صلاح الدین محمود

صلاح الدین محمود

زوجین میں بہتے آئینے -۲

    تمہیں آسمان سمجھ میں آیا ہے ..... تم کو شجر کی نس کا سایا ہے یا نہیں! تم پانی ہو یا خاک اور کیا ، ان جانی رنگت جنبش سے سیاہ سمتیں چاک کیا تم نے چاند کو اپنایا ہے اور سورج تمہارےلہو کے کناروں کو نہ بھایا ہے اور کیا ، تارے تمہاری اولاد ہیں یا تمہاری اولاد کی یاد کیا تمہاری اقلیم کے چٹیل میدانوں میں غروب وطلوع یک جان ہیں اور بارش ہوا کا کھویا ہوا ایمان اور کیا دریا کے گمان نابینا سمتوں میں رواں طائر جان اور انجان کی حدوں پر حیران مجھ میں تو فقط آگ بن سایا ہے اور ہوا کا انگ راکھے دن میرے شانوں پر ابد تلک رقم آیا ہے..... ان شانوں پرے، میرے بازوؤں میں ، دریا کا ہر گزر اس طرح چھایا ہے کہ جیسے میرے پوروں سے، چاند کا ہم زاد، ٹپک ٹپک کر اور قطره بہ قطره ، غنچہ بہ غنچہ یہ سمندر کا چلن میری آنکھوں کے سہارے مجھ میں سالم سمایا ہے ..... تمہیں آسماں سمجھ میں آیا ہے یا زمین، تم کو شجر کی نس کا سایا ہے یا نہیں!