شامِ غریباں
پھر خیمۂ نگاہ سے تازہ دُھواں اُٹھا پھر کاروانِ فکر سے شورِ فغاں اُٹھا دل کی زمیں سے درد کا اِک آسماں اُٹھا پھر ہر نفس کے ساتھ غمِ بیکراں اُٹھا ہیں گرم آنسوؤں میں سمندر ملال کے پانی پہ چل رہے ہیں سفینے خیال کے غالب ہے رُوح پر، وہ قیامت کہ الحذر جیسے ابھی لٹا ہو کسی بے وطن کا گھر اِک سمت جشنِ فتح کے باجے شباب پر اک سمت سر کھلے ہوئے ناموس نوحہ گر لشکر میں شور، خلعت و انعام کے لیے نیزوں پہ کچھ چراغ جلے شام کے لیے سنتا ہوں اضطراب کے صحرا کی سائیں سائیں جیسے یتیم بچوں کی سہمی ہوئی صدائیں نوحہ سُنا رہی ہیں تریتی ہوئی فضائیں جیسے رسول زادیاں بالوں سے مُنہ چھپا ئیں یوں دیکھتا ہوں عرش کی تقدیر خاک پر جیسے بچھی ہو چادرِ تطہیر خاک پر تاریکیوں کا فرش اجالوں کی میتیں وہ میتیں جو غیرتِ انساں کی سرحد یں طوفاں سپرد عظمت ِآدم ؑکی مشعلیں بربادیوں کی چھاؤں میں کعبے کی رونقیں مفہوم کہہ رہا ہے غموں کے بیان کا گیتی نے پی لیا ہے لہو آسمان کا قلبِ سحر میں شام کا خنجر لہو لہو سورج کی قتل گاہ کا منظر لہو لہو پامال، بے کفن، مہ و اختر لہو لہو تاراجی ِخیام، بھرا گھر لہو لہو نظروں میں انتہائے الم کا مقام ہے آنسو تھکے ہوئے ہیں غریبوں کی شام ہے فطرت سے پوچھتا ہوں یہ کیسے غریب ہیں کس کے حرم ہیں، کس کے پریشاں نصیب ہیں چہرے تو کہہ رہے ہیں ، خُدا سے قریب ہیں پھر ان پہ کیا بنی ہے جو سب سے عجیب ہیں ہونٹوں پہ آیتوں کا خزینہ لیے ہوئے بیٹھے ہیں بے کسی کا مدینہ لیے ہوئے معصوم بندگی کا مہکتا ہوا چمن گویا خدا کی حمد میں گلزارِ پنجتن ؑ معراجِ غم پہ شکر میں ڈھلتے ہوئے سخن معلوم ہو رہے ہیں محمدؐ کے خوش دہن ہر سانس کے وجود میں قرآں سمیت ہیں کردار کہہ رہا ہے یہی اہلبیت ہیں پیشانیوں کی خاک میں سجدوں کی داستاں جیسے خدا کے پیار کی تابندہ کہکشاں تسبیحِ فاطمہؑ سے عبادت نوازیاں جیسے پیمبروںؐ کی دعا ئیں بجسم و جاں اشکوں کے ساتھ ساتھ جو تکبیر ہوتی ہے مظلومیت میں دین کی تعمیر ہوتی ہے بے پردگی کے بوجھ سے اٹھتی نہیں نظر آنکھیں نثار ہوتی ہیں اک اک شہید پر مقتول وارثوں کی طرح عالمِ جگر برچھی کی شکل سینے میں مستقبلِ سفر خیموں کی راکھ یوں ہے کھلے سر ڈھکے ہوئے قرآں کو جیسے گرد کی چادر ڈھکے ہوئے دریا کا قرب ،جلتے ہوئے زخم، تشنگی دہشت کی لہر ،کانپتا ماحول، بے بسی دشمن کے تازیانے، زمانے کی بے رُخی چاروں طرف ستم کی کہانی لکھی ہوئی یہ منظر ِالم جو نگاہوں پہ چھا گئے اِک بے وطن کے اہلِ حرم یاد آ گئے اُبھرا بساطِ ذہن پہ میدانِ کربلا چمکی لہو کی برق بہ عنوان کربلا ظاہر ہوئی شہادت ِمہمانِ کربلا اب سامنے ہے شامِ غریبان کربلا تاریخ رو رہی ہے یہ سرخی لیے ہوئے سیدانیاں ہیں خون کے آنسو پئے ہوئے مانند نبض ڈوبتے لمحات کی قسم بڑھتا گیا تلاطمِ عاشور دم بدم آخر زبانِ عصر سے گونجی صدائے غم معصوم کائنات کا سر ہو گیا قلم خیر البشرؐ کے سینے سے خنجر گزر گیا مقتل میں فاطمہ ؑکا صحیفہ بکھر گیا پانی کی طرح بہہ گیا خون ِرسول پاک ؐ بر چھی سے مرتضیٰ کا کلیجہ ہوا ہے چاک آندھی چلی حدیقۂ زہرا ؑمیں دردناک وحدت کا لالہ زار ہوئی کر بلا کی خاک ذرّے عروج پا گئے فخرِ کلیم ؑسے صحرا میں جان پڑ گئی ذبحِ عظیم سے دیکھا نہیں نگاہِ فلک نے یہ انقلاب کوئی دکھائے اس غم و اندوہ کا جواب گیتی پہ ہے نشیب میں فرزندِ بوترابؑ یا دامنِ بتولؑ میں خوں رنگ آفتاب پہلو میں اقربا کے ہیں لاشے پڑے ہوئے یا خاتمِ وفا پہ نگینے جڑے ہوئے مظلوم کے لہو میں نہائے ہوئے ہیں تیر اسلام کو گلے سے لگائے ہوئے ہیں تیر قرآں کو ہر طرف سے چھپائے ہوئے ہیں تیر انسانیت کا جسم اٹھائے ہوئے ہیں تیر وحدت کو یہ ادائے شہادت پسند ہے نیزے پہ سر ہے، لاش زمیں سے بلند ہے کس بانکپن سے حمد کا پیکر ہے سرخرو جیسے ہوئی ہو بندہ و آقا میں گفتگو آواز دے رہی ہے بریدہ رگِ گلو کس نے کیا ہے خونِ جگر بند سے وضو کافر بھی مان لیں گے صداقت نماز کی اب سجدہ ٔحسینؑ ہے عظمت نماز کی کوئی نہیں جو لاش سے ناوک جدا کرے کوئی نہیں جو غسل و کفن بے وطن کو دے تدفین کے لیے تو کوئی کلمہ گو اٹھے کوئی نہیں جو بنتِ نبیؐ کی دعائیں لے قرآں کو غم ہے حافظِ قرآں خموش ہیں اسلام رو رہا ہے مسلماں خموش ہیں اپنے لہو میں تیر گیا آج وہ بشر سجدے کریں گے اہلِ وفا جس کی خاک پر طے کر گیا وہ عشق کے شعلوں کی رہگزر جو تشنگی سے توڑ گیا، موت کی کمر پیغمبری کا حسن تھا جس کی اداؤں میں وہ سرفروش سو گیا زخموں کی چھاؤں میں کس نے کہا چراغ بجھا اہلبیتؑ کا اب توشفق نے نام لکھا اہلبیتؑ کا باقی رہے گا درسِ بقا اہلبیتؑ کا دیں اہلبیتؑ کا ہے، خدا اہلبیتؑ کا یہ غم نہ مٹ سکے گا دلِ مشرقین سے اب مصطفےٰؐ کا نام چلے گا حسینؑ سے مستقبلِ حیات سنائے گا اب یہ حال مشکل کشائے دین ِخدا ہے علیؑ کا لال صحرا میں جس غریب کی میت ہے پائمال اب حشر تک اسی کی کہانی ہے لازوال کلمہ پڑھیں گے راہِ خدا کے شہید کا اہلِ شعور نام نہ لیں گے یزید کا مقتل کی لازوال شفق میں حیات ہے مظلومیت کے سرخ ورق میں حیات ہے وحدت پسند نظم و نسق میں حیات ہے عاشورِ کربلا کے سبق میں حیات ہے سیرابِ عقل و ہوش ہیں پیاسے فرات کے اب تذکرے رہیں گے حسینیؑ ثبات کے جس کے عمل نے جبر کے بازو کیے ہیں شل جس کی حسام ِصبر نے کاٹا سرِ اجل جس کے بدن نے موڑ دیے برچھیوں کے پھل جس کی نظر نے چھین لیے ابروؤں سے بل اس کا بیاں تصورِ ہستی پہ چھائے گا اب سیّدہ ؑکا لال بہت یاد آئے گا اب ظلم کے خلاف اُٹھیں گے جوان و پیر اب سرکشی سے زیر نہ ہو گا کوئی ضمیر ہتھیار کے پہاڑ ہوں یا لشکرِ کثیر اب ظالموں کی موت ہے مظلومیت کا تیر حق آشنا دلوں میں اتر جائے گا حسینؑ چھپ جائے آفتاب ،نظر آئے گا حسینؑ اب دیکھ لیں گے دولتِ دنیا کے فتنہ گر سر چشمۂ شرافت و عظمت ہے کس کا گھر دہرائیں گے یہ بات سفیران ِخشک و تر اولادِ مصطفےٰؐ سے منور ہیں بحر و بر بدلیں گے رنگ، مشغلۂ شور و شین کے پانی سے اب چراغ جلیں گے حسینؑ کے لاشوں پر رقص کر چکے وحشت نما سوار فریاد کر کے بیٹھ گیا دشت کا غبار مولاؑ کے ساتھ ساتھ موالی ہیں تار تار بر باد گلستاں ہے، تو اجڑی ہوئی بہار قربانیوں کے رنگ حسینی ؑچمن میں ہیں یا ایک ساتھ چاند ستارے گہن میں ہیں گردوں کا چاند کہتا ہے پہنے ہوئے کفن ماتم کناں ہے میرے ستاروں کی انجمن ٹکڑے ہوئے ہیں آج وہ معصوم گل بدن زخموں سے چاک ہو گیا فطرت کا پیر ہن کوئی ضیا نہیں ہے کوئی بندگی نہیں جب فاطمہؑ کا چاند نہیں، چاندنی نہیں یہ کہہ کے رو رہی ہے ندامت بھری فرات پیاسی شہید ہو گئی زہراؑ کی کائنات لکھی ہے کربلا نے وہ تاریخِ حادثات قربان جس پر ساری خدائی کے واقعات تاروں کو حقِّ جلوہ فشانی نہیں ملا انسانیت کے پھولوں کو پانی نہیں ملا یہ بات کہہ کے چھپ گیا مغرب میں آفتاب اب شام کا نصیب ہے اور مستقل عذاب دنیا مٹا سکے گی نہ یہ رنگِ انقلاب مظلوم نے کیا ہے اندھیروں کا سدِّباب پنپے گی اب نہ شام کی ظلمت زمانے میں قائم رہے گی صبحِ رسالت زمانے میں چھوٹی سی ایک قبر سُنائی ہے بار بار مجھ کو عطا کیا تھا مسافر نے شیر خوار بھالے چبھو کے لے گئے ظالم وہ گلعذار بچے کو ذبح کر کے ہنسے ہیں ستم شعار نیزے پہ آشکار جو ننھا گلاب ہے باغ ِحسینیتؑ کا مکمل شباب ہے سجدوں میں کہہ رہے ہیں یہ جلتے ہوئے خیام یا رب کہاں یہ آگ کہاں خانۂ امام حکمِ خدا سے فرض ہوا جن کا احترام اُن آیتوں کو لوٹنے آئی سپاہ ِشام خالق نے جن کو خلعتِ عصمت عطا کیا نامحرموں نے آج اُنہیں بے ردا کیا تپتی ہوئی زمیں کے اشارے میں دم بہ دم خیموں کی گرم خاک ہے اور مجلس حرم ایسا کوئی چمن ہے نہ ایسی بہارِ غم مقتل بنی ہوئی ہے یتیموں کی چشمِ نم میدان میں پڑے ہوئے لاشے نظر میں ہیں دُرّوں کا ہے خیال طمانچے نظر میں ہیں یادوں میں سُن رہی ہے کوئی صبح کی اذاں جھولے کو دیکھتی ہے کوئی سوگوار ماں غالب کسی کے ذہن پہ مشکیزہ و نشاں آنکھوں سے کوئی ملتی ہے عابدؑ کی بیڑیاں ملتے ہیں کتنے حادثے تصویرِ آہ میں بھائی کے خشک لب ہیں، بہن کی نگاہ میں چھائی فضائے دشت پر جب یہ صدائے غم اُٹھی تڑپ کے خاک سے اک پیکرِ الم اسلام کا حصار بنی جنبشِ قدم ہاتھوں کو مل گیا اسد اللہؑ کا بھرم ہمت بڑھی حسینؑ کے احساس کی طرح زینبؑ کو جوش آ گیا عباسؑ کی طرح چادر کی فکر، بچوں کے رخسار کی خراش خود اپنے نونہالوں کی فرقت کا ارتعاش قاسمؑ کا جسم پھول کی مانند پاش پاش ماں جائے کا تڑپتا بدن نو جواں کی لاش یہ سرخیاں جو ایک ہی منظر میں آ گئیں زینب ؑکو احتجاج کا پیکر بنا گئیں سینے کے داغ حوصلۂ تشنگاں ہوئے زخموں کے پُھول عزم وعمل کی زباں ہوئے آنسو نئے سفر کے لیے کہکشاں ہوئے اکبرؑ کا نام لے کے ارادے جواں ہوئے دشوار تھی جو راہ وہ آسان ہو گئی اصغر ؑکی یاد فتح کا عنوان ہو گئی کہنہ لباس، بھائی کی رخصت نگاہ میں رخصت کے وقت، جملہ وصیت نگاہ میں وہ آخری سلام کی نوبت نگاہ میں تازہ لہو خضاب کی صورت نگاہ میں لیکن علاج گردشِ تقدیر بن گئیں زينبؑ غم حسین ؑکی تاثیر بن گئیں لیلیٰؑ کی فکر، بیوہ ٔعباسؑ پر نظر بے چینیاں ربابؑ کی آغوش دیکھ کر سینے میں درد زوجہ ٔمسلمؑ کے حال پر اشکوں کی آگ مادرِ قاسمؑ کی چشم تر طوفانِ رنج دامنِ دل میں چھپا لیا زینب ؑنے خود کو صبرِ مجسم بنا لیا کلثوم کی برستے ستاروں سے گفتگو کانوں سے اک یتیم کے بہتا ہوا لہو اشک ِعروسِ وہبؒ میں قلب وفا کی بو کچھ بیبیوں میں گود کے پالوں کی جستجو کل واقعات اپنی نظر میں بسا لیے زینبؑ نے سب کے غم تنِ تنہا اُٹھا لیے اُٹھے مزاج صبر سے جرأت کے ولولے پیدا ہوئے کمالِ خطابت کے ولولے مجبوریاں نہیں جو قیادت کے ولولے دوڑے لہو میں حفظ ِامامت کے ولولے جیسے حسین ؑآتے تھے آئیں اسی طرح عابد کے سر پہ ہاتھ رکھا باپ کی طرح طوق گراں کو دیکھ کے آئے جبیں پہ بل ہتھکڑیاں دیکھ لیں تو کہا زندگی سنبھل اب خاک ہوں گے شام کے نخوت بھرے محل یہ ظلم ہے حکومتِ مغرور کی اجل بنتِ علیؑ شہیدوں کی آواز ہو گئی زینبؑ کی جنگ آج سے آغاز ہو گئی جشنِ طرب میں لشکرِ اعدا کو دیکھ کر مقتل میں روحِ سیّدِ بطحاؑ کو دیکھ کر چاروں طرف قیامت صحرا کو دیکھ کر عباسؑ کے خیال میں دریا کو دیکھ کر خود ہی جو آ گئے تھے وہ آنسو نکل گئے زہراؑ کی نورِ عین کے تیور بدل گئے مانندِ شب مصیبتِ پیہم کی ایک جھیل ہر سمت آسماں کی طرح درد کی فصیل ہر سانس زندگی کے لیے نوبتِ رحیل ایسی فضا میں جرأت زینبؑ کی سلسبیل عہدِ سلف کا آئینہ حیران ہو گیا بیر الالم کا واقعہ قربان ہوگیا مریمؑ سرشت قلب، جگر حاجرہ مثال معصومیِ نگاہ میں آیات کا جمال مقصد کی تیغ جذبۂ خیر النساء کی ڈھال زخمی کمر سے باندھے ہوئے آتماکی شال یہ طرز ِجنگ حرمتِ قرآن کے واسطے پیغمبریؐ ہے عالمِ نسواں کے واسطے بالوں نے خاک ہو کے بنائی نقابِ رُخ تطہیر کے حجاب نے رکھا حجابِ رُخ رومالِ ہل اتیٰ نے چھپائی کتابِ رُخ غیظ ابوتراب ؑسے نکھرا گلاب رُخ خوف و ہراس کٹ گئے، سیفِ خیال سے پلکوں نے اشک پی لیے رُعبِ جلال سے ہر وسعتِ نگاہ رسالتؐ اثر ہوئی قائد بنی صداقت ِعمراںؑ کی روشنی حاصل ہوئے شعور کو انداز ِجعفری شبیرؑ کے اصول کی تلوار باندھ لی پرچم دیا جو فاتح ِخیبر کے نام نے چومے قدم ارادہ ٔتسخیر ِشام نے سہمی فضا لرزنے لگے ظلمتوں کے بام بنیادِ جبر ہل گئی ٹوٹا غرورِ شام زینبؑ نے زندگی سے کیا اس طرح کلام اب دیکھنا غریب کا خاموش انتقام تکمیلِ صبر و ضبط ہے بیٹی بتولؑ کی شبیرؑ بن گئی ہے نواسی رسولؐ کی دیکھا نگاہِ ارض و سما نے یہ ماجرا حیدرؑ کی لاڈلی ہوئی تقدیر ِکربلا ماتھے کی سلوٹوں سے کھلا عقدہ ٔبقا نظریں اٹھا کے جانب یثرب یہ کہہ دیا امّاں، شکستہ ناؤ کی پتوار دیکھ لو زینبؑ ہے آج قافلہ سالار دیکھ لو قلب و نظر کو محوِ شہیداں کئے ہوئے بے چارگی کو درد کا درماں کئے ہوئے ہر سانس کو مقابلِ طوفاں کئے ہوئے قبضے میں اپنے گردشِ دوراں کئے ہوئے سب غمزدوں کو پاس بُلا کر بٹھا لیا بچوں کو پیار کر کے گلے سے لگا لیا کلثومؑ سے کہا مجھے دیکھو مری بہن میں بھی تو ہوں مسافر و مظلوم کی بہن باقی بہت ہے مرحلہ ٔزندگی بہن آغاز ِانقلاب ہوا ہے ابھی بہن سنبھلو خدا کے دیں کی بھلائی کے واسطے ان آنسوؤں کو روک لو بھائی کے واسطے اٹھو بہن، تحملِ بنتِ نبیؐ دکھاؤ شبیرؑ کی بہن ہو مصیبت میں مسکراؤ مغموم بھاوجیں ہیں، گلے سے انہیں لگاؤ عابدؑ بخار میں ہے ذرا اس کے پاس جاؤ زہراؑ کے مہ لقا کی ضیا اور کون ہے اب وارثوں میں اس کے سوا اور کون ہے پھر کچھ خیال آتے ہی دیکھا اِدھر اُدھر اُٹھے قدم، جلے ہوئے خیموں پہ کی نظر خیمے کی ایک چوب جو دیکھی زمین پر یا بوترابؑ کہہ کے اٹھائی بہ کر وفر دل سے کہا جیے مرا عابدؑ مروں گی میں اُجڑے ہوئے چمن کی حفاظت کروں گی میں کاندھے پہ چوب خیمہ کو رکھ کر کہی یہ بات یہ مرحلہ بھی دیکھ لو اے فاتح فرات کل تم اسی طرح سے پھرے تھے تمام رات اب میں ہوں اور غریبوں کی چھوٹی سی کائنات منزل بڑی کٹھن ہے جگر تار تار ہے عباسؑ اب تمہاری بہن پہرہ دار ہے مقتل کی سمت گیسوؤں والے کو دی صدا اے نورِ عین، یوسف ِکنعان کربلا انداز دیکھو اپنی پھوپھی کے جہاد کا ہاتھوں میں چوب خیمہ ہے اور سر کھلا ہوا زینبؑ نہیں یتیموں کی اک پاسبان ہے اکبرؑیہ امتحان، بڑا امتحان ہے اک گوشئہ زمیں کی طرف دیکھ کر کہا بچو، تمہیں بتاؤ یہ کیا حادثہ ہوا صدقہ اتارنے سے بھی زینؑب کو کیا ملا امّاں کا باغ لُٹ گیا بھائی نہیں رہا دیکھو تو آ کے عون و محمدؑ کہاں ہوں میں کیوں مجھ سے بے خبر ہو تمہاری تو ماں ہوں میں قاسمؑ کی یاد آتے ہی یاد آ گئے حسنؑ نظروں میں پھر گئی وہ لہو سے بھری لگن تھا سامنے بھتیجے کا بکھرا ہوا بدن نکلے زبانِ پاک سے برجستہ یہ سخن ہر سمت ٹکڑے ٹکڑے ورق زندگی کا ہے بیٹا، تمہاری طرح کلیجہ پھوپھی کا ہے ناگاه پاس آ کے یہ فضہؓ نے کہہ دیا اے وارثِ شرافت ِزہراؑ غضب ہوا گم ہو گئی امانتِ مظلومِؑ کربلا کیا جانے کس طرف گئی معصوم مہ لقا بچی ہے، اس اندھیرے میں دہشت سے مر نہ جائے جلدی تلاش کیجے سکینہؑ گزر نہ جائے یہ سنتے ہی تڑپ گئیں زہرا ؑکی یادگار تاریکیوں کو دیکھ کے بولیں بہ اضطرار اے رات ہم غریبوں کی دولت سے ہوشیار صحرا میں کھو نہ جائے شہیدوں کی سوگوار سناٹا بڑھ رہا ہے قیامت بپا نہ ہو اے رات ہم سے پیاری سکینہؑ جدا نہ ہو تارو،خیال رکھنا وہ رستہ نہ بھول جائے کمسن ہے تیز چلنے میں ٹھوکر کہیں نہ کھائے اے آسماں، طمانچہ نہ کوئی اسے لگائے معصوم بے پدر ہے پریشاں نہ ہونے پائے اولادِ فخرِ خضر ؑہے صحرا خبر رکھے عباس ؑکی بھتیجی ہے دریا خبر رکھے اتنا کہا تو جانب مقتل اٹھے قدم قربان ہر قدم پر ہوئی شدّتِ الم لاشوں کے ساتھ جوش میں آئی فضائے غم عابدؑ پکارے کس لیے اب جی رہے ہیں ہم اپنی پھوپھی کے کام بھتیجا نہ آ سکے چھوٹی بہن کو ڈھونڈ نے بھائی نہ جا سکے زینب قریب گنجِ شہیداں جو آ گئیں آواز دی کہاں ہو مری غمز دہ، حزیں مرتی ہے بنتِ فاطمہ ؑکیوں بولتی نہیں لپٹی ہوکس کی لاش سے اے میری مہ جبیں دشمن ہے وقت، سانس بھی خنجر کی دھار ہے آواز دو سکینہؑ ، پھوپھی بے قرار ہے اٹھیں جو ایک سمت سے معصوم ہچکیاں بے تاب ہو کے ثانی ٔ زہرا گئیں وہاں دیکھا تو ایک لاش ہے مانندِ گلستاں جیسے لہو میں ڈوب کے بکھری ہو کہکشاں بچی ہے اشک بار سرِ لاش اس طرح بکھرے ہوئے گلاب پہ شبنم ہو جس طرح زینب ؑ نے چشم ِضبط سے دیکھا یہ حالِ غم آغوش میں اُٹھا کے یہ پوچھا بصد اَلم بیٹی بتاؤ تم کو اسی لاش کی قسم کیسے یقیں ہوا کہ یہی ہیں شہِ اُمم تنہا اندھیری شب میں یہاں کیسے آ گئیں بیٹی، بتاؤ لاش پدر کیسے پا گئیں بچی نے تھر تھراتے لبوں سے کیا کلام کب ختم ہوگی اے پھو پھی مّاں یہ غم کی شام چلتی تھی بابا جان کی گردن پہ جب حسام اس وقت آپ ہی نے بتایا تھا یہ مقام ٹیلے پہ چڑھ کے آپ نے دیکھا تھا اس طرف بابا کا سر بھی نیزے پہ اُبھرا تھا اس طرف کیا پوچھتی ہیں آپ سکینہ ؑکا حال ِزار لایا ہے اس مقام پہ مجھ کو پدر کا پیار یہ خون کی کشش تھی جو کہتی تھی بار بار اس لاش کو گلے سے لگانے میں ہے قرار پہچانتی کہاں جسدِ پاک دیکھ کر مجھ کو یقین آ گیا، پوشاک دیکھ کر بچی کے اس بیان پہ زینب ؑکے دل کا حال ہمت کی انتہا کہوں، یا صبر بے مثال ماحولِ قتل گاہ نے اتنا کیا سوال کیا اس طرح بھی ہوتا ہے زخموں کا اندمال اُمتّ کہاں پہ آلِ محمدؐ کو لائی ہے کیا ایسی کوئی رات کسی گھر پہ آئی ہے آخر لبِ نگاہ سے میّت کو چوم کر زینبؑ چلیں سکینہؑ کو لے کر بچشمِ تر آئیں وہاں جہاں تھا اسیروں کا مستقر بیمار نے جھکا دیا سجدے میں اپنا سر سجدے سے سر اٹھا کے نہ روئے نہ آہ کی عابد ؑنے آسماں کی طرف اِک نگاہ کی ایسی نگاہ، شکر کا محور کہیں جسے شکووں کے بدلے حمدِ الٰہی میں لب ہلے سوکھی ہوئی زباں سے یہ جملے ادا کئے تو جس پہ خوش ہواے مرے مولا وہ صبر دے غالب رہیں غموں پہ غریبانِ کربلا یارب ،ترے سُپرد یتیمانِ کربلا اتنے میں اک طرف سے ہوئی روشنی عیاں جس روشنی سے سینوں میں اٹھنے لگا دھواں لشکر سے آئی زوجۂ حُر ؓسوئے بیکساں آب و غذا کی بات ہوئی محشر ِفغاں دل پھٹ گئے ستم کی نشانی کو دیکھ کر پیاسوں نے منہ پھرا لیے پانی کو دیکھ کر لیکن کمالِ ضبط سے بیمارؑ نے کہا لازم ہے سب کے واسطے اب حرمتِ غذا پانی پئیں تمام، بصد شکر ِکبریا ہر حال میں عزیز ہے اللہ کی رضا ڈر ہے کوئی قدم سببِ خودکشی نہ ہو ہاں اہلبیتؑ، شانِ وفا میں کمی نہ ہو مجبور ہو کے سب نے جو دیکھا سوئے طعام تصویر ِاشک بن گئے مقتول تشنہ کام آیالبِ رباب ؑپر اک بے زباں کا نام لیلیٰؑ کو یاد آ گیا اپنا مہِ تمام ایسے میں بے قرار کلیجے کو تھامنے عباسؑ پھر رہے تھے سکینہؑ کے سامنے زینب ؑکے دست ِپاک پہ آیا جو ظرفِ آب ماں جائے کے گلے سے ملا دل کا اضطراب خاموش اک سوال تھا خاموش اک جواب لیکن بتا گیا یہ تقاضائے انقلاب جینا پڑا جو مقصدِ شبیر ؑکے لیے زینبؑ نے پانی پی لیا تشہیر کے لیے قیصر بیان شام ِغریباں محال ہے تحریر کر سکے کوئی انساں، محال ہے لائے جواب ِگردشِ دوراں محال ہے یوں بھی کسی کا گھر ہو پریشاں، محال ہے ہر زندگی کو ظلم سے لڑنا سکھائے گی اب تا بہ حشر شام ِغریباں نہ جائے گی