معراجِ وفا
کس باوفا کے نام سے نامِ وفا ہے آج انسانیت میں کس کے عمل کی ضیا ہے آج کس کا وقار عظمتِ دین ِخدا ہے آج بزمِ جہاں میں کون ابد ماجرا ہے آج پانی دیا ہے کس نے ریاضِ رسولؐ میں کس کے نفس کی بُو ہے محبت کے پھول میں دنیا میں ارتقائے بشر کا سبب ہے کون مہر شعور نیّرِ بُرج ادب ہے کون قرباں شجاعتیں، وہ شجاعِ عرب ہے کون جس کو چُنا حسینؑ نے وہ منتخب ہے کون حیرت ہے اس کے عزّم پہ قلبِ ثبات کو کس تشنہ لب نے فوجو ں سے چھینا فرات کو ہمدردیوں میں نُور ہے کس کے شعور کا غمخوار یوں میں حُسن ہے کس کے ظہور کا اندازِ عشق ولولہ ہے کس حضور کا فطرت ہے عکس کس کی ادائے غیور کا کس کی ادا ہے نقش جبینِ حیات پر قبضہ ہے آج کس کا دلِ کائنات پر یکتا ہے کون مہر و محبت کے رنگ میں سُرخی ہے اس کے خوں کی شرفت کے رنگ میں کس دل کی آبرو ہے صداقت کے رنگ میں انسانیت ہے کس کی شہادت کے رنگ میں جس سے تجلّی نیرِ اعظم کی ماند ہے یہ کون آسمانِ اطاعت کا چاند ہے ہیبت کو تھر تھری ہے یہ کس کا جلال ہے معنیِ فتح کس کی شجاعت کا حال ہے قربان کس کی بات پہ لفظِ کمال ہے تیغوں میں کون مصحفِ ناطق کی ڈھال ہے کس کا لہو بیاضِ فلک کے ورق پہ ہے تحریر کس کا نام، لوائے شفق پہ ہے عظمت فروز احمدِ مختارؐ کون ہے توحید ِکبریا کا علمدار کون ہے نصرت کو ناز ہے وہ مددگار کون ہے حیدرؑ کی آبرو ہے وہ کرّار کون ہے کن تیوروں کی شان دل پنجتنؑ بنی محراب ِکعبہ کس کی جبیں کی شکن بنی اصل وقار مصدرِ اوج شرف ہے کون تاجِ شہ ِنجف ہے وہ دُرِّ نجف ہے کون توقیر ِعصر ِفجر ِجہان ِسلف ہے کون ہے لفظِ عشق جس کا گہر وہ صدف ہے کون دل جس کا پاسبان ہے وحدت کے باغ کا پروانہ ہے یہ کون حسینیؑ چراغ کا ہے راہِ حق میں کس کی خودی سرِّ بیخودی کس مرد کی وغا ہے کمال سپہ گری روح ِعلیؑ نے کس کی شجاعت پہ داد دی کس نے زرہ بغیر ہزاروں سے جنگ کی کس کے نشاں کی لاج میں ہے مصطفےٰؐ کی لاج رکھی ہے کس کے ہاتھوں نے دستِ خدا کی لاج کس کا خلوصِ قلب ہے تہذیب کا ئنات کس کا جمالِ فکر ہے آئینہ ٔ حیات خیر العمل کی جان ہے کس باعمل کی ذات کس کے شعورِ ہوش نے رکھ لی خرد کی بات محسن ہے کون عالمِ انساں کے واسطے قوت ہے کس کا نام مسلماں کے واسطے جنت ہے کس شہید ِمنّور کے خوں کی بُو بوئے حسنؑ ہے کس دل ِمضطر کے خوں کی بُو آتی ہے کس کے جسم سے حیدرؑ کے خوں کی بُو ملتی ہے کس کے خوں میں پیمبرؐ کے خوں کی بُو یہ انتہا کہ فاطمہؑ کا نورِ عین ہے کون اس طرح بہ نصِّ امامت حسینؑ ہے کس نے جہاں میں حقِ رفاقت ادا کیا کس نے عمل سے نصرتِ حق کا سبق دیا کس نے کمالِ ضبط سے ہر زخمِ دل سیا کس نے جہان ِنفس کا خود امتحاں لیا موجوں کو غم ہے کس دلِ پُر اضطراب سے دریا ہے کس کے سامنے پانی، حجاب سے کس دل کے حوصلوں کی بلندی ہے آسماں کس کی نظر سے پست ہے تنویر ِکہکشاں تاریخ کہہ رہی ہے کسے رُوح ِکا رواں دریا ہے کس کے جذب حمّیت کی داستاں راندے ہوئے ہیں کون سے نا کام آب کے اُلٹے پڑے ہیں شرم سے کُوزے حباب کے جاری لبِ فرات پہ ہے کس کی داستاں کس کی وفا ہے واقعۂ کربلا کی جاں لہرایا کس کے دوش پہ اسلام کا نشاں تسکینِ اہل بیتؑ ہیں کس کی تسلیاں تکبیرِ عشق کس کی محبت کا ساز ہے کس مرد پر حسین ؑسے انساں کو ناز ہے کس نفسِ معرفت کا فسانہ ہے زندگی آئینِ بندگی ہے ضیا کس کے قلب کی پھیلی ہے کسی سہیلِ اطاعت کی روشنی کس کا وجودِ ناز ہے آئینۂ علیؑ عباس ؑجس کا نام ہے کون ارجمند ہے دنیا میں آج کس کا علم سربلند ہے اہلِ وفا کی جان ہے کس کا دل و جگر پیاسوں کا اضطراب ہے کس شیر کی نظر بر سے ہیں کس کے بعد ستم اہل بیتؑ پر کس کی اجل نے توڑ دی شبیرؑ کی کمر زینب ؑکی آس ٹوٹ گئی کس جری کے بعد ذرّیتِ رسولؐ لٹی کس جری کے بعد آ ہم نشیں! سناؤں تجھے اُس جری کا حال مظلوم جس کے بعد ہوا فاطمہ ؑ کا لال جب مصطفےٰؐ کے باغ پہ آنے لگا زوال سولہ پہر کی پیاس سے بچے ہوئے نڈھا ل یوں اضطراب ننھے سے چہروں پہ چھا گیا بچوں نے پانی پانی کہا اور غش آ گیا تھی اُن میں چار سال کی اک دُختر ِحسینؑ عباسؑ جانتے تھے جسے اپنے دل کا چین پیاری تھی سارے گھر کی وہ حضرت کی نور عین آیا اُسے جو ہوش تو بولی بہ شور و شین کیجئے سبیل تشنہ دھانی کے واسطے عمو سکینہ ؑمرتی ہے پانی کے واسطے عباسؑ نے سُنی جو بھتیجی کی یہ صدا اُٹھا جگر میں درد، کلیجہ تڑپ گیا فرمایا خون روتا ہے اس بات پر چچا قربان تیری پیاس کے اے میر ی مہ لقا یہ کمسنی یہ رنج ترے دم کے واسطے عباس ؑزندہ رہ گیا اس غم کے واسطے اچھا ابھی فرات پہ جاتا ہوں غم نہ کھا پانی ابھی ترے لیے لاتا ہوں غم نہ کھا یہ فوج کیا ہے دم میں بھگاتا ہوں غم نہ کھا اے لال، جا کے میں ابھی آتا ہوں غم نہ کھا روکے گا مجھ کو راہ میں کس کی مجال ہے بیٹا ترا چچا، اسدِ حق کا لال ہے معصوم نے سُنا یہ تمنا بھرا کلام پھیلا کے ہاتھ دوڑ کے لپٹی وہ لالہ فام بولی نثار اپنے چچا کے یہ تشنہ کام اصغرؑ کو بھی پلاؤں گی پانی کا ایک جام مل جائے گی حیات مرے بے زبان کو اللہ سر پہ رکھے مرے عمّو جان کو باتیں چچا بھتیجی کی اُلفت بھری تمام سنتے تھے سر جھکائے ہوئے شاہِؑ تشنہ کام آغاز کی نگاہ میں تھے اس طرف کلام انجام کہہ رہا تھا عبث ہے یہ انتظام کچھ آسرا نہیں دلِ بے آس کے لیے آخر سکینہؑ روئے گی عباسؑ کے لیے اس ماجرائے درد کا اتنا ہوا اثر عباس ؑنے رکھا قدمِ شاہِ دیںؑ پہ سر کی عرض، اِذن دیجئے پھٹنے لگا جگر آنکھوں سے خون ٹپکتا ہے بچوں کی پیاس پر لازم ہے سرزنش سپہِ بد نہاد کی آقا ؑملے مجھے بھی اجازت جہاد کی حد سے بڑھی ہے ظلم و جفائے سپاہِ شام انصار و اقربا نے کیا خلد میں قیام ڈوبے لہو میں عون ؑو محمدؑ سے لالہ فام اکبرؑ سے مہ لقا کی جوانی ہوئی تمام پیشِ نگاہ لاشہ ٔقاسم کا حال ہے مولاؑ بس اب غلام کا آخر سوال ہے بے چین کر رہی ہے شہادت کی آرزو حسرت یہ ہے غلام بھی ہو جائے سر خرو سبقت جو لے گئے ہیں بڑھی اُن کی آبرو کچھ آبرو مری بھی رکھیں شاہِ نیک خُو اُف اتنی دیر نصرتِ آلِ رسولؐ میں شرمندہ ہے غلام، نگاہِ بتول ؑمیں سرکارؑ نے کیا تھا مدینے سے جب سفر اماں نے خود یہ مجھ سے کہا تھا بچشمِ تر عباسؑ تو ہے فاطمہؑ کے لال کی سپر ہاں خدمت ِحسینؑ رہے مقصد ِنظر آئے جو کوئی وقت کنارا نہ کیجیو سر فاطمہؑ کے لال سے پیارا نہ کیجیو دیجے رضا کہ حقِّ غلامی ادا کروں تکمیلِ آرزوئے دلِ مرتضٰؑےکروں حسرت ہے فوج ِشام سے ایسی وغا کروں دہرائے زندگی وہ تلاطم بپا کروں پروانہ ہوں میں آلِ محمدؐ کے نُور کا مولاؑ مرا وجود ہے صدقہ حضورؐ کا عباسؑ میرا نام ہے کیا ہے سپاہِ شام آنے تو دیجے ہاتھ میں شبد یز کی لجام کثرت ہے بزدلوں کی سواروں کا اژ دہام کہہ دے گی آپ خون اُگلتی ہوئی حسام تیغِ دودم کا کھیت نرالا پڑا نہیں شاید علیؑ کے شیر سے پالا پڑا نہیں مل جائے اذنِ جنگ تو دیکھیں گے خود حضورؑ کس طرح ٹوٹتا ہے بن سعد کا غرور کے وہ رن پڑے، پکار انہیں صاحب ِشعور میداں بھرا ہے کفر کی لاشوں سے دُور دُور آب ِشفق زمیں سے نہ شرمائے تو سہی دریا کا رنگ سرخ نہ ہو جائے تو سہی سبطِ نبیؐ نے دیکھ کے عباسؑ کا جلال چھاتی سے سر لگا کے یہ دل میں کیا خیال دے دی جو اس جری کو اجازت پئے جدال تکمیلِ داستانِ وفا ہو، یہ ہے محال اُمّت سے انتقام مرا مُدعا نہیں یہ صبر کا جہاد ہے،تلوار کا نہیں پر انتہائے ضبط سے کی اتنی گفتگو اچھا کرو ملال نہ اے میرے ماہ رُو واللہ تم تو سب سے زیادہ ہو سُرخرو پیاسوں کے واسطے کرو پانی کی جستجو بے تیغ چبھن لو جو ترائی تو خوب ہے نیزے سے سر کرو یہ لڑائی تو خوب ہے آنکھوں سے پھر بہن کو بلا کر کیا خطاب جی بھر کے آج دیکھ لو تصویر ِبوترابؑ مقتل میں ڈوبنے کو چلا میرا آفتاب زینبؑ کہاں سے لاؤ گی عباسؑ کا شباب آتا ہے اب زوال علیؑ کی کمائی کو رُخصت گلے لگا کے کرو چھوٹے بھائی کو زینبؑ تم اپنے ہاتھ سے دو بھائی کو علَم لے لو بلائیں نصر ومن اللہ کر کے دم وہ وقت آ گیا ہے یداللہ کی قسم اصغر ؑسے بے زباں کو لگے ناوک ستم ٹوٹا دلِ حسینؑ برادر کے داغ سے یہ داغ بڑھ گیا علی اکبرؑ کے داغ سے کلثومؑ سے کہو کوئی مشکیزہ لے کے آئیں بھائی کے جسم پر وہ انوکھی زرہ سجائیں سقائے اہلِ بیت ؑعلمدار کو بنائیں مانگیں تمام شوکتِ اسلام کی دعائیں قربان ہو جہاد، نرالی اداؤں پر دریا جبیں رکھے مرے بھائی کے پاؤں پر تقدیر نے دکھا دیا آخر وہی سماں عباسِؑ نامور، سوئے میدان ہوئے رواں خیبر کشا کی شان سے نصرت تھی پاسباں مشکیزہ ایک دوش پہ اک دوش پرنشاں آئینہ تھے جو فاتح ِبدر و حنین کے جوشن تھے بازوؤں پہ دعائے حسینؑ کے حائل جو راستے میں ہوئی فوج ِنابکار حملہ کیا، علیؑ کے غضنفر نے ایک بار نیزے کی جنبشوں میں تھے اندازِ ذوالفقار دانستہ کھیلتے تھے اجل سے ستم شعار بھاگے وہ بد نہاد جو آئے تھے گھیرنے قبضہ کیا فرات پہ حیدرؑ کے شیر نے ڈالا فرس کو آبِ رواں میں بہ کروّ فر آئی ہوائے سرد تو پُھکنے لگا جگر اللہ رے ضبط، آپ نہ پانی پہ کی نظر آہستہ سے فرس سے کہا جھک کے زین پر تُو بھی تو فرط تشنہ لبی سے اُداس ہے اے بے زبان ، پی تجھے دو دن کی پیاس ہے لیکن فرس نے بھی وہ ثبوتِ وفا دیا جس کا نہ پاس شام کے انسان نے کیا لہریں جو پاس آ کے اُٹھیں منہ پھرا لیا راکب کا رازدار تھا پانی نہیں پیا مطلب یہ تھا لبوں کی طراوٹ سے کیا جیوں آلِ رسولؐ پیاسی رہے اور میں پیوں عباس ؑباوفا نے جو دیکھا فرس کا حال گردن تھپک کے بولے کہ سمجھا تر املال ہے آلِ مصطفے ٰؐسے تجھے عشقِ بے مثال انسانیت کا فخر بنے گا ترا خیال اُلفت کا حُسن بن کے زمانے پہ چھائے گا میری وفا کے ساتھ ترا نام آئے گا یہ کہہ کے ڈالا نہر میں مشکیزہ ایک بار بھرنے لگا جو آب، جگر ہو گیا فگار پھرنے لگا نگاہ میں بچوں کا اضطرار چھایا دماغ و دل پہ سکینہؑ کا انتظار غم کا وجود درد کی تاثیر بن گئی پانی پہ صاف پیاسوں کی تصویر بن گئی نظریں پھرا کے شیر نے مشکیزہ بھر لیا تھی پیاس تین دن کی مگر غم نہیں کیا پینے کی آرزو جو ہوئی خونِ دل پیا یاد آ گئی بھتیجی تو خود کو بُھلا دیا دل سے کہا خلافِ مروّت یہ کام ہے پانی تجھے بغیر ِسکینہؑ حرام ہے یہ کہہ کے موڑی نہر سے شبدیز کی لجام نکلے تو سامنے ہوا فوجوں کا اژ دہام آفت کی برچھیوں میں گھرا بازوئے امام ؑ بارہ ہزار تیغیں تھیں اور ایک تشنہ کام بادل تھے ظلمتوں کے علی ؑکے نشان پر تیروں کا مینہ برسنے لگا ایک جان پر مشکیزہ رکھ کے چھاتی پہ کہتے تھے بار بار یارب، نہ رائیگاں ہو سکینہ ؑکا انتظار معبود، تیری راہ میں عباس ؑہو نثار لیکن عیاں ہے تجھ پہ غریبوں کا اضطرار شرمندہ آج تیرے ولی کا خلف نہ ہو سقہ بنا ہوں جس کا وہ بچی تلف نہ ہو مشکل سے یہ کہا تھا کہ بازو قلم ہوا ٹھنڈا لبِ فرات علیؑ کا علم ہوا سنبھلے نہ تھے ابھی کہ ستم پر ستم ہوا مشکیزہ چھد گیا، سر ِعباسؑ خم ہوا خوں بہہ گیا تمام بدن کا کھڑے کھڑے پانی اُدھر بہا، اِدھر عباسؑ گر پڑے گرتے ہوئے صدا یہ شہِؑ بے وطن کو دی صدقے ہوا غلام خبر لوغلام کی شاہد ہے میرے حال پہ خود میری بے بسی پانی نہ لا سکا مجھے حسرت یہ رہ گئی دل اُٹھ گیا ہے آپ کے خادم کا جینے سے شرمندہ ہو کے رُوح نکلتی ہے سینے سے دوڑے حسینؑ سُن کے برادر کی یہ صدا آئے قریبِ لاش تو دیکھا یہ واقعہ آہستہ کہہ رہے ہیں یہ عباس ِؑبا وفا یارب تری پناہ میں زہراؑ کا لاڈلا جو مصطفےٰؐ کی آل ہیں ان سب کی خیر ہو پروردگار چادرِ زینبؑ کی خیر ہو بھائی کے اس کلام سے تھرّا گئے امامؑ آواز دی کہ اے مرے مونس، خجستہ کام آیا حسینؑ، ہوش کرو میرے لالہ فام نرغہ ہے ظالموں کا نہیں دیر کا مقام ہے منتظر جو خیمے میں زینبؑ کھڑی ہوئی ڈیوڑھی پہ ہیں سکینہؑ کی آنکھیں لگی ہوئی نامِ سکینہؑ سنتے ہی عباسؑ نے کہا یا شاہؑ اس غلام نوازی پہ میں فدا شکرِ خدا کہ آخری دیدار کر لیا لیکن دمِ اخیر یہ کرتا ہوں التجا مولاؑ نہ میری رُوح کو تڑپائیے گا آپؑ خیمے میں میری لاش نہ لے جائیے گا آپؑ اتنا ابھی کہا تھا کہ سینے میں دَم رُکا سر فاطمہؑ کے لال نے زانو پر رکھ لیا اللہ رے یہ رُتبۂ عباس ِؑبا وفا شبیر ؑصاف کرتے تھے چہرہ لہو بھرا پروانہ تھے جو عشقِ شہِ مشرقین کے سینے سے رُوح نکلی، قدم پر حسین ؑکے جس دم شہید ہو گئے عباسِ ذی حشم لائے حسینؑ خون میں ڈوبا ہوا علم آواز دی کہ اے حرم ِسیّد الامم کھو آئے اپنے بھائی کو دشت ِبلا میں ہم یاور رہا نہ فاطمہؑ کے نورِ عین کا لو اب تمام ہو گیا لشکرحسینؑ کا لشکر وہ اب رہا، نہ وہ لشکر کے نوجواں باقی نشاں ہے قتل ہوا صاحب نشاں اب زندگی حسینؑ کی خاطر ہوئی گراں گویا نکل گئی قفسِ عنصری سے جاں کوئی نہیں جو آ کے بچا لے حسینؑ کو اب جس کے جی میں آئے ستا لے حسینؑ کو پہنچی جو اہلِ بیتؑ میں یہ درد کی خبر سیدانیوں نے کھول دیئے اپنے اپنے سر ماتم ہوا حسینؑ کے غازی کا اس قدر اک ابرِ یاس چھا گیا زہراؑ کی آل پر غش آ گیا نگاہ میں دنیا اُلٹ گئی زینبؑ کی آس بھائی کے جینے سے ہٹ گئی تھی ایک سمت زوجۂ عباسِؑ نامور وارث کے واسطے جوسنی موت کی خبر سکتہ سا ہو گیا یہ ہوا قلب پر اثر حسرت بھری نشان پہ صاحب کے کی نظر چہرہ بھی زرد ہو گیا آہیں نہ بھر سکی شوہر کا حکم یاد رہا اُف نہ کر سکی شوہر کا حکم تھا کہ مرے بعد دیکھنا کرنا نہ سر کے بال پریشاں مطلقا زوجہ ہو باوفا کی، تصوررہے ذرا چھٹنے نہ پائے شہؑ کی اطاعت کا سلسلہ لے لینا بنتِ شاہِ مدینہ کو گود میں بہلانا میرے بعد سکینہؑ کو گود میں