وحید الحسن ہاشمی

وحید الحسن ہاشمی

ان کی یادوں کا خزانہ ہے مرے سینے میں

    ان کی یادوں کا خزانہ ہے مرے سینے میں دیکھ لیتا ہوں انہیں قلب کے آئینے میں ذکر ِسرکارِؐ دو عالم ہے بڑے کام کی چیز دولتِ دیں ہے اسی ذکر کے گنجینے میں موت ہے آپ کی دہلیز سے دُوری مولاؐ ہو مدینہ تو بڑا لطف ہے پھر جینے میں آب ِکوثر میں بھی شاید نہ ملے ایسا سرور جو مزہ آیا مئے حُبِّ نبیؐ پینے میں ایک دن ہو تو کہوں عمر ہی کُل بیت گئی چاکِ دامانِ غمِ ہجر ِنبیؐ سینے میں لوگ خاکی ہیں مگر نورِ مجسم ہیں رسولؐ نور آ سکتا نہیں خاک کے تخمینے میں میں یہ سمجھوں گا یہی زیست کا حاصل ہے حضور ؐ روز اک نعت ملے غیب سے روزینے میں جلوهٔ قلب پیمبرؐ کا یہ دیکھو تو کمال چودہ تصویریں نظر آئیں اِک آئینے میں