زینہ زینہ وقت کی تہ میں اتر جائیں گے ہم
زینہ زینہ وقت کی تہ میں اتر جائیں گے ہم ایک دن یہ قلزم خوں پار کر جائیں گے ہم کوئے بربادی سے آگے دھیان کے سو موڑ ہیں ہم بھی کہتے تھے کہ لوٹیں گے تو گھر جائیں گے ہم یوں ہی ہر آہٹ پہ گر دیوارِ دل گرتی رہی دیکھنا یارو، یہی ہوگا کہ مر جائیں گے ہم شاخ سے وابستگی کب تک کہ در پے ہے صبا ایک پل لرزیں گے، ٹوٹیں گے، بکھر جائیں گے ہم صاحبو، کیا خاک اڑتی ہے سرِ کوئے حیات عمر کا دامن تو پھر مٹی سے بھر جائیں گے ہم کیا کہیں بس خواب کی سی سیر ہے یہ سیرِ گل ہاں، ادھر سے آرہے تھے، ہاں جدھر جائیں گے ہم اس میں کچھ وہم و خیال و خواب کے ٹکڑے بھی تھے خیر، اب یہ داستاں بھی ختم کر جائیں گے ہم کہتے ہیں سر سبز سی ہے وادیئ قافِ غزل اس زمیں پر بھی کسی دن پاؤں دھر جائیں گے ہم اس کو شاید ہو سکے اندازۂ رنجِ سفر چہرے چہرے پر لیے گردِ سفر جائیں گے ہم وہ مکاں وہ مرمریں زینوں پہ شاخوں کا جھکاؤ ہو سکا تو اس طرف بارِ دگر جائیں گے ہم