کچھ بچا لایا ہوں
-
کچھ بچا لایا ہوں
ملارمے نے کہا ہے شاعری خیالات سے نہیں، الفاظ سے کی جاتی ہے ۔ شاید اسی لیے ایلیٹ نے یہ نہایت بصیرت افروز بات کہی ہے کہ شاعری کا سماجی فنکشن یہ ہے کہ وہ زبان کو محفوظ کرے۔ موضوع کی اہمیت سہی لیکن لوگ سونے کی بدصورت مورت پر پتھر کے خوب صورت مجسمے کو ترجیح دیتے ہیں۔ آرٹ اپنے میڈیم کا شدید ترین استعمال کرتا ہے۔ شاعری کا میڈیم زبان ہے ۔ جس طرح سنگیت کا آواز، مصوری کا رنگ اور سنگ تراشی کا سنگ ۔مصور سبزے کو محض ہرا ہی نہیں، بلکہ نیلا، پیلا، سیاه ، سُرخ ، زرین اور سیما بی بھی بتاتا ہے اور اس طرح رنگوں کے اس نظام کو درہم برہم کردیتا ہے جس سے ہم ہماری زندگی میں مانوس ہوتے ہیں۔ مغنی کا نغمۂ ہوش ربا سنیے ۔ آواز کبھی میگھ کی طرح برستی ہے، کبھی شعلے کی طرح سلگتی ہے، کبھی پرا سرار جنگلوں کی گنگناہٹ، کبھی گھنی جھاڑیوں میں بہتی ہوئی ندی کا پرسکون ترنم اور کبھی پہاڑوں کے سناٹوں میں لرزتی کسی پرند کی پکار بنتی ہے۔ سنگ تراش کے ہاتھوں کا لمس پا کر پتھر کبھی پھول کی پنکھڑیاں بنتے ہیں، کبھی حریر و پرنیاں، کبھی کنواری مریم کی معصومیت، کبھی رقاصہ کی پُر شوخ شرارت..... شاعری کا میڈیم زبان ہے اور ایلیٹ نے تو کہا ہے کہ یہ نہایت ہی سرکش اور ضدی میڈیم ہے۔ الفاظ چورا ہوں پر بھٹکتے ہیں، جگ بتیسی میں پستے ہیں اور اُن کے بدن سے پیشرو شاعروں کے اتنے احساسات چمٹے ہوئے ہوتے ہیں کہ شاعر سوچتا ہے کہ اُن سے اپنے منفرد احساس کی ترجمانی کا کام کیسے لے ۔
تخلیق کا عمل اپنی آخری شکل میں لفظ کی تلاش کا عمل ہے ۔ غالب اس لیے بڑا شاعرنہیں کہ اس نے نئی روشنی کے مرکز کلکتہ کا ذکر کیا، بلکہ اس لیے ہے کہ ’’ ہائے ہائے‘‘ کے الفاظ اس طرح استعمال کیے کہ پڑھنے والے کے دل میں ایک تیر پیوست ہو گیا۔ شیکپیئر کو دیکھیے to be or not to be جیسے معمولی الفاظ کو اس نے کیسا گنجینۂ معنی بنا دیا۔ HO N L, HONL, HONL, HONL کی تکرار سے لیسر کے جنون کی سرحدوں کو چھونے والے المیہ کرب کا کیسا دل کو ہلا دینے والا بیان کیا ۔ ’’ میاں خوش رہو ہم دعا کر چلے‘‘ میں میر نے ’میاں‘ جیسے معمولی لفظ کو کیسے ایک شفیق بزرگ کی درویشانہ چمکار میں بدل دیا ۔
ازل میرے پیچھے ابد سامنے
نہ حد میرے پیچھے نہ حد سامنے
کیا ’حد‘ کا لفظ کبھی اتنے cosmic dimension کے ساتھ استعمال ہوا ہے ۔
شاعری کی زبان بقول والیری کے روز مرہ زبان میں ایک الگ زبان کے طور پر زندہ رہتی ہے۔ کلام موزوں ہونے کی وجہ سے شاعری میں لفظ کا آہنگ اور صوتی حسن نکھر اٹھتا ہے۔ لفظ کی نزاکت، لطافت، جلال و جمال کا احساس شعر میں استعمال ہونے کے بعد ہی پیدا ہوتا ہے۔ شاعر کو اپنے تجربات، مشاہدات اور ہوش مندی پر بھلا کتنا اختیار ہو سکتا ہے۔ زمانہ اس کے لیے نئی زمین اور نیا آسمان پیدا کرنے سے تو رہا۔ سات آسمان گردش میں ہیں اور ان کی چکی میں فن کار کی ہوش مندی پستی رہتی ہے۔ کیا شیکپیئر حقیقی زندگی میں ان تمام تجربات سے گزرا تھا جو اس کے ڈراموں میں بیان ہوئے ہیں۔ تخلیقی تخیل کی طاقت اور اعجاز کے سامنے تجربات اور مشاہدات کی قیمت کیا ہے ۔ اسی لیے ایلیٹ نے کہا ہے کہ شاعر زیادہ سے زیادہ یہ کر سکتا ہے کہ اپنے میڈیم کو نکھارتا اور سنوارتا رہے۔ جادوگر کے پاس رو مال تو ایک ہی ہوتا ہے لیکن وہ ایک رومال سے رنگوں کی دھنک کا کیسا طلسم پیدا کرتا ہے۔ شام کا منظر تو ہر شخص دیکھتا ہے لیکن یہ تو فلا بیر ہی ہوتا ہے جو ڈوبتے سورج کی کرنوں کو پکڑنے کے لیے لفظوں کے جال پھینکتا ہے۔ میں بھری دنیا میں تنہا ہوں کہنے سے شاعری بن جاتی تو کہنا ہی کیا تھا لیکن احساس تنہائی کے اظہار کے لیے شاعری کو خارجی تلازمے تلاش کرنے پڑتے ہیں جو بقول ایلیٹ احساس کا فارمولا ہوتے ہیں۔ تنہائی کا احساس فارم کی عمارت کے کسی چبوترے پر بیٹھا حقہ گڑ گڑاتا ہوا نظر نہیں آتا ۔ بلکہ یہ احساس عمارت کے پورے فارم یعنی در و دیوار، سقف و بام، سنگ و خشت اور چوب و آہن میں قید ہوگا ۔ معاشرتی نقادوں کا یہ عالم ہے کہ سماجی شعور جب تک مینار پر چڑھ کر بانگ نہ دے تب تک انہیں ہر مینار ہاتھی دانت کا مینا ر ہی دکھائی دیتا ہے۔ اسی لیے ایلیٹ سماجی شعور کی پوری بحث کو awareness کے لفظ پر ختم کر دیتا ہے۔
زرعی تمدن میں زبان اور زمین کے ساتھ انسان کا رشتہ بہت گہرا تھا۔ کسان کہانیوں کے خالق اور گیتوں کے جنے والے تھے۔ ان کی بول چال کی زبان کہاوتوں، محاور وں ،استعاروں اور کنایوں سے مالا مال تھی ۔ یہ عناصر زبان کو بذلہ سنج، شاعرانہ ، پیکری اور مترنم بناتے گجراتی زبان کے دیہاتی ناولوں اور جے ایم سنج اور شاں اوکیسی کے ڈراموں میں اسی مترنم اور حاضراتی زبان کا استعمال ہوا ہے۔ صنعتی تمدن کا کاروباری آدمی نہ کہانیاں کہتا ہے نہ گیت بنتا ہے۔ محاوروں اور کہاوتوں کو وہ اسی وقت جملوں میں استعمال کرتا ہے جب وہ امتحان کے پرچوں میں پوچھے جاتے ہیں۔ وہ ایک بے رنگ، بے لوچ، سپاٹ، غیر تخیلی، غیراسمیائی اور غیر پیکر سازانہ زبان بولتا ہے۔ اس کا بس چلے تو وہ زبان بولنے کا کام بھی اپنے نوکروں ہی سے لے ۔ وہ بوڑھا ہندوستانی کلرک جو ٹیلی فون پر اس طرح بات کرتا ہے گویا گانو کی چوپال پر بیٹھا ہوا ہے صنعتی تمدن کے آداب نہیں جانتا۔ اسے پتا ہی نہیں کہ اب تو ڈراموں کے کردار بھی monosy llables میں بات کرتے ہیں۔ صنعتی تمدن نے کمرشیل آرٹ پیدا کیا ہے جو فی الحقیقت نان آرٹ kitch ہے، کیوں کہ وہ ہائی آرٹ کے مضامین کا vulgarization ہے ۔ آرٹ میں عورت کا مجسمہ ننگا نہیں ہوتا برہنہ ہوتا ہے، اور دونوں لفظوں کے معنی
چا ہے لغت میں ایک ہوں، آرٹ کی دنیا میں بہت مختلف ہیں۔ ہماری فلموں کی بر ہنگی اس قدر جنس زدہ ہوتی ہے کہ جی چاہتا ہے پتلون کو سر پر کفن کی طرح باندھ کر پردۂ سیمیں کے آر پار ہو جائیں۔ کمرشیل آرٹ کی زبان میں، وہ زبان جو فلموں، تفریحی ناولوں، مقبولِ عام رسالوں اور مشاعروں میں استعمال ہوتی ہے، نہ بزلہ سنجوں کی بزم آرائی ممکن ہے، نہ اہل دل سے اہل دل کی گفتگو۔ نہ جراحتِ دل کی ترجمانی نہ بیانِ یک شہرِ آرزو۔ آدمی حیوانِ ناطق ہے اور نطق کی تتلی جب تک شعر و ادب کے شگفتہ پھولوں پر مچلتی اور تھرکتی نہیں، اس کے رنگ میں نکھار، نظر فریبی اور حسن پیدا نہیں ہوتا۔ لفظ رنگ نہیں ، لیکن شاعر اس سے تصویر بناتا ہے، ساز نہیں لیکن وہ سنگیت کی تان اڑاتا ہے ، سنگ نہیں لیکن وہ مجسمے تراشتا ہے۔ زبان شاعر کے لیے بند ڈبے کا گوشت نہیں بلکہ خون میں نہایا ہوا شکار ہے، جسے دیکھ کر، چھوکر ، چکھ کر، سونگھ کر شاعر کے پانچوں حواس جاگ اٹھتے ہیں۔ زبان ایک نٹ کھٹ اور ضدی میڈیم ہے ۔ اِسے رام کرنے میں شاعر کا سحر اور اس کی وحشت کھونے میں اس کا اعجاز رہا ہے۔ اسی لیے زبان کے رخسارِ سیمیں پر شاعر کے بوسوں کے نشانات ہی نہیں بلکہ ناخنوں کی خراشیں بھی ہوتی ہیں۔ کبھی تو وہ لفظ سے معنی نچوڑتا ہے اور کبھی اسے اس طرح سہلاتا ہے کہ معنی کا شعلہ جاگ اٹھتا ہے اور لفظ کا پورا بدن دہک اٹھتا ہے۔ سچ ہے!شاعری میں زبان محفوظ ہی نہیں رہتی بلکہ نئی وسعتیں پیدا کرتی ہے ، کیوں کہ اسے ایک عظیم تخلیقی تخیل کی نا پیدا کنار پہنائیوں کے مطابق پھیلنا پڑتا ہے۔
دنیا میں جنگ چھڑتی ہے، خانہ جنگی ہوتی ہے ، انقلاب آتے ہیں ، خدا کی خدائی اتھل پتھل ہو جاتی ہے۔ نقاد دیوارِ آہن اور دریائے آتشیں پار کر کے شاعر کے پاس پہنچتا ہے ۔ شاعر جانتا ہے وہ کیوں آیا ہے ۔ یہی کہنے کہ جو کچھ ہوا اس کے لیے شاعر ذمہ دار ہے۔ شاعر سوچتا ہے ساری زندگی بھری پری عورتوں کی گولائیوں کو نکیلے شعروں میں سماتے گزری ،اگر موٹے کمیساروں کی کمر کے گھیر اؤ کو بھی ایک دو قصیدوں کے گھر میں لیا ہوتا تو نامۂ اعمال اس قدر سیاہ نہ ہوتا۔ اس سے پیشتر کہ نقاد لب کشائی کرے شاعر کہتا ہے ۔ ’’جو کچھ ہوا وہ اس دنیا میں ہوا جس میں تم بھی تھے اور میں بھی تھا ، سائنس داں، فلسفی ، مذہبی پیشوا اور سیاسی لیڈر بھی تھے ۔ اگر تاریخ کے خوں چکاں واقعات کو رونما ہونے سے روکا جا سکتا ہے تو انہیں روکنے کی طاقت اِن لوگوں کے پاس زیادہ تھی۔ اب اس بحث سے کیا فائدہ کہ جو کچھ ہوا اس کا ذمہ دار کون تھا ۔ اس طوفانِ خاک و خوں سے جس میں اتنا سب کچھ تباہ ہوا میں زبان کو بچا لایا ہوں تا کہ ہم کچھ نہیں تو رحمِ دل کا شمار تو کرسکیں۔ کیا میری اس کوشش کی کوئی قیمت نہیں ؟‘‘