انسان اور کربلا
انسان کو عظیم بناتی ہے کربلا تہذیب ردِّ ظلم سکھاتی ہے کربلا فطرت کو روشنی سے سجاتی ہے کربلا ذہنوں میں آفتاب اُگاتی ہے کربلا منسوب ہو جو فکر، حسینیؑ بیان سے برسیں مہ و نجوم بشر کی زبان سے بے شک وہ حرف و لفظ ہیں مثلِ مہ و نجوم جو ذکرِ کربلا میں ہوئے دفتر ِعلوم وہ لاریب اُس ادب نے مچائی ادب میں دھوم جو فکرِ کربلا سے مزّین ہے بالعموم مقتل کی سرخیوں سے قلم زرنگار ہے جس میں ہے کربلا وہ سخن پائیدار ہے کیسے نہ پائیدار ہو تحریر کا مزاج ملتا ہو آفتاب سے جب روشنی کا تاج دیتا ہے اُس بیاں کو جہانِ بیاںِ خراج ڈالے جو رنگ ِنظم سے ایثار کا رواج تسخیرِ شام ذہنِ سحر آشنا سے ہے یعنی بقائے اہلِ سُخن کربلا سے ہے دیکھے ہیں ہم نے سارے جہاں کے سخن طراز انسانیت ہے سب کے بدن کی قبائے ناز اس وحدتِ خیال میں لیکن یہ امتیاز ہر شہر جانماز ہے اور کربلا نماز ظالم سے نفرتوں کے تقاضے کہاں نہیں مظلومیت کی فتح پہ سجدے کہاں نہیں تحریکِ پاسداریِ مظلوم، زنده باد آزادیِ ضمیر کا مفہوم، زندہ باد اہلِ قلم میں قصۂ معصوم، زندہ باد جو محوِ کر بلا ہے وہ مغموم، زندہ باد غم سے تخّیلات کی تعمیر ہو گئی انسان کے مزاج کی تطہیر ہو گئی پیمانۂ مزاج بنا ،وسعتیں ملیں دل وضع ہو گئے تو نئی دھڑکنیں ملیں مرکز ملا، شعور کی ساری رگیں ملیں سمٹے تمام فاصلے سب سرحدیں ملیں ہر بزم ایک زلفِ خرد کی اسیر ہے ہر ملک کربلا کی زمیں کا سفیر ہے ہر ملک غیرتِ بنی آدم ؑکی انجمن ہر انجمن کی شان تمدن کا بانکپن اک روشنی کی بات، چراغاں دہن دہن گویا کتاب شوق کی جاں صرف اِک سخن دنیا کا اعتبار ہے اک اعتبار میں سب کی صدا ملے گی حسینیؑ پکار میں وہ مشرقی پکار ہو یا مغربی صدا مظلومیت کے ساز پہ دونوں ہیں ہم نوا محور بنا ہے ایک جنوب و شمال کا تفریقِ رنگ و نسل پہ غالب ہے کربلا تسکینِ روح ،سایہ ٔآہ و بکا میں ہے ہر صاحب شعور کا دل کربلا میں ہے شاعر کسی خیال کا ہو یا کوئی ادیب واعظ کسی دیار کا ہو یا کوئی خطیب تاریخ تولتا ہے جہاں کوئی خوش نصیب اس طرح بات کرتا ہے احساس کا نقیب دیکھو تو سلسلہ ادب ِمشرقین کا دُنیا کی ہر زباں پہ ہے قبضہ حسینؑ کا دنیا ورق ہے طغرہ ٔآیت ہے کربلا کیا ہیں روایتیں یہ درایت ہے کربلا جس کی غرض ہے عدل وہ غایت ہے کر بلا کعبہ تو ابتدا ہے نہایت ہے کربلا دنیائے مہر و ماہ اسی راستے میں ہے ہر نور کربلا کے شریعت کدے میں ہے عہدِستمگری میں شکیبائیوں کا نور دار و رسن میں فکر کی سچائیوں کا نور نادانیوں کے دور میں دانائیوں کا نور شام ِعمل میں صبح کی رعنائیوں کا نور انسان پروری میں جسے انہماک ہے وہ روشنی، حسینؑ کے مقتل کی خاک ہے مقتل کی خاک یا کسی روضے کی جالیاں سب نسبتِ عظیم کی روشن خیالیاں حقانیت کے پھول عقیدت کی ڈالیاں سب اہلِ معرفت کی صداقت جمالیاں کلمے کی بات بن گئی پیاسے کی بات سے زندہ رہے رسولؐ نواسے کی ذات سے اسلام اور قصیدہ ٔاسلام کی قسم سبط ِنبیؐ کے دم سے ہے فکر و نظر میں دم خیر البشرؐ کا نام اگر دل پہ ہو رقم اک بوریہ نشیں بھی اُلٹتا ہے تختِ جم باطل مٹے گا جرأت تردید چاہیے پھیلے گا حق، حسینؑ کی تقلید چاہیے کہنا پڑے گا، حق ہے دبستانِ کربلا وحدت کی معرفت ہے بہ عرفانِ کربلا کہنا پڑے گا دین ہے میزانِ کربلا زندہ ہے ہر کتاب بہ عنوان ِکر بلا اہلِ نظر سمجھتے ہیں اس نفسیات کو روشن کیا حسینؑ نے انساں کی ذات کو تاریخِ کا رنامۂ انساں نہ بھولیے دل ہے تو خونِ دل کا چراغاں نہ بھولیے بالیدگیِ روح کا ساماں نہ بھولیے بے مثل داستاں ہو تو عنواں نہ بھولیے اس شیوہ ٔادب سے ادب زندہ باد ہے انسان ہے وہی جسے انسان یاد ہے انساں شناس آنکھ ہے بینائیوں کا شہر آباد ہے یہ شہر تو خنداں ہے باغِ دہر کہتی ہے باغِ دہر میں فکر و نظر کی لہر کردار کی اجل ہے فراموشیوں کا زہر گلشن میں جو اسیرِ گُلِ تر نہیں ہوا وہ غربتِ شعور سے باہر نہیں ہوا کیوں غربتِ شعور میں قیدی رہے بشر کیوں نقدِ شوق کے لیے مفلس بنے نظر کیوں نقش ہو نہ بات، طبیعت کی لوح پر لاتا ہے رنگ پھول کی مہکار کا اثر سیرِ چمن ہو، ذکر نہ آئے گلاب کا یہ غفلتِ نظر ہے اندھیرا عذاب کا اس غفلت ِنظر سے اگر اجتناب ہو گلزارِ زندگی پہ مکمل شباب ہو ماضی کی ایک ایک روش کا حساب ہو ہر آنکھ میں گلاب بقدرِ گلاب ہو رسوائی نظر پہ مسلّط خزاں رہے ذہنوں پہ کربلا کی ہوا گلفشاں رہے سامانِ گلفشانیِ پیہم یہی تو ہے تدبیر ِخوش نگاہیِ عالم یہی تو ہے فطرت کی ہر ادا پہ مقدم یہی تو ہے جبلِ سخن کے زخم کا مرہم یہی تو ہے احساس کو نگاہ کی معراج دیجئے دل ہے تو کربلا کی زمیں چوم لیجئے جلوے سحر سحر ہیں تو محور ہے کر بلا شعبے نظر نظر ہیں تو منظر ہے کر بلا آفاق جس کا صحن ہیں وہ گھر ہے کر بلا انساں کے معجزوں کا سمندر ہے کربلا ٹپکا وہ خون تشنہ لبی کے گلاب سے صحرا میں پھول کھلنے لگے، قحطِ آب سے کہنے کو قحط آب ہے بر بادیِ چمن گرمی سے راکھ ہوتے ہیں پھولوں کے پیرہن لیکن بتا گئے ہیں شہیدانِ بے کفن دریا ہیں، تین روز سے سوکھے ہوئے دہن تیروں کی سیج پر گُلِ زہرا ؑبکھر گئے انسانیت کے باغ کو سیراب کر گئے انسانیت کے باغ میں اب جس قدر ہیں پھول اُن کا نصیب ناز ہے باغیچۂ بتولؑ یہ بات مانتے ہیں زمانے کے بااصول جس دل میں کر بلا ہے اُسی دل میں ہیں رسولؐ شانِ خطیب، حسن بیانی کے ساتھ ہے قرآں تمام اپنے معانی کے ساتھ ہے قرآں کی لازوال کہانی ہے کربلا سب آیتوں کی ایک نشانی ہے کربلا دریا خراج دے وہ روانی ہے کربلا سارا زمانہ پیاس ہے پانی ہے کربلا پیاسوں کی یاد جس کے عمل کا نظام ہے آب ِحیات اُس کے تکلّم کا نام ہے آبِ حیات ڈھونڈ نے والے ادھر تو آئیں جامِ شعور سے مئے وحدت پئیں پلائیں ذوقِ نظر کو آئینۂ کربلا دکھائیں قربان جس پہ خضر ؑاسے رہنما بنا ئیں خونِ رسولؐ مہر ہے پختہ یقین پر انسان آسماں کی طرح ہے زمین پر کردار کے شرف سے مشرف ہے زندگی کردار ہی سے نبض ِدو عالم ہے آدمی کردار آفتاب ہے کردار روشنی کردار ہی کا نام ہے آبِ حیات بھی فطرت کا انقلاب دہندہ وہی تو ہے مرتا ہے جو حسینؑ پہ زندہ وہی تو ہے معلوم ہو جو مقصد ِقربانیِ حسین ؑ سینوں میں جلوہ ریز ہو تحریکِ قبلتین ہر سمت ہو خلوص کے سجدوں کی زیب وزین خیر العمل سے گونج اُٹھے صحنِ مشرقین صف بستہ یوں جماعت ِماہ و نجوم ہو کونین میں نمازِ مودّت کی دھوم ہو پڑھ لیجئے نماز مودّت کی داستاں میزانِ ہوش ہے شبِ عاشور کا بیاں وہ کربلا کا دشت وہ عہد آفریں جواں خیموں میں وہ زمیں کے مصلّوں پہ آسماں سب نور ِکردگار کے ساغر پیے ہوئے اُترا تھا چاند، اپنے ستارے لیے ہوئے زہراؑ کا چاند اپنے ستاروں میں جلوہ گر غالب رہے جو شام پہ تا حشر وہ سحر وہ معتمد عزیز وہ انصارِ معتبر گویا دل و نگاہ کی وحدت یقین پر عالم وہ ایک ایک گُلِ لاجواب کا مہکا ہوا تھا باغ، رسالت مآبؐ کا وہ اقربا ، نہالِ رسالتؐ کے برگ و بار معیارِ حق مظاہر ِآیاتِ کردگار تقویٰ سرشت، حمد بیاں، زہد افتخار قرآں مزاج ،شرح نظر، مصطفےٰؐشعار ہر طرح خاندانِ سیادت کی جان تھے کہنا پڑے گا سورہ ٔکوثر کی شان تھے ہر سانس میں تموّجِ کوثر کا انقلاب ہر آنکھ رحمتوں کی گلابی سے فیض یاب ہر قلب میں رسولؐ کی تہذیب کا نصاب ہر بات کے جواز میں اللہ کی کتاب معراج پر ادائے تکلم لیے ہوئے خوش ہوں حسینؑ، ایساتبسم لیے ہوئے خوشنودیِ حسینؑ سے فطرت میں روشنی ایثار کے صدف میں طبیعت ڈھلی ہوئی احساس یہ خلوص ِوفا میں نہ ہو کمی ایمان یہ کہ دین پہ قربان زندگی شامل تھی یوں رضائے خدا دل کے ساز میں جیسے درُود آلِ نبیؐ پر نماز میں انصار کے لبوں پہ وظیفہ درُود کا یکساں مآل ِمجلسِ غیب و شہود کا بے خوف اہتمام قیام و قعود کا پیشانیوں پہ نور، حسینیؑ سجود کا اس طرح کر رہے تھے اطاعت امامؑ کی تفسیر بن گئے تھے خدا کے کلام کی اللہ کا کلام اولی الامر کا نظام یعنی بچشمِ عدل قیادت کا اہتمام آقا بنے گا جب بھی کوئی وقت کا غلام اُٹھ جائے گی زمانے سے تمئیزِ صبح و شام جو منصبِ امام ؑزماں جانتے نہیں وہ لوگ اپنے آپ کو پہچانتے نہیں انسان اپنے آپ کو پہچان لے اگر عرفانِ کردگار سے غافل نہ ہو نظر منظر میں ہوں حسینؑ کے انصارِ خوش سیر ایمان ہو وجود ِ نبیؐ و امامؑ پر اسلام کی تمام سعادت نصیب ہو کوئی زہیر قین ؓہو کوئی حبیبؓ ہو ظرف ِزُہیرِ قینؓ ہو یا جذبۂ حبیبؑ دونوں ہیں آج تک شب ِعاشور کے نقیب جس وقت ایک رات کی مہلت ہوئی نصیب سب کو نبیؐ کے لال نے بلوالیا قریب یوں تھے حسینؑ اہلِ بصیرت کے سامنے جیسے رسولؐ اپنی شریعت کے سامنے صف بستہ ہو گئے جو شریعت کے سب شجر تقدیر کی بیاض میں لکھے گئے ثمر مستقبلِ جہاں نے تصدّق کیےگہر سبط ِنبیؐ نے اپنے گلستاں پہ کی نظر دنیائے رنگ و بو کے سب اسرار کُھل گئے چھوٹے بڑے گلاب نگاہوں میں تُل گئے اپنے سدا بہار گلابوں کو تول کر دُنیا سے کہہ رہی تھی یہ مظلوم کی نظر چھینا گیا ہے پھولوں سے پانی تو کیا ہے ڈر برسات ہو گی اب انہیں پیاسوں کے نام پر وہ ابرِ غم دلوں کا سمندر اُٹھائے گا ایک ایک اشک لاکھ گلستاں اُگائے گا ہر خطۂ زمیں پہ گلستانِ زندگی غنچوں کو جب سُنائے گا فرمانِ زندگی یاد آئیں گے حسینؑ کے مہمانِ زندگی لکھیں گے حق پسند نویسانِ زندگی دریا کو ضرب ِتشنہ لبی سے ہرا دیا پیاسوں نے سنگ و خشت کو پانی بنا دیا مانندِ سنگ و خشت ہیں دشمن تو کیا ہوا یہ حیدری ؑہیں صبر و تحمل کی انتہا کیا ہے جو بے شمار ہے لشکر یزید کا یہ چند سرفروش ہیں دیوارِ مصطفےٰؐ صوم و صلوٰۃ روح کی قوت کے نام ہیں یہ لوگ اپنے اپنے عمل میں امام ہیں یہ ہیں جنہیں امام ؑبڑے پیار سے بلائے یہ ہیں کہ جن کی بات خدا آشنا بنائے یہ ہیں وہ صورتیں جنہیں قرآں گلے لگائے یہ لوگ مسکرائیں تو اسلام مسکرائے مقبول بارگاہِ رسالت مآبؑ ہیں یہ لوگ روشنیِ دل ِبوترابؑ ہیں فرزندِ بوترابؑ نے خطبہ عجب دیا حمدِ خدا کے بعد کچھ اس طرح سے کہا اے میرے اقربا، مرے اصحابِ باوفا تم ہو مرے تمام ارادوں کا ارتقا پہچانتے ہو فاطمہؑ کے نور ِعین کو اے اہلِ درد، ناز ہے تم پر حسینؑ کو تم جانتے ہوسبطِ پیمبرؐ کے دل کا درد اس درد کے خلاف ہیں اعدا پئے نبرد دنیا میں آج نبضِ عدالت ہوئی ہے سرد یہ زندگی ہے راہِ وفا میں قدم کی گرد قرآن و اہلبیت ؑمیں ربطِ دوام ہے اہلِ خدا پر بیعتِ فاسق حرام ہے فاسق یزید نحس ہے یہ جانتے ہیں سب میں وارثِ رسولِؐ خدا ہوں بفضلِ رب کیا صاحبِ ادب کو جھکائے گا بے ادب ذہنوں پہ جو پڑے ہیں وہ پردے اٹھیں گے اب نوکِ سناں ہے ،شام ہے اور آفتاب ہے اس رات کی سحر میں نیا انقلاب ہے سب سے جدا ہے میرے رفیقو، یہ انقلاب کل عصر تک ہے فتنہ ٔبیعت کا سدِّ باب سب رکھ چکے ہیں خنجر و تیغ و سناں پہ آب کل چہرہ ٔحسین ؑہے اور خون کا خضاب لاشے رہیں گے خاک پہ اہلِ اصول کے تیروں کی نذر ہوں گے صحیفے بتول ؑکے اب گلشنِ بتولؑ ہے اور آخری یہ رات کل رات ہو گی خاک پر زہراؑ کی کائنات اے غازیو، یقین سے کہتا ہوں میں یہ بات کل بر چھیوں کی ضرب ہے اور شیشۂ حیات اب جتنی صورتیں ہیں نہ ہوں گی سحر کے بعد نیزے ہمیں اُٹھائیں گے کل دوپہر کے بعد کل دوپہر عجیب قیامت ہے دوستو روئیں گے دو جہاں، وہ مصیبت ہے دوستو بر چھی کی نوک ،دل کی حکایت ہے دوستو چادر میں لاش پھولوں کی صورت ہے دوستو نقشِ وفا بنے گا جو پانی کی لہر پر میں اپنے ہاتھ ڈھونڈ نے جاؤں گا نہر پر نہر ِفرات کل ہمیں ڈھونڈے گی دوستو ہر موج ِغم کی آگ پہ تڑپے گی دوستو صحرا کی دھوپ واقعہ لکھے گی دوستو خیموں کی راکھ دشت میں بکھرے گی دوستو میں کیا کہوں غریب کہاں سر چھپائیں گے ناموس بال کھول کے پردہ بنائیں گے اے ناصرو، یہ رات ہے پردہ زمین پر چھپتی ہے اس کے سائے میں تصویر ِبحروبر تم سب مری طرف سے ہو آزاد سر بسر چاہو تو اختیار کرو امن کا سفر کیوں اپنے جسم، خون میں نہلاؤ دوستو گُل کر رہا ہوں شمع چلے جاؤ دوستو بیعت کا بوجھ میں نے اُتارا خوشی سے جاؤ چھوڑو مجھے، عزیزوں کو اپنے گلے لگاؤ آب و غذا کا لطف اُٹھا کر سکون پاؤ اک میرا خوں بہے گا تم اپنی تو جاں بچاؤ جتنے بھی فوجِ شام میں خونخوار آئے ہیں یہ صرف میرے سر کے طلب گار آئے ہیں سرمیرا کاٹ لیں گے چلے جائیں گے یہ لوگ تیر و سناں کسی پہ نہ برسائیں گے یہ لوگ خیمے کی جب نہ ہوں گے تو کیا پائیں گے یہ لوگ گھوڑے بس ایک لاش پہ دوڑا ئیں گے یہ لوگ انجام صرف پالنے والے کے ہاتھ ہے تنہا نہیں ہوں، میرا خدا میرے ساتھ ہے اس خطبۂ حسینؑ پہ تڑپے خدا شناس انگڑائی لے کے جوش میں جھومے وفاشناس تیغوں کو تولنے لگے وہ کربلا شناس کیا ابتدا شناس تھے کیا انتہا شناس خرد و کلاں امام ؑکا احساس بن گئے سب عالمِ جلال میں عباسؑ بن گئے بولے کمالِ ضبط میں عباسِؑ ذی حشم آقا قریب ہے کہ نکل جائیں سب کے دم اب آپ ہی بتائیے اے منبعِ کرم کیا فرقتِ حضورؑ میں زندہ رہیں گے ہم موجیں تو صرف اپنے سمندر کے ساتھ ہیں ہم کلمہ گو ہیں، سبط ِپیمبر ؐکے ساتھ ہیں سرکارؑ آپ جانِ پیمبر ؐہیں ہم غلام مقصودِزندگی ہے اطاعت ہمارا کام ہر دوست ہر عزیز ہے وابستۂ امام سرکار ہی کے نام سے زندہ ہے سب کا نام تیغوں سے فوجِ شام پہ نازل عذاب ہو سرکارؑ حکم دیں تو ابھی انقلاب ہو تائیدِ انقلاب میں گویا ہوئے حبیبؐ اے کاش اذنِ جنگ اسی وقت ہو نصیب بولے زہیرؓ میں ہوں نبرد آزما خطیب آئے تو کوئی رستمِ شامی مرے قریب ماضی کی زندگی کو پسِ پشت ڈال کے لایا ہوں بحر ِعشق سے موتی نکال کے آئینہ دارِ عشق بنِ عوسجہؑ کی بات الفاظ میں ڈھلی ہوئی جذبوں کی کائنات کچھ اس ادا سے گونج اُٹھا لہجۂ ثبات آنکھیں ملا کے دیکھ لے اب گردشِ حیات ہرگز نظر نہ جائے گی دنیا کے چین پر سو بار زندگی ہو، مروں گا حسینؑ پر یہ زندگیِ فکر و نظر زندگی ہوئی اس نور سے ہے بزمِ قیادت سجی ہوئی یہ آگہی چراغ بنی روشنی ہوئی اس آرزو سے موت میں بھی دلکشی ہوئی سچ ہے جو آج تک یہ صدائے شعور ہے انسان، کربلا میں خُدا کا غرور ہے واللہ اس بیان پہ شاہد ہے کربلا وحدت کا شاہ کار تھا وہ مجمع وفا اس طرح مطمئن ہوئے فرزندِ مصطفےٰؐ طے ہو گیا ہو جیسے شہادت کا مرحلہ پیشانیوں کو چوم لیا قبلتین نے خوش ہو گئے رسولؐ، دعا دی حسینؑ نے پائی دعا، چلے گئے خیموں میں جانثار چہرے تھے اب سکونِ مودّت کے آبشار باہم معانقے تو بغل گیر بار بار سجدے کہیں تھے اور کہیں تسبیحِ کردگار کامل مزاج دانِ فروغ و اصول تھے باغیچۂ نبیؐ میں عبادت کے پھول تھے باغیچۂ نبیؐ میں بالآخر سحر ہوئی یعنی وہ شب مزاج گری میں بسر ہوئی نورِ سحر سے زینت ِقلب و نظر ہوئی اکبرؑ اذان دیں گے یہ سب کو خبر ہوئی آمادہ ٔنماز جو خرد و کلاں ہوئے ہم شکلِ مصطفےٰؐ کی طرح دل جواں ہوئے دینے لگے اذان جو ہم شکلِ مصطفےٰؐ یاد آ گیا حسینؑ کو لہجہ رسول ؐکا شاید زبانِ حال سے کہتی ہو کر بلا کب اتنے تشنہ کام تھے سردارِ انبیا ؑ بے شک یہ آبروئے رسالت مآب ؐہیں اکبرؑ کے خشک ہونٹ اذاں کا شباب ہیں تعمیلِ حکم رب کی سند یہ اذان ہے ایمان اور خلوص کی حد، یہ اذان ہے مقتل کی زد پہ ذکرِ صمد یہ اذان ہے اسلام کی نماز کا قد، یہ اذان ہے اب حشر تک سحر کی فضا خوں رُلائے گی ہم شکل ِمصطفےٰؐ کی اذاں یاد آئے گی یہ وہ اذان تھی جو سر ِدشت و در گئی نورِ عمل سے سینۂ تخلیق بھر گئی ہر عہد ہر زمانے کے دل میں اتر گئی سورج رُکا یہ حدِّ سفر سے گذر گئی اطلاق جس جگہ پہ نہیں صبح و شام کا ڈنکا بجا وہاں بھی محمدؐ کے نام کا اب تک یہی اذان ہے اُمت کی پاسباں اب تک اسی اذان سے اکبرؑ ہیں نو جواں عالم جو تیرتے ہیں خلاؤں کے درمیاں سب ہیں اسی اذاں کی حقیقت کے ترجما ں جلوے سمٹ کے اپنے مدینے میں آگئے سیارے کربلا کے سفینے میں آ گئے انساں کریں گے وقت پہ سیارگاں کی سیر ممکن ہے اس جہاں سے ہزاروں جہاں کی سیر بالکل نئی زمین، نئے آسمان کی سیر کہہ دے گی خود تمام زمان و مکاں کی سیر سرسبز ہر چمن اسی ابرِ کرم سے ہے الله اکبر، اب علی اکبرؑ کے دم سے ہے اکبر اذان دے چکے قائم ہوئی نماز سبطِ نبیؐ امام تو ماموم اہل ِ ناز الحمد کے ستون تھے وہ عبدِ بے نیاز ایک لازوال حُسنِ قیادت سے سرفراز سجدوں سے اہلِ حق نے وہ درسِ عمل دیا حُرؓ کی طرح مقدّرِ ہستی بدل دیا لیکن عجب تھا عصر کو بدلا ہوا نظام ماموم سب گذر گئے تنہا ہوئے امام ؑ باقی کوئی حبیبؓ نہ عباس ؑنیک نام اب فاطمہؑ کا لال تھا اور بر چھیوں کی شام تلواریں پڑ رہی تھیں غریب الدیار پر خنجر برس رہے تھے محمدؐ کے پیار پر گلزار لُٹ چکا تھا محمدؐ کے پیار کا بکھرے ہوئے گلاب تھے اور دشت ِکربلا کڑیل جواں سحر کا موذّن بھی اب نہ تھا خود بیکسی پکار رہی تھی یہ کیا ہوا کیوں نصرت ِامام ؑکو آتا نہیں کوئی نرغے میں ہے حسینؑ، بچاتا نہیں کوئی وہ اک حسینؑ اور وہ ہزاروں ستم شعار نیزے کہیں چلے تو کہیں پتھروں کے وار اک تن پہ اتنے زخم کہ جن کا نہیں شمار ہر زخم سے وہ خونِ مقدّس کا آبشار وہ حالتِ غریب عجب درد ناک تھی چہرے پہ تازہ خون تھا، ہاتھوں پہ خاک تھی چہرے پہ تازہ خون کی سرخی نے کہہ دیا گودی میں تیر کھا چکا بے شیر ،مہ لقا ہاتھوں کی خاک ننھی سی تربت کا ماجرا جیسے ابھی چھپا ہو کلیجہ ربابؑ کا جھولا تھا اب وہ صورت نور نظر نہ تھی اصغر ؑپر کیا گذر گئی ماں کو خبر نہ تھی اصغر ؑکی یاد میں تو تڑپتی رہی ربابؑ مقتل میں ذبح ہو گیا فرزندِ بوترابؑ فضّہ دہائی دے کے پکاری بہ اضطراب زینبؑ کہاں ہو، دیکھ لو نیزے پہ آفتاب بستی اجڑ گئی ہے مقدّر اُلٹ گیا چوما تھا جس گلے کو وہ خنجر سے کٹ گیا اس خنجرِ الم سے قیامت ہوئی بپا زینبؑ گریں زمیں پہ ہلی ارض ِکربلا کلثومؑ کو غش آیا، سکینہؑ کا دم رُکا ذہن ِرباب ؑمیں علی اصغر ؑنہیں رہا حالات ذوالجناح نے آ کر سنائے تھے اب ہر نظر میں شامِ غریباں کے سائے تھے کس طرح آئی شامِ غریباں نہ پوچھیے تاراجی خیام کا طوفان نہ پوچھیے سیدانیوں کا حال پریشان نہ پوچھیے مجبور آنسوؤں کا چراغاں نہ پوچھیے خاموشیوں کے لب پہ غضب کی دہائی تھی زنجیر کے تڑپنے کی آواز آئی تھی زنجیر میں حسینؑ کا سجادؑ ِناتواں جس کا وجود قوّتِ صبرِ پیمبراںؐ جس نے اُٹھایا سب سے بڑا بارِ امتحاں مظلومیت کی فتح بنیں، جس کی بیڑیاں خیموں کی گرم راکھ پہ سجدے بچھا دیے شعلوں میں جس نے حمد کے گلشن اُگا دیے ایسا نظام ِحمد تو دیکھا نہیں کہیں اس انفرادیت کا مصلیٰ نہیں کہیں یوں کوئی غم کی آگ سے گذرا نہیں کہیں یہ ضبط اور یہ حوصلہ ملتا نہیں کہیں دُرّوں کا زخم شُکر کے مرہم سے بھر دیا ہتھکڑیوں کو جہاد کی میزان کر دیا شاید کہا ہو ہاتھوں کی ہتھکڑیاں چوم کر بابا نیا جہاد ہے اور آپ کا پسر گردن میں طوق ڈال گئی فوج ِبدسیر سب اہلبیت ؑسر کُھلے بیٹھے ہیں خاک پر ممکن نہیں کہ یوں بھی کوئی دل حزیں رہے اب تو پھوپھی کی آنکھوں میں آنسو نہیں رہے بابا، پھوپھی کا چہرہ ٔاقدس تو دیکھئے کیا متصل ہیں شیر خدا کے جلال سے گردِ قدم بنے ہیں مصائب کے مرحلے کیا ہمتیں ہیں شامِ غریباں کو دیکھ کے دل مطمئن ہے آپ کے ایقان کی طرح میدان میں کھڑی ہیں چچا جان کی طرح دیکھیں یہ طرزِ جنگ بھی دیکھیں مرے چچا بر بادیوں کی تیغ سے کافی ہے ہر جفا میں قید میں ہوں ثانیِ زہراؑ ہیں بے ردا کیا کر بلا کی روح نہیں ہے یہ معرکہ بنتِ علیؑ کا صبر نگہبان ہو گیا اب شام کا محاذ بھی آسان ہو گیا قیصر محاذِ شام کی تفصیل کیا لکھوں ہر لمحہ انتہائے غمِ کربلا لکھوں زینبؑ کا نام عزت ِدینِ خدا لکھوں سجادؑ کو حسینؑ کا مشکل کُشا لکھوں خطبے نہ دیتے گر یہ نگہبانِ کربلا چھپ جاتے کربلا میں شہیدانِ کربلا