناول یا ڈرامے کی ہیئت پر نظر کرتا ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ فنکارنے اپنے مواد کو پیش کرنے میں کون سے تکنیکی حربوں کا استعمال کیا ہے ۔ اس کی لفظیات اور زبان کی کیا خصوصیات ہیں، اس کا اندازِ بیان کسی نوع کا ہے، روایتی ہے، سجا سجایا ہے، سادہ و پُر کا رہے پیچیدہ اور گنجلک ہے۔ اس نے تشبیہوں، استعاروں اور علامات کا استعمال کس ڈھنگ سے کیا ہے۔ تشبیہیں فرسودہ تو نہیں، استعاروں کی غیرضروری بھرمارتو نہیں، علامات موزوں ہیں یا نہیں ، یعنی اُن چیزوں کی مناسب نمائندگی کرتی ہیں یا نہیں جن کے لیے وہ استعمال کی گئی ہیں۔ غرض یہ کہ تنقید کا time honoured طریقۂ کار موضوع اور ہیئت کی ثنویت پر قائم ہے ۔ قاری فن پارہ کو ایک وحدت کے طور پر قبول کرتا ہے۔ جب فن پارہ اس کی سمجھ میں نہیں آتا، یا اگر سمجھ میں آجاتا ہے لیکن وہ اسے تنقیدی طور پر سمجھنا چاہتا ہے تو فن پارہ کو وہ مواد اور ہیئت میں تقسیم کرتا ہے، لیکن اس تقسیم کے بعد جب وہ پھر فن پارہ کی طرف پلٹتا ہے تو فن پارہ اس کے لیے ایک وحدت ہی ہوتا ہے، یعنی مطالعہ کے دوران وہ موضوع یا مواد کو ہیئت یا زبان سے علیحدہ کر کے نہیں دیکھتا۔ گو یا نظم کا پڑھنا اور اُس سے لطف اندوز ہو نا نظم کا تجزیہ کرنے یا اس کا تنقیدی مطالعہ کرنے سے بنیادی طور پر مختلف ہے ۔ پڑھنے کے دوران ہم نظم کے موضوع یا مواد کو اس کی ہیئت سے علیحدہ کر کے نہیں دیکھتے۔ ایسا نہیں ہوتا کہ ہم ایک سطح پر خیال سے لطف اندوز ہوں اور دوسری سطح پر اس اسلوب سے جو خیال کی پیش کش کے لیے ایجاد کیا گیا ہو۔ افسانہ، ناول ، یا ڈراما میں بھی کہانی، واقعات اور کرداروں کو آپ اُن الفاظ سے علیحدہ کر کے نہیں دیکھتے جن کے ذریعہ وہ بیان ہوئے ہیں۔ نظم کے مطالعہ کے دوران آپ ایک تجربہ سے گزرتے ہیں، یہ تجربہ وحدانی ہے۔ نظم کو ختم کرنے کے بعد آپ موضوع اور ہیئت کو الگ الگ کر کے دیکھتے ہیں لیکن جب دوبارہ نظم پڑھنا شروع کرتے ہیں تو پھر ان دو علیحدہ کی ہوئی چیزوں کو جوڑتے نہیں کیونکہ انہیں جوڑ کر نظم کو پایا نہیں جاسکتا، نظم کو پانے کے لیے آپ کو نظم کے تجربہ سے گزرنا پڑتا ہے جو اپنی اوّل اور آخر شکل میں وحدانی ہے۔ گویا ہیئت اور موضوع کی تفریق قاری کے ذہن میں ہوتی ہے، نظم میں نہیں ہوتی۔ اپنے طور پر حسن خیال اور حسنِ بیان سے الگ الگ واقفیت حاصل کرنے کے باوجود، جب آپ نظم کی دنیا میں داخل ہوتے ہیں تو نظم نہ آپ کو حسن خیال بخشتی ہے ۔ نہ حسن بیان ،بلکہ اُس حسن کے تجربہ سے دو چار کرتی ہے جو خیال اور بیان دونوں کے باہم Fusion کا نتیجہ ہے۔ جب آپ نظم سے لطف اندوز ہونے، اس کے تجربہ میں شریک ہونے، اس کا پورا تاثر قبول کرنے کے لیے نظم کو پڑھتے ہیں تو آپ کا طریقہ یہ نہیں ہوتا کہ آپ زبان کو ایک الگ چیز کے طور پر دیکھیں ، معنی کو دوسری چیز کے طور پر، اور پھر دونوں کو باہم ملا کر تیسری چیز کو حاصل کرنے کی کوشش کریں جو آپ کے نزدیک نظم ہے ۔ براڈلے نے ایک دلچسپ مثال کے ذریعہ اس نکتہ کی وضاحت کی ہے کہ نظم کو پڑھتے وقت آپ معنی کو زبان سے اتنا ہی علیحدہ کر کے دیکھتے ہیں جتنا مثلاً کسی آدمی کو مسکرا تا دیکھ کر آپ اس کے چہرے کے خطوط کو جو اس کے احساس کو ظاہر کرتے ہیں، یا اس احساس کو جس کا اظہار چہرے کے مسکراتے خطوط ہیں، ایک دوسرے سے الگ کر کے دیکھتے ہیں۔ جس طرح خطوط اور اس کے معنی آپ کے لیے ایک ہیں اسی طرح نظم میں لفظ و معنی بھی ایک اکائی ہیں۔

    کہنے کا مطلب یہ کہ ہم ہماری تنقیدی ضرورتوں کے تحت ہیئت و معنی کو الگ الگ کر سکتے ہیں، تنقید معنی کی وضاحت، مواد کا تجزیہ اور طرزِ احساس کا مطالعہ کر سکتی ہے لیکن یہ طریقۂ کار موضوع سجھانے اور طرزِ احساس کی اصلاح کرنے والے prescriptive طریقۂ کار سے مختلف ہے۔ نقاد اپنی تنقیدی مجبوری یعنی موضوع کو ہیئت سے الگ کرنے کا ناجائز فائدہ نہیں اُٹھاتا۔ یعنی یہ اخلاقی طور پر پسندیدہ بات نہیں کہ وہ موضوع کو ہیئت سے الگ کر کے سماجیات یا اخلاقیات کی تجربہ گاہ میں لے جائے اور اس پر عمل جراحی کرے۔ عمل جراحی پوری نظم پر ہونا چاہیے۔ کیونکہ ہیئت سے الگ ہونے کے بعد موضوع وہ معنی نہیں رکھتا جو ایک مخصوص ہیئت اسے عطا کرتی ہے ۔ قاری کو حق ہے کہ کسی پیچیدہ گنجلک یا مبہم نظم کو سمجھنے کے لیے معنی کے اس بیج کی تلاش کرے جس سے نظم کا درخت پھوٹا ہے۔ آپ اسے لاکھ سمجھائیں کہ معنی کو ہیئت سے الگ کرنا گوشت کا ناخن سے جُدا کرنا ہے، وہ اپنی بات پر اڑا رہے گا ۔ وہ نظم سے لطف اندوز ہونے کے لیے نظم کو سمجھنا چاہتا ہے ۔ با وجود اس کے کہ وہ ایلیٹ کی اس بات کو کہ آپ نظم کو اس وقت تک سمجھ بھی نہیں سکتے جب تک آپ اس سے لطف اندوز نہ ہوں ، سو فیصدی درست سمجھتا ہے ۔ اسے اس ڈور کی تلاش ہے جس کا سرا پکڑ کروہ نظم کی پرپیچ راہوں سے گزر سکے۔ قاری پوچھتا رہے گا کہ نظم کے معنی کیا ہیں، ناول کی تھیم کیا ہے، ڈرامے کی کہانی کیا ہے ؟ صاف بات ہے کہ قاری جس چیز کا مطالبہ کر رہا ہے وہ تنقید نہیں بلکہ شرح و تفہیم ہے ۔ فنکار اور نقاد ایسے مطالبوں سے جزبز نہیں ہوتے ۔ نقاد شرح اور ’’کنجیاں‘‘ لکھتے ہیں اور فنکار اپنی تلمیحات، علامات اور حوالوں کے تشریحی نوٹ بھی دیتے ہیں ۔ لیکن نقاد اس معنی کا تجز یہ نہیں کرتا جو شرح میں بیان ہوتے ہیں۔ وہ تجزیہ نظم، ناول اور ڈرامے کا ہی کرتا ہے اور ہیئت اورموضوع کی ثنویت کو جو تنقیدی مجبوری کے تحت وجود میں آتی ہے، فن پارے کے قدری تعین کی اساس نہیں بناتا۔

     چاک سے لے کر خدا تک ہر چیز آرٹ کا موضوع بن سکتی ہے، لیکن کسی بھی موضوع کے اچھا یا برا ہونے کے متعلق نقاد یا فنکار کوئی بھی apriori بیان دینے کی پوزیشن میں نہیں ہوتا۔ وجہ یہ ہے کہ واقعہ جب تک کوئی قدر پیدا نہیں کرتا ، کوئی ایسی معنویت کا حامل نہیں بنتا جو فن کے لیے کارگر ہو تب تک فنکار معروض میں وقوع پذیر ہونے والے حادثات کو پھر وہ چاہے اتنے تاریخی اور سماجی اعتبار سے اہم ہوں، اپنے فن کا موضوع نہیں بنا تا۔ واقعہ فی نفسہٖ کتنا ہی عظیم اور اہم کیوں نہ ہو وہ اس وقت تک فن کا موضوع بننے کی اہلیت پیدا نہیں کرتا جب تک وہ فنکار کے احساسِ فکر اور تخیل میں پرورش پانے کے بعد ایک ایسی معنویت کا حامل نہیں بنتا جو آرٹ کے جمالیاتی تجربہ کی تشکیل کر سکے۔ واقعہ کی اپنی ایک تاریخی اہمیت ہو سکتی ہے، سماجی قدر ہوسکتی ہے لیکن ضروری نہیں کہ جمالیاتی قدر بھی ہو۔ تاریخی واقعات فنکا ر کے شعور کا حصہ ہو سکتے ہیں لیکن ضروری نہیں کہ وہ اس کے تخلیقی شعور کا حصہ بھی بنیں۔ وہ تمام واقعات جو اس کے شعور کا حصہ ہیں، تمام کے تمام یا اُن میں سے کچھ اس کے تخلیقی مواد کا عنصر تر کیبی ہوسکتے ہیں، اور اس طرح فن پارے پر ان کے اثرات دیکھے جا سکتے ہیں، لیکن کو ن سا واقعہ موضوعِ سخن بنے گا اس کے متعلق کوئی پیش بینی نہیں کی جا سکتی۔ ہر فنکار کے لیے ہر واقعہ تخلیق کا موضوع نہیں بن سکتا، ورنہ ایک ہی واقعہ پر اتنا کثیر لٹریچر پیدا ہوتا کہ آدمی گھبرا کر ادب پڑھنا ہی چھوڑ دیتا ۔ ہمارے وقت کے دو چار اہم ترین واقعات کو لیجیے ۔ ایٹم بم ، چاند کا سفر، ضبطِ تولید کی گولی ۔ اِن تینوں واقعات نے انسانی زندگی، انسانی علم اور انسانی اخلاق کو جس طرح متاثر کیا ہے ہم اس سے بے خبر نہیں۔ سوال یہ ہے کہ ان موضوعات پر کتنا ادب تخلیق ہوا ہے ۔ ایٹم بم پر اچھی بری کافی نظمیں مل جائیں گی، لیکن ضبط ِتولید کی گولی پر شاید نہ ملیں۔ دونوں پر افسانے ، ڈرامے اور ناول تو شاید لکھے ہی نہیں گئے۔ چاند کے سفر پر اردو میں چار پانچ اچھی نظمیں لکھی گئی ہیں، لیکن افسانے ڈرامے اور ناول نہیں لکھے گئے۔ یہ تینوں واقعات فنکار کے شعور کا حصہ ہیں،   لیکن وہ ہر فنکار کا موضوع ِسخن نہیں بن پاتے، چونکہ شعور کا حصہ ہیں اس لیے بہت سوں کی ہوشمندی کو متاثر کرتے ہیں۔ اور کسی فنکار کے مطالعہ کے ذریعہ ہم یہ جان سکتے ہیں کہ اس کے طرزِ احساس کو مخصوص شکل دینے میں اِن تاریخی واقعات کا کیا عطیہ ہے۔ کسی فنکار نے کسی موضوع پر کیوں نہیں لکھا، یہ سوال ہی سرے سے بے معنی ہے۔ کسی موضوع پر لکھنے نہ لکھنے کا مسئلہ فنکار کا ذاتی مسئلہ ہے۔ ممکن ہے اس لیے نہ لکھا ہو کہ موضوع اس کے مزاج کے مطابق نہ ہو، اسے پسند نہ ہو، موضوع کو وہ آرٹ کا موضوع سمجھتا ہی نہ ہو ، ممکن ہے وہ لکھنا چاہتا ہو لیکن اسے مناسب فارم نہ ملا ہو۔ پھر انسانی تخیل بھی چونکہ انسانی ہے، اس کی بھی چند حد ود ہیں ، پھر ادب کا دائرۂ عمل بھی لا محدود نہیں۔ ادب وہی کام کرتا ہے جو اس کے اختیار میں ہوتا ہے اور جس کے کرنے کا وہ اہل ہوتا ہے ۔ ادب سے چند کام لیے جاسکتے ہیں ، چند کام نہیں لیے جاسکتے۔ فنکار بھی اپنا دائرۂ عمل منتخب کرتا ہے۔ شاعری کی بجائے وہ نثر لکھتا ہے اور نثر میں بھی ناول یا ڈرامے کی بجائے افسانہ کو پسند کرتا ہے اور افسانے بھی اپنے تخلیقی مزاج اور شخصیت کے مطابق لکھتا ہے۔ اگر افسانہ نگار چاند کے سفر پر افسانہ نہیں لکھتا تو کوئی گناہ نہیں کرتا۔ یہ کہہ کر کہ اس کے تخیل کی اڑان رنڈی کے کوٹھے تک ہے، ہم کون سا ادبی مسئلہ سلجھاتے ہیں ۔ اس طرح تو یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ گاندھی جی کے ہوتے ہوئے گھر کے ملازموں پر کہانیاں لکھنے والا ایک لچر سرگرمی میں اپنا اور دوسروں کا وقت غارت کرتا ہے۔ میں تو یہ بھی کہوں گا کہ ہر وہ شاعر جو نرودھ پر نظم لکھنے کی بجائے ہڑتالوں پر نظمیں لکھتا ہے دشمنِ انسانیت ہے کیونکہ آج سب سے بڑا مسئلہ کا رخانوں میں چھٹنی کا مسئلہ نہیں بلکہ انسانی آبادی کا مسئلہ ہے جو کسی طرح کنٹرول ہی میں نہیں آرہا ۔ فتکار کا کام گردو پیش کی زندگی کو آرٹ کے لیے سازگار بنانے کا کام ہے اور اگر گر دو پیش کی پوری زندگی آرٹ کے لیے ساز گار نہیں بنتی تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ آرٹ کی چند حدود ہیں۔ فنکار زیادہ سے زیادہ یہ کر سکتا ہے کہ اپنے ذہن کو کھلا اور اپنی شخصیت کو اتنی کشادہ بنائے کہ چاک سے لے کر خدا تک کی سمائی اس میں ہو سکے۔ ستالِ دال نے بتایا ہے کہ پیٹر کی سوکھی شاخ جب نمک کی کان میں گرتی ہے تو نمک کے چھوٹے چھوٹے ذرے اس پر چپک کر اسے بلور کی طرح خوبصورت اور درخشاں بناتے ہیں خارجی دنیا کے واقعات بھی شعور کی راہ فنکار کے تخیل کی کان میں گرتے ہیں اور بلور بن کر نکلتے ہیں۔ لیکن باور رہے کہ یہ عمل سوکھی شاخ پر ہوتا ہے، اینٹ پتھر اور لوہے پر نہیں۔ سبھی واقعات بلور بن کر نہیں نکلتے۔ آخر ایسا کیوں ہوتا ہے کہ بڑے تاریخی واقعات موضوع سخن نہیں بن پاتے اور عام زندگی کے چھوٹے موٹے واقعات یہ اہلیت پیدا کرلیتے ہیں۔

    اس دنیا میں ہر آدمی اپنی ذات میں اک محشر خیال ہے لیکن ہر دوسرے آدمی کے لیے اک ورقِ ناخواندہ فن وہ روزنِ دیوار ہے جو زندانِ ذات میں کھلتا ہے۔ انسان کے نہاں خانۂ ذات میں جھانک کر ہی ہم اسے بہتر طور پر جان سکتے ہیں۔ ادب انسان اور انسانی مقدر کو سمجھنے کا ایک ذریعہ ہے۔ انسان کو اچھی طرح سمجھنے کا مطلب ہے اُس کی قوتوں اور اس کی مجبوریوں کا علم حاصل کر نا۔ یہ علم ہماری جذباتی ہمدردیوں کے افقوں کو وسیع کرتا ہے، اور ہماری تنگ نظری، متشددانہ عصبیت، اور خود غرضی اور خود نگری کے حصاروں پر وار کرتا ہے۔ ادب ہمیں انسان کی کمزوریوں اور طاقتوں، فتح مندیوں اور شکستوں ، پستیوں اور بلند یوں المناکیوں اور طرب آفرینیوں کی آگہی بخشتا ہے۔ اور یہ آگہی وہ جتنی اپنے موضوع کے ذریعہ بخشتا ہے اس سے کہیں زیادہ وہ فارم کے ذریعہ بخشتا ہے ۔ وہ شخص جسے ناول کے فارم اور ناول کے فن پر عبور نہیں ، جو واقعات، کہانی اور عمل کے ذریعہ کردار کو پیش کرنے کے آرٹ سے واقف نہیں، اس کی کردار نگاری خام ہوگی، جب کردار نگاری خام ہو گی تو کر دار بھی ناقص ہوگا، اور ناول میں جب کردار ہی ناقص، بے جان اور چو بین رہا تو اس میں ہماری انسانی دلچسپی بھی ختم ہو گئی۔ اب وہ ہماری ہمدردیوں کا اہل ہی نہیں رہا۔ ایسا کردار فنکار کے آدرش داد کا نمائندہ ، اس کے نظریہ کا مفسر یا اس کے انقلابی اور لبرل خیالات کا Mouth Piece ہو سکتا ہے، ایسا جیتا جاگتا انسان نہیں ہو سکتا جو ہماری دلچسپی کا مرکز بنے ۔ ایسا کردار ہمیں فنکار کے متعلق، فنکار کی انسان دوستی اور روشن خیالی اور ترقی پسندی کے متعلق بہت کچھ بتا سکتا ہے، انسان کے متعلق کچھ نہیں بتا سکتا۔ انسان کی اخلاقی روحانی اور سماجی کشمکش کی آگہی وہی کردار بخش سکتا ہے جو ہملٹ اور میکبتھ ، مادام بواری اور را سکول نیکف کی طرح گہرا ، پیچیدہ اور گول ہو۔ اور ایسا کردار اس وقت تک جنم نہیں لیتا جب تک فنکار کو اپنے فن اور فارم پر خلاقانہ قدرت حاصل نہ ہو ۔ پریم چند کے تو تمام ناول اُن پاک، صالح اور صحت مند موضوعات پر لکھے گئے ہیں جن کی آرتی پوجا ہما رے معاشرتی نقادوں کا روزانہ کا عمل ہے۔ اس کے باوجود یہ ناول کمزور ہیں کیونکہ اُن کا آرٹ کمزور ہے۔ پریم چند کے برعکس ذرا ڈکنس کے ناول پڑھیے ۔ وہ بھی پریم چند ہی کی طرح سماجی ناول نگا رہے، کافی جذباتی بھی ہے، فن کے معاملہ میں بہت سلیقہ مند بھی نہیں ۔ اس کے باوجود جولازوال کردار اس نے تخلیق کیے ہیں، جو بے مثال واقعہ نگاری اس کے یہاں ملتی ہے، اور بیانیہ آرٹ اس کے ناولوں میں جن رفعتوں پر پہنچا ہوا ہے، اس کا سراغ بھی ہمارے یہاں نہیں ملتا۔ ڈیوڈ کا پر فلڈ کا ذرا غور سے مطالعہ کیجیے اور دیکھئے کہ کردار نگاری، واقعہ نگاری اور مواد کی پوری فنکارانہ پیش کش میں ایک وکٹورین ناول نگار بھی کتنا جدید ہو سکتا ہے ۔ ڈِکنس کا آرٹ اتنا بڑا ہے کہ اس کی اصلاح پسندی ، سماجی مقصدیت اور جذباتیت تنکوں کی طرح اس کے وفور تخلیق میں بہتی رہتی ہے ۔ ناول کی عمارت عظیم، فلک بوس اور پرُ جلال ہو تو لوگ اِدھر اُدھر دیواروں کی دراڑوں اور شکستہ محرابوں کی طرف انگشت نمائی نہیں کرتے۔ ہماری ناولوں کی دیواریں کبڑی اور چھت پھونس کی ہوتی ہے لیکن اس پر جھنڈا انسانیت دوستی کا لہراتا ہے اس لیے عقیدت مند لوگ جھنڈے کو سلام کرتے ہیں اور پُھونس کی جھونپڑی پر نظر نہیں کرتے ۔ سماجی تحریمات کے مقدس آستانوں پر قارئین کی جبین نیاز کو جھکوانے کا رویہ فنکار کی طاقت نہیں، کمزوری ہے ۔ سماجی بھلمسائی کے آسن پر تو جو بھی بیٹھے گا لوگ اس کے چرن چھوئیں گے۔ لیکن فنکار ایسے آسن پر نہیں بیٹھتا۔ وہ تو فن کی پر پیچ راہوں پر سفر کرتا ہے اور اَن دیکھی اور انجانی دنیاؤں کی دریافت کرتا ہے۔ ان را ہوں پر اگر اسے انسان دوستی اور سماجی خیر خواہی کے نیک اندیشوں سے ہاتھ دھونا پڑیں تو وہ ہاتھ دھو لیتا ہے۔

     موضوع اور مواد کا تعلق چونکہ زندگی اور خارجی دنیا سے ہے اس لیے اس کی بحث قدرتی طور پر اخلاقیات اور سماجیات کی حدود میں داخل ہو جاتی ہے، جبکہ ہیئت کی بحث کو جمالیات تک محدود رکھا جا سکتا ہے۔ ادب پر جمالیات اور سماجیات دونوں کے دعوے ہمیشہ شدید رہے ہیں کبھی ایک پر زیادہ زور دیا جاتا ہے کبھی دوسرے پر۔ ادبی تاریخ اسی کشمکش کی دستاویز ہے۔ جب کسی ایک دعوے پر اصرار غلو کی حد تک پہنچتا ہے تو رد عمل کے طور پر ایسے رجحانات جنم لیتے ہیں جو دوسرے دعوے پر اصرار کرتے ہیں۔ بڑا ادب دونوں میں توازن قائم رکھنے سے پیدا ہوتا ہے۔ اواں گا رد توازن کی بجائے بغاوت اور اجتہاد سے کام لیتا ہے، اسی لیے اس کے یہاں تجربوں کی ریل پیل ہوتی ہے ۔ بڑا ادب، تجربہ ، بغاوت اور اجتہاد سے کام لیتا ہے، لیکن ساتھ ہی اُن سے بلند ہو کر اُس توازن کو پا لیتا ہے جسے روایت پسند کھو چکے ہوتے ہیں اور اواں گارد پا نہیں سکتے۔

     فنکار یہ توازن پیدا کرتا ہے ، لیکن اس کی بنیادی دلچسپی موضوع میں نہیں ہوتی بلکہ ہیئت میں ہوتی ہے۔ فی الحقیقت وہ اپنے موضوع کے پیچھے اتنی مغز پاشی نہیں کرتا جتنی مثلاً نقاد کرتے ہیں۔ اس موقع پر موضوع اور مواد میں فرق کرنا ضروری ہے۔ سمجھیے کہ کسی نظم کا موضوع جنگ ہے ۔ لیکن جیسا کہ براڈلے نے بتایا ہے موضوع نظم کے اندر نہیں ہوتا، نظم کے باہر ہوتا ہے۔ نظم کے اندر تو جنگ کے متعلق فنکار کے خیالات، احساسات، تجربات اور واقعات ہوتے ہیں۔ یہ سب مل کر نظم کا مواد تشکیل دیتے ہیں۔ یہ تو قاری ہے جو نظم پڑھ کر کہتا ہے کہ نظم کا موضوع جنگ ہے، یا نظم جنگ پر لکھی گئی ہے۔ نظم کا عنوان اگر جنگ ہے تو ہم سمجھنے لگے ہیں کہ اس کا موضوع بھی جنگ ہے۔ جنگ کا عنوان پڑھ کر ہمارے ذہن میں چند خیالات اور تاثرات پیدا ہوتے ہیں جو لفظ جنگ کے دیے ہوئے ہوتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ نظم میں ایسے ہی خیالات یا تاثرات کا بیان ہو گا جنہیں جنگ کے لفظ سے ہم منسوب کرتے ہیں۔ لیکن نظم میں ان خیالات کا بیان نہیں ہوتا جو جنگ کا لفظ ایک عام آدمی کے ذہن میں پیدا کرتا ہے۔ نظم اُن خیالات اور تاثرات کا بیان ہوتی ہے جو شاعر کے خود کے ہیں ۔ گویا نظم کا مواد وہ خیالات ، تجربات، تاثرات اور واقعات ہوتے ہیں جو شاعر کے اپنے ہوتے ہیں۔ یہ نظم کا مواد ہے۔ اور جیسا کہ براڈلے نے بتایا ہے کہ یہ مواد نظم کا موضوع نہیں، اور موضوع کی ضد فارم نہیں بلکہ پوری نظم ہے۔ یعنی نظم تشکیل پاتی ہے مواد اور زبان سے جو باہم مل کر فارم کی تشکیل کرتے ہیں۔ گو یا موضوع ایک الگ چیز ہے، اور نظم، مواداور فارم دوسری چیز۔ چنانچہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ مسجدِ قرطبہ کا موضوع مسجدِ قرطبہ ہے، لیکن نظر کا مواد زمان و مکان پر شاعر کا فلسفیانہ تفکر، فن اور عقیدہ کے مسئلہ پر چند خیالات، مسجد کے بے شمار ستونوں کا ذکر، شام اور دریائے کبیر کی روانی کے چند مناظر، اور ایک پوری تہذیب اور تمدن سے شاعر کے جذباتی لگاؤ کے بیان پر مشتمل ہے۔ یہ مواد ایک ایسے اسلوب اور ایسی زبان میں بیان ہوا ہے جو خود شاعر کی اپنی ہے۔ گویا نظم کا فارم، نظم کی زبان ، اسلوب اور مواد ہے، لیکن نظم کا موضوع مسجد ِقرطبہ ہے جو نظم کے اندر نہیں بلکہ نظم کے باہر ہے۔ یعنی میرے اور آپ کے ذہن میں ہے ۔نظم کا موضوع مسجدِ قرطبہ ہے لیکن اس کا مواد مسجد کے علاوہ اور بہت سے عناصر پر مشتمل ہے۔ یہ مواد اور فارم مل کر پوری نظم بنتی ہے ۔ صاف بات ہے کہ نظم کی شعری قدر Poetic Value موضوع میں نہیں رہی بلکہ موضوع کی ضد یعنی’’ پوری نظم ‘‘میں رہی ہے۔ مسجد قرطبہ پر ایک نہیں دوسری بھی سینکڑوں نظمیں لکھی جا سکتی ہیں۔ وہ کامیاب بھی ہو سکتی ہیں اور ناکام بھی ۔ لہٰذا موضوع نظم کی قدر وقیمت کا تعین نہیں کرتا بلکہ مواد اور فارم گویا پوری نظم سے نظم کی قدر کا تعین ہوتا ہے۔ چاک پر اچھی نظم لکھی جا سکتی ہے اور خدا پر لکھی گئی نظم ناکام اور پھسڈی بھی ہو سکتی ہے۔ گو یا موضوع آرٹ کی قدر نہیں اس لیے موضوع کو اچھا یا برا، خوبصورت اور بدصورت ، صالح اور غیر صالح، عظیم اور حقیرمیں تقسیم نہیں کیا جا سکتا ۔ ایک حقیر اور غیر دلچسپ موضوع پر شاعر خوبصورت نظم لکھ سکتا ہے ۔ لہٰذا کسی بھی موضوع کے متعلق ہماری پیشین گوئی کوئی معنی نہیں رکھتی۔ شاعر کو موضوعات سمجھانے کی ہماری پوری سرگرمی اپنے معنی کھو بیٹھتی ہے۔ اور فنکار موضوع کو اہمیت نہ دینے میں حق بجانب ہیں۔ سماجی نا انصافی کے موضوع پر ڈکنس اور پریم چند دونوں نے لکھا۔ لیکن ڈکنس پریم چند سے بڑا فنکار ہے کیونکہ ڈکنس کا مواد اور فارم دونوں پریم چند سے بہتر ہے ۔ فنکار کے لیے اور نقاد کے لیے بھی سماجی نا انصافی ایک اخلاقی قدر ہو سکتی ہے، جمالیاتی قدر نہیں ۔ اسی لیے فنکا ر اس وجہ سے بڑا فنکار نہیں ہوتا کہ اس نے جنگ ، امن ، قومی آزادی اور انقلاب جیسے اہم اور شاندار موضوعات پر قلم اٹھایا۔ یہ موضوعات اس کی بڑائی کا تعین نہیں کرتے ۔ ضروری نہیں کہ قومی شاعر بڑا فنکار بھی ہو۔ فنکار کی بڑائی کا تعین اس کا فن ہی کر سکتا ہے ۔ فنکار کی جد و جہد موضوع کے انتخاب سے زیادہ فارم کی تکمیل کے لیے ہوتی ہے۔

     فن میں تازگی اور توانائی آتی ہے اظہا رو بیان کے نئے وسائل کی تلاش سے، وہ جو نئے احساس کے لیے اظہار کے نئے وسائل کی تلاش میں نہیں نکلا وہ کسی نئے اُفق کی دریافت بھی نہیں کر سکے گا۔ جدت پسندی پر ناک بھؤں چڑھا نا تضیعِ اوقات ہے کیونکہ کمز ولکھنے والے کی تحریر اس کی جدت پسندی کی وجہ سے نہیں بلکہ محض اس وجہ سے کہ وہ لکھنے والا ہی کمزور ہے، ختم ہو جائے گی ۔ اس کے برعکس طاقتور فنکار کی جدت پسندی اور ہیئت و اسلوب کے تجربات تخلیقِ فن کے نئے امکانات پیدا کرتے ہیں۔ فنکار کا طرزِ احساس اگر نیا ہے، ایک دو رکا زائیدہ ہے تو اس کے اظہار کے لیے اسے ایک نیا فارم بھی پیدا کرنا ہوگا۔ یہ ایک بے معنی بات ہے کہ پرانے فارم میں جدید شاعری ممکن ہے۔ اگر فارم سے مراد بحر، لفظیات، اسلوب ،مواد اور مواد کی پیشکش کے پورے تکنیکی عمل سے لی جائے تو پھر لامحالہ نیا احساس نیا فارم لے کر آتا ہے ۔ آپ زیادہ سے زیادہ ناول یا نظم کے روایتی ڈھانچہ یا آکار کو برقرار رکھ سکتے ہیں، یا مواد کی پیشکش میں روایتی تکنیک کو اپنا سکتے ہیں ، یعنی ناول کو جانس یا راب گرئے یا بیکیٹ کے انداز میں لکھنے کی بجائے بالزاک یا ڈکنس کی روایت کو قبول کرتے ہیں ، لیکن آپ کا ناول چونکہ ایک نئے عہد کی نئی ہوشمندی کا ترجمان ہے، اس لیے زبان، اسلوب، تشبیہوں استعاروں، علامات، واقعہ نگاری، کردار نگاری، فضا بندی اور دوسرے بے شمار معاملوں میں نئے طریقوں کو اپنا ئے گا۔ فنکار کا تجربہ چونکہ اس کا اپنا ہے اور اس کے عہد کا پیدا کردہ ہے اس لیے اس کے اظہار کے لیے اسے ایک ایسا فارم بھی ایجاد کرنا ہو گا جو نئے دور کے آہنگ کا آئینہ دار ہو۔ نئے صنعتی عہد کے ہمہمے، شہری زندگی کی گھما گھمی، بھاگ دوڑ اور تیز رفتاری کارخانوں کی چمنیاں، دھواں آلود فضائیں، انسانوں کا سیل بیکراں ، چیختے چنگھاڑتے ٹرا فک کا شور و غوغا ، نیون لائٹ میں جگمگا تا شہر غرض یہ کہ نئی دنیا کی ترجمانی کےلیے روایتی اسلوب کافی نہیں ہے ۔ ایلیٹ نے تو یہاں تک کہا ہے کہ ہمیں ہمارے اوزان وعروض میں صنعتی عہد کے یہ رِدھم کو سما نا ہو گا۔ سب سے پہلے بادلئیر نے اپنی ان نظموں میں جو اس نے پیرس پرلکھیں، شہری فضا کو شاعری میں جذب کرنے کی کوشش کی ۔ ایلیٹ آڈن را برٹ لاویل اور دوسرے بے شمار جدید شاعروں کے یہاں نئے صنعتی تمدن کی نبض کی دھڑکن کو ان کی شاعری کے رنگ و آہنگ میں محسوس کیا جا سکتا ہے۔ کیا ہم جدید اُردو شاعری کے متعلق یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس نے نئے صنعتی تمدن کے آہنگ کو جذب کرنے کے لیے فارم میں انقلابی تبدیلیاں کی ہیں؟ اس سوال کا جواب دینے کے لیے ایک علیحدہ مضمون درکار ہے۔ سر دست تو میں صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ جدید شعور کی ترجمانی کے لیے ضروری ہے کہ شاعری اور نثر کے فاصلوں کو کم سے کم کیا جائے۔ یہ بات نثری نظم لکھنے سے بالکل مختلف ہے۔ میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ شاعری کو نثری اظہار و بیان کے تمام وسائل پر قدرت حاصل ہونی چاہیے، اور اسے نثری اسلوب کو زیادہ شاعرانہ شدت کے ساتھ پیش کرنا چاہیے۔ جس طرح زرعی تمدن کا بہترین اظہار شاعری میں ہوا ہے۔ اسی طرح صنعتی تمدن نے اپنے اظہار کے لیے نثر کا سب سے زیادہ استعمال کیا ہے ۔ ناول، افسانہ اور نثری ڈرامے کی مقبولیت کی یہی وجہ رہی ہے ۔ چونکہ اردو میں نثری روایت اتنی تو ا نا نہیں جتنی کہ شاعری کی روایت رہی ہے ، اس لیے جدید اردو شاعری بھی نثری بیانیہ کے اُن مختلف اسالیب سے بہرہ مند نہیں ہو سکی جو صنعتی تمدن کی گھما گھمی کی آئینہ داری کے لیے دوسری ترقی یافتہ زبانوں کے فنکاروں نے ایجاد کیے ہیں۔ قدیم زمانہ کے علومِ متداولہ جیسے نجوم ، طب ، فقہ وغیرہ کی لفظیات سے شعراء  فائدہ اٹھاتے تھے ۔ ہمارے زمانہ کے علومِ متداولہ جیسے اقتصادیات ، عمرانیات ، نفسیات، سیاسیات کی اصطلاحیں اور تراکیب ہمارے شعور کا جزو ہیں۔ صحافت نے تمسخر سے لے کر سنجیدہ تنقید تک کے بے شمار اسالیب ایجاد کیے ہیں۔ ناول اور افسانہ نے حقیقت نگاری اور جزئیات نگاری کے ذریعہ بیانیہ کو نئی پہنائیاں بخشی ہیں۔ ضروری ہے کہ نیا شعری اسلوب اظہار ِبیان کے اِن تمام طریقوں سے بہرہ مند ہو اور ایک ایسا ڈکشن اپنائے جو جدید زندگی کی پہلو دار ترجمانی کے کام آسکے۔ خطابت اور غنائی پکار کی اپنی اہمیت ہے لیکن علامتیت، اشاریت ، طنز، مزاح ، قول محال ، جز رس، بیا نیہ، بے تکلف بات چیت اور ڈرامائی خود کلامی و غیرہ چند ایسی شعری خصوصیات ہیں جو ہمارے یہاں اپنے عدمِ وجود سے نمایاں ہیں۔ ہم شعر کو نثر کے قریب لانا چاہتے ہیں تو نثریت کا شکا ر ہو جاتے ہیں ۔ اچھے شعر کی ایک پہچان یہ بھی بتائی گئی ہے کہ وہ نثر سے زیادہ سے زیادہ قریب ہو لیکن نثری نہ ہو۔ ہم نثریت سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں تو خطابت کی سیڑھیاں چڑھتے ہیں یا پھر گنجلگ اپنی تعقید کے جنگل میں کھو جاتے ہیں۔ شاعری کی بات جانے دیجیے۔ افسانہ نے ابھی بیانیہ کی پہنائیوں کو پورے طور پر کھنگالا نہیں تھا کہ شعریت زدہ نثر لطیف کا شکار ہو گیا ۔ دل کے بخارات کا بیان اتنا مشکل نہیں جتنا کہ کافی کے پیالے سے اٹھتی ہوئی بھاپ کو ایک نو کیلے استعارے کے ذریعہ سڈول جملہ میں بیان کرنا۔ معمول کو غیر معمولی اور اسفل کوار فع بنا نا فنکاری کا اعجاز ہے۔ پہاڑ کی چوٹی پر سفید ریش بزرگ کے منہ سے موجود ولا موجود اور زمان و مکان پر خلیل جبرانی تقریر کرانا اتنا مشکل نہیں جتنا تانگہ والے کی بازاری گفتگو کو خوبصورت اور دلچسپ بنانا۔ کہنے کا مطلب یہ کہ جدیدیت کی اتنی ہڑبونگ کے باوجود صنعتی دور کا تمدنِ جدید ہمارے یہاں اپنا شعری اور نثری فارم پیدا نہیں کر سکا۔ تھک ہار کر ہم تو یہ کہنے لگے ہیں کہ جدیدیت مرگئی حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ صنعتی تمدن کو اپنے ترجمان شاعر کا ابھی تک انتظار ہے ۔ !