سنار ہی تھی فسانے وہ اجنبی آواز
-
سنا رہی تھی فسانے وہ اجنبی آواز کھلی جو آنکھ تو پل میں بکھر گئی آواز حدیثِ خواب ہوئیں، خواب دیکھتی آنکھیں شکستِ رنگ ہوئی اب وہ سوچتی آواز قریب ہیں وہ ستاروں بھری گزرگاہیں سنائی دینے لگی دل کو چاند کی آواز بلیغ تر تھی شبِ ہجرکی ملول فضا ستارے لفظ تھے اور ان کی روشنی آواز بچھڑتے وقت بہت اعتماد تھا اس میں اسی خیال سے ہم نے بھی پھر نہ دی آواز جو ساحلوں پہ نہ تھے ان کو کیا خبر کہ کسے پکارتی ہی رہی ایک ڈوبتی آواز