قیصر بارہوی

 قیصر بارہوی

شہر معلیٰ

    معراجِ عقل و فکر ہے سودائے کربلا فطرت کا ارتقا ہے تجلائے کربلا پیتا ہوں صبح و شام جو صہبائے کربلا میری متاعِ ہوش ہے مینائے کربلا مستی ہے جس کا نام مرے دل کا چین ہے میں بادہ خوار ہوں مرا ساقی حسینؑ ہے پیتا ہوں جامِ عشق بہ عنوانِ کربلا کیفِ سخن ہے بُوئے گلستانِ کربلا ہمدم نہ پوچھو شدّت ارمانِ کربلا میری جبیں ہے اور در ِسلطانِ کربلا ہر فاصلے پہ ڈال کے وسعت یقین کی آنکھوں سے کھینچتا ہوں طنابیں زمیں کی کرتا ہوں دمبدم چمنِ مرتضیٰؑ کی سیر دولت سرائے عشق و جہانِ وفا کی سیر اے ہمنشیں یہ سیر نہیں کربلا کی سیر حاصل ہے مجھ کو فرش پہ عرشِ خدا کی سیر کیا ہے جو رشکِ طائر ِسدرہ شعور ہے نظروں میں مصطفےٰؐ کے ستاروں کا نُور ہے کہتی ہے مجھ سے شام و سحر میری بیخودی گزرے ابو ترابؑ کے پھولوں میں زندگی کرتا ہے یُوں کلام مرا ذوقِ شاعری جاری رہے زباں پہ کہانی حسینؑ کی پیغامِ زندگی مرے دل کی صدا میں ہے میں ہوں یہاں، دماغ مرا کربلا میں ہے میرے تصورات کی چھلکی ہوئی شراب ہے مستیوں میں کوثر و تسنیم کا جواب پیاسوں کی سلطنت سے خیالات کا سحاب لاتا ہے یوں جہانِ طبیعت میں انقلاب ہر تازہ فِکر، خُونِ محبت رُلاتی ہے رگ رگ سے یا حسینؑ کی آواز آتی ہے آواز یاحسینؑ پہ اٹھتی ہے جب نظر کرتا ہوں بے خودی میں سوئے کر بلا سفر کھلتے ہیں یوں عقاب محبت کے بال و پر مظلوم کے مزارِ مقدّس پہ بیٹھ کر سُنتا ہوں جب تقاضۂ فطرت قریب سے کرتا ہوں یوں خطاب خُدا کے خطیب سے اے کربلا کی خاک پر سوئے ہوئے غریب قربان تیری نیند پہ جاگے ہوئے نصیب بے مثل تو صداقت ِاسلام کا خطیب تیرا مزار آج بھی توحید کا نقیب درجے وہ تیری خاک نے تکریم کے لیے عالم جُھکا ہے سجدہ ٔتعظیم کے لیے انساں کو تیرے نام پہ جائز غرور ہے تُو انتہائے عشقِ خدا کا شعور ہے ہستی میں تیرا ذکر محبت کا نور ہے جو تجھ سے دور ہے وہ شرافت سے دُور ہے ڈھونڈے گی جب مفادِ جہاں کی بہار کو چُومے گی زندگی ترے سنگِ مزار کو کہتا ہے زندگی سے ترا گنبدِ مزار ہے رفعت ضمیر سے انسان کا وقار اللہ رے تیرے خونِ مقدّس کی یادگار کہیے جسے حدیقہ ٔاسلام کی بہار جس پر شکوہ ِدولتِ عالم نثار ہے اے بے دیار، آج وہ تیرا دیار ہے ایسا دیار فخرِ مدینہ کہیں جسے دُنیا میں رشکِ نوح ؑسفینہ کہیں جسے ایسا دیارِ حق کا نگینہ کہیں جسے اللہ کی رضا کا خزینہ کہیں جسے دامن میں جس کے خُلّتِ وحدت کا نُور ہے کعبہ نہیں پہ حرمت ِکعبہ ضرور ہے صدقے ترے دیار کی راہوں پہ کہکشاں گذرا ہے جن پہ تیرے ستاروں کا کارواں دنیا میں کس زمیں کو ملیں یہ بلندیاں شرمائے جس کے اوج پہ تمجید ِآسماں تُو نے جگر کا خون ملا کر سجا دیا حق نے جواب ِعرش معلٰے بنا دیا تجھ سے کھلی یہ بات محمدؐ کے بے وطن غربت کے زیر پا ہے شہنشاہیِ زمن اپنا چمن لُٹا کے لگایا ہے وہ چمن کرتی ہے جس پہ رشک، ستاروں کی انجمن حاصل نہیں جو گلشنِ لیل و نہار میں وہ بے خزاں بہار ہے تیرے دیار میں پائے جہاں سکون بھٹکتی ہوئی جبیں منزل وہ حق نما ترے در کے سوا نہیں کلیر کا بوستاں ہو کہ اجمیر کی زمین کہہ دیں گے آج صاحب ِانصاف بالیقیں ہستی کوئی نہیں تری ہستی کے سامنے ہر شہر ہیچ ہے تیری بستی کے سامنے ذرّوں میں تیرے خون کی سرخی ہے جلوہ گر یا مطلع بقا میں ہے تہذیب کی سحر ہوتی ہے تیرے شہر میں تعمیرِ بام و در یا مستقل روا ہے طمانچہ یزید پر شہرہ ترے دیار میں آبادیوں کاہے یاجلوہ بار سبطِ نبیؐ زادیوں کا ہے حیرت زدہ ہیں آج زمانے کے فکر بیں ہونٹوں کو سی رہے ہیں قیامت کے نکتہ چیں اب جلوہ گاہِ عشق ہے صحرا کی سرز میں یا زندگی کے رُوپ میں آئی تری ’’نہیں‘‘ اب دشتِ آئینہ ہے ضیائے کثیر کا یا کوئی شاہ کار ہے تیرے ضمیر کا لائے ہیں رنگ یوں ترے عزم ِجواں کے پھول شرما گئے تصوّرِ کون و مکاں کے پُھول اتنے حسیں ہیں آج ترے گلستاں کے پُھول انسان کی نظر سے گرے آسماں کے پُھول کیا رنگ و بو ہیں تیرے گلاب وسمن کے بعد جنت کی آبرو ہے پہ تیرے چمن کے بعد دیکھے کسی جلالِ حکومت کو کیا نظر آنکھوں میں بس گئی ترے انوار کی سحر ملتی ہے وہ ضیاء تری آرام گاہ پر قربان جس پہ عالمِ صد مہر و صد قمر انسانیت کو ناز ہے جس پر وہ نُور ہے اے نازشِ کلیم تو ہی شمعِ طور ہے یوں تُو نے فتحِ عشق کی تاریخ کی رقم ترمیم کر سکے گا نہ انسان کا قلم کہتے ہیں آج ذہنِ مؤرخ کے پیچ و خم ہر شعبۂ حیات پہ غالب ہے تیرا دم جس کا وجود قدرتِ حق کا جلال ہے تیرا دیار آج وہ زندہ مثال ہے کیا ہو گیا وہ شام کی دولت کا تخت و تاج اب ہے کہاں یزید کا وہ حکمراں مزاج دیکھے ترے دیار پہ جھکتا ہوا سماج ملتا ہے آج کس کو عقیدت بھرا خراج تجھ کو نصیب آج وہ دربار ِعام ہے جس پہ عروجِ سطوتِ شاہی تمام ہے تاریخ کہہ رہی ہے ابھی تک وہ داستاں جب تیرے زائروں پہ برستی تھیں بر چھیاں اللہ رے تیرے چاہنے والوں کا امتحاں آیا جو تیرا نام تو کاٹی گئی زباں پھر بھی وہ یوں گذر گئے خنجر کی دھار سے جیسے لپٹ کے روئے ہوں تیرے مزار سے ہر وقت زائروں کا برستا ہوا سحاب دیتا ہے آج آتش ِبغداد کا جواب سرسبز ہے زمانے میں گلزارِ بوترابؑ ہر دم ہے جلوہ گر بنی ہاشم ؑکا آفتاب حق کی صدا بلند ہے باطل نہیں رہا شبیرؑ رہ گیا متوکل نہیں رہا جس نے کبھی چلائے تھے تیری لحد پہ ہل اک دن تجھے مٹانے اٹھا تھا جو بدعمل آواز دے رہی ہے اُسے آتش ِاجل اپنی لحد سے تو متوکل ذرا نکل اپنی خزاں، حسین ؑکی فصلِ بہار دیکھ کاٹی تھی جس پہ نہر اُسی کا مزار دیکھ وہ حکمراں جسے کبھی قوتّ پہ تھا غرور وہ بدشعار تھا جو خودی کے نشے میں چُور جس کو ترا نشان مٹانے میں تھا سُرور اُس کو سُنا رہا ہے تری سلطنت کا نُور جزوِ حیات قصۂ غم ہے بنا ہوا مظلوم آج زندہ ہے، ظالم فنا ہوا وہ تیری پائنتی وہ ترے لا جواب پُھول جھولا جُھلا رہا ہے جنہیں دامنِ بتولؑ اک صورتِ علیؑ ہے تو اک صورتِ رسولؑ قرآں میں جیسے کوثر و یٰسین کا نزول سوتے ہیں وہ قیامتِ صغرا کی شام سے مشہور ہیں جو اکبرؑ و اصغر ؑکے نام سے اکثر کا آج یوں ترے قدموں سے اتصال گویا ابھی جہاد پہ جانے کا ہے سوال قرباں ترے شعور پر اے فاطمہؑ کے لال کہتا ہے آج اپنی کہانی بہ طرزِ حال روزِ جہاد کھینچ کے گردن سے تیر کو اب تک گلے لگائے ہوئے ہے صغیر کو پہلو میں تیرا دوست، ترا منتظم حبیبؓ جس کا مزارِ پاک تری شان کا نقیب عاشور کو جو صورت پروانہ تھا قریب تا حشر اس کو تیری رفاقت ہوئی نصیب یہ روشنی ہے اہلِ خرد کی نگاہ میں سورج ہے دوستی کا تری جلوہ گاہ میں تیرے قریب گنجِ شہیدانِ حق سروش رُوئے زمین پہ تیرا جہانِ وفا نیوش آباد جس میں عرصۂ ہمت کے سرفروش یا مسندِ شرف پہ سلاطینِ عقل و ہوش سوتے نہیں وہ جامِ شہادت پئے ہوئے جیتے ہیں کائنات پہ قبضہ کئے ہوئے وحدت کے عارفوں کی وہ محفل لگی ہوئی قربان جس پہ تا بہ قیامت ہراک ولی اب تک زہیر ِقین ؓسے باتیں بریرؓ کی وہ ابن عوسجہؓ کی ادا، وہب ؓکی خوشی قبروں کا اتصّال عجب داستان ہے اب تک ترے شہیدوں میں تیرا بیان ہے وہ تیرے سامنے ترے عباس ؑکا مزار ادرنگِ زندگی پر محبت کا تاجدار دریا کے خشک ہونٹ یہ کہتے ہیں بار بار جیتے ہیں اس طرح سے جہاں میں وفاشعار کیا رونقِ مزار سے خورشید ماند ہے دامن پہ کربلا کے مروّت کا چاند ہے اُف یہ تری سپاہ کے سالار کا جلال غالب نگاه پر در و دیوار کا جلال صدیوں کے بعد تیرے علمدارؑ کا جلال جیسے دلوں پر حیدرِؑ کرار کا جلال شاہوں کے دل لرزتے ہیں جس سے وہ شان ہے عباسؑ کا مزار تری آن بان ہے تیرے قریب تیرا ہراول حُرِ جری جس نے متاع ِصبحِ مقدّر خریدلی عالم میں داستان ہے جس کے نصیب کی رُومالِ فاطمہؑ سے ملی جس کو زندگی خود کو ترے قدم پہ نچھاور کئے ہوئے زندہ ہے جو شہادتِ اوّل لئے ہوئے وہ فاصلے پہ عون و محمدؑ کی یادگار زینبؑ کی تربیت کا نتیجہ بروئے کار منظر میں ہے کھلی ہوئی تاریخِ کارزار یا تیرے بھانجوں پہ کمالِ وغا نثار تیغوں کی بجلیوں میں کہاں تک چلے گئے قبریں وہیں بنیں کہ جہاں تک چلے گئے جب تیرے خیمہ گاہ کی تعمیر دیکھ کر ماضی کے آئینے میں حقیقت پہ کی نظر سیدانیوں کے حال پر روئے دل و جگر وہ آگ اور وہ ثانیِ زہراؑ بر ہنہ سر پیاسوں پہ بے کسی میں ستم فوجِ شام کا تیرے یتیم اور وہ جلنا خیام کا وہ تیرے اہل بیتؑ کا عالم جگر فگار نامحرموں کے بیچ میں وہ تیرے پردہ دار تجھ کو پکارنا وہ سکینہؑ کا بار بار وہ شمر کے طمانچے وہ باقر ؑکا اضطرار آماده ظلم و جور پہ یوں بدشعار تھے سیدانیوں کی پشت پہ دُرّوں کے وار تھے زینبؑ کا اضطراب میں سجادؑ سے کلام بیٹا، اٹھو حسینؑ کی بستی ہوئی تمام ایسے میں وہ ربابؑ کے ہونٹوں پہ تیرا نام قربان جس پہ عالمِ احساس کا نظام ہنسنا کسی کا طوق کو گردن میں ڈال کے اٹھنا ترے مریض کا بیٹری سنبھال کے وہ کشمکش، وہ لوٹ، وہ بڑھتا ہوا دھواں وہ چھوٹے چھوٹے بچے، سواروں کے درمیاں وہ ظالموں کا شور، وہ معصوموں کی فغاں وہ ننھے ننھے ہاتھ ، وہ لشکر کی برچھیاں کس ماں کا دل، تو کس کا کلیجہ جُدا ہوا ایسے میں کیا خبر کہ یتیموں پہ کیا ہوا وہ تیری قتل گاہ کا منظر جگر خراش تڑپی تھی جس پہ عصر کے ہنگام تیری لاش وہ لاش تھی جو گھوڑوں کی ٹاپوں سے پاش پاش جس کو اندھیری شب میں سکینہؑ نے کی تلاش ویران دشت جس کا نگہبان رہ گیا زینب ؑ کو جس پہ رونے کا ارمان رہ گیا اب تک ہے قتل گاہ کی مٹی میں وہ اثر جس پر نثار عقلِ مسیحا کے بال و پر اکسیر ہر مرض ہے تو درمان ہر بشر عاشور کو نگاہ یہ کہتی ہے دیکھ کر مٹی نہیں ہے معجزہ بے اشتباہ ہے تیرے لہو پہ تیری صداقت گواہ ہے باہر ترے مزار کے اونچا سا وہ مقام وابستہ جس کے ساتھ ہے تیری بہن کا نام تیرے گلے پہ دیکھ کے چلتی ہوئی حُسام زینب نے جس جگہ سے کیا تھا تجھے سلام دُنیا میں آج تک وہ بلندی گواہ ہے زینبؑ یہ کہہ رہی تھی کہ تو بے گناہ ہے کچھ دُور خشک نہر کے آثار کی قسم تاریخِ درد سینۂ گیتی پہ ہے رقم احساس کی نگاہ سے دیکھے کوئی یہ غم توڑا ہے کس کی یاد میں آبِ رواں نے دم کیا موجوں نے تیرے بعد کہیں منہ چھپا لیا یا تیری تشنگی کو گلے سے لگا لیا لاریب آج یہ تری بستی ہے بے مثال لیکن یہ بات پوچھتا ہوں فاطمہؑ کے لال خواہر سے جیتے جی تو محبت رہی کمال دو گز زمیں کے واسطے آیا نہ کچھ خیال بُوئے حیات کس لئے گلشن سے دُور ہے زینبؑ کی قبر کیوں تیرے مدفن سے دُور ہے انصاف کا مقام ہے اے نائبِ رسولؐ مہکے ہیں جس کی وجہ سے تیرے چمن کے پھول رونق یہ جس کی در بدری سے ہوئی حصول کس طرح اُس بہن کی جدائی ہوئی قبول کیسے بیاں کروں نہیں طاقت کلام میں تُو کربلا کی خاک پہ ہے اور وہ شام میں تیری بہن کا شام میں جانا ہے یادگار بے پردگی کا بوجھ اٹھانا ہے یادگار تیرے لہو کا راز بتانا ہے یادگار خطبوں سے انقلاب کا لانا ہے یادگار ہے تذکرہ جو تیرے چمن کی بہار کا احسان ہے یہ آج اُسی غمگسار کا زینب ؑسے آج تیری لحد کا نشان ہے زينبؑ ترے عمل کا مکمل بیان ہے زینبؑ سے کربلا کی زمیں آسمان ہے زینبؑ سے آج تیری کہانی میں جان ہے وہ اس کی بے کسی ، وہ اسیری حیات میں زینبؑ سے تیرا نام رہا کائنات میں تاریخ جب سُنائے گی بھائی بہن کا حال زینبؑ کے نام کی نہ ملے گی کوئی مثال گلیوں میں شام کی وہ تماشائیوں کے جال مجبور قافلے سے زمانے کے وہ سوال دُنیا تو بازوؤں میں رسن دیکھتی رہی نیزے پہ تیرے سر کو بہن دیکھتی رہی ایسی بہن نہیں ترے پہلو میں اے حسینؑ یہ بات لے گئی ترے شاعر کے دل کا چین شاید یہی جواب ہے زہراؑ کے نور عین ہے مصلحت کے نام پہ تاریخ شور و شین دونوں طرف بہار ،نبیؐ کے چمن کی ہے یہ تیری سلطنت وہ حکومت بہن کی ہے مولاؑ یہی ہے اب ترے قیصر کی آرزو اٹھوں تیرے خیال سے محشر میں سرخرو تیرے سوا نہ ہو کسی رہبر کی جستجو ہو زینتِ کلام ترے گلستاں کی بُو حاصل مجھے اجل کے پیسنے میں چین ہو نکلے جو روح میرے لبوں پرحسینؑ ہو