قصّۂ شجر ِاسیر
یہ قصہ اُن دنوں کا ہے جب اندھی چڑیا جوان تھی اور مور بولتے تھے ۔ میری زندگی میں پہلا پرندہ مور بولا تھا آبائی میدان جہاں زمیں کے ساتھ ہمیشہ سے موجود جنگل سے جا ملتا تھا وہاں ایک گھر تھا جس کی سفید محرابوں کے درمیاں ہم رہتے تھے، محرابوں کی فضا کے پار ایک باغ تھا جو کچھ دور گھنے جنگل کی گہرائی سے جاملتا تھا، چاندی کرنوں اور سورج کی روشنی میں محرابوں کے سائے میدان سے آٹھ درختوں کی سمت مائل ہونے پھر تپتی دوپہروں سیاہ سی راتوں میں جنگل عود کر آتا اور ہماری محرابیں ہم کو چھپائے ہمارے اُٹھنے کا انتظار کرتی تھیں میری چاپ سے گہرائے سدا سائے میں آٹھوں پہر مور بولتے جن کی آواز ہماری پیشانیوں سے سرگوشیوں میں کہتی تھی کہ دیکھو بچو اس میں تمہارےباغ کی ایک حد بھی ہے پھر شام کی آنکھ جب ہمارے سورج مکھی کو اک جدا نام تارے کے حوالے کر گل ہو جاتی اور ہم جنگل کے اسیر ہوتے تو والدہ کی آواز اونچی چھت والے کمرے میں کہانی کہتی رات کو دھیمی سبز جلا دیتی اور یہ سورج مکھی چہرہ اپنی کالی گوٹ کی عنابی دلائی اوڑھے ہماری آنکھوں سے مخاطب ہوتا ان گول حیرت زدہ حجروں پیچھے اب میرا دماغ مجھ کو پہچا نتا ہوا جھانکتا تھا پھر ان کی آنکھیں ہوتی تھیں جن کا پیار ان کی آواز کو جانتا تھا اور ساتھ کی وسعت کے تلے ایک چھپر کھٹ پہ ، جنگل سے چھن کے آئے اندھیرے میں، بزرگوں کا لہورات بھر کے لیے پرکھوں کے چہرے گردانتا تھا سکوت کو اپنے رب کا گیان تھا بچوّ سات سمندر پاراک شاہ زادہ تھا ہم پوچھتے کھلتی آنکھ تمہارے میدان میں شہزادہ نہیں صد آن کے ہوتے تھے بیٹا بڑے خوب سیرت شاہ زادے تھے، نئی ہوا میں گھوڑے دوڑاتےنت نئی خوشبو کو پاتے تھے یک بہ یک ہوا پلٹ گئی عظمت کی یاد نے عظمت کو کھو دیا، عزت و غیرت قناعت ہاتھوں سستی کے بازار بکی اور ہمارے میداں کے راستوں نے بیتی خزاں کو یاد کیا اس تمہارے آبائی میدان میں میرے بچپن تک ہر رت میں جب شام کا سایہ ڈھلتا تھا تو کہیں سے ایک آواز بیتی خزاں کو یاد کر تی سنی جاتی تھی یہ آواز میں نے خود سنی ہے شاہ زادوں نے بھی سنی ہوگی جب ہوا پلٹی تو وہ بھی اس کے ساتھ لوٹ گئے رات سکوں کا پیوند ہوئی ہم پوچھتے دھڑکن اب یہ ہوا کہاں رہتی ہے سمندر کی دوسری مانگ میں پوشیدہ اک ساحل ہے وہاں رہتی ہے تمہارے اشارے کے انتظار میں کہ فسوں ٹوٹے تو وہ لوٹ آئے کہ فسوں ٹوٹے تو وہ تم تلک لوٹ آئے ہمارے لہو میں نیند کی سیاہی آتی سہمی سہی روشنی کچھ اور کم ہوتی سبز سائے سے اعلان ہوتا کہ صبح کی روشنی کو دیکھ کے بکھرے عفریت اب پھر سے جمع ہوتے ہیں کالے کالے چاند میں ناچیں گے کالے سورج کی طلب کریں گے بے داغ چہرہ دوشیزگی کا جسم لیے پرندے ڈار بنا کے اُڑیں گے زمیں میں قہر پھوٹے گا آسماں کھو جائیں گے اندھیرے میں پتھر ادھیڑنے کو عفریت پھر سے جمع ہوتے ہیں کالے چاند میں ناچیں گے کالے سورج کی طلب کریں گے بے باک نور کے انتظار میں ہم سو جاتے (طویل نظم سے اقتباس)