قافیہ تنگ اور زمین سنگلاخ ہے
-
قافیہ تنگ اور زمین سنگلاخ ہے
وارث علوی
’’ سوال یہ نہیں کہ سنسر اُس چیز کے ساتھ کیا سلوک کرتا ہے۔ جو میں نے لکھی ہے، بلکہ سوال یہ ہے کہ سنسر کے عمل کا اس چیز پر کیا اثر پڑتا ہے، جو میں لکھنے والا ہوں۔‘‘ (ٹالسٹائی)
ٹالسٹائی کے یہ جملے چوبی تختیوں پر جلی حروف میں لکھ کر اُن تمام لیڈر نقادوں کے مطالعہ کے کمرے میں آویزاں کرنا چاہئیں، جو فن کار کو تخلیق کی آزادی کا پروانہ دیتے وقت اسے شکسپئر کے ڈرا مے ہملٹ کے بوڑھے وزیر پولونیئس (Polonius) کی نظروں سے گھورتے ہیں، کہ اللہ جانے آزادی ملنے پر صاحبزادہ کیا گل کھلائے گا۔ پولو نیئس کی ذات میں جو ایک قسم کا بنیا پن ہے وہ اس کی سخاوت کو بڑے دل کی سخاوت بننے نہیں دیتا ۔ وہ اپنے لڑکے لارنس کو پر دیس میں تعلیم لینے کی اجازت تو دیتا ہے، لیکن جس طرح وہ اس کی کڑی نگرانی کرتا ہے، اور پردیس میں اس کی صحبتوں اور چال چلن کا علم حاصل کرنے کے لیے وہ مخبری کے جن حقیر ذریعوں کو استعمال کرتا ہے، وہ اس کی بخشی ہوئی آزادی کو بے معنی بنا دیتے ہیں، پولونیئس میں وہ عالی ظرفی اور بلند ہمتی نہیں ملتی ، جو دوسرے وجود پر مکمل اعتماد کرنا سکھاتی ہے، پولونیئس کی سخاوت ایک گنتی کرنے والے پھونک پھونک کر قدم رکھنے والے عاقبت کوش، افادیت طلب، نفع خور بنئے کی سخاوت ہے۔ ہمارا افادی اور مقصدی ادب کا علم بردار نقاد پولو نیئس ہی کا ادبی روپ ہے۔ نفع نقصان کا حساب کرنے والا۔ ہر ادبی تخلیق کو مقصدیت اور افادیت کے ترازو میں جو کھنے والا۔ اور وکٹورین عہد کے اس پیورئین باپ کی طرح فن کار کی ہر حرکت کی کڑی نگرانی کرنے والا جو کن سوئیوں اور تاک جھانک کے ذریعہ جواں بچوں کی حرکات اور چال چلن پر نظر رکھتا ہے ..... اسے ایک ہی فکر ہوتی ہے۔ کہیں فن کار غلط صحبت میں نہ پڑ جائے ..... منٹو کے حسن عسکری اور آل احمد سرور کے جدیدیوں سے میل ملاپ پر ان حضرات کا ہلا گلا دیکھنےکے قابل ہے۔
سمجھدار نقاد جب فن کار کو تخلیقی سفر کی آزادی دیتا ہے، تو اسے اپنی شبھ کا مناؤں کے ساتھ روانہ کرتا ہے۔ لیکن پولو نئیس تو بزرگانہ نصیحتوں۔ مدبرانہ احتیاطوں۔ یہ کرنا اور وہ کرنا۔ چناں اور چنیں کے وہ دفاتر باز کرتا ہے ، کہ اللہ کی پناہ۔ نفسیات کے بھنورا اور انسانی فطرت کے اسرار اور رموز کے ظلمات سے بچتے رہنا۔ لنگر تو اُن اُجلے پانیوں ہی میں ڈالنا، جہاں افادیت، مقصدیت عصری آگہی اور صحت مندی کی رنگ برنگی مچھلیاں تیرتی پھرتی ہیں۔ سماجی حقیقت نگاری کے دریا میں غوطہ لگا ؤ گے، تو تجربات کے وہ موتی ہا تھ آئیں گے ، جن کے کشتے کھا کر میرے بوڑھے جسم میں بھی وہ حرارت پیدا ہوگی، کہ انسان زندہ باد کا نعرہ ذرا زور ہی سے لگا سکوں گا۔ رہی انسانی فطرت اور نفسیات کی الجھنیں ۔ انسانی تعلقات کے مسائل ۔ حیات و ممات کے اسرار در موز ۔انسانی وجود اور کائنات کی گتھیاں۔ تو مجھے ان میں دلچسپی نہیں ۔ مجھے صرف اُن معموں میں دلچسپی ہے جو روزانہ اخباروں میں حل ہوا کرتے ہیں۔ مثلاً اقتصادی یا سیاسی معمے۔ ان کے علاوہ جو کچھ ہے، سب بھول بھلیاں ۔ انسانی فطرت بھول بھلیاں ..... لا شعور بھول بھلیاں ..... تحت الشعور..... نہایت ہی بھول بھری بھول بھلیاں..... چناں چہ اپنے سفر کے دوران ایسے لوگوں سے بچتے رہنا ، جو اپنے وقت کے نمائندہ لوگ نہیں اور جن کے مسائل نمائندہ مسائل نہیں ..... انہی لوگوں سے ملنا جن کے نام میں نے تعارفی چٹھیاں دی ہیں، کیوں کہ یہ اپنے وقت کے نمائندہ لوگ ہیں، مثلاً مزدور۔ کسان۔ انقلابی ۔ طالب علم وغیرہ اگر اس منصوبہ کے مطابق تم نے جہازرانی کی تو پھر تمہیں پوری اجازت ہے، کہ سفر کے دوران زبان کی چاشنی کےخم سے خم لنڈھاؤ..... علامتوں کے مور پنکھ لگا کرنا چو..... استعاروں کی شہنائیاں بجاؤ اور انداز بیان کے ڈھول پیٹو۔
اب فن کار کی مصیبت یہ ہے کہ جب وہ تخلیق کے سفر پر روانہ ہوتا ہے، تو اسے پتہ تک نہیں ہوتا کہ وہ تجربات کے کون سے پانیوں سے گزرے گا۔ جذبات اور احساسات کی کیسی ان جانی انوکھی دنیاؤں کی سیر کرے گا۔ نہ جانے کیسے کیسے عجیب و غریب لوگوں سے اس کی ملاقات ہوگی ..... اور ہر مختلف صورت حال میں نہ جانے اس کا جذباتی رد عمل کیا ہو گا ۔ کنگ لیئر اور میکبتھ۔ اینا کارے نینا اور مادام بواری ۔را سکونلبکوف اور ولی رمین - بابو گوپی ناتھ اور سوگندھی جیسے کرداروں سےمل کر فن کار کو اپنا طرز عمل..... ان کی طرف اپنا پورا رو یہ اس مخصوص صورت حال کے تقاضوں سے پیش نظر خود ہی متعین کرنا ہو گا۔ ایسی صورت حال میں نقادوں کی تمام نصیحتیں اُن سکوں کی مانند جو پر دیس میں نہیں چلتے اپنی تمام قدر و قیمت کھو دیتی ہیں ۔
اس تنقید کا پور از ور اس بات پر صرف ہوتا ہے، کہ فرائض کے صحیح شعور کی عدم موجودگی میں آزادی کا ہر تصور بے معنی ہے ۔ غیر ذمہ دار آدمی کے ہاتھ میں آزادی کا ہتھیار خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، اسے بے سمتی اور بے مقصدیت کی طرف لے جا سکتا ہے، اس لیے ادیب کی سماجی ذمہ داریوں کی یاد دہانی کراتے رہنا نقادوں کا فرض منصبی ہے ، ان نقادوں کے نزدیک ادیب گویا انسانی کنبے کا وہ بڑا بیٹا ہے، جس کے کندھوں پر پوری انسانیت کا بار ہے، اور وہ انسانوں کے تمام اچھے بُرے اعمال کا ذمہ دار ہے۔ پہلی جنگ عظیم کی ذمہ داری ادیب کے سر۔ دوسری جنگ عظیم کی ذمہ داری ادیب کے سر۔ فاشزم کا ذمہ دار ادیب ۔ ملک کی غلامی کا ذمہ دار ادیب ۔ معاشرتی بدحالی اور زبونی کا ذمہ دار ادیب ۔غدر ہوا تو فن کار کیا کر رہا تھا ۔ آزادی کی جدو جہد میں فن کار کہاں تھا ۔ فنکا ر سماج کے سامنے جواب دہ ہے۔ فن کار کو انسانیت کی عدالت میں اپنی صفائی پیش کرنا ہوگی..... اور بے چارہ فن کار سوچتا ہے، کہ زمین سخت ہے اور قافیہ تنگ..... ایک شعر مشکل سے ہو رہا ہے اور یہ لوگ ہیں ، کہ اسے انسانیت کی عدالت کے سامنے کھڑا کر رہے ہیں ۔ آخر انسانی کنبے کے دوسرے بھی تو لاڈلے بیٹے ہیں ۔ ان سے کوئی باز پرس نہیں کرتا ۔ ایک برخوردار ہیں، کہ دن رات بارود سے کھیلتے رہتے ہیں۔ ایک نے ایک ایسے پٹانے ایجاد کیے ہیں کہ کل کو اٹھ کر پوری دنیا دھوئیں کا ایک مرغولہ بن گئی ، تو کوئی ان سے پوچھنے والا بھی نہ ہوگا ، کہ انسانی اور اخلاقی قدروں کے شعور کے بغیر آپ کو جس قسم کی سائنسی تحقیقات اور ایجادات کی آزادی ملی ہے ، وہ کہاں تک حق بجانب ہے۔ دوسرے برخوردار کا مشغلہ سیاسی ہنگامے کرتا ہے ، شہرت، طاقت اور اقتدار کے حصول کے لیے وہ جو چاہتے ہیں سو کرتے ہیں، ان کی چال بازیوں اور مصلحت اندیشیوں نے پورے کنبے کی نیند حرام کر رکھی ہے۔ انسان کی اپنی زندگی جیسی تو کوئی چیز ہی نہیں رہی ۔ ہر آدمی کی ذات کو انہوں نے اپنے رنگ میں رنگ دیا ہے، پیدائش سے لے کر موت تک، ہر چیز ان کے زیر تسلط ہے۔ اس بات کا فیصلہ بھی وہی کرتے ہیں، کہ پہلا بچہ اپنے باپ کا ہوگا یا برہمن کے نطفے کا (گولویلکر) اور موت، فسادات میں واقع ہوگی یا خانہ جنگی میں یا عالمگیر جنگ میں..... اور رہا یہ سوال، کہ بچہ مدرسے میں’’گلستان‘‘ پڑھے گا ، یا ماوزے تنگ کی کتابوں کو..... زبان مادری بولے گا ، یا وه جو یہ برخوردار طے کریں ..... ڈرامے شیکسپیئر کے دیکھے گا یا وہ جو یہ بر خوردارا پنے میر منشیوں سے لکھوائیں ۔ شعر غالب کے پڑھے گایا دن رات قومی ترانے ہی گاتا رہے گا ، تو یہ سوال اس لیے بے معنی ہے ، کہ اس کا تعلق تہذیب سے ہے، اور ہمارے ان برخوردار کی نظر میں تہذیب، ادب، اور آرٹ صرف پیٹ بھروں کی عیاشیاں ہیں ۔ اس قسم کی عیاشیوں کے ذریعہ آدمی اپنی ذات کا انکشاف کرتا ہے، اور سیاسی آدمی کی کوشش ہی یہ ہوتی ہے، کہ آدمی اپنی ذات اور اپنے جذباتی، روحانی اور اخلاقی مسائل کو بھی سیاسی مسائل بنا دے، تاکہ پورا انسانی معاشرہ ایک سیاسی اور اقتصادی اکائی بن جائے ، تاکہ وہ تمام اقدار جو ایک آدمی کو سماجی آدمی بناتی ہیں۔ مثلاً عشق و محبت، دوستی، جہد معاش ، سرگرمی اور فرصت، تفریح اور کام ۔ مذہبی اور موسمی رسوم ورواج اور تہوار..... روحانی تسکین کے ذرائع اور ادب اور آرٹ بھی سیاسی نوعیت اختیار کرلیں اور ان کا تعین بھی سیاسی بنیادوں پر ہوا کرے، اور ایک جیتا جاگتا جاندار سماجی آدمی ایک بے جان، بے کیف سیاسی اکائی۔ اقتصادیات کے اعداد و شمار کا ایک عدد بن جائے ۔ بہر حال آپ دیکھیں گے، کہ ان بر خورداروں کی سرزنش کوئی نہیں کرتا۔ کسی بھی گھرمیں جائیے ، لڑکا جب انجنیئر نگ پڑھتا ہے یا الیکشن لڑتا ہے، تو پو را کنبہ خوش ہوتا ہے ۔ شاعری شروع کی ، تو ماں تک بددعا دیتی ہے ۔
’’ اس انسانی مذاق کو پیدا کرنے سے تو بہتر تھا، کہ میں نے سنپولوں کو جنم دیا ہوتا ۔‘‘ (با دلیئر)
غرض یہ کہ فن کار کی دگنی مصیبت ہے ۔ یا تو اسے بالکل ناکارہ سمجھا جاتا ہے ۔ ایک ایسا آدمی جو افسانہ وافسوں میں کھویا رہتا ہے، اور جس کا مشغلہ سماج پر کوئی اثر نہیں ڈالتا۔ یعنی دنیا کو بدلنے ، بنانے یا بگاڑنے کی جو طاقت سائنس داں یا سیاست داں میں ہوتی ہے، وہ اس کے پاس نہیں ہوتی ..... یا پھر اسے سماج کا سب سے ذمہ دار اور کارآمد آدمی سمجھ کر سیاسی آدمیوں اور سائنس دانوں کے گنا ہوں کی سزا بھی اسے ہی دی جاتی ہے۔ جب یہ یہ کچھ ہورہا تھا اس وقت تم کیا کر رہے تھے۔ فن کار دراصل کچھ بھی نہیں کر رہا تھا..... صرف اپنا قافیہ ٹھیک کر رہا تھا ۔ لیکن اس کی یہی حرکت .....قافیہ ٹھیک کرنا ۔ زمان سے الجھنا..... فن کی تخلیق کرنا..... ان لوگوں کو سب سے زیادہ ناگوار گزرتی ہے..... ہیئت پرستی کی گالی کے تیو ر وہی ہیں، جو عوام سے غداری کی گالی میں نظر آتے ہیں۔ جب بھی فن کار نے اپنے تجربہ کی آزادی کا حق مانگا تو ا سے مادر پدر آزاد کے لقب سے نوازا گیا۔ نقاد اور فن کار کی یہ جنگ گویا ایک Pagan اور Philistine ایک صوفی اور فقیہ کی جنگ ہے ، ہماری تنقید کا پورا لب ولہجہ ایک فقیہہ، محتسب، قاضی ، مفتی اور کو توالی کا لب ولہجہ ہے۔ نقاد خود کو قانون کا محافظ، اخلاق کا پاسباں اور صراطِ مستقیم کا عارف تصور کرتا ہے۔ تاریخ شاہد ہے، کہ ملا نے صوفی کے روحانی تجربات کو ہمیشہ شبہ کی نظر سے دیکھا۔ اس کی آزا دی اور اصولِ شرعی کی خلاف ورزی کو کبھی برداشت نہ کر سگا، اور صوفی کو سولی پر چڑھانے اور سنگسار کرنے کے فتوے صادر کرتا رہا۔ہمارے ادب کے چوراہوں پربھی آپ کو ایسے کتنے ہی مردانِ آزاد کھڑے نظر آئیں گے جن کے جسم بے مقصد ی اور بے سمتی ، نراج اور انتشار۔ گندگی اور غلاظت کے نو کیلے پتھروں سے لہولہان ہیں..... ادب کے مفتیوں کی چراغ پائی سمجھ میں آنے والی بات ہے، کیوں کہ فن کاروں میں کچھ تو مجذوب ہیں، جن کی باتیں انہیں سمجھ نہیں آتیں ۔ کچھ سرمد کی طرح ننگے ہیں اور صرف آدھا کلمہ پڑھتے ہیں ..... اور کچھ تو یہ بھی نہیں جانتے ، کہ وہ سلوک کے کون سے مقام میں ہیں..... ہاں البتہ کچھ ایسے بھی لوگ ہیں ، جو صوفی ہونے کے باوجود با وضو بھی ہیں..... ادب سے فقیہوں کو بس انہی شاعروں سے دلچسپی ہے کیوں کہ یہ شاعر، ان کی شریعت کے ذرا قریب ہیں..... فقیہ انہیں ہم سفر کہتا ہے، اور ان آواره در ویشوں کو صلواتیں سناتا ہے ، جو انہیں بہکا کر اپنے جیسا بنانا چاہتے ہیں..... آخر شمس تبریز کو لوگ اسی لیے تو قتل کرنے گئے تھے کہ وہ رومی جیسے باوقار، پرہیزگارا در عالم ِدین مولوی کو بہکاتا تھا۔
٢
آدمی کی شخصیت جتنی آدرشی خانہ بند اور متعصب ہوگی، اتنی ہی وہ زیادہ احتسابی ہوگی۔ اس کے برعکس فن کار کی کوشش تو یہی ہوتی ہے ، کہ جتنا ممکن ہو، وہ اپنی شخصیت کو کشادہ اور شفاف بنائے ، تاکہ ہر تجر بہ کی کرن اس کی روح کی گہرائیوں میں اتر سکے۔ فن کار تجربات کے لیے جتنا کھلا ہوگا، اتنا ہی اس کا فن وسیع ہو گا..... اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں، کہ وہ ہر تجربہ کو اپنے فن کا موضوع بنائے گا، لیکن اس کا مطلب یہ ضرور ہے، کہ ہر تجریہ اُس کے فن کے لیے کچھ نہ کچھ خام مواد ضرور مہیا کرے گا..... در اصل تخلیق کا عمل نہایت ہی پیچیدہ عمل ہے۔ فن کار کا ہر روزمرہ کا تجربہ اُس کے فن کا موضوع نہیں بنتا ۔ فن کارا اپنے روزمرہ کے تجربہ میں اور خود میں ایک فاصلہ قائم رکھتا ہے، تاکہ تجربہ جب تک اس کی فن کارانہ شخصیت میں گھل مل کر..... اس کے دوسرے تجربات میں مدغم ہو کر ایک ایسا مرکب نہیں بن پاتا ، جو فن کا موضوع بننے کا اہل ہو، تب تک وہ اسے ایک موضوع ِسخن کے طور پر قبول نہیں کرتا ..... یہ ممکن ہے فن کار ناشتے پراپنی بیوی سے لڑے۔ اسکول نہ جانے کے لیے اڑے ہوئے بچہ کو دوہتڑ لگا ئے ۔ دوپہر کو آفس میں اپنے ساتھیوں سے کمیونسٹوں کی حمایت میں جھگڑا مول لے ۔ شام کو کوئی امریکن فلم دیکھیے..... رات کو بیوی سےلپٹ کر سور ہے..... اور جب آدھی رات کو یکا یک اس کی آنکھ کھل جائے اور وہ نظم یا افسانہ لکھنے بیٹھے تو پھر اس کے دن بھر کے تجربات اور روزمرہ کے کاموں کا اس کے تخلیقی عمل سے کوئی تعلق نہ ہو۔ حالاں کہ یہ سب تجربات اور کام اس کی اُس حسیت کو متاثر کرتے رہے ہیں..... جو تخلیق فن کا سر چشمہ ہے ۔ اگر آئے دن کے تجربات ہی کا بیان اسے مقصود ہوتا، تو وہ ڈائری لکھتا۔ نقوشِ زنداں کی طرز پر خطوط لکھتا..... آپ بیتی ، روزنامچہ یا رپورتاژ لکھتا..... ’’ روشنائیاں‘‘ کے انداز پراپنی آدرشی شخصیت کے کارنامے لکھتا ۔ جو لوگ ’’ اپنی‘‘ زندگی کے تجربات، سرگرمیاں اور کارکردگیاں بیان کرنا چاہتے ہیں، اُن کے لیے بھی اظہار کے وسیلوں کا ، ادب میں خاصا انتظام ملتا ہے ..... وہ لوگ ان ذریعوں کا استعمال پوری آزادی سے کر سکتے ہیں..... مصیبت اس وقت پیدا ہوتی ہے، جب یہ لوگ اپنے صحافتی تجربات کے لیے ادبی فارم کی توڑ پھوڑ کرتے ہیں ، افسانہ کو رپور تاژ اور ناول کو ڈائری بنا دیتے ہیں۔
کھلی شخصیت کے برعکس، خانہ بند شخصیت ہر کام اپنے آدرشی منصوبے اور نظامِ اخلاق کے مطابق کرتی ہے۔ یہ شخصیت اُن پرہیزگاروں کی یاد دلاتی ہے، جو ایک ہی وضو سے پانچ پانچ نمازیں پڑھتے ہیں..... امریکن فلم دیکھنے یا بادلیئر کو پڑھنے سے ان کا وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ اس لیے وہ ہر اس چیز سے دور رہتے ہیں، جو ان کے آدرشی اور نظریاتی چوکھٹوں میں سمانہ سکتی ہو..... ان کی شخصیت کا صرف ایک رنگ ہوتا ہے اور ایک پہلو ..... وہ اگر ادب پڑھتے ہیں تو ایسا ہی ادب جو ان کے اس رنگ کو گہرا بنائے ۔ بالزاک اس لیے پڑھیں گے ، کہ۔ اس میں ابھرتے ہوئے بورژ داژی اور مرتے ہوئے اشرافیہ طبقہ کی عکاسی ملتی ہے..... ٹالسٹائی اس لیے کہ اس میں روسی کسان کی زندگی کی ترجمانی ہے..... ڈکنس اس لیے کہ وکٹورین عہد کے غریبوں کی زبوں حالی کا اس سے بہتر نقشہ کسی نے پیش نہیں کیا۔ حافظ اس لیے کہ خود مختار بادشاہوں ۔ ریا کار علماء، قاضیوں اور فقیہوں کا اس نے پردہ چاک کیا ہے اور عوام کی جذباتی مسرتوں کو اظہار بخشتا ہے..... رہا حافظہ کی شاعری میں زندگی کی بے ثباتی اور تصوف کا ذکر تو وہ ہمارے لیے بے کار ہے ۔ یعنی جو چیز حافظ کی شاعری کی بنیاد ہے، وہ بے کار ہے اور جو کچھ اس کے صوفیانہ مسلک کے By-Product کے طور پر آیا ہے، وہ کار آمد .....اس نظر سے آپ دیکھیں، تو قرآن میں صرف خداہی کا ذکر بھرتی کا معلوم ہوگا ، باقی جو کچھ ہے ، وہ تو سماجی طور پر نہایت ہی کارآمد ہے - غرض یہ کہ دنیا کی تہذیبی تاریخ اور اس کا پانچ ہزار سالہ ادبی اور فنی سرمایہ جب تک ان حضرات کے نظریاتی غربال سے چھن کر صاف مطہر شربتِ روح افزاء کی شکل میں ظاہر نہیں ہوتا ، تب تک انسانیت کا وہ ہمدرد دواخانہ اپنے مجربات کیسے فروخت کر سکتا ہے، جس کے مسیح الزماؤں کی بیاضوں میں دنیا کے ہر مرض کا علاج موجود ہے ۔ حافظ کے کلام کے وہ عناصر، جو ہمارے لیے اب سود مند اور مفید نہیں ہے، انہیں چھان پھٹک کر صاف کیا جاسکتا ہے اور پھر جو کچھ بچتا ہے اسے شیشی میں بند کر کے Prepared under Especial Medical care کا سکہ لگا کر عوام کے ہاتھوں میں بے خوف و خطر پہنچایا جا سکتا ہے۔ حافظ کے کلام کے سلسلے میں تصوف کا ذکر اب اتنا ہی بے معنی ہے، جتنا تاج محل کے سلسلے میں شاہ جہاں کا ذکر..... تصوف اور شاہجہاں کو آپ خارج کر دیجیے ، باقی جو کچھ بچے گا ، اسے دیکھ کر آپ کو یہی محسوس ہوگا ، کہ اسٹالن کے مقبرے کی طرح تاج محل بھی کمیونسٹ پارٹی کی نگرانی میں عوام نے تعمیر کیا ہے اور کلامِ حافظ مرزا ترسوں زادہ کی تخلیق ہے ۔ شاہ جہاں بے چارہ بھولا بھالا ہندوستانی بادشاہ۔ اپنی بیوی کے لیے ایک مقبرہ بنوایا اور اپنے لیے ابو طالب کلیم سے چند قصیدے لکھوائے۔ اس میں صنعتی عہد کے آمر کی جودتِ طبع کہاں کہ کنسن ٹریشن کیمپ روس میں قائم کرتا اور قصیدے ہندوستانی شاعروں سے لکھواتا ۔
( ٣)
غالب اور شیکسپیئر جیسے بڑے دل و دماغ والی شخصیت سے ملاقات کیا اور حاصل صرف وہ جذباتی تجربہ ہے، جو اس ملاقات سے پیدا ہوتا ہے ..... ایسی ملاقات سے آدمی کو کیا فائدہ پہنچتا ہے.....؟وہی جو ایک خدارسیدہ آدمی کی صحبت سے پہنچتا ہے ۔ دلی کا اور دان اس کا Grace اس کی بخشی ہوئی سب سے بڑی نعمت ہے۔ ادب کے مطالعہ سے کوئی دنیاوی فائدہ نہیں ہوتا..... ادب کا فیض جذباتی ، روحانی اور ذہنی ہوتا ہے..... اور اس فیض کے ناپ تول کا کوئی پیما نہ آدمی نے ابھی تک ایجاد نہیں کیا..... ادب کا اثر فوری عملی اور Tangible نہیں ہوتا ۔ نہ تو صوفیانہ شاعری پڑھ کر آدمی مسجد میں اذاں دینے دوڑتا ہے، نہ سیاسی شاعری پڑھ کر ووٹ ڈالنے۔ شاعری آپ کو شاعر کے تجربہ سے دو چار کرتی ہے۔ اور ہر آدمی دوسرے کے تجربہ میں شریک ہونا چا ہتا ہے ، خصوصاً اس شخص کے جو ایک غیر معمولی ذہن رکھتا ہو۔ فن کار سے یہ بے غرض اور بے لوث ملاقات فن کی صحیح پرستش ہے ..... ایسا آدمی فن کار سے ملنے کے بعد اپنے ذہن کی جھولی نہیں کھنگالتا ، کہ دیکھیں اسے کون سے خیالات عقیدوں اور آدرشوں کے سکے حاصل ہوئے ہیں..... افادیت کے موتی تلاش کرنے والا آدمی ایک مقصد سے ادب کو پڑھتا ہے اور اس کے لیے لکھنے والا بھی ایک مقصد کے تحت ادب تخلیق کرتا ہے ..... وہ بے مقصد مقصدیت جو صحیح فنی اور جمالیاتی تجربہ کی اساس ہے، اس سے یہ مصنف اور اس کا قاری دونوں بے بہرہ ہوتے ہیں.....
بڑا ادب قاری سے زبر دست ذہنی اور جذباتی اشتراک مانگتا ہے۔ اور یہ اشتراک اس وقت تک ممکن نہیں، جب تک قاری ایک پر خلوص سپردگی کے تحت اپنی ذات کو فن کار کی ذات میں جذب نہیں کر دیتا..... شیکسپیئر، خیام اور غالب کو آپ ہاتھ میں سرخ پنسل لے کر نہیں پڑھتے ..... اُن شاعروں کے تجربات ، احمقوں کے تجربے نہیں ہیں ، کہ آپ ماہر نفسیات یا’’آئی ۔ اے ۔ ایس‘‘ افسر کی طرح ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے آنکھوں میں ذہانت کی چمک پیدا کیے۔ بس یہ دیکھنے کی کوشش کرتے رہیں، کہ شاعر صاحب قلا بازی کہاں کھاتے ہیں ..... زبان کے کر تب کہاں بتاتے ہیں..... تاریخی غلطیاں کہاں کرتے ہیں ..... ان کی فکر میں تضاد کہاں کہاں ہے، ان کا زندگی کا تصور کس کس مقام پر آپ کے صحت مند..... رجائی اور افسرانہ تصور کے معیار پر پورا نہیں اترتا..... ان کا معاشرتی تصور کیوں خام ہے..... کیا وہ احساس کمتری کا شکار ہیں یا ان کی ہوس پرستی..... زرطلبی..... یا طبقاتی وابستگی نے انہیں گمراہ کر دیا ہے۔ جس کے نتیجے میں وہ انسان اور زندگی کا وہ تصور نہیں رکھتے ، جو مثلاً آپ کا ہے ، اور جس کی تشکیل آپ نے سیاسی پمفلٹوں یالن بوٹانگ سے لے کر ول ڈیورانٹ .....اور فل ٹن شین جیسے فلسفہ اورمذہب کے Popularisers کی کتابوں کے ذریعہ کی ہے ۔
وہ لوگ جو پہاڑوں پر ایک بار فطرت کا حسن دیکھ آئے ہیں، وہ جانتے ہیں، کہ پہاڑوں کا بلاوا کیا ہوتا ہے ۔ پہاڑ کی پکار کی طرح اعلیٰ ادب کی بھی اپنی ایک پکار ہوتی ہے ۔ تفریحی ادب کی ایک خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ آپ اسے پڑھتے ہی فراموش کر دیتے ہیں ..... تاش اور سینما سے لے کر سراغ رسانی کے قصوں تک ہر تفریح وقتی اور گریز پا ہوتی ہے..... لیکن بڑے ادب کے اثرات دیر پا ہوتے ہیں..... آپ غالب یا شیکپیئر کے متعلق یہ نہیں کہتے ، کہ بھئی ایک زمانہ میں مجھے پسند تھے، لیکن اب نہیں پڑھے جاتے ۔ یہ ممکن ہے، کہ شیکسپیئر کو آپ نے ایک بار لگن سے پڑھا ہوا اور بعد میں دس سال تک آپ اُسے نہ پڑھ سکے ہوں ..... لیکن یہ ممکن نہیں، کہ ان دس سالوں میں آپ نے شیکسپیئر کے متعلق سوچا نہ ہو یا بار بار اُس کی طرف لوٹ جانے کی کشش محسوس نہ کی ہو ۔ بڑا فن کار تو پیر تسمہ پا ہے ، جو ایک بارآپ کے اعصاب پر سوار ہو گیا۔ تو پھر اس سے نجات ممکن نہیں ۔
بڑے شاعر کے تنقیدی مطالعے کا مطلب ہم یہ سمجھتے ہیں، کہ ہم اس کے تجربات کو بھی ہمارے ذہن کے تعصبات، عقیدوں اور نظریوں کی سطح پر کھینچ لائیں..... دراصل ہم اس انکساری سے محروم ہوتے ہیں، جو ایک طاقتور اور ہمہ گیر تخیل کے تخلیقی تجربہ کے سامنے ہمیں نیا ز مندانہ سپردگی سے آداب سکھاتی ہے۔ہم ہرتخلیق کو اپنے ذہن کی روشنی میں دیکھنا چاہتے ہیں ۔ ہم ہماری خودی کی حقیرقندیل کی روشنی میں مہرِ عالم تاب کا تماشا کرنا چاہتے ہیں ۔ ہمارا ذہن جو سطحیات ، تعمیمات ، پیش پا افتادہ خیالات، کلی شیز اور مستعار ادھ کچرے کے نظریات کا جوہڑ ہے ..... ہم اس کے گدلے پانی میں فن کار کے فلک سیر تخیل کی بے پناہ اڑانوں کا عکس دیکھنا چاہتے ہیں ۔ غالب کی نرگسیت ۔ غالب کا احساسِ کمتری ۔ اس کی علمی تہی مائیگی۔ اس کی جاہ ودولت کی ہوس۔ تصوف کا اس کے یہاں برائے شعر گفتن ہونا..... اس کی شخصیت کا تضاد..... اس کے معاشرتی شعور کا تناقص ..... ہمارے مشروط..... خانہ بند..... تڑے مڑے ذہن کے جوہڑ سے اڑے ہوئے یہ وہ چند چھینٹے ہیں ، جن سے ہم نے ہمارے عظیم ترین تہذیبی سرمایہ کے دامن کو داغ دار کیا ہے۔ بڑے فن کار کی طرف ہمارا رویہ ان لونڈوں کا ر و یہ رہا ہے، جو بقول آڈن اشتہارات میں لڑکیوں کی تصویروں پر پنسل سے موچھیں بنایا کرتے ہیں ۔
بڑے ادب کا تجربہ بہ یک وقت دل فریب اور ہولناک تجربہ ہوتا ہے۔ اس تجربے کے مانند جو گہرے نشیب کے اوپر پہاڑی پگڈنڈی پر سے گزرنے والوں کو حاصل ہوتا ہے ۔ فن کار لفظ کے نازک آبگینوں سے وجود کی اتھاہ گہرائیوں میں جھانکتا ہے۔ اس تجربہ کو وہ ریٹائرڈ افسر کیسے سمجھ سکتے ہیں ، جو اپنے بوڑھے پھیپھڑوں میں آکسیجن بھرنے کی غرض سے پہاڑوں پر جاتے ہیں اور اپنے نظریات کے ادنیٰ کپڑوں میں ملبوس مال روڈ کی سیاسی بھیڑ میں چکر کاٹتےرہتے ہیں ۔
ادب کا تھوڑا بہت مطالعہ بھی آپ کو یہ بات بتا دے گا، کہ ہم کتنی مختلف متضاد اور شخصیتوں کی تخلیقات سے بیک وقت لطف اندوز ہونے کی اہلیت رکھتے ہیں، ہر دوسرے آدمی کی انفرادیت اور اس کی فکر و نظر اور تخیل و تجربہ کی آزادی کو قبول کرنا فن ہی کی نہیں ، بلکہ زندگی کی بھی بنیادی قدر ہے ۔ پوری دنیا کے لوگوں کو اپنے عقیدے اور آدرشوں ۔ اپنی پسند اور ناپسند کی ایک بے جان پر چھائی بنا دینا کوئی دانشمندانہ طرز عمل نہیں ..... مشین اور آدمی میں بھی تو فرق ہے، کہ آپ کے اشارے پر تمام دنیا کے مشین ایک ہی سی حرکت کرتے ہیں ، جب کہ تمام دنیا کی بات جانے دیجیے آپ کی شریکِ حیات تک آپ کی انگلی پر نا چنے سے انکار کر دیتی ہے۔ آپ شیکسپیئر اور بالزاک کی بات چھوڑیئے..... شیخ سعدی جیسے معلمِ اخلاق کو لیجیے اور ذرا دیکھیے کہ وہ پوری دنیا کی رنگارنگی کو کیسے درویشانہ خلوص کے ساتھ قبول کرتا ہے ..... مسجد کا وہ بانگی جو بے سری اذان دیتا ہے ..... وہ مسلم جو بچوں کو بے تحاشا پیٹتا ہے ..... وہ بیوپاری جو مال متاع کے لیے اپنی راتوں کی نیند حرام کر لیتا ہے..... غرض یہ کہ سعدی کی گلستاں اور بوستاں بھی اپنی رنگا رنگی میں الف لیلہ سے کم نہیں ہے ..... سعدی کی شخصیت میں جو ایک آوارہ درویش کا رچاؤ تھا یہ اسی کا فیض تھا، کہ وہ سلطان و گدا ۔ حقیر و فقیر جوان اور بوڑھوں کے ساتھ خندہ جبینی سے ملتا..... چوپایوں پر اپنے لطیفوں سے انہیں ہنسانا..... خانقاہوں میں سلوک و طریقت کی باتیں کرتا اور درباروں میں بادشاہوں کو انصاف اور انسانی ہمدردی کی وہ نصیحتیں کرتا..... جس کا تصور بھی آج کے وہ شاعر نہیں کر سکتے ، جو آمر ریاستوں کے حلقہ بگوش اور نمک خوار ہیں..... سعدی کی اخلاقیات کسی جامد عقیدے یا بے جان اخلاقی نظریہ کی پیدا کردہ نہیں ہے ..... بلکہ نتیجہ ہے شاعر کی ذات اور خارجی حقائق کے ٹکراؤ سے پیدا شدہ تجربہ کی چنگاری کا..... اسی لیے اس کی اخلاقیات میں بھی تاب ناکی اور حرارت ہے ۔ وہ آدمی جو سوچتا ہے، کہ مسجد میں ٹیپ ریکارڈ سے اگر اذانیں دلوائی جائیں ، تو کتنے آدمی کارخانوں میں کام آسکتے ہیں، کبھی فن کار نہیں بن سکتا ۔ کیوں کہ وہ آدمی کو ایک فرد کے طور پر نہیں ، بلکہ ایک اقتصادی اکائی کے طور پر دیکھتا ہے۔ اس کی فکر کا بنیا پن اور افادیت پسندی فن کارانہ تخیل کے پروں کو کاٹ دیتی ہے..... وہ فن کارمٹ کر اقتصادی منصوبہ بندی کمیشن کا افسر بن جاتا ہے۔ میں یہ نہیں کہتا، کہ ایسے افسروں کی سماج کو ضرورت نہیں..... میں صرف یہ کہتا ہوں ،کہ فن کارایسا افسر نہیں ہوتا۔ سعدی کی دلچسپی محض اُس بانگی میں ہے جس کی آواز کرخت ہے ، اور محلہ کے ان لوگوں میں ہے ، جو اس آواز کا ستم جھیلتے ہیں ..... وہ اس بانگی کو اس کی انفرادیت کے ساتھ قبول کرتا ہے ..... اور اپنا کام آگے چلاتا ہے..... منٹو با بوگوپی ناتھ کی انفرادیت کو قبول کرتا ہے اور اپنا کام آگے چلاتا ہے۔
ہزاروں سال سے دنیا بھر کے بڑے فن کاروں کا یہی رویہ رہا ہے کہ لوگوں کی انفرادیت کو قبول کرواور اپنا کام آگے چلاؤ..... یہ زندگی اور فن دونوں کی طرف ایک کشادہ دل..... دردمند اور خندہ جبیں درویش کا رویہ ہے ۔ لیکن ملا اور پنڈت کی یہ کوشش ہوتی ہے، کہ پوری کائنات کو اپنے رنگ میں رنگ ڈالیں، جس طرح کہ کٹھ ملا کے لیے داڑھی مونچھ کا آدمی نا قابل برداشت ہے اسی طرح تنقید کے کٹھ ملاؤں کے لیے وہ فن کار بھی نا قابل برداشت ہے..... جس کا فن اُن کی شریعت کے مطابق نہیں ہوتا..... فن کار تو اپنے تجربہ کو اس کے ’’گھنے پن‘‘ کے ساتھ پیش کرتا ہے..... اور کٹھ ملا چاہتے ہیں، کہ یہ تجربہ لبیں ترشوا کر .....بغلیں منڈو اکر .....عطر حنا لگا کر اُن کے حضور تشریف لائے ..... چناں چہ ان کی تنقید کا لب و لہجہ کچھ اس قسم کا ہوتا ہے ۔ ناول تو اچھی ہے، لیکن اس کے ہاتھ میں وہ تسبیح نہیں جو نئے انسان پر در ود بھیجتی ہے..... نظم تو اچھی ہے، لیکن اس کے ماتھے پر وہ نور نہیں جو نئی دنیا کے سورج کی کرنوں سے پھوٹتا ہے..... افسانہ تو اچھاہے، لیکن موضوع نے رجائیت کے ڈھیلے سے استنجا نہیں کیا ۔
ملاؤں کی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد الگ بنتی ہے..... وہ عقیدوں کے فلک بوس حصاروں ہی میں خود کو محفوظ سمجھتے ہیں..... کھلے آسمان کی ہیبت اور آزاد تخیل کی اڑان سے وہ ڈرتے ہیں ..... ہر صوفی کا آزاد روحانی تجربہ ان کے عقیدوں کی دیواروں میں تراڑیں ڈالتا ہے ۔ لیکن فن کار کے تخیل کی جولانگاہ تو پوری کائنات ہے..... اس کا آزاد اور آوارہ تخیل ہوا کے جھو نکے کی طرح ہر رنگ میں جھومتا ہے، ہر پھول کو چومتا ہے اور ہر خوشبو پر مچلتا ہے ..... اس درویش کو جو گاؤں گاؤں پھرتا ہے ۔ تاروں بھرے آسمان کے نیچے سوتا ہے..... جھرنوں کا صاف پانی پیتا ہے ، چوپایوں اور کارواں سرایوں میں ہر قسم کے لوگوں کے سا تھ مل کر ہنستا بولتا ہے ..... جو بوڑھوں کے کرب ..... جوانوں کی امنگوں اور بچوں کی مسرتوں کو جانتا ہے ..... اس آزاد اور غیر متعلق درویش کو عقیدوں کی درگاہوں کے یہ مجاور .....دو رکعت کے یہ امام..... ایک چبائے ہوئے آدرش کی مسواک ہاتھ میں تھما کر..... حنا ریش..... حنا آلود..... سرمگیں آنکھوں والا ملا بنا دینا چاہتے ہیں۔ تاکہ یا جماعت نماز پڑھانے کے علاوہ ،وہ کسی کام کا نہ رہے ..... کہاں کھلی فضاؤں میں چوکڑیاں بھرتا ہوا آہوئے وحشی اور کہاں وہ بوڑھی گائے، جو عصری سیاست کی پرپیچ اندھیری گلیوں میں گھوڑے کو سونگھتی پھرتی ہے ۔ کہاں آسمان کی نیلا ہٹوں میں پرواز کرنے والا عقاب اور کہاں نظریے سے پنجرے میں گرفتار بیٹر جو سہما سہما ہوا نقادوں کی ہتھیلیوں سے عصری آگہی کا دانہ چگتا ہے اور خوش رہتا ہے۔
٤
فن کار کی سماجی ذمہ داری کا پورا غلغلہ اس کی فطرت کے اسی Paganism کو قابو میں کرنے اور اس کے تخیل کے پر کترنے کے لیے بلند کیا جاتا ہے۔ فن کار کی روح وہ کسوٹی ہوتی ہے، جس پر ہر سماجی آدرش اور اخلاقی قانون پر کھا جاتا ہے۔ ہم سماجی آدمیوں کی دنیا مفاہمتوں اور مصلحت اندیشیوں کی دنیا ہوتی ہے ..... ایک مخصوص سماجی اور اخلاقی نظام میں رہتے رہتے ہما را احساس اس قدر کند ہو جاتا ہے، کہ ہر قسم کی سماجی نا انصافی اور اخلاقی جبر کو خود اطمینانی کے ساتھ برداشت کرتے جاتے ہیں..... ہمیں احساس تک نہیں ہوتا ، کہ ہماری شخصیت ان شکنجوں میں کتنی ٹوٹ پھوٹ گئی ہے اور ہما را جذباتی وجود کس قدر تڑا مڑا اور کبڑا ہو گیا ہے ۔ ہم ہربے انصافی کو بغیر احتجاج کے قبول کرتے ہیں۔ ہر جبر کو برداشت کرتے ہیں، اور ہر زیادتی کا جواز تلاش کرتے ہیں۔ ہماری اَنا اور خود پسندی ہزار چور دروازوں سے داخل ہو کر زندگی کی بنیادی حقیقتوں پر چھاپا مارتی ہے ۔ اور ہر حقیقت کی تفسیر و تشریح ہم اپنی انا ہی کی روشنی میں کرتے ہیں..... لیکن فن کار ایک visionary کی طرح ہماری مفاہمتوں اور مصلحتوں سے بلند ہو کر حقیقت کا صحیح روپ دیکھتا اور دکھاتا ہے..... اور اس طرح ہماری خود اطمینانی پر ضرب لگاتا ہے۔ فن کار کو سماجی آدرش اور سیاسی عقیدے کا پابند بنا نے کا مطلب ہے اسے بھی ہماری ہی طرح محدود اور مقسوم کر دیا جائے ، تاکہ وہ بھی جب مسائل پر سوچے تو ہماری ہیں مفاہمتوں کا شکار ہو کر سوچے..... میں اس بات سے انکار نہیں کروں گا ، کہ فن کار اپنے طبقے اپنے سماج اپنے زمان اور اپنے مکان کا پابند ہوتا ہے..... لیکن میں اس بات پر اصرار ضر در کروں گا، کہ وہ ان پابندیوں کو Transcend کرنے کی طاقت بھی رکھتا ہے ۔ وہ ایک بڑی تہذیبی اور سماجی روایت کا وارث ہوتا ہے..... لیکن وہ اپنا ویژن اور اپنی اقدار آپ تخلیق کرتا ہے۔ جو اس روایت کی نفی نہیں، بلکہ اس میں اضافہ ہوتی ہیں۔ ادب میں بڑے اور چھوٹے شاعر کا فرق محض زبان اور انداز بیان کا فرق نہیں ہوتا ، بلکہ وژن اور تجربہ کی بڑائی اور چھوٹے پن کا فرق ہوتا ہے ..... آخر شیکسپیئر اور غالب کی عظمت اسی میں تو ہے ، کہ وہ ہمیں ایک بڑے تجربے سے دو چار کرتے ہیں..... اور بڑے تجربے کے اظہار کے لیے فنی لوازمات بھی بڑے ہی پیمانے پر استعمال کرتے ہیں ۔ بڑا فن کار انسانی وجود اور کائنات کے آفاقی مسائل سے ٹکراتا ہے ..... اور چھوٹا فنکا را پنے ہی زمانہ کی سیاسی اور سماجی لہروں پر ہچکولے کھاتا ر ہتا ہے ..... دیدۂ بینا قطرے میں دجلہ..... ذرے میں صحرا اور لمحےمیں ابدیت کا تماشا کرتا ہے ۔ یہی فن کار کو آفاقی بناتی ہے اور اپنے زمانہ کے اس لمحے کو جسے اُس نے اپنی تخلیق کے پنجہ میں گرفتار کیا ہے ، ابدیت سے مالا مال کر دیتی ہے ۔
انسان حیوان کی طرح محض جبلی سطح پر زندگی نہیں گزارتا ..... انسان جس تجربے سے گزرتا ہے، اسے سمجھنا بھی چاہتا ہے ۔ انسان کے لیے یہ ممکن نہیں ، کہ اپنی زندگی میں معنویت پیدا کیے بغیر محض اپنی حیوانی جبلتوں کی طاقت پر جیتا چلا جائے..... اس کی تمام تہذیبی سرگرمیوں کا محرک اسی معنویت کی تلاش ہے ۔ شاعری انسان کے لیے اسی وجہ سے اہم ہے ، کہ وہ زندگی میں معنویت پیدا کرنے کا بہترین ذریعہ ہے ۔ انسان اپنے تجربہ میں دوسروں کو شریک کر کے اور دوسروں کے تجربہ میں خود شریک ہو کر ایک دوسرے کے تجربات کی نوعیت کو سمجھتا ہے..... افہام و تفہیم کا یہی سلسلہ اقدار کے تعین کی اساس ہے ..... ادب اور آرٹ اسی لیے اہم ہیں ،کہ وہ انسان کے حساس ترین تجربات کا اظہار ہیں ۔
فن کا عمل خارجی دنیا کے انتشار کو ایک خوبصورت ہیئت میں بدلنے کا عمل ہے ۔ انسانی تجربات کی دنیا مسلسل انتشار کی دنیا ہے..... تاریخ انسانی کو جانے دیجیے..... ذرا اپنے ہی عہد کی سیاسی اور سماجی تاریخ پر نظر کیجیے ..... ایک مسئلے سے دوسرا مسئلہ پیدا ہوتا ہے ۔ گتھیوں کو جتنا سلجھاؤ، اتنی ہی الجھتی جاتی ہیں..... ایک عام آدمی کی حالت اس شخص کی سی ہے، جس کی موٹر جام ٹرافک میں پھنس گئی ہو۔ اُسے نہ آگے اور پیچھے کی خبر ہے نہ دائیں اور بائیں کی..... انسانی وجود کے دھاگے بے شمار مسائل میں الجھے رہتے ہیں اور ہر نیا لمحہ اس کے لیے نئے مسائل لے کر آتا ہے ..... اس انتشار میں آدمی کو اتنی فرصت کہاں ، کہ وہ اپنے تجربے کے کسی بھی لمحے کے متعلق کوئی رویہ تشکیل کر سکے ۔ فن اسی رویے کی تشکیل کا عمل ہے ۔ دولمحوں کے انتشار میں وہ نظم و ضبط تلاش کرنے کی کوشش ہے جو اقدار کے شعور سے پیدا ہوتا ہے ۔ ان معنوں میں فن انسان کے تجربے کو ایک قدر میں بدلنے کی کوشش ہے ۔
جانور کی طرح آدمی کو بھوک لگتی ہے ۔ جانور کی طرح وہ شکار کرتا ہے۔ جانور ہی کی طرح وہ اس کا گوشت کھاتا ہے..... لیکن گوشت کھا کر جانور سو جاتا ہے اور آدمی گھپامیں جاکر جانور کی تصویر بناتا ہے ۔ آدمی بھوکا ہوتا ہے ، تو جانور کو جانور ہی سمجھتا ہے ۔ شکار کرنے اور کھانے کی چیز..... لیکن جب اس کی بھوک کی تسکین ہو جاتی ہے۔ جب وہ محض جبلی سطح سے اوپر اٹھ جاتا ہے .....تو دیوار پر جانور کی تصویر دیکھتا ہے اور ایک حزنیہ مسرت کے احساس تلے وہ اگر شعوری سطح پر سوچ نہیں سکتا ، تو غیر شعوری سطح پر محسوس کرنے لگتا ہے ..... کہ آخر اس جانور سے اس کا رشتہ کیا ہے ..... آدمی رنڈی کے کوٹھے پر جاتا ہے ۔ اپنی جنسی بھوک کو مٹاتا ہے ۔ لیکن پھر سوگندی اور سلطانہ کی تخلیق کرتا ہے ۔ آخریہ عورتیں کون ہیں۔ ان سے ہمارا رشتہ کیا ہے۔ دنیا بھر کی عشقیہ شاعری کو چھوڑیئے۔ صرف اردو فارسی کے بہترین غزل گو شعراء کے اشعار کا انتخاب کیجیے..... مرد اور عورت کے تعلقات پر اتنی سب لن ترانیاں.....بات صاف ہے۔ مرد عورت کو صرف بھنبھوڑتا نہیں ..... اسے صرف حیوانی اور جبلی سطح پر نہیں رکھتا اب وہ اس کے متعلق .....اپنے اور اس کے تعلقات کی نوعیت کے متعلق کچھ سوچنا چاہتا ہے..... اپنے جنسی تجربہ کو ایک انسانی قدر میں بدلنا چاہتا ہے۔
ہم مختلف جذباتی کیفیات سے گزرتے ہیں ، لیکن ان کی نوعیت سےواقف نہیں ہوتے ۔ فن انہی جذبات کو Crystalize کرتا ہے۔ کسی تصویر کو دیکھتے وقت کیسی نغمے کو سنتے وقت..... کسی نظم کو پڑھتے وقت آدمی نہ صرف اپنے جذبات کی بازیافت کرتا ہے، بلکہ انہیں شناخت بھی کرتا۔
فن کار حقیقت کو دیکھتا تو ہے، لیکن حقیقت تالاب کا ٹھہرا ہوا پانی نہیں، بلکہ ندی کا بہتا پانی ہے ۔ حقیقت ہردم ، ہرپل بدلتی رہتی ہے ۔ اور فن کار بھی ہر دم ہر پل بدلتا رہتا ہے ۔ گویا تماشا اور تما شائی دونوں ہردم بدلتے رہتے ہیں۔ تغیر کے اس بہتے دھارے میں کوئی پل ایسی آجاتی ہے، جب فن کارا اور حقیقت دونوں ایک دوسرے سے ٹکرا جاتے ہیں۔ اور فن کار پر حقیقت کا پورا جو ہر ظا ہر ہو جاتا ہے۔ آرنلڈ نے کیا اچھی بات کہی ہے ، کہ ادبی شاہکار کی تخلیق کے لیے دو طاقتوں کا ملنا ضروری ہے..... فن کار کی طاقت اور لمحے کی طاقت ..... یہ لمحہ بقول جائس کیری فن کار کے لیے انکشاف کا لمحہ ہوتا ہے ۔ اس نے پھول کو ، دھنک کو ، عورت کو ،خوبصورت وادی کو اس سے پہلے بھی دیکھا تھا ، لیکن اس لمحے میں پھول ۔ عورت اور دھنک کچھ اور ہی نظر آتی ہے، گویا اس نے پہلی بار دھنک یا پھول کو دریافت کیا ہے..... دریا فت کا یہ عمل بچوں میں بہت شدید ہوتا ہے..... اسی عمل کے ذریعہ وہ دنیا کو جانتے اور پہچانے ہیں..... لیکن جیسے جیسے وہ بڑے ہوتے جاتے ہیں ، فطرت کے حسن کی دریافت کا عمل بھی ماند پڑتا جاتا ہے ۔ ورڈزورتھ کی شاعری ..... اسی معصومانہ دریافت کی مسرتوں کی بازیافت کی کوشش ہے ۔ ایلیٹ کی تنظیم Animula میں بھی روح کی دو صورتوں کا تضاد پیش کیا گیا ہے۔ پہلی صورت میں روح اپنی پوری سا دگی کے ساتھ خدا کے ہاتھوں سے نکلتی ہے اور دوسری صورت میں وہ وقت کے ہاتھوں سے نکلتی ہے تڑی مڑی اور خود غرض..... ہم ہمارے گردو پیش سے جتنا مانوس ہوتے جاتے ہیں اتنا ہی دریافت کا جذبہ کند ہوتا جاتا ہے ۔ بڑا فن کار اپنے اس جذبے کو تازہ اور توانا رکھتا ہے ..... اور اسی لیے وہ مانوس چیزوں کو پھر سے دریافت کرتا ہے ..... پھول کو اس طرح دیکھتا ہے، گویا پہلی بار دیکھ رہا ہے۔ اور ہم بھی اس کے تجربے میں شریک ہو کر ان چیزوں کو از سر نو جاننے پہچانے لگتے ہیں ۔ جن سے ہم اتنے مانوس ہو گئے تھے، کہ ان کے وجود کا احساس اور اس کی شناخت تک کھو بیٹھے تھے ۔ اسی لیے تو آرنلڈ نے کہا کہ تخلیقی جینیئس نئے خیالات کو دریافت نہیں کرتی ۔ کیوں کہ نئے خیالات کی دریافت فلسفی کا کام ہے۔ تخلیقی جینیئس کا بڑا کام تو Exposition اور Synthisis کا ہے ۔ تجزیہ اور ایجاد کا نہیں ۔
فن کار کی ذات پر کسی حقیقت کا منکشف ہونا ہی وجدان ہے ۔ وجدان کا مطلب ہی ہے کسی حقیقت کو جبلی احساس سے جاننا ، شعور اور عقلی دلائل کی مدد سے نہیں ..... فن کار کو وجدان کے ذریعہ حقیقت کا عرفان تو ہوتا ہے، لیکن جب تک وجدان فن کے ذریعہ اظہار میں پاتا ، وہ فن کار کی ذات تک ہی محدود رہتا ہے.....صرف اس کا اندرونی معاملہ۔
کر دشے تو براہ راست شاعری کو جذبے کا نہیں، بلکہ وجدان کا اظہار مانتا ہے۔ کر دشے کے نزدیک وجدان کا مطلب ہے کسی مخصوص چیز کا مکمل ذہنی پیکر..... یہ مخصوص چیز کوئی کردار، کوئی مقام، کوئی واقعہ یا کوئی کہانی ہو سکتی ہے۔ اسی ذہنی پیکر یا Image کے ذریعے فن کار اپنے جذبے کا اظہار کرتا ہے ۔ اسی لیے کردشے کے نزدیک جذبے کا اس وقت تک وجود نہیں ہوتا جب تک وہ اظہار نہ پائے ۔ اور ذہنی پیکر Image جذبے کے اظہار کے طور پر ہی موجود ہوتا ہے ..... چناں چہ کر دشے کے نزدیک ہملٹ زندگی سے بیزاری اور حزن و افسردگی کی کیفیت کا اظہار ہے ۔ اس کیفیت کا اظہا ر انہی الفاظ کے ذریعہ ممکن تھا ، جو شاعر نے ان کے لیے انتخاب کیے ۔ ڈرامہ کا عمل، کردار اور واقعات اسی بنیادی کیفیت کے مختلف رنگوں کا اظہار ہیں..... اور اس طرح ایک مکمل فن پارے میں مختلف اجزاء ایک ناقابل تقسیم وحدت اختیار کر لیتے ہیں..... کردشے کے نظریہ کی رو سے آپ دیکھیں گے، کہ ہر قسم کی شاعری جذبہ کا اظہار ہے..... اور اس طرح چاہے وہ بیانیہ ہو یا ڈرا مائی ، بنیادی طور پر غنائی ہی رہتی ہے..... کمز در نظم میں جذبہ، پیکر سے بڑھ کر ہوتا ہے ۔ (جیسے رومانی نظمیں) یا پھر پیکر سے کمتر ہوتا ہے اور شاعر اس کمی کو دوسرے فن پاروں سے لیے گئے پیکروں کی بھرمار سے پورا کرتا ہے۔ (جیسے کلاسیکی نظموں میں) [1]
اپنے وجدان کو اظہار بخشنا فن کار کا سب سے صبر آزما مرحلہ ہے ۔ پتھر میں بتانِ آذری کا رقص تو اس نے دیکھ لیا، لیکن اب تیشہ لے کر صنعت گری سے اسے پتھر تراشنا ہے ۔ تاکہ غیر ضروری مواد دور ہوتا جائے اور پتھر میں سوئے ہوئےبت جاگ اٹھیں ، عورت کی مسکراہٹ کے پر اسرارحسن کو اس نے دیکھ لیا ہے ۔ لیکن اب اس حسن کو رنگوں میں قید کرنا ہے ۔ انسانی زندگی کی مسرت اور المناکی، در داور دُکھ کا اسے عرفان ہو چکا ہے ۔ لیکن اب علامتوں ، ذہنی پیکروں ، خارجی تلازمات کے ذریعہ اپنے اس احساس کو نظر کا جامہ پہنانا ہے اور زبان ۔ اسلوب ،عروض کے بکھیڑوں میں پڑنا ہے ۔ اور یہ کافی گدھا مزدوری کا کام ہے۔
تخلیقی کرب کی طویل اندھیری رات میں و جدان کے تارے ٹوٹتے رہتے ہیں ۔ حقیقت ذہنی پیکروں کا روپ دھارے اس کی روح میں شعلہ بن کر لرزتی رہتی ہے فن کار ان ٹوٹے ہوئے ،تاروں ان لرزتے ہوئے شعلوں کو فن کی مٹھی میں گرفتار کرنا چاہتا ہے ۔ لیکن مانوس گھسے پٹے الفاظ کے سوا اس کے پاس کچھ بھی نہیں، جس کے فانوس میں وہ ان کپکپاتے شعلوں کو گرفتار کر سکے ۔ وہ نہیں جانتا، کہ یہ شعلہ کیا ہے ، کیسا ہے ۔ اس لیے وہ یہ بھی نہیں جانتا، کہ اس کے لیے کیسے فانوس کی ضرورت ہے۔ جب تک داخلی حقیقت خارجی روپ اختیار نہیں کرتی، تب تک فن کار خود نہیں جانتا ،کہ یہ حقیقت کیا ہے ..... اپنی روح کے آسیب کو فن کی بوتل میں گرفتار کرنے کے بعد ہی فن کار جانتا ہے ، کہ یہ آسیب کیا تھا..... فلا بیر نے اخبار میں خبر پڑھی ، کہ ایک عورت نے خود کشی کرلی چلیے ناول کا ایک موضوع ہاتھ آیا۔ فلابیر کو کیا پتہ تھا، کہ ایما بواری وہ آبگینہ بن جائے گی جس میں وہ اپنی رومانیت کی اس دو آتشہ شراب کو انڈیل دے گا۔ جو خود اس کے وجود کو زہر ناک بنا رہی تھی ۔ شیکسپیئر کو اس کے منیجر نے کہا ہوگا، کہ بھئی پڑوسی کے تھیٹرمیں کڈ Kyd کا ہملٹ خوب آڈنیس لے رہا ہے تم بھی اس فارمولے پر ایک ڈراما لکھ ڈالو۔ اور شیکسپیئر نے ہملٹ لکھا ۔جس ذہنی اور روحانی خلفشار سے اس زمانہ میں شیکسپیئر گزر رہا تھا، اس کے فن کا رانہ اظہار کے لیے اسے ایک خارجی تلازمہ کی ضرورت تھی۔ ہملٹ کے کردارمیں یہ تلازمہ ہاتھ آیا ور شیکسپیئر کی جذباتی کیفیت نے اس کے ذریعے اظہار پایا۔ ہمیں فی الحال یہاں اس بات سے سرو کارنہیں ، کہ اس کی جذباتی شدت اس خار جی تلازمہ سے کہیں زیادہ شدید تھی یعنی جذ بہ کر دار واقعات صورتِ حال وغیرہ سے تشکیل پائے ہوئے ، اس فارمولے سے بہت زیادہ شدید تھا۔ جو جذبہ کو قید کرنے کے لیے شیکسپیئر نے گڑھا تھا۔ اس کی تفصیل آپ دیکھنا چاہتے ہیں، تو ہملٹ پر ایلیٹ کا مضمون ملاحظہ فرمائیے ۔ ایلیٹ نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ ہمیں ہملٹ کی ناکامی کے اسباب کو سمجھنے کے لیے خود شیکسپیئر کے بارے میں بہت سی باتوں کو سمجھنا پڑے گا۔ جنہیں خودشیکسپیئر نہ سمجھ سکا تھا ۔ مطلب یہ کہ ہملٹ کا آبگینہ تندی صہبا سے پگھل گیا ہے۔ اور صہبا کی اس تندی اپنی روح میں جذبے کے اس پر اسرار انتشار سے خود شیکسپیئر واقف نہیں تھا..... غرض یہ کہ تخلیق کے وقت فن کار کی حالت اس ساز کی سی ہوتی ہے ۔ جس میں نغمے کا فشار بھرا پڑا ہو..... ضرورت ہوتی ہے صرف ایک مضراب کی ضرب کی .....تخلیق کے بہانے ہزاروں ہوتے ہیں۔ اور بہت معمولی ہوتے ہیں۔ مشاعرے کے لیے غزل کہنا..... سنگلاخ زمین میں طبع آزمائی کرنا۔ کسی دوست کے تقاضے کو پورا کرنا ..... لوگ سمجھتے ہیں کہ فنکا رجب تخلیق فن کرتا ہے، تو اُس کے پاس روح الا مین آتے ہیں حقیقت میں محض ایڈیٹروں کے خط آتے ہیں..... فن کار کا غذ پر قلم رکھتا ہے اور اس کے فن کارانہ تجربے کا وہ ملغوبہ جو ایک آتش فشانی لاوے کی طرح اس کی روح میں پک رہا تھا۔ علامتوں اور استعاروں میں ڈھلتا جاتا ہے ۔ ایک صورت ایک فارم اختیار کرتا جاتا ہے..... جیسا کہ ایلیٹ نے بتایا ہے، کہ تخلیقی عمل کے دوران فن کار کو مطلق اس بات کی فکر نہیں ہوتی ، کہ اس تجربہ کو کوئی سمجھے گا بھی یا نہیں..... اسے صرف ایک ہی فکر ہوتی ہے۔ اس کے اظہار کے لیے مناسب ترین الفاظ تلاش کرتا رہے الفاظ میں تجر بہ ڈھاتا جائے اور استعاروں، تشبیہوں، علامتوں اور شعری پیکروں کی صورت میں ظاہر ہوتا جائے۔ جب تجر بہ کا آخری قطرہ تک فارم میں ڈھل جاتا ہے تب ہی فن کار کو پتہ چلتا ہے، کہ اس کی روح کا آسیب کیا تھا.....
٥
ڈرائیڈن نے کہا ہے، اگر اس پر نادر ترین اور نازک ترین خیالات کا نزول اکثر اس وقت ہوتا ہے، جب کہ اس کی محویت اور جستجو محض ایک قافیہ کے لیے ہوتی ہے ۔ حیوان اور انسان اپنے اشتعال کے شدید ترین نقطے پر پہنچ کر بہت ہی معمولی سی حرکتیں کرنا شروع کر دیتے ہیں تاکہ اندرونی فشار کو کچھ سکون حاصل ہو سکے۔ کتے لڑتے لڑتے کاغذ سونگھنے لگتے ہیں اور آدمی انتہائی غصے کے عالم میں یا تو چادر کی سلوٹیں دور کرنا شروع کر دیتا ہے، یا میز پر کتابیں ٹھیک کرنے لگ جاتا ہے، فن کار کا اندرونی فشار بھی اتنا شدید ہوتا ہے، کہ اگر وہ محض اظہار کی کوشش کرے ، تو مواد ہیئت کو توڑ پھوڑ کر رکھ دے ..... آبگینہ تندی ِصہبا سے پگھل جائے۔ اسی لیے تو فن کار سماجی ذمہ داری کا سرٹیفکیٹ سامنے رکھ کر ..... عصری آگہی کا چارٹ پھیلا کر لکھنے نہیں بیٹھتا کہ صاحب دیکھو فن پارہ اب وجود میں آرہا ہے ..... وہ لفظوں سے کھیلتا ہے قافیہ پیمانی کرتا ہے سنگلاخ زمین میں طبع آزمائی کرتا ہے۔ مصرعۂ طرح پر غزل لکھتا ہے ..... لیکن قافیہ کے کانٹے سے بندھی ہوئی وہ مچھلی چلی آتی ہے، جس کے بطن میں معنی کا ایک در بے بہا ہوتا ہے ..... ہمارے نقاد کہتے ہیں، کہ غزل کا شاعر شعری تجربہ کے زیر اثر نہیں، بلکہ قافیے کی ضرورت کے تحت شعر کہتا ہے۔ جو بات یہ نقاد بھولتے ہیں، وہ یہ ہے کہ فن کار کے اندرون میں تجربہ پکتا رہتا ہے ..... حقائق کے وجدانی عرفان کے سارے ٹوٹتے رہتے ہیں۔ فن کار کے تجربے کے لیے اتنی بات کہی جا سکتی ہے کہ
Ripeness is all! پھر تو اس کا کام قافیوں سے کھیلنا اور قافیوں کی تلاش میں رہتا ہے۔ فن کار کے ہاتھ تو قافیہ ہی لگتا ہے ..... لیکن یہی قافیہ اس کے تحت الشعور کے اندھیرے پانیوں میں پلتے کسی تجربے کے چمکدار موتی کو کھینچ لاتا ہے مجھے یقین ہے، کہ خود غالب اپنے شعروں کو دیکھ کر حیران رہ جاتے ہوں گے، کہ یہ شعر آیا کہاں سے .....اندرون میں تو کوئی ایسی ذہنی یا نفسیاتی یا فکری تیاری نہیں تھی، جو اس شعر کا سبب بنتی ..... غیب سے مضامین آنے والی بات ہم عقل و شعور کے پرستاروں کے لیے لطیفہ ہو تو ہو ..... غالب کے لیے تو حقیقت تھی۔
یہ سمجھنا ہماری سادہ لوحی ہے، کہ شاعر شعر کہنے بیٹھتا ہو گا تو با وضو ہو کر ہر خیال کو معاشرتی شعور اور سماجی ذمہ داری کے ترازو میں تول کر الفاظ کے مرتبان اور استعاروں کی شیشیاں سجا کر اس طرح بیٹھتا ہو گا، گویا مسیح الزماں انسانی بیماریوں کے علاج کا نسخہ تجویز فرما رہے ہیں ..... پتہ نہیں اس اہتمام سے شعر کہنے والے شاعر کس قسم کے شعر کہتے ہیں ..... البتہ غالب کے متعلق ہم اتنا جانتے ہیں ، کہ اکثر وہ آدھے جاگتے آدھے سوتے شعر کہتے تھے اور ازار بند میں گرہیں لگاتے رہتے تھے۔
آپ کہیں گے میں نے تخلیق کے عمل کو شعور کی سطح سے ہٹا کر بالکل لا شعور کی سطح پر رکھ دیا ہے اور فن کار کو ایک ایسا پراسرار وجود بنا دیا ہے، جسے اس دنیا کی سرگرمیوں سے گویا کوئی تعلق ہی نہیں ..... فن کار کو ایسا ظاہر کرنا میرا مقصد بالکل نہیں تھا۔ میں تو صرف یہ بتا دینا چاہتا تھا کہ فنی تخلیق کا عمل اتنا سیدھا سادا نہیں جتنا ہم سمجھتے ہیں ..... تخلیق عمل کی نفسیات کو علم و شعور کی سطح پر سمجھنے کا یہ مطلب نہیں ہوتا، کہ اس کی پراسراریت ختم ہو جاتی ہے ..... انسان کی پیدائش کے بارے میں ہم سبھی کچھ جانتے ہیں، لیکن اس سے انسان اور اس کی تخلیق کی سریت Mystery میں کیا کمی آئی۔ بلکہ کچھ اضافہ ہی ہوا۔ میں دراصل جس بات پر اصرار کرنا چاہتا تھا، وہ یہ تھی، کہ فن کار ہر اعتبار سے ہمارے اور آپ کے جیسا ہی انسان ہے ، جو بھی ہماری آپ کی طرح عورت کو عورت، جنگ کو جنگ اور خون کو خون سمجھتا ہے۔ خارجی حقیقت کا ادراک بھی وہ ہماری آپ کی طرح ہی اپنے حواس سے کرتا ہے، لیکن یہاں پر اس کی اور ہماری مشابہت جو مشترک انسانی خصوصیات کی بنا پر تھی ختم ہو جاتی ہے، جب کہ صحافی مضمون نگار ..... رپورتاژ اور روزنامچہ لکھنے والے حقیقت کی صرف آ ئینہ داری کرتے ہیں، فن کار اپنے فن کے ذریعے حقیقت کو Transmute کرتا ہے۔ اسے نہ صرف جمالیاتی حسن عطا کرتا ہے، بلکہ اس میں وہ آفاقی معنویت پیدا کرتا ہے، جو صرف فن کار کا تخیل ہی بخش سکتا ہے۔ حقیقت کو آرٹ بننے تک جن مراحل سے گزرنا ہے، وہ ان مراحل سے کم پراسرار اور صبر آزما نہیں جن سے گزر کر قطرہ گوہر بنتا ہے۔
ایک فنی تخلیق انسان کی شعوری اور غیر شعوری طاقتوں کا ایک ایسا پراسرار نتیجہ ہوتی ہے، کہ اس کے متعلق کسی بھی قسم کی سیدھی سادھی اور Facile نظریہ سازی صرف ہماری سادہ لوحی کا پردہ چاک کرتی ہے ..... خارجی حقیقت سے فن کار اور فن کار سے فن پارے کی طرف ہمارا تنقیدی سفر بھی اس قدر متنوع ذہنی اور علمی صلاحیتوں کا متقاضی ہوتا ہے، کہ محض سماجیات اور سیاسیات کا مطالعہ کرکے ہم فن کاری کے متعلق کسی بھی قسم کی سلیقہ مندانہ بات چیت کرنے کے اہل نہیں رہتے۔ چناں چہ فن کار کی سماجی ذمہ داری اور خارجی حقیقت کی طرف اس کے رویہ کے متعلق ہماری تمام تر خامہ فرسائیاں محض چند فرسودہ اخلاقی اور سماجی Platitudes کے بیان تک محدود رہتی ہیں ..... اور فن کار سے کہنے کے لیے ہمارے پاس کوئی ایسی بات نہیں ہوی، جو صرف فن کار کے لیے مختص ہو۔ یعنی فن کار کو ہم جن سماجی ذمہ داریوں کا احساس دلانا چاہتے ہیں، وہ لگ بھگ تمام وہی ہوتی ہیں، جو سماج کے دوسرے انسانوں کے لیے بھی ضروری ہیں ..... سماجی ذمہ داریوں کا شعور عطا کرنے والی ہماری تمام تنقیدوں کا لب لباب یہ ہوتا ہے، کہ فن کار بھی ایک انسان ہے، ایک شہری ہے معاشرے کا ایک ذمہ دار فراد ہے ..... اور ایک شہری اور سماجی انسان کی حیثیت سے اس پر بھی چندذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں ..... اسے اپنی تحریروں کے ذریعہ سے سماجی اصلاح یا سماجی انقلاب یا بہتر سماج کی تشکیل کا کام انجام دینا چاہیے۔ وہ سماجی برائیوں یا سماج کے سیاسی اقصادی اور طبقاتی نظام کی خوبیوں یا خامیوں سے بے خبر رہ کر تخلیق فن نہیں کر سکتا وغیرہ وغیرہ۔ لیکن ان میں سے ایک بھی بات ایسی نہیں، جس کا تعلق محض فن کار سے ہو ..... یہ تمام باتیں ہر بالغ شہری اور ہر اس شخص کے لیے جو سماج میں کسی بھی قسم کی ذہنی یا دانشوارانہ سرگرمی سے منسلک ہو ضروری بن جاتی ہیں ..... یہ چوڑی چکلی تعمیمات کی قبائیں فن کار کے جسم پر بہت ڈھیلی پڑتی ہیں ..... کیوں کہ ان کی سلائی کے وقت فن کار کا فنکشن Function ۔ اس کے تخلیقی کام کی نوعی کی تنقیدی پیمائش کی زحمت کسی نے گوارا نہیں کی ..... یہ تعمیمات آنکھ کے اس ڈاکٹر کی ہدایتوں کی مانند ہیں، جن کے چھپے ہوئے پرچے وہ اپنے تمام مریضوں کو تقسیم کرتا ہے ..... اگر فن کار کا کوئی مسئلہ ہے، تو یہ شنکر کی تیسری آنکھ کا مسئلہ ہے، جسے ہمارے نقاد دیکھنے کی کوشش نہیں کرتے..... اور اس کے ہاتھ میں بھی عام ہدایتوں کا پرچہ تھما دیتے ہیں ..... ہم عموماً کسی شہری کو بھی اس کی شہری ذمہ داریوں کی یاددہانی نہیں کراتے تاوقتیکہ اس کا عمل صریحاً ان کے خلاف نہ ہو .....جب کوئی شخص راستہ چلتے تھوکتا ہے، تو ہم اسے ٹوکتے ہیں ..... شہر وہی مہذب مانا جاتا ہے، جس کے راستوں اور دیواروں پر کم سے کم ہدایات لکھی ہوں اور شہر کا قانون شہریوں کی جبلت بن گیا ہو ۔ ہماری تنقید جس قسم کی ڈانٹ ڈپٹ اور فن کاروں کے چالان سے بھری پڑی ہے، اس سے تو میں اندازہ ہوتا ہے، کہ ادب کے چورا ہے پر ہمارے فن کار شیر وانیاں اوپر چڑھا ئے سر عام استنجاء کر رہے ہیں۔ اور پان تھوک رہے ہیں ۔
١
ادب اور آرٹ کے مسائل پر سوچ بچار کرتے ہوئے عموماً ہم جس چیز کو فراموش کر دیتے ہیں، وہ خود فن کار ہے ..... فن کار کو مرکز میں رکھے بغیر ہم آرٹ کے کسی بھی اطمینان بخش تصور کی تشکیل نہیں کر سکتے ۔ سماجی حقیقت پر ہم جس انداز سے زور دیتے رہے ہیں، اس سے تو یہی نتیجہ نکلتا ہے ..... کہ سماجی حقیقت معروض میں کوئی ایسی چیز ہے جس کا ادراک اخبار وصحائف اور سماجی علوم کے ذریعہ مکمل طور پر کیا جاسکتا ہے۔ اور اس طرح ہر حقیقت کا ایک ایسا علم ممکن ہے جو مکمل ہوا اور سب کے لیے یکساں ۔ چناں چہ ہم فن کار سے تقاضا کرتے ہیں ، کہ فن کار ایسی ہی حقیقت کو پیش کرے جس کی صداقت کی تصدیق خارجی طور پر سائنسی اصولوں کی روشنی میں ممکن ہو..... یہ طریقۂ کا ر بھی فن کار کی انفرادیت پر ضرب لگاتا ہے اور اسے خارجی حقیقت کا انفعالی عکاس بنا کر رکھ دیتا ہے۔ فن کار گویا اسی چیز کو دیکھے ،اور اسی رنگ میں اور اسی انداز سے دیکھے، جس طرح سب دیکھتے ہیں..... یہ بندھی کی حقیقت کا بندھاٹکا بیان .....اور طے شدہ فیصلے اخذ کرنے کا رویہ فن کار کے فعال تخلیقی عمل کو ایک میکانکی عمل میں بدل دیتا ہے۔ فن کار حقیقت کو اپنی نظر سے دیکھتا ہے اور ایک فن کار کی حیثیت سے حقیقت کے ان پہلوؤں سے دلچسپی لیتا ہے ۔ جن میں عموماً ایک سیاسی آدمی یا سماجی علوم کے ماہر کو دلچسپی نہیں ہوتی..... یعنی حقیقت کے جذباتی ، حسی اور اخلاقی پہلو..... تخلیق کے لمحہ میں فن کار حقیقت کو جس طرح دیکھتا ہے۔ ممکن ہے، وہ آپ کےلیے قابل قبول نہ ہو۔ لیکن فن کار کے لیے تو وہی حقیقت ہے، جسے وہ اپنی تخیل کی آنکھ سے دیکھ رہا ہے ۔ حقیقت کا اس کا تجربہ اس کا اپنا ہے ..... دان گا گ نے کرسی کو جس طرح دیکھا، اس کے علاوہ وہ دوسرے طریقے سے اسے دیکھ ہی نہیں سکتا تھا۔ آپ کے لیے یہ کرسی قابل قبول نہ ہو تو نہ سہی ۔ دان گا گ کو اس پر اصرار بھی نہیں کہ آپ اسے قبول کریں ہی ۔ لیکن آپ دان گاگ سے یہ تقاضا نہیں کر سکتے کہ وہ آپ کی دیکھی ہوئی کرسی کی تصویر بنائے یا کرسی کو اس طرح دیکھے ، جس طرح آپ دیکھ رہے ہیں ۔ جس تخلیقی لمحہ میں دان گاگ نے کرسی کو دیکھا ہے وہ تخلیقی لمحہ پھر اس کے پاس لوٹ کر آنے والا نہیں۔ فن کار حقیقت کا ادراک اپنے وجدان سے کرتا ہے۔ اور فن کار کے لیے کسی بھی مخصوص حقیقت کے وجدانی ادراک کا شعلہ صرف ایک بار بھڑکتا ہے اور پھر ہمیشہ کے لیے سیاہ پوش ہو جاتا ہے ۔ وہ سیب، وہ عورت ،وہ کھیت جن کا اس نے تخلیق کے لمحے میں فن کارانہ انکشاف کیا تھا ، بعد میں وہ اس کے لیے اتنی ہی عام سی مانوس اشیاء بن جائیں گی، جیسی کہ وہ دوسروں کے لیے ہیں..... اگر ایسا نہ ہو تو فن کار نہ سیب کو کھا سکے نہ عورت کے ساتھ سو سکے ۔ وہ لوگ جن کی دلچسپی صرف یہ ہے کہ سیب کو جنتا کا پھل بنائیں یا اجتماعی کھیتوں کی کامیابی کی علامت کے طور پر استعمال کریں، ان کے لیے کمرشل آرٹسٹ موجود ہیں ، جو لہلہاتے کھیت کے بیچ پھول دار فراک میں ملبوس سرخ گالوں اور چمکدار دانتوں والی موٹی عورت کی تصویر بنا سکتے ہیں، جو ہا تھ میں بڑے بڑے سرخ سیب لیے ہنس رہی ہے۔ لیکن فن کار کو اس بات پر اصرار رہے گا، کہ سیب کو جس طرح اور جس رنگ میں اُس نے دیکھا ہے، اُسے آپ قبول کیجیے، یا پھر کیلنڈروں سے اپنی دیواروں کو مزین کرتے رہیے ..... فن کار ہماری تشفی کے لیے نہ تو ایک لفظ کم کرتا ہے، نہ رنگ کا اضافہ کرتا ہے۔ ہم جسے اس کی انانیت پسندی سمجھتے ہیں ، وہ دراصل اپنی ذات اور اپنی انفرادیت کو محفوظ رکھنے کا اس کا حیاتیاتی عمل ہوتا ہے۔ بجائے اس کے کہ لوگ اس کے تخیلی تجربے میں جذ باتی طور پر شریک ہوتے ، وہ اپنی عقل و ذہانت کی کسوٹی پر اس تجربے کو پر کھتے ہیں ..... ہم علم و منطق، ذہانت و فطانت کی شرارتوں سے واقف ہیں ..... ان کا کام ہی کسی چیز کو صحیح یا غلط اچھی یا بری ثابت کرنا ہوتا ہے۔ آرٹ کا تجربہ نہ اچھا ہوتا ہے نہ برا ، نہ صحیح ہوتا ہے نہ غلط .....وہ محض تجربہ ہوتا ہے ..... اس تجربے میں شریک ہونے کے لیے احساس کی تازگی کی ضرورت ہے۔ اگر آپ کی جمالیاتی حس کند ہو گئی ہے تو آپ فن کار کے تجربے سے لطف اندوز نہیں ہو سکتے..... آپ جان ہی نہیں سکتے ، کہ سیب کی اس تصویر میں ایسی کیا بات ہے، جو لوگوں کو مسرت پہنچاتی ہے ..... وہ لوگ جو فن کار کے تجربہ میں حسی اور جذباتی طور پر شریک نہیں ہوسکتے۔ ان کی تفریحی سرگرمیاں بھی عقل و شعور کی سطح تک محدود رہتی ہیں..... ادب میں بذلہ سنجی اور ذہانت۔ تد برا در حکمت..... چلتی پھرتی اخلاقی باتیں یا یک طرفہ سیاسی رائیں۔ سید بھی سادی تعمیمات ، یا ہو شیاری اور چابکدستی سے کی گئی فرسودہ باتیں ان لوگوں کا من بھاتا کھا جا ہیں ۔ لیکن آرٹ کی دنیا پیچیدہ تجربات کی دنیا ہے ۔ جس میں صرف عقل و شعور کے دروازے سے داخل نہیں ہوا جاتا۔ اس دنیا کی سیر کرنے کے لیے آپ کو اپنے پانچوں حواس بیدار رکھنے پڑتے ہیں ، شاعر الفاظ کے ذریعہ محض کوئی بات نہیں کہتا..... کوئی ایسی بات جو صرف اپنے عقل و شعور سے سمجھ سکیں ، بلکہ جو بات اسے کہنی ہے اس کے لیے الفاظ کا استعمال اس طرح کرتا ہے ، کہ لفظ موسیقی بن کر آپ کے کانوں میں گونجتا ہے۔ خوشبو بن کر آپ کے وجود پر چھا جاتا ہے..... لمس بن کر آپ کے جسم میں کپکپی پیدا کرتا ہے۔ اور تصویر بن کر آپ کی نگاہوں کے سامنے رقص کرتا ہے ۔ فن کار کی بات آپ کے حو اس کے ذریعہ آپ کے وجود میں سرایت کر جاتی ہے۔ اس لیے آپ جب تک اپنے حو اس کے ذریعہ فن کار کے تجربہ میں شریک نہیں ہوتے ، تب تک آپ یہ جان بھی نہیں سکتے ، کہ تجربہ کیا ہے ۔ اسی لیے کسی بھی بڑے فنی تجربہ کو آپ محض عقل و شعور کی سطح پر سمجھا بھی نہیں سکتے۔ کیوں کہ کسی نظم کو پڑھتے وقت آپ نے جو کچھ دیکھا ہے، آپ کے لمس نے جو کچھ محسوس کیا ہے ۔ آپ کے کان نے جو کچھ سنا ہے اسے آپ چند جملوں میں کیسے بیان کر سکتے ہیں..... یہ وہ مقام ہے، جہاں تنقید اور تخلیقی تنقید دونوں سپر انداز ہو جاتے ہیں.....’’ جنگ اور امن‘‘ ، ’’جرم اور سزا‘‘ ، ’’ مادام بواری ‘‘ ، ’’رباعیات خیام‘‘ یا ’’ دیوان غالب‘‘ کو پڑھتے وقت آپ جس پہلو دار تجربہ سے گزرتے ہیں ، کتاب کو ختم کرنے کے بعد اس تجربہ کی مکمل باز یافت آپ کیسے کر سکتے ہیں۔ جنگ وامن کے متعلق سوائے چند جملوں کے آپ کے پاس کہنے کو کیا رہتا ہے ، اسی لیے کسی بھی ادبی تخلیق کی تنقید اس تجربے کا جو اس تخلیق کے مطالعہ سے آپ کو حاصل ہوتا ہے ۔ نعم البدل نہیں ہوتی ..... چناں چہ اد بی تخلیق کے متعلق عقل و شعور کی سطح پر ہماری ہر قسم کی خیال آرائی اور رائے زنی بے کار ثابت ہوتی ہے۔ فن کار کا کام نہایت مشکل ہوتا ہے، وہ ایک بے قابو مواد کو ہیئت کی گرفت میں لینا چاہتا ہے ۔ تخلیقی جبلت کی اندھی طاقتوں کو الفاظ کے نازک آبگینوں میں قید کرنا چاہتا ہے ..... اپنی روح کے انتشار کو جمالیاتی روپ میں بدلنا چاہتا ہے ۔ یہ کام جس نظم و ضبط کا مطالبہ کرتا ہے اسے تو صرف فن کار کا دل ہی جانتا ہے ۔ جذبات کا ایک شوریدہ سر سمندر ہے، جس کی اپنی ایک پھنکار ہے۔ اپنا اتار چڑھاؤ ہے..... اپنی لے ہے ..... اس لے کو اسے عروض کی گرفت میں لینا ہے ۔ ہر موج کے رنگ کو لفظ میں گرفتار کرنا ہے۔ اس کی شدت کےلمس کو زباں کا روپ دینا ہے ۔ فن کار تخلیق کے دوران جن ہفت خوانوں کو طے کرتا ہے ، ان کا آدمی کو کوئی شعور نہیں ہوتا..... وہ تجسس اور دریافت اور انکشاف کے جن مراحل سے گزرتا ہے ان کو ہم کیسے جان سکتے ہیں۔ اس کے باوجود ہماری کوشش یہ ہوتی ہے ، کہ اس کے پرپیچ تخلیقی عمل کے نتیجے کو اپنی منطق کی کسوٹی پر کسیں ۔ ہمارے عقیدوں اور آدرشوں ۔ ہمارے تعصبات اور مطالبات کی سطح پرا سے کھینچ لائیں ۔ بجائے اس کے کہ ہم تصویر کی دنیا میں داخل ہوں، ہم ہمارے ذہن کی فریم میں تصویر کو جکڑ لینا چاہتے ہیں ۔
فن کارا نہ تخیل ہمیشہ انفرادی رہا ہے ۔ فن کار کی نظر..... اس کا احساس زندگی کا وژن خود اس کا ہوتا ہے..... خارجی دنیا سے متاثر ہونے کے باوجود اس کے تخیل کی انفرادی نوعیت میں کوئی فرق نہیں پڑتا ..... فن کو فن کار کے منفرد تخیل کی سحر طرازیوں سے محروم کر دیجیے..... سوائے میٹھی میٹھی زبان .....اور تکینکی کرتبوں کی چکا چوند کے اس کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں رہتی جو اسے صحافت سے ممتا ز بنائے ..... صحافی کی خصوصیت یہ ہے، کہ وہ وہی دیکھتا ہے، جو سب دیکھتے ہیں یا دیکھنا چاہتے ہیں جہاں پر صحافی کی نظر شہرتی ہے ۔ وہاں سے فن کار کی نظر اپنا کام شروع کرتی ہے۔فن کار کو اس بات پر اصرار نہیں کہ اس نے جو کچھ دیکھا ہے، اسے لوگ قبول کریں ، لیکن اسے اس بات پر اصرار ضرور ہے ، کہ وہ جو کچھ دیکھ رہا ہے اور جس طرح دیکھ رہا ہے، اسے دیکھنے کا اسے حق اور اختیار رہے۔ صحافت میں اہم چیز واقعہ یا خارجی دنیا کا ہوتا ہے لیکن فن میں اہم چیز فن کار کی وہ نظر ہوتی ہے، جو واقعہ یا عکس کو ایک نئی معنویت بخشتی ہے ۔ آخر وہ کون سی قوت ہے ، جو ایک کرسی کو دان گاگ کی کرسی، ایک سیب کو سیزان کا سیب..... ایک رنڈی کو منٹو کی رنڈی بناتی ہے..... اینٹ گا را چونا..... خام مواد تو وہ خارجی دنیا ہی سے حاصل کرتا ہے ۔ لیکن اس خام مواد سے فن کا جو رنگ محل تعمیر کرتا ہے ، اس کے درو دیوار اور نقش ونگار ایک معما را عظم کے خلاق تخیل کی سحر طرازیوں کا طلسم ہوتے ہیں ..... کسی دوسرے کےبلیو پرنٹ کا عکس نہیں ۔
چناں چہ فن کار کی اگر کوئی سماجی ذمہ داری ہوسکتی ہے، تو صرف یہ ہے، کہ دہ بھیڑ، پبلک ، عوام ، عام آدمی کے ہاتھوں آرٹ کے vulgarization کی تمام کوششوں کی مخالفت کرے ۔ اپنے تخیل کی آزادی .....اپنی فکر و نظر کی آزادی اپنی کرسی ۔ اپنے سیب، اپنی رنڈی کو اپنی نظر سے دیکھنے کا حق..... اپنے تخلیقی تجربے کے آزادانہ تجسس کے اختیار پر زور دے ..... اگر شاعر سماج کی آنکھ ہے تو یہ بات خود سماج کے فائدے میں ہے کہ یہ آنکھ کھلی رہے ۔ سورج کی شرح ٹکیہ..... کھیتوں کی سرکشی اور دھنک کے سات رنگ دیکھتی رہے ۔ اس آنکھ کو رنگین چشمے پہنانا..... اس پر آہنی غلاف ڈالنا ۔ اسے ضعیف البصر بنا نا تا کہ وہ دور کی چیزیں دیکھ ہی نہ سکے ، اس سماج کے لیے جو خود اقدار کے اندھیرے میں ہاتھ پاؤں مار رہا ہے ، خطر ناک ہے ۔ عام آدمی ، عوام ،حکومت، ریاست، ترسیل کے آلے (ا خبار، ریڈیو، فلم ، ٹیلی ویژن) سب فن کار کو اپنے رنگ میں ڈھالنا اور اپنی ضرورتوں اور تقاضوں کے تحت اس کا استعمال کرنا چاہتے ہیں..... عام آدمی چاہتا ہے، کہ فن کار اس کے روٹی کپڑے کے مسائل حل کرے..... انقلابی عوام چاہتے ہیں ، کہ وہ ان کے جذبات کی گرمی کو برقرار رکھے..... تفریح پسند پبلک چاہتی ہے، کہ وہ اس کے لیے کیف آور ادب تخلیق کرے ..... ریاست کو اپنے آدرشوں کی تبلیغ کے لیے اس کے تخیل کی سحر کاریوں کی ضرورت ہے ۔ حکومت اسے رام کرنا چاہتی ہے ۔ کہ اس کی حق گوئی اور بے باکی اس کے لیے خطرہ نہ بننے پائے ۔ ماس میڈیا کا ایک ہی سروکار ہے ۔ عوام کو تفریح پہنچانا ۔ ہر چیز کو عام پسند بنانا ۔ فن تو اخروٹ کی مانند ہوتا ہے ، جس کے مغز تک پہنچنے کے لیے اس کی چھال کو توڑنا پڑتا ہے ۔ لیکن ماس میڈیا کی کوشش یہ ہوتی ہے ، کہ مغز کو چاکلیٹ میں ملفوف کرکے پبلک کو پیش کیا جائے ..... تاکہ توڑنے چھیلنے، چبانے کے عمل سے گزرے بغیر وہ چاکلیٹ کی جگالی کرتے رہیں ۔ آرٹ کو عام فہم ، مقبول عام ، دلچسپ اور چٹخارے دار بنانے کے تقاضوں میں ۔ آرٹ کو عام آدمی کی تفریح ، عوام کی تعلیم ۔ معاشرتی آدرشوں کی ترویج ۔ ریاستی نصب العین کی تبلیغ بنانے کے شور و غل میں جس آواز کو درخورِ اعتنا نہیں سمجھا جاتا ، وہ خود فن کار کی آواز ہے، جو اپنی بات کہنے ، اپنی روح کی پکار سننے ، اپنے تجربے کی سچائی کو پیش کرنے کا حق مانگتی ہے۔ فن کار پوپولر کلچر اور آمرانہ احتساب کی چیرہ دستیوں سے بچنے کے لیے آج پھر اپنے فن کے حصاروں میں سمٹ آیا ہے ۔ جب اس کی طرف انگلیاں اٹھا کر چیخا جاتا ہے ، کہ فن عام آدمی کے لیے ہے ۔ عوام کی ملکیت ہے ۔ ریاست کے لیے ہے ، تو فن کا ر صرف ایک ہی جواب دیتا ہے ۔ فن صرف فن کے لیے ہے ۔
فن کار جب فن برائے فن کی بات کرتا ہے ۔ اسے شوقِ فضول یا انسانی ذہن کی ایک Gratutous سرگرمی کہتا ہے ، تو وہ اچھی طرح جانتا ہے، کہ آج کے زمانے میں اس کی بات کا وہی مطلب نہیں ہے، جو مثلاً جمالیات پرستوں کے زمانے میں تھا۔ ممکن ہے کسی زمانے میں فن کے ذریعہ آدمی کو سماجی فائدہ پہنچتا ہو..... فن کے ذریعہ وہ علم یا معلومات .....اخلاقی تعلیم، آدابِ محفل، بذلہ سنجی ، ذہانت و فطانت حاصل کرتا ہو..... شاعری کے ذریعہ ورحل نے تو کھیتی باڑی کی بھی تعلیم دی تھی ..... لیکن اس قسم کے سب کام آج کل آرٹ نہیں کر رہا ہے ..... اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ آج ہر کام مثلاً کھیتی باڑی وغیرہ زیادہ پیچیدہ ہو گیا ہے..... اور دوسری وجہ یہ ہے، کہ اس قسم کا علم یا تعلیم حاصل کرنے کے سماج نے دوسرے بہتر طریقے ایجاد کرلیے ہیں..... لہٰذا فن کار کے پاس کوئی ایسا کام نہیں رہ گیا ، جو سماج کے لیے ان معنوں میں کار آمد ہو ،جن معنوں میں دوسرے کام مثلاً سائنس یا ٹکنولوجی سے کام کار آمد ہیں..... لیکن وہ معاشرہ جس کی ہر سرگرمی Utility کی قدر پر مبنی ہو ، وہ کسی بھی شوق فضول کو برداشت نہیں کرتا..... چناں چہ فن کار سے کہا جاتا ہے کہ وہ بھی کچھ بھلے مانسوں کا سا کام کرے ۔ محض قافیہ پیمائی کرنے اور مضامین کے طوطا مینا اڑانے سے کیا فائدہ .....کچھ نہیں تو فن کار کم از کم حلال کی روٹی تو کھائے ۔ جن عوام کی محنت پر وہ پروان چڑھتا ہے، انہیں کچھ لوٹائے بھی تو سہی۔ جس کا غذ پہ وہ لکھتا ، جس روشنائی کا وہ استعمال کرتا ہے، جس پریس میں وہ اپنی کتاب چھپواتا ہے ، وہ عوام کی محنت کا ثمر ہیں..... انسانی تمدن کی میراث ہیں..... فن کار ا پنے مقاصد کے لیے ان کا استعمال کرتا ہے، لیکن اُن ہاتھوں کو سلام نہیں کرتا ، جو کا غذا در روشنائی بناتے ہیں اور پریس چلاتے ہیں..... فن کار جونک بن کر سماج کا خون چوستا ہے اور پھر اپنی انفرادیت کے جوہڑ میں ہانپتا پڑا رہتا ہے..... ہر آدمی سماج میں سماج کے لیے کچھ نہ کچھ کرتا ہے، لیکن ایک فن برائے فن کا علمبردار فن کار ہے، جو الفاظ کے پیچوں میں الجھتا ہے۔ علامتوں کے جنگلوں میں ہرزہ گردی کرتا ہے ۔ زبان کی نوک پلک درست کرتا ہے ۔ قافیہ پیمائی میں سر کھپاتا ہے۔ یہ فنکا رو ہی جذامی ہے، جو اپنے فن کی اندھیری گھپا میں بیٹھا اپنے زخم کو سہلاتا ہے..... اور سسکاریاں بھرتا ہے..... اس نے ادب جیسے گراں مایہ تہذیبی سرمایہ کو اپنی گندی اور مریض شخصیت .....اپنی بے راہ روی اور لامرکز انفرادیت کا چہ بچہ بنا دیا اور اپنی روح کی تمام نجاست کو اس میں بہا دیا ۔ فن کار نے آرٹ ہی سے نہیں، زندگی ، سماج اور انسان سے بھی غداری کی۔ سماج کو ایسے فن کار کی ضرورت نہیں ، جو فن وا دب جیسی اہم سماجی اور تہذیبی سرگرمی کو شوقِ فضول سمجھتا ہے۔ سماج کو ایسے فن کار کی ضرورت ہے، جوان سماجی سرگرمیوں کا ایک فعال حصہ بنے جوا فرا د سماج ایک بہتر سماج کے حصول کے لیےکر رہے ہیں ۔
فن کار کے پاس ان باتوں کا صرف ایک جواب ہے اور وہ آڈن نے دیا ہے۔ ’’وہ کم وبیش نصف درجن چیزیں جن کے لیے ایک باحمیت آدمی ضرورت پڑنے پر اپنی جان تک دینے کو تیار ہو جاتا ہے ، ان میں سے ایک وہ حق ہے، جو اپنے شوقِ فضول کے لیے مانگتا ہے۔‘‘
ایک فن کار کی حیثیت سے لفظ زبان اور خیال سے کھیلنے کی بات سماج سیو کوں۔ کمیساروں اور افسروں کی سمجھ میں نہیں آئے گی ان لوگوں کے لیے ہر سرگرمی ایک کام ہے فن کار کام کی اہمیت کا انکار نہیں کرتا ، لیکن وہ کھیل کو کام بنانا نہیں چاہتا۔ کیوں کہ وہ جانتا ہے کہ شوقِ فضول کسی بھی معاشرہ کی صحت کے لیے کتنا ضروری ہے ۔
لیکن عموماً فن کار اس خطابت کے سامنے سپر انداز ہو جاتا ہے، جس کی کاری ضرب اس کے انسانی ضمیر پر پڑتی ہے ۔ وہ خود کو وہ سپاہی سمجھنے لگتا ہے، جو اپنے دستے سے مفر ور فن کے رنگ محل میں شب عیش گزار رہا ہو ، جب کہ اس کے ساتھی موت اور حیات کی جنگ میں برسر پیکار ہوں۔ چناں چہ اپنے اس احساسِ گناہ سے نجات پانے کے لیے وہ سماج سے خود سماج کی Terms پر مصالحت کر لیتا ہے۔ سماج کے لیے سود مندا در کار آمد ثابت ہونے کا جذبہ خالص انسانی جذبہ ہے اور فن کار اس جذبے کے سامنے سپر انداز ہو جاتا ہے۔ اب وہ نہ قافیہ پیمائی کرتا ہے نہ ہیئت پرستی..... بلکہ ایک مقصد اور ایک نصب العین کے تحت ادب کی تخلیق کرتا ہے ۔ اب وہ ہر چیز کو سماجی مفاد، سماجی ضرورت ، سماجی مقصدیت کی ترازو میں تولتا ہے..... پہلے تو وہ یہ کرتا تھا، کہ اپنے ہر تجربے کو اس کی منطقی حدود تک پہنچا تا تھا، کیوں کہ تخلیقی سطح پہ یہ ممکن ہے کہ تجربے کی تمام پہنائیوں کو گرفت میں لیا جائے اور اس وقت اس بات سے سروکا ر نہ رکھا جائے، کہ اس تجربے کو سماج قبول کرے گا یا نہیں..... یا پورا سماج جن آدرشوں کے تحت ایک خاص نصب العین کی طرف حرکت کر رہا ہے ، تو کہیں یہ تجربہ ان آدرشوں کی حقیقت یا اصلیت کو بے نقاب کر کے سماج کو انتشار میں مبتلا تو نہیں کرے گا لیکن اب تو چوں کہ فن کار جانتا ہے ، کہ اس کے فن کا سماج پر براہِ راست اثر پڑ رہا ہے ، اس لیے فن کار اب کوئی بات ایسی نہیں کہتا، جس سے وہ قوتیں کمزور ہوں ، جن کے تحت ایک سماج ایک خاص نصب العین کی طرف حرکت کر رہا ہے، مثلاً وہ جانتا ہے کہ تشد د بری چیز ہے اور تشدد سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوتا ، لیکن وہ یہ بات نہیں کہتا، کیوں کہ اسے خوف ہے کہ وہ انقلابی قوتیں جو تشدد ہی کے ذریعے اقتدار حاصل کرنا چاہتی ہیں، اس کے اس رویہ سے کمزور ہوتی ہیں ..... فن کار بھی اب انہی تعصبات انہی مفاہمتوں اور اخلاقی سمجھو تہ بازیوں کا شکار ہو جاتا ہے جو سماج کا طرز عمل ہے ۔ اسے اگر محسوس ہوتا ہے کہ پورا سچ سماج کے حق میں نہیں تو وہ صرف آدھا سچ بولتا ہے ۔ اگر ایک مزدور گولی سے مار دیا جائے، تو وہ خون کے آنسو روتا ہے، لیکن اگر انقلابیوں کا دستہ بے رحم سفاکیوں پر اتر آئے تو وہ خاموش رہتا ہے۔ کہتے ہیں کہ آڈن ، سپین میں گیا تو تھا عوامی فرنٹ پر لڑنے کے لیے، لیکن وہ ہوٹل میں پنگ پانگ ہی کھیلتا رہا..... وجہ یہ تھی کہ اس نے انقلابی دستوں میں بھی تشدد کی طرف وہ رغبت دیکھی ، جسے اس کا ضمیر قبول نہ کر سکا۔ انقلابی ہونے کے لیے Fanatic ہونا ضروری ہے ۔ تاکہ آدمی کی نظر یک طرفہ رہے ۔ سفید اور سیاہ میں انتخاب ممکن ہے..... دشواری اس وقت پیدا ہوتی ہے، جب سفید اور سیاہ باہم مل کر اس حقیقت کا تار پو د بنتےہیں ، جو دراصل ہماری زندگی کی حقیقت ہے..... فن کار چوں کہ Fanatic نہیں ہوتا ۔ اس لیے حقیقت کو اس کے تمام روشن اور تاریک پہلوؤں کے ساتھ قبول کرتا ہے ۔ وہ جب بھی بولتا ہے پورا سچ بولتا ہے اور عام آدمی کے تعصبات کا شکار نہیں بنتا ۔ لیکن پورا سچ بولنے کا فن کار کے پاس ایک ہی طریقہ ہے ۔ وہ درباری مسخرے کی طرح لفظوں اور خیالوں سے کھیلتا رہے..... سب درباری جانتے ہیں ، کہ یہ تو مسخرا ہے، کوئی کام کی بات نہیں کہتا، یہ تو صرف مسخرا ہی جانتا ہے، کہ جو بات وہ کہہ رہا ہے صرف وہی کام کی ہے..... ہر درباری کی بات کسی نہ کسی حکمت عملی کا شکار ہوتی ہے..... اگر حکمت عملی نہیں ہوتی ، تو صرف مسخرے کی ۔ اسی لیے وہ سچ بولتا ہے اور بہت کڑوا سچ بولتا ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں ، کہ وہ محض بذلہ سنجی اور ضلع جگت سے کام لے رہا ہے۔ یہ تو مسخرا ہی جانتا ہے ، کہ بذلہ سنجی حقیقت کو بے نقاب کرنے کا ایک ذریعہ ہے ..... شوقِ فضول سے اعصاب اور ہاضمہ ٹھیک ہو یا نہ ہو ، کم از کم وہ آدمی کو سچ بولنا تو سکھاتا ہے ۔
چناں چہ فن کار کی ہیئت پرستی کا مطلب صرف یہ ہوتا ہے، کہ وہ اپنے فن کارانہ تخیل کا بھر پور تخلیقی استعمال کرتا ہے..... فن کارانہ تخیل حقیقت کا جس قسم کا علم اورعرفان بخش سکتا ہے ۔ وہ نہ سماجی علوم سے ممکن ہے نہ سیاسی دستا ویزوں سے۔ فن کے ذریعہ فن کار حقیقت کا حسی تجربہ حاصل کرتا ہے ۔ سائنس اور سماجی علوم دنیا کو بدلتے ہیں، لیکن اس بدلی ہوئی دنیا میں رہنے والا آدمی احساس کی کس سطح پر حرکت کرتا ہے، اس کے روحانی اور جذباتی مسائل کیا ہیں ، ان کا عرفان صرف فن کے ذریعہ ممکن ہے ۔ فن کار انسان کو Statistics کے ایک عدد کے طور پر قبول نہیں کرتا..... سماجی علوم بتاتے ہیں ، کہ آدمی کو یہ یہ مادی آسائشیں حاصل ہو جائیں، تو آدمی ایک Statistical unit کے طور پر خوش رہے گا۔ فن کار دیکھتا ہے، کہ آدمی مادی آسائشیں حاصل کرنے کے باوجود اگر خوش نہیں ہے، تو کیوں نہیں ہے ، اور اگر خوش ہے، تو اس کی خوشی کی نوعیت کیا ہے ..... فن کار آدمی کے احساساتی اور جذباتی وجود سے سروکار رکھتا ہے ، اس کے روحانی اور جبلی تقاضوں پر نظر رکھتا ہے اور آدمی کے احساس کو گرفت میں لینے کا اس کے پاس ایک ہی ذریعہ ہے ..... زبان .....!
ایلین ٹیٹ نے بتایا ہے، کہ فن کار جس ’’جہنم زار‘‘ کی طرف اشارا کرتا ہے، وہ خود جہنم زار کا ایک حصہ ہوتا ہے، وہ اس جہنم سے باہر رہ کر دوسروں کو نہیں بناتا کہ یہ ’’جہنم ان کے لیے ہے‘‘۔ یہ معاشرہ اپنے افراد کے لیے جو جہنم بناتا ہے، اس میں دوسرے لوگوں کے ساتھ فن کار بھی شریک ہوتا ہے ۔ چوں کہ دوسرے لوگوں کے پاس زبان نہیں ہوتی..... یعنی وہ زبان جو احساس کا اظہار ہے..... اس لیے دوسرے لوگ اس فریب میں مبتلا رہتے ہیں، کہ وہ کسی جہنم میں نہیں جی رہے ۔ جس چیز کو آپ نام نہیں دے سکتے ، وہ گویا وجودہی نہیں رکھتی ۔ جدید آدمی کے لیے کوئی جہنم ہوتا ہی نہیں ۔ اگر ہمارے فن کا ر اس کی طرف ہماری توجہ مبذول نہ کراتے ..... فن کار نے احساس کو زباں بخشی اور اس طرح اس دنیا کی آگہی عطا کی جس میں ہم رہتے تو تھے، لیکن جس کی حقیقی ماہیت سے ہم واقف نہیں تھے ..... احساس کی سطح پر ہم اس جہنم کو محسوس تو کرتے تھے لیکن چوں کہ ہمارا ا حساس زبان سے محروم تھا، اس لیے تم احساس کو خیال میں بدل نہ سکتے تھے ۔ فن کار احساس کو زبان عطا کرتا ہے ، اور اس طرح اسے فکر کی سطح پر پہنچا دیتا ہے، ہم اس چیز سے ’’آگاہ‘‘ ہو جاتے ہیں جسے صرف موہوم طور پر محسوس کرتے تھے۔
انسان حیوانی اور میکا نکی سطح پر نہیں جیتا ۔ وہ جو کچھ کرتا ہے ، سوچ سمجھ کر کرتا ہے ۔ وہ جاننا چاہتا ہے، کہ وہ یہ کام کیوں کر رہا ہے ..... انسان بغیر علم کے عمل کا اہل نہیں رہتا۔ جب وہ بغیر جانے بوجھے کام کرنے لگتا ہے، تو گویا وہ آدمی نہیں، بلکہ مشین ہے ..... آپ آدمی کو مشین نہیں بنا سکتے..... آدمی اپنی میکانکی حالت کو بغیراحتجاج کے قبول نہیں کرتا..... وہ میکانکی تواتر سے سر بلند کر کے پوچھ ہی لیتا ہے ..... آخر کیوں کیوں کیوں .....؟ مجھے یہ کام کرنا ہے، تو کیوں کرنا ہے ..... وہ اپنے عمل، اپنی انسانی سرگرمی کی ہر نوعیت کو سمجھنا چاہے گا..... وہ اپنے اعمال کی علم و آگہی کا مطالبہ کرتا رہے گا اور جس قسم کے علم و آگہی کی ضرورت ہے ، وہ اگر محض سائنس اور سماجی علوم بہم پہنچا سکتے ، تو پھر تہذیب کی اتنی ہائے وائے کی ضرورت ہی کیا تھی۔ آدمی کسی نہ کسی طرح کسی نہ کسی سطح پر فن کا مطالبہ کرتا رہے گا ، تاکہ وہ اپنے احساساتی اور جذباتی وجود کی آگہی حاصل کر تار ہے ۔ فن کے بغیر آدمی زندہ تو رہ سکے گا، لیکن محض ایک مشین کی طرح ۔ جس قسم کی زندگی وہ ماضی میں گزارتا رہا ہے..... اور حال اور مستقبل میں گزارنا چاہتا ہے، وہ فن کے بغیر ممکن نہیں ۔
فن کار ہر اس علم کی قدر کرتا ہے ، جو انسان کو زندگی کی حقیقتیں سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔ لیکن فن کار یہ بھی جانتا ہے کہ جس قسم کی خود آگہی فن کے ذریعہ انسان کو حاصل ہوتی ہے..... وہ نہ سائنس سے حاصل ہوتی ہے ، نہ دوسرے سماجی علوم سے..... دوسرے علوم کی طرف فن کار کا رویہ حقارت کا نہیں بلکہ انکسار کا رویہ ہوتا ہے..... آڈن نے ایک جگہ کہا ہے، کہ فن کار ہر قسم کی نخوت کا شکار ہو سکتا ہے ..... سوائے اس نخوت کے جو سماجی کارکن میں پائی جاتی ہے..... ’’ہم تو یہاں اس دنیا میں دوسروں کی مدد کرنے کے لیے ہیں۔ پتہ نہیں دوسرے لوگ یہاں کیا کر رہے ہیں۔‘‘
فن کار جانتا ہے دوسرے لوگ کیا کر رہے ہیں ..... دوسرے لوگوں کے ساتھ اس کا رشتہ کبھی لاگ کا اور کبھی لگاؤ کا رشتہ ہے ۔ لیکن وہ اس رشتے کو ٹوٹنے نہیں دیتا..... وہ محض من بھاتے لوگوں کی ترجمانی نہیں کرتا ، بلکہ ان لوگوں میں بھی دلچسپی لیتا ہے، جنہیں وہ ذاتی طور پر پسند نہیں کرتا ۔ اچھے برے لوگوں کی جو رنگا رنگ دنیا شیکسپیئر اور بالزاک نے تخلیق کی ہے، وہ اس آدمی سے کیسے ممکن ہے جو اپنے فن کے ڈرائنگ روم میں آدمیوں کو چن چن کر۔ سونگھ سونگھ کر، اور تول تول کر داخل کرتا ہو۔ فن کار تو فلسفی سائنس داں اور سیاسی آدمی سب کو قبول کرتا ہے ۔ البتہ یہ فلسفی اور سیاسی آدمی ہوتا ہے، جو فن کارکو کان پکڑ کر اپنی ریاست کے باہر چھوڑ آتا ہے، کیوں کہ سیاسی آدمی فن کار سے جو تقاضے کرتا ہے، انہیں بحیثیت ایک فن کار کے وہ قبول نہیں کر سکتا کیوں کہ ان تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے جن ذہنی صلاحیتوں کی ضرورت ہے ، وہ اس کے پاس نہیں۔ اس کے پاس تخیل کی قوت ہے، جو صرف تخلیق کا کام کر سکتی ہے اور تبلیغ کے لیے بالکل بے کار ہے..... تبلیغ کے لیے خطابت کی ضرورت ہے، جو اس کے پاس نہیں ہوتی ۔ وہ یہ نہیں کہتا کہ تبلیغ نہ کی جائے وہ صرف یہ کہتا ہے کہ اس کے پاس کوئی ایسی صلاحیت نہیں جو تبلیغ کے کام آسکے فن کار کے پاس زبان ہے، جس کا استعمال وہ تخلیقی طور پر کرتا ہے، تبلیغی اور ترغیبی طور پر نہیں..... زبان کے تبلیغی اور ترغیبی استعمال کی اپنی ایک الگ نفسیات ہے، جس سے فی الحال نہیں سروکار نہیں..... ہم سمجھتے ہیں، کہ محض زبان کے ذریعہ لوگوں کو کسی کام کی ترغیب دلائی جا سکتی ہے، لیکن جیسا کہ لسانی نفسیات کے ماہروں نے بتایا ہے ، کہ محض زبان کسی بھی عمل کی براہ را ست محرک نہیں ہوتی ۔ لوگ کسی بھی عمل کے لیے اس وقت رضامند ہوتے ہیں، جب انہیں قائل کر دیا جائے ، کہ یہ عمل ان کے فائدے میں ہے ۔ اور آدمی محض زبان کے زور پر کسی کو قائل نہیں کرتا ۔ اسی لیے پر و پیگنڈا لوگوں کو متاثر کرنے کے لیے بے شمار ایسے طریقے اپناتا ہے، جن کا تعلق محض زبان سے نہیں ہوتا ، بلکہ انسانی نفسیات سے ہوتا ہے ۔ فن کار کے یہاں زبان کا اظہا راور ابلاغ کی سطح پر ہوتا ہے۔ فن کار کے یہاں لفظ و معنی کی جو جانکاہ کشمکش ملتی ہے وہ جیسا کہ وہائٹ ہیڈ نے بتایا ہے ’’نادر خیال اور ضدی زبان‘‘ کے بیج کی کشمکش ہے ..... کیوں کہ زبان تو عام بول چال ہی کی استعمال کرتا ہے ، لیکن اسے ہر گھسے ہوئے لفظ پر اپنے احساس کا نقش ثبت کرنا ہوتا ہے ..... زبان اس کام کے لیے مشکل ہی سے رضامند ہوتی ہے..... کیوں کہ ہر لفظ کے ساتھ اتنے متنوع انسلاکات وابستہ ہوتے ہیں کہ اسے ایک مخصوص خیال یا احساس کے لیے اس وقت تک استعمال نہیں کیا جا سکتا ، جب تک ان انسلاکات سے پیچھا نہ چھڑایا جائےزبان گویا اس ڈھیلے ڈھالے جامہ کی مانند ہے، جیسے بے شمار متنوع اور مختلف خیالات کی ستر پوشی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ وٹ گن سٹائن نے تو یہاں تک کہا ہے کہ’’ زبان ، خیال کی پردہ داری کرتی ہے ۔ جس کی وجہ سے ہم کپڑوں کی ظاہری صورت سے خیال کی صورت کا اندازہ نہیں لگا سکتے۔ کیوں کہ کپڑوں کی ظاہری صورت کسی دوسرے ہی مقصد کے لیے تراشی گئی ہے اور اس مقصد کے لیے یقیناً نہیں کہ ہم ان کے ذریعہ (خیال کے) جسم کی ہیئت پہچانیں۔‘‘
فلسفہ اور سائنس لفظ کو اس کے محدود سے محدود معنی میں استعمال کرتے ہیں ۔ جب کہ شعر میں لفظ کی شکل اور شباہت ، رنگ اور آہنگ اس کے معنی کی تو سیع ہوتی ہے ۔ اسی لیے شعر کو محض لغت کی مدد سے نہیں سمجھا جا سکتا اور نہ ہی اپنی زبان میں کسی دوسری زبان کے شعر کا ترجمہ لغت کی مدد سے ممکن ہے..... علمی کتابوں کے ترجمے دارالترجمہ کے ذریعہ ممکن ہیں، لیکن تخلیقی ادب کا ترجمہ ہمیشہ ہے انفرادی عمل رہتا ہے اور یہ عمل میکانکی نہیں، تخلیقی ہوتا ہے ۔ ترجمہ کی کا میا بی کا دار ومدار بھی محض قدرتِ زبان پر نہیں ہے، بلکہ زبان کا تخلیقی استعمال ہے ، اور تخلیقی عمل ہمیشہ انفرادی رہا ہے، اجتماعی نہیں۔ جس قسم کے تراجم آج کل ملک کی مختلف زبانوں میں ہورہے ہیں، وہ تخلیقی ادب کی سب سے بڑی توہین ہیں۔ کیوں کہ مترجم زبان کو صرف لغوی معنی کی سطح پر دیکھتا ہے اور فنکا ر نے جس طرح زبان کا حسی اور جذ بی استعمال کیا ہے، اس سے کوئی سروکار نہیں رکھتا ۔ ہمارا آج کل کا بیشتر ادب جو اس قدرروکھا پھیکا ہے، اس کی وجہ بھی یہی ہے، کہ ہمارے لکھنے والوں میں زبان کا وہ تخلیقی استعمال نہیں ملتا ، جو انفرادی اسلوب کی طرف پہلا قدم ہے ، فن کار سمجھتا ہے کہ سماجی حقیقت ..... کہانی کا مناسب موضوع ہاتھ آجائے ، تو پھر زبان چاہے ایسی بھی ہو، کام چل جائے گا۔ اسی لیے ہمارے یہاں قدرتِ زبان کو زبان کے تخلیقی استعمال کا ہم معنی سمجھا گیا ہے ۔ جہاں زبان میں روانی اور سلاست نظر آئی کہ ہم سمجھ بیٹھے کہ مصنف نے زبان کا نہایت ہی خوش اسلوبی سے استعمال کیا ہے حالاں کہ یہ روانی اور سلاست اکثر نتیجہ ہوتی ہے۔ ہر اس حوصلہ شکن مرحلہ سے پہلو تہی کرنے کا ، جہاں زبان پٹھے پر ہاتھ .....دھرنے نہیں دیتی ..... مصنف کی ہر پیش قدمی پر بھڑک اٹھتی ہے ۔ جتنا مصنف اسے مناتا ہے، اتنا ہی روٹھتی ہے اور کسی بھی طرح دوہ کہنے پر تیار نہیں ہوتی جو وہ اس سے کہلوانا چاہتا ہے۔ روانی بڑے اسلوب کی محض ایک خوبی ہے ۔ اور محض روانی بڑے اسلوب کی ضمانت نہیں ۔ بڑا اسلوب پیدا ہوتا ہے زبان سے تخلیقی طور پرالجھنے سے..... اور اکثر لکھنے والے محض روانی کی خاطر اس تخلیقی الجھاؤ سے دامن بچا کر نکل جاتے ہیں..... آپ ذرا بیدی پر لکھے گئے مضامین کا مطالعہ کیجیے۔ ہر نقاد کی تان اسی بزرگانہ نصیحت پر ٹوٹتی ہے، کہ بیدی کو زبان کی طرف زیادہ دھیان دینا ہوگا ۔ دراصل ان نقادوں کا ذہن عادی ہے اسی رواں اسلوب کا، جس پر نظریں فراٹے بھرتی ہوئی دوڑتی چلی جاتی ہیں۔ نہ کہیں سخت پتھر ہیں نہ خطرناک موڑ، نہ تھکا دینے دینے والے نشیب و فراز ..... لیکن بیدی کا مسئلہ آ ہوئے وحشی کو رام کرنے کا مسئلہ ہے۔ بیدی کے لیے زبان کوئی فیاٹ گاڑی نہیں جو چابی گھماتے ہی سڑک پر بہتی چلی جائے بلکہ ایک بے لگام گھوڑا ہے، جسے قابو میں کرتے کرتے پسینے چھوٹ جاتے ہیں..... بیدی اور اس معنی میں ہر بڑا فن کار زبان کو ایک میکنزم کے طور پر نہیں، بلکہ ایک آرگنزم کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ لفظ اس کے لیے اتنا ہی زندہ یا مردہ..... تازہ یا فرسوده .....صحت مند یا بیمار..... طاقتور یا کمز ور..... خوبصورت یا بد صورت ہوتا ہے، جتنی کہ کوئی بھی جاندار چیز۔
ماہرین لسانیات نے بتایا ہے، کہ لپ لینڈ کے اسکیمو کی زبان میں برف کے لیے سات آٹھ الفاظ ہیں، جو برف کی مختلف قسموں کو ظاہر کرتے ہیں ۔ ہم لوگ برف کو صرف ایک دو ناموں سے پہچانتے ہیں، کیوں کہ برف باری کا ہمیں تجربہ نہیں اور برف باری کی مختلف قسموں میں جو نازک اور لطیف سافرق ہے ، انہیں وہی لوگ جان سکتے ہیں، جو دہاں کے موسموں سے دو چار ہوئے ہیں ۔ ذرا آپ سوچیے تو کہ اگر مریخ سے کوئی آدمی ہماری دنیا میں آئے ، تو وہ محبت ، نفرت، خوف، غصہ ، غم اور مسرت کے الفاظ سے ہماری جذباتی زندگی کا کیا قیاس کرے گا۔ وہ تو یہی سمجھے گا، کہ ہر جذبہ محض ایک اکائی ہے ۔ آدمی غم زدہ ہوتا ہے ، تو روتا ہے۔ خوش ہوتا ہے تو ہنستا ہے۔ لیکن یہ ہمیں جانتے ہیں، کہ ہر جذبہ کی کتنی نازک اور لطیف نہیں ہیں۔ کیسے ایک جذبہ دوسرے جذبہ میں سرایت کر جاتا ہے۔ کیسے ہر شوریدہ جذ بے کے نیچے مختلف جذبات کی تہہ آب موجیں بہتی رہنی ہیں..... ہر جذبہ کے نیم تاریک نیم روشن اپنے مختلف Shades ہوتے ہیں، اتنے موہوم اور مبہم پہلو ہوتے ہیں ، کہ ان کی کوئی جا مدا ور سکہ بند شیرازہ بندی ممکن نہیں..... مریخ سے آنے والا آدمی محض لفظوں سے ہماری اس جذ باتی فضا کا کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا ۔ اس آدمی کو آپ ہمارے نقادوں کے وہ مضامین پڑھائیں جو انہوں نے غزل کی روایت پسندی پر لکھے ہیں، تو وہ تو یہی سمجھے گا، کہ محض عشق و محبت کے جذبہ کے اظہار کے لیے اتنی سب غزل خوانی عجب تماشا ہے کہ! ان لوگوں کو کوئی دوسرا کام بھی تھا یا نہیں۔ غزل کے ہزاروں ، لاکھوں اشعار محض ایک ہی بات رٹتے رہتے ہیں۔ یہ تو ہمیں جانتے ہیں کہ ہمارے لیے .....اس دنیا کے انسانوں کے لیے..... ایک ہی جذبے کے کتنے نازک اور لطیف پہلو ہوتے ہیں..... آدمی کی جذباتی زندگی جتنی زیادہ پیچیدہ اور Sophisticated ہوگی اس کے جذبات کے اتنے ہی رنگ اور روپ ہوں گے ۔ جذ بہ کی انہی باریکیوں، لطافتوں اور رنگا رنگیوں پر نظر رکھنا۔ انہیں زبان عطا کرتا..... فن کار کا فریضہ ہے ۔
تخیلی طور پر کمز در فن کار انسان کی جذباتی زندگی کی انہی نزاکتوں کو دیکھنے سے قاصر رہتا ہے ۔ ہمارا مقبولِ عام اور تفریحی ادب یہی بتاتا ہے کہ محبت ہوئی اور بڑے دھڑلے سے ہوئی..... لیکن ایک ہی جذبہ نور و ظلمات کے مختلف دائروں سے گزر کر جو ہزاروں رنگ اختیار کرتا ہے ، اس کی جلوہ گری تو آپ کو میر و غالب ہی کے یہاں نظر آئے گی۔ بڑے فن کار کی تخلیقی جد وجہد کے ایک ہی معنی ہوتے ہیں ..... کس طرح وہ زبان اور وہ اسلوب ..... وہ قافیہ اور وہ زمین پالیں جو ان کی جذباتی برف باری کو اپنی تمام رعنائیوں کے ساتھ جذب کر سکے ۔ برف باری کے لیے اسکیمو کا لفظ گو یا برف باری کی طرف اس کے رویہ کا اظہار ہے ۔ غالب سے لوگ شکایت کرتے ہیں کہ غدر کی طرف یا اپنے زمانے کی طرف غالب کا رد یہ متعین نہیں تھا..... میرا خیال ہے ، کہ ہر چیز کی طرف غالب کا رویہ متعین تھا..... لیکن یہ رویہ فن کار کا تھا..... اسی لیے غالب ایک سیاسی آدمی، صحافی، یا مؤرخ کی طرح اس رویہ کا اظہار دو ٹوک نپی تلی بھاشا میں نہیں کر سکتے تھے..... فن کار، صحافی کی طرح اپنے رویہ کے متعلق ’’ بیانات ‘‘ نہیں دیتا ..... اس کا رویہ اس قدر پیچیدہ،موہوم اور مبہم ہوتا ہے ، کہ اسے صحافی یا مؤرخ کی زبان میں ظاہر بھی نہیں کیا جا سکتا..... اسی لیے تو وہ علامتوں ، اشاروں کنایوں، استعاروں اور شعری پیکروں کا ایک جال بچھاتا ہے۔ فن کار کی جذباتی..... landscape میں کسی ایک جذبہ کی آندھی تھوڑی چلتی ہے ..... وہاں تو حبس بھی ہوتا ہے۔ بوندا باندی بھی ہوتی ہے ۔ برق و باراں کا طوفان بھی ہوتا ہے ..... اور جب بہ یک وقت ہوتا ہے۔ اسی لیے بڑے فن کار کے یہاں کوئی ایک جذبہ دوسرے جذبہ کو نہ تو خارج کرتا ہے نہ اس کا استرداد کرتا ہے ۔ اسی لیے بڑے فن کار کے یہاں جذبات کا الجھاؤ ہوتا ہے..... تضاد اور تناقص ہوتا ہے۔ بڑا فن کاران الجھے ہوئے رشتوں سے برگشتہ خاطر نہیں ہوتا۔ کیوں کہ اس کی کوشش حقیقت کا مکمل احاطہ کرنے کی ہوتی ہے، کسی ایک حقیقت تک پہنچنے کی نہیں ہوتی ۔ وہ کسی Dilemma کو Resolve کرنا نہیں چاہتا، بلکہ اس کی Terms بیان کرنا چاہتا ہے بڑا فن کار زندگی کو اُس کے تمام تضادات کے ساتھ ہی نہیں ، بلکہ اس کی پوری سریت کے ساتھ قبول کرتا ہے ۔ صاف بات ہے کہ اس کے لیے اسلوب اور زبان کا مسئلہ اس شخص سے بہت مختلف ہے، جو ہر چیز کو عقلی اور منطقی زاویہ سے دیکھتا ہے ۔ اسباب و علل کا رشتہ تلاش کرتا ہے ، اور سہرا بھن کا کوئی نہ کوئی حل نکالنے کے در پے ہوتا ہے۔ ایسے شخص کی جذباتی فضا پر ایک وقت میں ایک ہی موسم طاری ہوتا ہے ..... عشق کی پروائی چلی تو چلی اور انقلاب کی آندھی آئی تو بس آتی ہی گئی اس کا جذبہ اکہرا ہوتا ہے ۔ اور اسے اکہرے اسلوب کی ضرورت پڑتی ہے ..... بڑے فن کار کا جذبہ بھی سہ مکعبی ہوتا ہے اور اس کے لیے وہ سہ مکعبی اسلوب کی تلاش بھی کرتا ہے۔
زبان جب شاعر کے پاس آتی ہے، تو کوئی بے جان چیز کے طور پر نہیں آتی۔ زبان میں وہ تمام امکانات پوشیدہ ہوتے ہیں، جو شاعر کا لمس پا کر زیادہ شدید طور پر اجاگر ہوتے ہیں۔ عام بول چال کی زبان بھی محض Referential نہیں ہوتی اس میں کبھی تازگی ، نوکیلا پن اور احساس کی نزاکتیں ہوتی ہیں۔ فن کار زبان کی انہی خاموش قوتوں کو زیادہ تندی اور شدت سے نمایاں کرتا ہے ۔ زبان ایک معاشرتی پیدا وار ہے وہ گھروں ، گلیوں اور چوراہوں پر پروان چڑھتی ہے ۔ وہیں بنتی بگڑتی اور سنورتی ہے ۔ وہ بازار کی رونق ہے اور کھلی سڑکوں پر اپنے فتنے جگاتی ہے ..... چوراہوں پر اس کا شباب دمک اٹھتا ہے اور اس کے چاہنے والوں کے بدن کی رگڑ، اس کے لہو کو گرم رکھتی ہے ۔ وہ سب سے آنکھیں لڑاتی ہے ۔ سب کو جھانسہ دیتی ہے۔ سب پر مہربان ہے اور ہر کسی کی داشتہ ہے ..... ’’میری زبان بازار کی وہ ویشیا ہے جسے مجھے دوشیزہ بنانا ہے۔‘‘ (کارل کراس) .....
زبان ایک ضدی اڑیل نٹ کھٹ نار ہے۔ جسے بازار کی اوباشی نے پر نخوت اور سرد مہر بنا دیا ہے۔ وہ بھی وہ نہیں کہتی جو آپ اس سے کہلوانا چاہتے ہیں ۔ اسے سدھا تے سدھاتے فن کار کا پتہ پانی ہو جاتا ہے ۔ اسے قابو میں لانا ایک بھری پڑی توانا عورت کو قابو میں لانے کے برا بر ہے ۔ بے صبر نوجوان اس پر یکبارگی حملہ کرتے ہیں۔ اسے بھنبھوڑتے ہیں، نوچتے ہیں ۔ انگلیوں کی خراشیں..... مسکی ہوئی چولی ۔تار تار دامن، ان کے جذبۂ شوق کی بے تابی کا غماز ہے.....
کچھ لوگ ہیں اور ان کی تعداد بہت زیادہ ہے، جو محض اوپر کی چھیڑ چھاڑ ہی کو حاصل ملاقات سمجھتے ہیں..... کبھی کمر میں چٹکی لی ۔ کبھی کندھا سہلایا..... اور خوش ہو لیے نہ سانس پھولی، نہ بال الجھے ..... نہ چولی مسکی .....جیسی کو ری کوری حرم میں داخل ہوئی تھی، ویسی ہی باہر نکلی۔
ایک بڑی تعداد ان لوگوں کی ہے، جو عورت کے معاملے میں بھی استادانہ شان رکھتے ہیں..... بڑے ہی مشاق..... بڑے ہی گرگ باراں دیدہ ..... نہ وہ زبان کو شہر شملہ سمجھتے ہیں ، کہ پہلے اور دوسرے حملے کے لیے بے تاب ہوں، نہ اتنے سادہ لوح ہوتے ہیں کہ محض ہاتھ پھیرتے ہیں۔ وہ بڑے رکھ رکھا ؤ ا در سلیقہ مند آدمی ہوتے ہیں۔ نہایت پر تکلف انداز سے ملتے ہیں ..... لیکن اُن کا تمام تکلف اور رکھ رکھاؤ ایک جانے بوجھے مقصد کے تحت ہوتا ہے..... تبسم کے زاویے حسابی ہوتے ہیں..... ان میں وہ برجستگی اور حرارت نہیں ہوتی ، جو عورت کی مدافعت کو توڑتی ہے ۔ ان کا ہر قدم نپا تلا..... ہر حرکت موزوں اور مناسب ..... ہر طور استادانہ اور ہر طریقہ مشاقا نہ ہوتا ہے ..... لیکن یہ تمام عمل یک طرفہ ہوتا ہے ۔ اس سے زبان کی آنکھ میں کوئی نشہ، کوئی چمک پیدا نہیں ہوتی..... زبان اخلاقاً ان کا کام کرتی رہتی ہے ..... لیکن خود سرد کی سر در ہتی ہے۔ نہ اس کی زلف الجھتی ہے، نہ رخسار تمتماتے ہیں..... عورت اس مرد کو برداشت کرے گی جوا سے بھنبھوڑتا ہے ۔ کیا ہوا وہ آداب محبت سے واقف نہیں ۔ لیکن اس میں گرمی اور توانائی تو ہے ..... لیکن عورت اس آدمی کو کبھی برداشت نہیں کرے گی جو اسے محض ایک بے جان مشین کے طور پر استعمال کرتا ہے..... زبان بھی وہ وارفتگیٔ شوق جذباتی و فوراور سپردگی مانگتی ہے ۔ جو اس کے جسم میں لرزشیں پیدا کر دے ۔ ادب کی دنیا میں آپ کو ایسی بے شمار کتابیں نظر آئیں گی۔ جن کی طرف زبان کی ویشیا حقارت سے نظر کرتی ہے کیوں کہ ان کے حرم میں اس کا استعمال ایک بے جان جسم کے طور پر کیا گیا ہے ۔
اور تخلیقی ادب کی دنیا میں زبان اس آدمی کو تو کسی بھی قیمت پر برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہے ۔ جو لفظ کی کو کھ میں محض معنی کا بیج رکھنے کو لسانی تعلق کا مقصد سمجھتا ہے۔
یہ تو ایک بڑے فن کار کا تخلیقی لمس ہوتا ہے۔ جس کی حرارت سے زبان کی مغرور حسینہ کا جسم پگھل جاتا ہے ۔ کیوں کہ فن کار زبان کو ایک زندہ آرگنزم کے طور پر استعمال کرتا ہے ، وہ اس کے چہرے کے دل کش نقوش اور جسم کے دل آویز خطوط پر مچلتا ہے، وہ اس کے ہر رنگ ،ہر لفظ کے نوکیلے پن، گداز اور گولائی کو اپنی روح میں جذب کر لیتا ہے ۔ اس کے تخیل کی انگلیوں کی سبک لرزشوں تلے ہر لفظ رنگ ونور کے فشار سے پھٹنے لگتا ہے ۔ اور زبان کا پورا بدن اس دھرتی کی طرح ہانپنے لگتا ہے ، جس پر بارش کی پہلی پھوار پڑی ہو۔ الفاظ رنگوں کی طرح پگھلتے ہیں اور ایک دوسرے میں جذب ہو کر استعاروں کا جال بنتے ہیں..... ہر لفظ اک لمس ، ایک نغمہ ، ایک تصویر بن جاتا ہے ۔ فن کار کے تخیل کے تخلیقی دباؤ کے نیچے زبان کسمساتی ہے ۔ بدن سسکاریاں پھیرنے لگتا ہے ۔ اور ایک کیف انگیز سپردگی کے تحت زبان اپنی تمام رعنائیاں ، اپنے حسن کی تمام کرشمہ سازیاں، اپنی روح کی تمام گہرائیاں بے نقاب کر دیتی ہے۔ بازار کی یہی ویشیا جب فن کارکے حرم سے باہر نکلتی ہے ، تو اس کی چال میں وہ بانکپن ہوتا ہے ، کہ
آنکھ جمتی نہیں لہراتے ہوئے قدموں پر
کسی نغمے کا تلاطم ہے، کہ رفتار تری
(سیف)
اس کی آنکھ کا نشہ، رخسار کی سرخی ، جسم کی تمازت دیکھ کر ہر شخص سوچنے لگتا ہے کہ نہ جانے کون سے آتشیں تخیل کا اعجاز ہے، جس نے اس کے شباب کی دوشیزگی کو اس طرح نکھار دیا ہے۔
اس لیے تو ایلیٹ نے کہا ہے ،کہ شاعری کا اگر کوئی سماجی فنکشن ہے، تو وہ ہے زبان کی حفاظت..... زبان کی حفاظت کا مطلب ہے اسے احساس کی سطح پر زندہ رکھنا ۔ یہ اسی وقت ممکن ہے ،کہ خود آدمی کا احساس زندہ رہے ۔ ایلیٹ کو اس معاشرہ کے تصور ہی سے ہول آتا ہے جیس میں لوگ شعر کہنا اور اس سے لطف اندوز ہونا چھوڑ دیں ، کیوں کہ اس کا مطلب صرف یہ ہو گا، کہ لوگ متمدن آدمیوں کے جذبات کو اظہار بخشنا اور انجام کا را نہیں محسوس کر نا بھی چھوڑ رہے ہیں ۔ جب تک آدمی احساس کی سطح پر زندہ ہے وہ شعر کہتا رہے گا..... اور شعر کہتے وقت ، تخلیق کے کربناک لمحے میں، اس کا ایک ہی سروکار ہو گا..... احساس کی جوت کے لیے لفظ کی فانوس کی تلاش، اور لفظ فن کار کو کبھی آسانی سے نہیں ملتا..... قافیے کا تنگ ہونا، زمین کا سنگلاخ ہونا، فن کار کا دائمی مسئلہ ہے اور اس مسئلے کو حل کرنا اس کی واحد سماجی ذمہ داری ہے ۔
[1] Encyclopedia of poetry and poetics