پھول سے کانٹوں بھری رت میں کھلا سکتے تھے ہم
پھول سے کانٹوں بھری رت میں کھلا سکتے تھے ہم وہم اب بھی ہے، تجھے اپنا بنا سکتے تھے ہم بے دلی مانع رہی، ورنہ بہ فیضِ آگہی حرف کو آئینہ معنی دکھا سکتے تھے ہم تیرتے تھے جن دنوں تیری آنکھوں میں خواب ایک جادو سا ترے دل میں جگا سکتے تھے ہم اب پذیرائی کہاں، اب تو جدائی ہو چکی کیا زمانہ تھا کہ اس محفل میں جاسکتے تھے ہم سوچتے تو ابتدائے شوق میں ممکن بھی تھا چاہتے تو آگ سے دامن بچا سکتے تھے ہم ان نگاہوں سے تو کیا کھلتا محبت کا فریب اب یہ جانا ہے کہ یہ دھوکا بھی کھا سکتے تھے ہم وہ سخن نکتہ بہ نکتہ، وہ رموزِ گفتگو تو جو سنتا تھا تو کیا باتیں بنا سکتے تھے ہم بے زباں اظہار و بے ابلاغ ترسیلِ خیال دیکھتے تھے اور دل کی بات پا سکتے تھے ہم تو نے کیوں زحمت اٹھائی، بات کچھ ایسی نہ تھی جان کا کیا ہے، اسے تو خود گنوا سکتے تھے ہم اور کچھ کرتے نہ کرتے دہر میں ہم اہلِ درد تفرقے رنگ و نسب کے تو مٹا سکتے تھے ہم