اسلم انصاری

اسلم انصاری

اپنی صدا کی گونج ہی تجھ کو ڈرانہ دے

    اپنی صدا کی گونج ہی تجھ کو ڈرا نہ دے اے دل، طلسمِ گنبدِ شب میں صدا نہ دے دیوارِ خستگی ہوں، مجھے ہاتھ مت لگا میں گر پڑوں گا، دیکھ مجھے آسرا نہ دے ہم سب اسیرِ دشتِ ہویدا ہیں دوستو ہم میں کوئی کسی کو کسی کا پتا نہ دے گل کر نہ دے چراغِ وفا ہجر کی ہوا طولِ شبِ الم مجھے پتھر بنا نہ دے تو سنگ دل سہی، مگر اتنا ستم نہ کر ثابت ہے میرا جرم، پر ایسی سزا نہ دے اک زندگی گزیدہ سے یہ دشمنی نہ کر اے دوست، مجھ کو عمرِ ابد کی دعا نہ دے پیچھے ہٹوں تو پاؤں پکڑتی ہے یہ زمیں آگے بڑھوں تو وہم کوئی راستہ نہ دے ڈرتا ہوں آئینہ ہوں، کہیں ٹوٹ ہی نہ جاؤں اک لَو سی ہوں چراغ کی، کوئی بجھا نہ دے