اسلم انصاری

اسلم انصاری

اجنبی تھے، رفتہ رفتہ آشنا کیسے ہوئے

    اجنبی تھے، رفتہ رفتہ آشنا کیسے ہوئے کس طرح یکجا ہوئے تھے، پھر جدا کیسے ہوئے موجِ معنی ساحلِ لفظ و بیاں تک ریت تھی کس قدر گہرے مطالب تھے، ادا کیسے ہوئے قریۂ معنی میں غبارِ رنگ تک باقی نہیں قافلہ در قافلہ منظر ہوا کیسے ہوئے دوریوں کی کہر میں کیا حادثے مستور تھے ہم قریب آئے تو سارے رونما کیسے ہوئے پا شکستہ ساتھیوں کے ذہن میں کیا وہم تھے جاوداں ہونے کو ٹھہرے تھے فنا کیسے ہوئے وہ نہ آیا تھا، تو کیاکیا اختلافِ رائے تھا اس کو دیکھا ہے تو سارے ہم نوا کیسے ہوئے کیا سخن ساماں تھے ہم بھی، لفظ کا اعجاز تھے چپ کی پرچھائیں پڑی تو بے صدا کیسے ہوئے