ہر شخص اس ہجوم میں تنہا دکھائی دے
ہر شخص اس ہجوم میں تنہا دکھائی دے دنیا بھی اک عجیب تماشا دکھائی دے اک عمر قطعِ وادیئ شب میں گزر گئی اب تو کہیں سحر کا اجالا دکھائی دے اے موجہئ سرابِ تمنا، ستم نہ کر صحرا ہی سامنے ہے تو صحرا دکھائی دے الفاظ ختم ہوں تو ملے رشتہئ خیال یہ گردبیٹھ جائے تو رستہ دکھائی دے کون اپنا عکس دیکھ کے حیراں پلٹ گیا چہرہ یہ موج موج میں کس کا دکھائی دے تو منکرِ وفا ہے، تجھے کیا دکھاؤں دل غم شعلہئ نہاں ہے، بھلا کیا دکھائی دے کس مرحلے پہ ٹھیر گیا نقشِ زندگی یہ کیا کہ بن سکے نہ بگڑتا دکھائی دے لب بستگی سے اور کھلے غنچۂ صدا وہ چپ رہے تو اور بھی گویا دکھائی دے جانے قریب آکے کرے کیسی گفتگو اک اجنبی، جو دور سے اپنا دکھائی دے پایانِ شب قریب ہے، بدلا ہوا کا رخ شاید ابھی سحر کا ستارا دکھائی دے