زوجین میں بہتے آئینے -١
عجوبہ بارشیں برس گئیں..... آج احساس ہوتا ہے کہ وہ تمام کی تمام مجھ میں قائم ہیں کہ ان کا چپہ چپہ ، بوند بوند ، مجھ میں اور میرے لہو کی اوٹ میں موجود ہے، کسی ہم زادستارے کے طلوع ہونے کے انتظار میں ..... ہر رات میرے لہو میں یہ بارشیں برستی ہیں اور تھم جاتی ہیں برستی ہیں اور ستارے کا نمونہ پا کر تھم جاتی ہیں میں اپنے لہو کے امکان میں ایک اُجلے اجلائے ، دھلے دھلائے ستارے کا طالب اس برس کا ہر لمحہ اپنے میں قائم رکھتا ہوں مگر بارشیں برستی ہیں اور تھم جاتی ہیں عجو بہ بارشیں جو برس گئیں اور اب ان تمام کی تمام کا مجھ میں مجمع ہے مگر ایک شب جب یہ بارشیں تھم جائیں گی ، اور زوجین کا آخری اجماع ہوگا تو پھر میرا ہم زادستارہ آئے گا اور میرے لہو کی اوٹ میں قائم ان بارشوں کا چپہ چپہ بوند بوند ، آئینہ آئینہ بن کر کھل جائے گا قدم پرے کا سمندر گُھل جائے گا اور میرالو ہوز وجین میں بہتے ان آئینوں کا عکس ہوگا میدان میں سمتوں کا اول رقص ہوگا شجرشجر پرندہ ساکت نقش ہو گا..... دریا تو ازل کے اول بندے ہیں اور سدا سے بہتے آئے ہیں مگر کتنی بارشیں ہیں کہ مجھ میں برس گئیں ہم زاد ستارے کے انتظار میں.....