اسلم انصاری

اسلم انصاری

کبھی جو ہونٹو ں تک آئے بھی تو نہیں کہنا

    کبھی جو ہونٹو ں تک آئے بھی تو نہیں کہنا جو بات بزمِ محبت کی ہے، وہیں کہنا ہمارے حال سے وہ بے خبر ہی اچھا ہے ہمیں ملے ہو تو اب اس سے کچھ نہیں کہنا ہمارے عہد کی نیکی ہے نرمیئ گفتار صبا کے لہجے میں اک حرفِ دلنشیں کہنا بجا کہ گرمئی محفل ہے آپ کی تقریر ہمارے عیب ہمیں سے بھی نکتہ چیں کہنا انوکھے فیصلے دل کے، عجیب رمزِ جنوں کہیں نہ کہنا غمِ عشق اور کہیں کہنا تڑپ رہے تھے کئی لفظ میرے ہونٹوں پر مگر وہ اس کا اشارہ کہ کچھ نہیں کہنا بیانِ وصفِ نگاراں پہ برہمی کیسی غلط نہیں ہے حسیں چیز کو حسیں کہنا تضاد گوئی حقائق ابھارتی تو ہے پرانی بات ہے تلخی کو انگبیں کہنا