قیصر بارہوی

 قیصر بارہوی

شاعرِ دربار حسینؑ

    شاعرِ دربار حسینؑ میں شاعر ِدربارِ حسینؑ ابنِ علیؑ ہوں میں زمزمہ پرداز ِشہیدِ ازلی ہوں گمنام ہوں لیکن صفتِ مہر جلی ہوں حاصل ہے بہتر کی ولایت وہ ولی ہوں مہکا ہے جو بستانِ سخن مدح و ثنا سے لایا ہوں یہ خوشبو چمنِ کرب و بلا سے بیجا نہیں کہ دوں جو مودّت کی بنا پر کوثر سے فزوں، میرے تخیل کا سمندر کیا کیفیت ِجام ہے، کیا گردشِ ساغر آئے تو مری موجِ طبیعت کے برابر سچ کہتا ہوں کیا موجۂ کوثر کی تڑپ ہے اس موج میں خونِ علی اصغرؑ کی تڑپ ہے آئے جو تصور میں جمالِ علی اکبرؑ ہر لفظ ہو آئینۂ توصیفِ پیمبرؐ یاد آئے اگر ہیبتِ عباسؑ دلاور ہر مصرع بنے جلوہ گرِ شوکت ِحیدر ؑ یا ابنِ مظاہرؓ جو مرے لب سے نکل جائے مفہوم کی پیری بھی جوانی سے بدل جائے ہو جلوہ فشانی پہ جب آئینۂ افکار قرطاس پہ ہو روشنیِ طور کا اظہار نظروں میں سما جائے بہتّر کا جو کردار موسیٰؑ کوغش آ جائے مگر میں رہوں ہشیار وہ جلوہ جو موسیٰؑ کے دل اور سینے میں دیکھوں میں اُلفتِ شبیر ؑکے آئینے میں دیکھوں آ جائے اگر جوش پہ دریائے معانی تھم جائے وہیں قلزمِ کوثر کی روانی یوں رنگ پہ آئے مری اعجاز بیانی شرمائے تغیر پہ زلیخا کی جوانی آہوں کی تپش، درد کی تاثیر بدل دوں حرؓ کہتے ہی مضمون کی تصویر بدل دوں جس وقت سما جائیں مری آنکھوں میں یکبار جذبات جبیبِ اسدیؓ وہب کا ایثار قاسمؑ کا عمل، حوصلۂ مسلمؑ ِجرار اکبرؑ کی اذاں طاعتِ عباس ِؑعلمدار معراج پہ اسلام کی دنیا نظر آئے اللہ کی توحید کا نقشا نظر آئے تحریر میں آ جائے اگر ذکرِ عبادت پھرنے لگے آنکھوں میں وہ ہنگامِ قیامت جب دلبرِ زہراؑ تھا گرفتارِ مصیبت سر نیزے پہ اور ہونٹوں پہ قرآں کی تلاوت جب عشقِ الٰہی کی ادا جھوم رہی تھی قدرت لبِ شبیر ؑکو جب چوم رہی تھی لکھنا ہو جب انسان کی غیرت کا فسانہ یاد آئے وہ اسلام کا تاریک زمانہ جب شام میں تھا احمدِ مرسلؐ کا گھرانا ہوتا تھا ہر اک گام پہ دُرّوں کا نشانہ جس وقت مسلمانوں میں غیرت نہ حیا تھی جب فاطمہؑ کی لاڈلی محتاج ِردا تھی اے میرے ہم آواز تجھے کیا نہیں معلوم کس واسطے روتی ہے مری فطرتِ مغموم لازم بشریت میں ہے غمخواریِ مظلوم ظالم سے تنفر ہے ہر اِک قلب پہ مرقوم ہمدردیِ مظلوم شرافت بہ یقیں ہے ظالم سے جو مل جائے وہ انسان نہیں ہے کیوں آج مرے حال پہ حسرت کی نظر ہے غافل تجھے کچھ فلسفۂ غم کی خبر ہے غم ہی تو مہذب گر ِدنیائے بشر ہے آنسو جسے کہتا ہے وہی نورِ بصر ہے تو کس لیے برگشتہ ہے کیفیتِ غم سے قرآن کی تمہید ہوئی لفظِ الم سے سمجھا نہیں تو نے مرا انداز ِپریشاں کس واسطے رہتا ہوں سدا چاک گریباں کیوں برقِ الم ہے مرے نغمات میں پنہاں کچھ تو ہے کہ آنکھوں سے اٹھا کرتا ہے طوفاں کیوں درد بھری ہے مرے اشعار کی دنیا آ تجھ کو دکھاؤں دل غمخوار کی دنیا آ نقشۂ ترتیب میں، اس ارض جہاں پر برباد جہاں ہو گیا بستانِ پیمبرؐ تو ڑا ہے جہاں موت نے زہراؑ کا گلِ تر معصوم کی گردن پہ جہاں پھر گیا خنجر آیا تھا جہاں فاطمہؑ کا چاند گہن میں جس جا تھے نبیؐ زادیوں کے ہاتھ رسن میں وہ دشتِ بلا، کرب و بلا نام ہے جس کا اُترا تھا وہیں قافلۂ یثرب و بطحا دسویں کو محرّم کی وہیں حشر ہوا تھا اٹھا تھا کمر باندھ کے احمدؐ کا نواسا دل میں یہ ارادہ تھا کہ باطل کو کچل دوں اسلام کی بگڑی ہوئی تقدیر بدل دوں اک دشمنِ اسلام جو تھا حاکمِ اظلم معذور، بداعمال، ذلیلِ بنی آدم بد خصلت و بدکار و بد انجام ِدو عالم یعنی کہ یزیدِ اموی کفر ِمجسم کم ظرف جو تھا، مائلِ تکرار ہوا تھا شبیرؑسے بیعت کا طلب گار ہوا تھا وہ کہتا تھا قبضے میں زمانے کا ہے لشکر یہ کہتے تھے حاصل ہے مجھے قوتِ حیدرؑ وہ کہتا تھا دولت مری قاروں سے فزوں تر یہ کہتے تھے خادم ہیں مرے در کے ابوذرؓ وہ کہتا تھا دنیا میں مرا نام رہے گا یہ کہتے تھے ہاں داخلِ دشنام رہے گا وہ کہتا تھا قرآں کی فضیلت نہ رہے گی یہ کہتے تھے ممکن نہیں وحدت نہ رہے گی وہ کہتا تھا احمدؐ کی شرافت نہ رہے گی یہ کہتے تھے ظالم کی حکومت نہ رہے گی وہ کہتا تھا اب کعبے میں ناقوس بجے گا یہ کہتے تھے کیا کہتا ہے، سر میرا کٹے گا وہ کہتا تھا دنیا میں رہے گا مرا فرماں یہ کہتے تھے انجام سے واقف نہیں ناداں وہ کہتا تھا مشکل ہے مرے واسطے آساں حاصل ہے مجھے تاجِ شہنشاہیِ دوراں یہ کہتے تھے ہاں صاحبِ شمشیر نہ کہنا تختہ نہ الٹ جائے تو شبیر ؑنہ کہنا کہتا تھا یزید اب مجھے حاصل ہے وہ قوت خطبے میں مرے بعد ہو اب ذکر ِرسالتؐ غالب ہو شریعت پہ مرا حکمِ خلافت خود آلِ نبیؑ کی ہو مرے ہاتھ پہ بیعت جھک جائیں زمانے کی جبینیں مرے در پر آ جائے خزاں دینِ محمدؐ کے شجر پر فرماتے تھے شبیرؑ کہ آنے دے وہ ہنگام کیا چیز ہے ظالم تری قوت ترے احکام بیعت کا بہانہ ہے تری موت کا پیغام مٹتی ہے مٹائے سے کہیں شوکتِ اسلام جس وقت زوال آئے گا نانا کے شجر کو قربان کروں گا علی اکبرؑ سے پسر کو واللہ کہا تھا جو وہی کر کے دکھایا وقت آیا تو اسلام پہ گھر بار لٹایا غم کون سا تھا جو نہ کلیجے پہ اٹھایا دوزخ سے مگر نانا کی اُمت کو بچایا حیرت ہے اگر کوئی مسلمان نہ مانے کافر ہے، جو شبیرؑ کا احسان نہ مانے اللہ رے یہ فاطمہؑ کے دودھ کی تاثیر تلوار یں تھیں پہلو پہ تو سینے پہ کبھی تیر پیاسے رہے غربت میں پھری حلق پہ شمشیر لیکن یہ زمانے کو سبق دے گئے شبیرؑ وقت آئے تو مرنے سے کنارا نہیں کرتے لیکن، کبھی تو ہین گوارا نہیں کرتے لائے تو کوئی دہر میں اس طرح کا ایثار پیدا تو کرے فاطمہؑ کے لال کا کردار ڈھونڈے تو کوئی کیفیت ِنفس کا مختار آخرلبِ تاریخ سے ہو جائے گا اظہار کہتی ہیں مسلسل یہ حدیں ارض و سما کی شبیرؑ کی وحدت ہے خدائی میں خدا کی میدان میں یوں برچھیاں کھاتے نہیں دیکھا یوں پیاس میں تلوار چلاتے نہیں دیکھا یوں سر رہِ خالق میں جھکاتے نہیں دیکھا یوں دولتِ اولاد لٹاتے نہیں دیکھا کب گزرا یہ عالم کس بے کس کی نظر سے اس طرح جنازے نہیں نکلے کسی گھر سے مشکل ہے جواں لال کی میت کا اٹھانا آساں نہیں بے شیر کی تربت کا بنانا شبیرؑ کا دیکھے تو ذرا قلب زمانا منظور کیا کنبے کا دربار میں جانا دنیا سے گئے تین شب و روز کے پیاسے اسلام کا پردہ رکھا زینبؑ کی ردا سے افسوس، وہ عاشور کے دن حشر کا منظر طوفان میں وہ کشتیِ اولادِ پیمبرؐ وہ خون میں ڈوبے ہوئے زہراؑ کے گلِ تر بکھرے ہوئے قرآن کے پارے تھے زمیں پر قرآن لٹا حافظِ قرآن کھڑے تھے سر کھل گیا زینبؑ کا مسلمان کھڑے تھے یوں پھر گئے اولادِ پیمبرؐ سے مسلماں نسبت نہ رکھیں جس سے کسی دین کے انساں بڑھتے رہے سادات پہ یوں ظلم کے طوفاں ہے جن کے لیے دیدہ ٔتاریخ بھی حیراں سر بستہ ہوا تھا جو مدینے کی فضا میں وہ راز کھلا معرکۂ کرب و بلا میں جب داخلِ کوفہ ہوئی اولادِ پیمبرؑ اونٹوں پہ رسن بستہ، پریشان، کھلے سر عابدؑ سے یہ زینبؑ نے کہا اے مرے دلبر کس شہر میں لائے ہیں ہمیں ظلم کے خوگر گھبراتا ہے دل صورت آلام ہے بیٹا بتلاؤ تو اس شہر کا کیا نام ہے بیٹا آباد ہیں اس شہر میں کس دین کے انساں کافر ہیں یہاں لوگ کہ رہتے ہیں مسلماں وابستۂ انجیل ہیں یا پیروِ قرآں کیا واقفِ تو حید ہے اس شہر کا سلطاں تعریف یہاں کس کی بیاں ہوتی ہے بیٹا اس شہر میں وحدت کی اذاں ہوتی ہے بیٹا اس شہر میں لیتا ہے کوئی نامِ پیمبرؐ اس شہر میں رہتا ہے کوئی عاشقِ حیدرؑ خاموش ہو کیوں، کچھ تو کہو عابدِؑ مضطر اس شہر میں دیکھا ہے کوئی واقفِ جعفرؑ شیدا ہے یہاں پر کوئی زہراؑ کے چمن کا اس شہر میں ہے کوئی طرفدار حسنؑ کا یہ سن کے تڑپنے لگا عابدؑ کا کلیجا گردوں پہ نظر ڈال کے آغاز کو دیکھا پھر بولے کہ اے میری پھوپھی ، ثانی زہراؑ اس شہر کو دنیا کی زباں کہتی ہے کوفا ظاہر میں تو اسلام کی آباد زمیں ہے پر آلِ محمدؐ کا کوئی دوست نہیں ہے عابد ؑنے لیا نام جو کوفے کا تو یکبار زینب ؑکی نگاہوں میں پھرے حیدرؑ کرار افسوس کہ دیکھا تھا جہاں باپ کا دربار لائی تھی وہیں گردشِ غم کر کے گرفتار شہزادی جہاں پر کبھی کہلائی تھی زینبؑ افسوس، رسن بستہ وہاں آئی تھی زینبؑ اتنے میں کسی شخص نے لشکر سے یہ پوچھا مارا ہے کسے، لوٹا ہے یہ قافلہ کس کا تھا کون، بنے جس کے حرم آج تماشا تھا کون خطا وار ملی جس کو یہ ایذا لشکر نے کہا صرف بغاوت کی سزا ہے باغی تھا حکومت کا، جسے لوٹ لیا ہے زینب ؑنے سنا لفظِ بغاوت تو سنبھل کر خطبہ یہ دیا مثلِ نبیؐ، صورتِ حیدرؑ زندہ ہے وہی کہنے کو مظلوم کی خواہر پردہ نہ پڑے گا مرے بھائی کے لہو پر یہ حق و صداقت کی صدا چھا کے رہے گی ہر ذرّے سے آوازِ حسینؑ آ کے رہے گی احمدؐ کے نواسے پہ بغاوت کا ہے الزام کہتے ہو کہ باغی کا یہی ہوتا ہے انجام انصاف کرو، کون ہوا باغی، اسلام کس نے نہ دیا احمدِ مختار ؐکا پیغام وہ کون ہے جو نشۂ دنیا میں پڑا ہے قرآں کی حفاظت کے لیے کون کھڑا ہے اے کو فیو، کیوں بھول گئے صدق بیانی انصاف ہے دنیا میں حقیقت کی نشانی گر یاد نہیں تم کو محمدؐ کی زبانی محفوظ ہے قرآن میں کس گھر کی کہانی جو حافظ ِقرآں ہیں وہ تفسیر سنا دیں ہے کن کے لیے آیۂ تطہیر بتا دیں تم کو یہ گماں ہے کہ مٹا نامِ شریعت قائم ہوئی بدکارِ زمانہ کی خلافت تم کو یہ گماں ہے کہ بجھی شمعِ امامت باقی نہ رہا اب کوئی اندیشۂ بیعت لیکن بخدا، ظلم کی قوّت نہ رہے گی اسلام کے دشمن کی حکومت نہ رہے گی اے کو فیو، کس گھر سے ملی تم کو ہدایت کس گھر نے سکھائے تمہیں آئینِ حکومت اے کو فیو، کس گھر نے دیا نورِ محبت کس گھر نے عطا کی تمہیں قرآن کی دولت کسی گھر کے سبق نے تمہیں انسان بنایا بولو، تمہیں کس گھر نے مسلمان بنایا کیوں تم نے رکھا ظلم روا کچھ تو بتا دو کس جرم پہ دی ہے یہ سزا کچھ تو بتا دو نفرت کا سبب، وجہِ جفا کچھ تو بتا دو اے کو فیو اس گھر کی خطا کچھ تو بتا دو خاموش ہو کیوں، حق کی صدا کوئی نہیں ہے شاید یہ خطا ہے کہ خطا کوئی نہیں ہے بولو، مرے نانا نے کسی گھر کو جلایا قیدی کسی مظلوم مسافر کو بنایا بولو، مرے بابا نے یتیموں کو رُلایا اور لوٹ کے بیواؤں کو سر ننگے پھرایا دیکھا ہے کسی اہلِ وطن، غیر وطن نے دُرّے کسی معصوم کو مارے تھے حسنؑ نے تقریر یہ کرتی تھی ابھی زینبؑ ناچار ناگاہ نظر آنے لگا کوفے کا دربار غیرت کا پسینہ ہوا ماتھے پہ نمودار دل میں یہ خیال آیا کہ جاؤں گی نہ زنہار ناقے سے کہا بہرِ خدا، رُخ نہ ادھر کر حیوان ہے لیکن مرے پردے پہ نظر کر یہ کہہ کے سرِ پاک اٹھایا تو یہ دیکھا کچھ کہتا ہے نیزے پہ محمؐد کا نواسا ظاہر رُخِ انور پہ ہے اک اشکوں کا دریا کیا کہہ دیا ما ں جائے نے ماں جائی نے سمجھا کچھ اتنا اثر کر دیا اشکوں کے سخن نے اپنا لیا بھائی کے اشارے کو بہن نے بھائی کا اشارہ تھا، بہن ہوش میں آؤ مظلوم برادر کی وصیت نہ بھلاؤ طوفان میں کشتی ہے مرا ہاتھ بٹاؤ بھائی سے محبت ہے تو آنسو نہ بہاؤ پروا نہ کرو آج، اگر ظلم ہوا ہے تم صبر کرو صبر، خدا دیکھ رہا ہے زینبؑ مری محنت کہیں برباد نہ جائے بیکس کی ریاضت پہ زوال آنے نہ پائے پردیس میں جو دولتِ اولاد لٹائے اس دل کے ارادوں پہ کہیں حرف نہ آئے زینب ؑابھی آغاز ہے انجام نہیں ہے یہ منزلِ کوفہ ہے ابھی شام نہیں ہے دربار میں جاتے ہوئے گھبراتی ہو ہمشیر کیا آج نگاہوں میں نہیں ہمتِ شبیر ؑ بالوں سے عبث منہ کے چھپانے کی ہے تدبیر کیا میری بہن سر پہ نہیں چادرِ تطہیر کچھ غم نہ کرو آج بظاہر جو کھلا ہے بیٹی کے سرِ پاک پہ امّاں کی ردا ہے لو جاؤ بہن، ہمتِ شبیر ؑدکھا دو ایوانِ ستم کے در و دیوار ہلا دو انسان کی سوئی ہوئی تہذیب جگا دو دنیا کو مری فتح کا پیغام سنا دو بڑھتے ہوئے سیلاب کا رُخ موڑ دو زینبؑ اسلام کے غدّار کا منہ توڑ دو زینبؑ شکوہ نہ کرو، قاسمِؑ مضطر کی قسم ہے کھولو نہ زباں اپنے برادر کی قسم ہے آہیں نہ بھرو، لاشۂ اصغر ؑکی قسم ہے غصے میں نہ آؤ، علی اکبرؑ کی قسم ہے بھائی کے عمل، وقت کی رفتار کو دیکھو زنجیروں کو اور عابدِؑ بیمار کو دیکھو بھائی کے اشارے میں جو تلقین سی پائی تھرّا گئی اک دم اسداللہؑ کی جائی برچھی وہ تصور نے کلیجے پہ لگائی اٹھارہ برس والے کی صورت نظر آئی مجبور ہوئی ہاتھ بندھے تھے جو کمر سے اکبرؑ کی بلائیں لیں مگر دست ِنظر سے پھر آنکھوں ہی آنکھوں میں یہ کی بھائی سے تقریر اچھا مرے ماں جائے نہ گھبرائے گی ہمشیر خوش ہو کے اٹھائے گی ہر اک ذلت و تحقیر زینبؑ کی رضا کچھ نہیں جو مرضیِ شبير ؑ ماں جائے کا ہر حکم بجا لائے گی زینبؑ لے جائیں گے جس طرح چلی جائے گی زینبؑ اب چشم کہیں اشک جو بھر لائے تو کہنا غم سے دلِ زینبؑ جو سکوں پائے تو کہنا پیشانیِ خواہر پہ شکن آئے تو کہنا ظالم کی حکومت نہ اُلٹ جائے تو کہنا یہ منزلِ دشوار کو آسان کرے گی بھیّا، یہ بہن فتح کا اعلان کرے گی اسلام کے دشمن کو یہ ہو جائے گا معلوم جھکتے نہیں تلوار سے اسلام کے مخدوم بھیّا میں زمانے کو بتا دوں گی یہ مفہوم حق پر ہو تو ظالم کو مٹا دیتا ہے مظلوم ہے کفر عبث، مصطفویِؐ شان کے آگے جادو کبھی چلتا نہیں قرآن کے آگے بھیا مجھے اکبرؑ کی قسم دی ہے تو سن لو خطبوں سے ہلا دوں گی میں ایوانِ ستم کو پروانہیں اب شام کی گلیوں میں گذر ہو کیا کرتی ہے اب خواہر ِمظلوم یہ دیکھو دربارِ جفا کار ہو یا قید کی راتیں دہراؤں گی ماں جائے کے کردار کی باتیں در پیش جواب شام کا رستہ ہے تو کیا ہے رستے میں جفاؤں کا اندھیرا ہے تو کیا ہے ہاتھوں کو پس پشت جو باندھا ہے تو کیا ہے بھیا مجھے کانٹوں پہ بھی چلنا ہے تو کیا ہے اس لال پہ قربان ہر اک آن رہوں گی میں عابدِّ مضطر کی نگہبان رہوں گی ماں جائے سے ماں جائی نے اتنا ہی کہا تھا کچھ دور پہ اک لاشۂ بے سر نظر آیا پہلے اسے زینبؑ نے بڑے غور سے دیکھا پھر ضبط کے انداز میں عابدؑ سے یہ پوچھا اے نورِ نظر خون کے رشتے پہ یقیں ہے بیٹا، یہ کہیں لاشۂ مسلمؑ تو نہیں ہے عابدؑ نے کہا کیسے کہوں اے پھوپھی اماں لاریب یہی ہیں مرے مظلوم چچا جاں ہے پاؤں میں باندھی ہوئی رسی سے نمایاں لاشے کو یہاں کھینچ کے لائے ہیں مسلماں باباؑ کی طرح یہ بھی رہے قیدِ جفا میں یہ کوفے کے بازار میں وہ کرب و بلا میں یہ سنتے ہی اک بار جھکی ثانیِ زہراؑ شاید یہی بے ساختہ جھکنے کا سبب تھا احساس کے عالم میں یہ لاشے سے تھی گویا اچھا ہوا بھیا مجھے سر ننگے نہ دیکھا پردیس میں سر اپنا تو کٹوا دیا مسلمؑ بچوں کو مگر کس کے حوالے کیا مسلمؑ القصّہ ہوئے اہلِ حرم داخلِ دربار مصروف جہاں بادہ کشی میں تھے خطا کار آواز یہ دی شمر نے ہاں قیدیو، ہشیار اب سامنے حاکم ہے، خبردار خبردار مطلق نہ ہلیں ہونٹ یہ تاکید ہے سب سے سر اپنا اٹھائے نہ کوئی پاسِ ادب سے ناقوں پہ جو بیٹھے ہیں وہ نیچے اتر آئیں حاکم نہ غضب ناک ہو یہ خیر منائیں کیا جانیے کس رنگ میں نازل ہوں سزائیں فکر اپنی کریں وارثوں کی یاد بھلائیں ہے ابن زیاد آج مسرّت کے نشے میں لازم ہے رسن، جملہ اسیروں کے گلے میں یہ سنتے ہی ناقوں کا ٹھہرنا تھا قیامت ناقوں سے اسیروں کا اترنا تھا قیامت بچوں کا نئے ظلم سے ڈرنا تھا قیامت اس دور سے زینبؑ کو گزرنا تھا قیامت سنبھلا نہ گیا ہاتھ پسِ پشت بندھے تھے ایسے ہی گری جیسے کہ عباس ؑگرے تھے کہتے ہیں کہ اس وقت فقط عابدِؑ بیمار زنجیر سنبھالے ہوئے دوڑے تھے بہ دشوار فضہؓ کی صدا آئی تھی یا حیدرؑ کرار کہتے ہیں پکاری تھی سکینہؑ جگر افگار کیا نہر پہ سوتے ہو، چلے آؤ چچا جان درّے پھوپھی اماں کو نہ کھلواؤ چچا جان عابدؑ کے سہارے سے محمدؐ کی نواسی معصوم سکینہؑ کی طرف دیکھ کے اٹھی اٹھی تو بڑے ضبط کے انداز میں بولی عابدؑ مرے مقسوم کی تحریر یہی تھی دنیا کا جو ارمانِ جفا ہے وہ نکل جائے اسلام کی گرتی ہوئی دیوار سنبھل جائے بعد اس کے قطاروں میں کھڑے ہو گئے قیدی گنتی ہوئی نیزوں پہ شہیدوں کے سروں کی حاکم نے بنِ سعد سے تفصیل جو پوچھی ہونے لگی پہلے سر ِشبیرؑ کی پیشی یوں طشت میں سر آیا ستم گار کے آگے جیسے کوئی قرآن ہو مے خوار کے آگے بدخواہ نے دیکھا جو سر ِسبط ِپیمبرؐ نخوت کی اداؤں سے یہ کہنے لگا ہنس کر کیوں ابنِ علی ؑ، کس کو ہوئی فتح میسر کس کو مرے لشکر نے دیا موت کا ساغر جو عرش سے اتری تھی وہ شمشیر کہاں ہے اب آلِ محمدؐ کی وہ توقیر کہاں ہے پھر دیکھ کے عابدؑ کو سلاسل میں گرفتار یوں کہنے لگا قہر کی آنکھوں سے جفا کار شاید یہی شبیرؑ کا فرزند ہے بیمار ہے موت کا پیغام جسے طوقِ گراں بار صد شکر نبی زادیاں تشہیر ہوئی ہیں رسوائیاں احمدؐ کے گھرانے کو ملی ہیں یہ لاف زنی سنتے ہی شبیرؑ کی خواہر کہنے لگی کیا کہتا ہے، خاموش، ستمگر دولت ہے ترے پاس ہمیں دین میسر قرآن میں ہے عزتِ اولادِ پیمبرؐ کم ہو نہیں سکتی کبھی تو قیر ہماری اسلام کی تقدیر ہے تشہیر ہماری اے ابنِ زیاد ،اتنا بتا دے ترا لشکر میدان میں کس طرح لڑے وارث ِحیدرؑ جب سبط ِنبیؑ آئے تھے بعدِ علی اصغرؑ کیا کیا نہ کھلے عرش کی شمشیر کے جوہر کہہ دے کوئی معراج ِوغا تھی کہ نہیں تھی لشکر میں، دہائی کی صدا تھی کہ نہیں تھی حاضر ہے بنِ سعد، تری فوج کا سردار موجود ہے کھولے تو زباں، شمر ِستم گار انصاف سے کہہ دیں ترے پیدل ترے اسوار کس کو مرے بھائی سے ہوئی جرأت پیکار مرنے کی ہوا میں، کے جینے کا یقیں تھا وہ کون بہادر تھا جو فرّار نہیں تھا ملتا نہ اگر واسطۂ احمد ِمرسلؐ بھائی کو اگر رحم نہ آتا سر ِمقتل کیا چیز تھے کوفے کی گھٹا شام کا بادل ظالم سر ِدربار نکلتے ترے کَس بَل لیکن مرے ماں جائے نے اُمت پہ نظر کی یہ ہار نہیں، جیت ہے زہراؑ کے پسر کی اے ابنِ زیاد آج بھرا ہے ترا دربار بیٹھے ہیں بڑی شان سے دولت کے پرستار ہوتا جو کوئی آج محمدؐ کا طرف دار ہم پردہ نشینوں پہ گذرتی نہ یہ زنہار بے پردگی ناموس ِرسالت کے لیے ہے کافی یہ طمانچہ تری عبرت کے لیے ہے گونجی سرِ دربار جو زینبؑ کی یہ آواز ٹکرا گئی ماضی سے خیالات کی پرواز کچھ لوگوں کو یاد آنے لگے حیدریؑ انداز ہونے لگا ہمدردیِ مظلوم کا آغاز شرمندگیِ فکر ہر انسان سے کھیلی کوفے کی فضا، درد کے طوفان سے کھیلی گھبرا کے اٹھا ابنِ زیادِ ستم آرا داروغۂ زنداں کو جفا جُو نے پکارا بولا یہ اسیروں کی طرف کر کے اشارا لے جا انہیں جلدی، نہیں تاخیر گوارا دربار کا انداز دگر دیکھ رہا ہوں بدلی ہوئی لوگوں کی نظر دیکھ رہا ہوں چلنے جو لگے اہلِ حرم جانبِ زنداں آنکھوں سے بہن بھائی کے سر پر ہوئی قرباں اس وقت مگر بول اٹھی گردشِ دوراں قربان ترے قافلہ سالارِ غریباں منہ توڑ دیا دشمنِ اولادِ نبیؐ کا اعلان کیا فتحِ حسینؑ ابنِ علیؑ کا