خونِ تبسم
عالم پہ ہے محیط محبت کی روشنی وجہِ بقائے جاں ہے اخوت کی روشنی انسانیت کا نور ہے اُلفت کی روشنی انسان کو پسند ہے قربت کی روشنی سوز ِولا دلوں کے دھڑکنے کا نام ہے یہ دردِ دل نہ ہو تو بشر ناتمام ہے یہ دَرد آدمی کو بناتا ہے آدمی یہ دَرد ذہن و فکر کو دیتا ہے روشنی یہ دَرد ناپتا ہے نفس کی روا روی یہ دَرد انبساط ہے یہ دَرد گُدگدی طے ہو زمیں سے عرش کا رستہ اک آن میں اس دَرد سے شگاف پڑے آسمان میں اُلفت جہادِ نفس ہے بے چارگی نہیں اُلفت فروغِ صبح ہے تیرہ شبی نہیں اُلفت کمالِ ہوش ہے وارفتگی نہیں اُلفت خودی کا نام ہے یہ بیخودی نہیں قاتل کے دل سے ہمتِ پیکار چھین لے اُلفت قضا کے ہاتھ سے تلوار چھین لے روزِ ازل سے شمعِ محبت ہے ضوفشاں ہر دل میں کوندتی ہیں محبت کی بجلیاں اس لطف ،اس خیال سے انسان ہے جواں تابِ سخن نہیں ہے مگر کہہ رہا ہے ہاں میزانِ اشتیاق میں دل تولتا ہے وہ قلب و نگاہ چُپ ہیں مگر بولتا ہے وہ پھیلے ہوئے ہیں نخلِ محبت کے برگ و بار آ کر وفا کے باغ سے جاتی نہیں بہار پی کر شرابِ عشق اترتا نہیں خمار گھٹتی ہے دل کی تاب تو بڑھتا ہے اعتبار سیلابِ شوق وقت کے دھاروں کو روک دے انسان آسماں کے ستاروں کو روک دے یہ کائنات محو ہے توصیفِ ناز میں آئینہ گم صنعتِ آئینہ ساز میں شانِ عجم ہے غرق نشانِ حجاز میں اللہ بے نیاز محمدؐ نماز میں جویائے ظرفِ خاص ہے یاد ِخدا کی لاج پیشانیٔ رسولؐ نے رکھ لی وفا کی لاج حُبِّ خدا ہے اصل میں انسان کا مآل نسبت یہ دائمی ہے رعایت یہ لازوال اس کی کشش جنوب ہے، اس کا اثر شمال تقویمِ معرفت میں ہے اک پل ہزار سال باہر ہے یہ زمان و مکاں کی قیود سے بجلی یہ کھیلتی ہے سحابِ درُود سے حُبِّ خدا ہے ذہن کی تخریب کا علاج قائم ہے اس نظام سے کونین کا مزاج قلبِ بشر پہ اس کی عنایات کا ہے راج پلتا اسی کی گود میں ہے اُخروی سماج اس کے بغیر خاک ہے پتھر ہے آدمی یہ دم کے ساتھ ہو تو پیمبرؐ ہے آدمی حُبِّ خدا ضمیرِ دو عالم کی آس ہے ہے جہل سے یہ دُور فراست کے پاس ہے یہ وہم کی فضا میں تیقن اساس ہے دینِ خدا ہے جسم محبت لباس ہے ہے رازِ حق یہ صاحب ِادراک کے لیے پیکر کو خلق کر دیا پوشاک کے لیے جس کا شعور الفتِ حق سے ہے ضو فگن اس کی نگاہ خلد ہے اس کی نظر عدن ہو عازمِ جہاد تو سالار صف شکن مصروف ِگفتگو ہو تو کِھلنے لگیں چمن جملہ حسیں ہو جلوۂ مقبول کی طرح ہر لفظ کھل کھلا کے ہنسے پھول کی طرح جس کو نہیں خدا کی محبت سے کچھ لگاؤ بحرِ گماں میں ڈولتی ہے جس کے دل کی ناؤ ہے جس کے دل کا راہنما وقت کا بہاؤ جس کے جگر پہ خنجر ِتشکیک کا ہے گھاؤ ہنگامِ نزع چشمِ دروں کھولتا ہے وہ عادت نہیں ہے سچ کی مگر بولتا ہے وہ یہ وہم ہے کہ حق کو نہیں مانتا بشر محسن کے پائے ناز پہ کیوں کر جھکے نہ سر کیسے یقیں نہ آئے جو راوی ہو معتبر آنکھیں کھلی ہوئی ہوں تو آئے نہ کیوں نظر پیدا اگر ہے عشق تو عاشق ضرور ہے تخلیق کہہ رہی ہے کہ خالق ضرور ہے لیکن سوال یہ ہے کہ غائب ہے حق کی ذات دیکھے بغیر کیسے محبت کو ہو ثبات کوئی تو ہو کہ جس سے کہے دردِ دل کی بات مقصود سامنے ہو تو بوجھل نہیں حیات کردار بے اثر ہے کہانی نہیں اگر پیاسا اَجل نصیب ہے پانی نہیں اگر کوئی سُنے تو عقل یہ کہتی ہے بار بار لازم نہیں کہ دید پہ اُلفت کا ہو مدار دیکھا ہے کب کسی نے نگاہوں سے دل کا پیار پنہاں نظر کا نور ہے لیکن ہے اعتبار کیفیتوں کو قلب کی پہچانتے ہیں لوگ ظاہر نہیں ہے درد مگر مانتے ہیں لوگ یوں ہی خدا کو دہر کی عظمت سے مانیئے کعبےکو لا اِلَہ کی نسبت سے مانیئے قرآن کو علوئے بلاغت سے مانیئے اللہ کے رسولؐ کو عترت سے مانیئے دعوے ہوں لاکھ قلب میں بُوئے وفا نہیں حُبِّ نبی ؐ نہیں ہے تو حُبِّ خدا نہیں حُبِّ نبیؐ جمالِ خدا کا نشان ہے یہ جسمِ اہتمام دو عالم کی جان ہے نشرِ علومِ مذہبِ حق کی زبان ہے حُبِّ نبیؐ نماز خدا کی اذان ہے جس دل میں یہ نہیں ہے وہ دل دل نہیں رہا انسان اعتبار کے قابل نہیں رہا حُبِّ نبیؐ حیات کو دیتی ہے حوصلہ یہ رہبرِ سفر ہو تو چلتا ہے قافلہ دل میں یہ جاگزیں ہو تو بڑھتا ہے ولولہ ہٹ جائے یہ تو دہر میں آ جائے زلزلہ کون و مکاں الگ ہوں اگر اس مکین سے ٹکرائے آسماں کی بلندی زمین سے حُبِّ رسولؐ فکر میں لاتی ہے انقلاب کرتی ہے یہ زمین کے ذروں کو آفتاب اس کی عطا ہے بحر تو اس کا کرم سحاب چاہے تو یہ ببول سے کِھلنے لگیں گلاب بہرِ ثبوت سنگ و شرر بولنے لگیں اس کی رضا ملے تو شجر ڈولنے لگیں جیتے ہیں جو نبیؐ کی محبت میں صبح و شام وہ نائبِ امام ہیں، وہ قائدِ عوام ان کا ہر اِک غلام ہے، وہ خود نہیں غلام کرتے ہیں آسماں کے ستارے انہیں سلام ڈرتے ہیں آسمان و زمیں ان کی جاہ سے کرتے ہیں وہ دلوں پر حکومت نگاہ سے حُبِّ رسولؐ حق کی عبادت کا ماحصل اہلِ وفا کے قلب میں کِھلتا ہے یہ کنول ٹوٹے ہوئے دلوں کو بناتی ہے یہ محل اس کی کوئی مثال نہ اس کا کوئی بدل سارے جہادِ عصر کے معیار کاٹ دے چاہے تو شاخِ گل سے یہ تلوار کاٹ دے یہ رحمتِ کمال کا ہے اک حسیں بدن یہ چہرۂ بقائے مسلماں کی ہے پھبن یہ ہے خلوصِ بندۂ مومن کا بانکپن یہ جنگ میں حسینؑ ہے، یہ صلح میں حسنؑ چشمِ چمن ہیں عصمت و عفت کے پھول ہیں دونوں پسر نواسۂ حُبِّ رسولؐ ہیں دونوں ہیں نازِ رحمتِ خلاق دو جہاں دونوں ہیں سیرتِ نبویؐ کے مزاج داں دونوں علیؑ کا جسم ہیں، دونوں علیؑ کی جاں دونوں زبانِ فاطمہؑ زہرا کے ترجماں دونوں کے رنگ رُوپ ہیں لیل و نہار میں دونوں کی نکہتیں ہیں خدا کی بہار میں ان کا ہر ایک فعل براہِ صواب ہے ان کا ہر ایک نقشِ قدم کامیاب ہے ان کی نگاہ جلوہ گہِ انقلاب ہے ان کی ہر ایک بات خدا کی کتاب ہے دینِ خدا کا آج بھی یہ امتیاز ہے ان کی وَلا نہیں ہے تو باطل نماز ہے زیبِ جہاں ہے اُلفتِ آلِ نبیؐ کا نور یہ منزلِ سجود میں مومن کا ہے غرور اس سے ملا ہے دہر کو توحید کا شعور یہ قلب سے قریب ہے یہ ہے نظر سے دُور وارث ہے یہ جہاں میں خدا کی کتاب کا یہ معجزہ ہے ذہنِ رسالت مآبؐ کا آلِ نبیؐ کی چاہ میں ڈوبی ہے کائنات حسنِ یقیں لیے ہے مسلمان کی نجات اتنا ہوا بلند مزاجِ ره حیات کرنے لگے زمین کے ذرّے فلک سے بات پڑھتے ہوئے درُود حفاظت کے واسطے اترے ملک زمیں کی زیارت کے واسطے دریائے معرفت کی روانی ہیں اہلِ بیتؑ دنیا اگر ہے آگ تو پانی ہیں اہلِ بیتؑ بھر پور مصطفیٰ ؐکی جوانی ہیں اہلِ بیتؑ اک عالمی سماج کے بانی ہیں اہلِ بیتؑ کعبہ صفت مرقعِ اہلِ نظر بنے سمٹے یہ کائنات تو زہراؑ کا گھر بنے سازِ ازل کی زمزمہ خوانی ہیں اہلِ بیتؑ جو ختم ہی نہ ہو وہ کہانی ہیں اہلِ بیتؑ پیغمبرِؐ خدا کی نشانی ہیں اہلِ بیتؑ قرآن مصطفیٰ ؐہیں، معانی ہیں اہل بیتؑ یہ رازدارِ وحی ِرسالت مآب ؐہیں یہ حاملِ کتاب نہیں خود کتاب ہیں تہذیبِ حریت کا فسانہ ہیں اہلِ بیتؑ آزادیٔ بشر کا ترانہ ہیں اہلِ بیتؑ زُلفِ رہِ حیات کا شانہ ہیں اہلِ بیتؑ جس میں تھکن نہیں وہ زمانہ ہیں اہلِ بیت مقدور چھین لیں نگہِ کائنات کا چاہیں تو یہ بدل دیں مقدر حیات کا قانونِ ارتقائے محبت ہیں اہلِ بیتؑ سینے میں دل ہے دل کی حرارت ہیں اہلِ بیتؑ انسان کے لبوں کی مسرت ہیں اہلِ بیتؑ ہر دور کے بشر کی ضرورت ہیں اہلِ بیتؑ مخلوق پر عذاب کی صورت نہ آئے گی جب تک زمیں پہ یہ ہیں قیامت نہ آئے گی تخلیق کردگار کا حاصل ہیں اہلِ بیتؑ ہر جادۂ حیات کی منزل ہیں اہلِ بیتؑ ناقص بشر کا ذہن ہے کامل ہیں اہلِ بیتؑ یہ کائنات دل ہے رگِ دل ہیں اہلِ بیتؑ خلاقِ دو جہاں کے ہنر کا کمال ہیں ذاتِ خدا کے بعد یہی لازوال ہیں جس دل میں حُبِّ آلِ نبیؐ کی نہیں اساس وہ دوستی سے دُور ہے، وہ دشمنی کے پاس ہے اس کے جسم پر ہوس و حرص کا لباس وہ پھول کاغذی ہے کہ اس میں ہے بُو نہ باس جس میں نبیؐ کی آل کا ایمان ہی نہیں مومن تو کیا وہ قلب مسلمان ہی نہیں ایمان ہے وفا کی شعاعوں سے تابناک ایمان ہے نفاق کی آلودگی سے پاک ایمان ہے شہید کا مقتل میں انہماک ایمان کے خمیر میں ہے کربلا کی خاک مرکز بنی زمین و زماں کی نگاہ کا اس خاک کو ملا ہے شرف سجدہ گاہ کا راہِ وفا کی منزلِ تکمیل، کربلا اک عہدِ انقلاب کی تشکیل، کربلا بزم ِجہاں میں امن کی قندیل، کربلا اجمال اہلِ بیتؑ ہیں تفصیل، کربلا ایماں کا یہ نجف ہے مدینہ ہے دین کا ہے قلبِ کائنات یہ ٹکڑا زمین کا دنیا میں آسمانِ شجاعت ہے یہ زمیں اک رزم گاہ ِجذبۂ ہمت ہے یہ زمیں مہر و مہ و نجوم کی قسمت ہے یہ زمیں رہتے میں انتخاب ِمشیت ہے یہ زمیں ذی شان ہے زمیں نہ فلک ارجمند ہے جس کو غمِ حسین ؑملے وہ بلند ہے ایمان کی زباں ہے کلامِ غمِ حسینؑ ایمان کی صدا ہے پیام غمِ حسینؑ ایمان کا عروج مقامِ غمِ حسینؑ ایمان جی رہا ہے بنامِ غمِ حسینؑ یہ غم نہیں تو قہر ہے ظلمت ہے جبر ہے سینے میں دل نہیں ہے عداوت کی قبر ہے ایمان صبر سبطِ پیمبرؐ کا نام ہے ایمان ضبطِ عابدؑ مضطر کا نام ہے ایمان زخمِ سینۂ اکبرؑ کا نام ہے ایمان بے زبانی اصغرؑ کا نام ہے یوں طے کیا صغیرؑ نے رستہ ثبات کا اب تک دھڑک رہا ہے کلیجہ حیات کا اصغرؑ کتابِ کرب و بلا کا حسین باب جس کی جبینِ عزم سے اُبھرے ہیں انقلاب چہرہ تھا جس کا عرش سے اُتری ہوئی کتاب توقیر میں حسینؑ شجاعت میں بوترابؑ انجام دیکھ دیکھ کے ہر اک شہید کا جھولے میں جرم تول رہا تھا یزید کا ننھے سے دل میں شوقِ شہادت لیے ہوئے آنکھوں میں دو جہاں کی قیادت لیے ہوئے چھوٹا ساقد ہے وقت کی قامت لیے ہوئے چھ ماہ میں ابد کی مسافت لیے ہوئے قبضہ کیے ہوئے ہے حیات و ممات پر جھولے میں ہے، نظر ہے مگر کائنات پر اس کم سنی میں جوشِ نمودِ وفا بھی ہے بد باطنوں کے شرِّ مرض کی دوا بھی ہے پیشِ نگاہ دہر کی خوئے جفا بھی ہے بچہ مگر یہ جان رہا ہے، خدا بھی ہے اذنِ وغا ملے جو شہِ خوش خصال سے اصغر ؑملا دیں قطب جنوبی شمال سے بیٹے کے پاس ماں کی محبت تھی اشک بار جھولے میں سر جُھکا کے کیا آنسوؤں نے پیار دیکھی جو اپنے سامنے لٹتی ہوئی بہار پڑھنے لگی وہ سورۂ الحمد بار بار ہر اک خیال روئے پسر سے لپٹ گیا آنکھیں پھریں تو ماں کا کلیجہ اُلٹ گیا پھرنے لگی نظر میں مدینے کی وہ فضا صغراؑ کی گود میں علی اصغرؑ کا کھیلنا ٹوٹے ہوئے دلوں کی تسلی کو اقربا دنیا ربابؑ کی تھی زمانہ ربابؑ کا لیکن یہاں نہ ضبط نہ کوئی نظام ہے خیمے کے در پہ صبح ہے، خیمے میں شام ہے پڑھ کر درُود کرنے لگیں مشکلوں کو رَد چپ ہو کے دیکھتی رہیں ضبطِ پسر کی حد دل ہو گیا اداس اُلجھنے لگی خرد بچے پہ ہاتھ رکھ کے کہا یا علیؑ مدد میزانِ جاں کنی میں نگاہوں کو تول کے چُوما گلا، پسر کا گریبان کھول کے آنچل سے اپنے صاف کیا چہرۂ پسر ماتھے کی ہر لکیر بنی مرکز ِنظر بچے نے دُودھ اُگل کے جو دیکھا اِدھر اُدھر کیا جانے کیا گزر گئی قلبِ رباب ؑپر خوشیاں غمِ حیات کی تلخی میں گھول دیں سہلا کے مٹھّیاں علی اصغرؑ کی کھول دیں سلجھا کے احتیاط سے بیٹے کے سر کے بال چُومے جگر سنبھال کے لختِ جگر کے گال بیٹے کی پیاس بن گئی ماں کے لیے سوال مَنت کی ہنسلیوں کو جو دیکھا ہوئیں نڈھال بیٹے سے حسرتِ دلِ مضطر نہ کہہ سکیں چاہا، کہیں زبان سے اصغرؑ، نہ کہہ سکیں طوفان اٹھ رہا تھا کلیجے میں مستقل دیکھے جو خشک ہونٹ ہوا قلب مضمحل خود اپنے لب کیے لبِ اصغرؑ کے متصل خوشبو ملی پسر کی تو اُلجھا کچھ اور دِل باہیں گلے میں ڈال کے ارماں نکال کے رونے لگیں ربابؑ کلیجہ سنبھال کے ننھی سی جان پر جو کیا ہچکیوں نے وار سمجھی یہ ماں کہ ختم ہوا موسمِ بہار کُرتہ بدل کے لختِ جگر کا کیا جو پیار جھولے کے ساتھ ہلنے لگا عرشِ کردگار خطرہ ہے یا حسین ؑپیمبرؐ کے دین کو اصغرؑ گرے زمیں پہ بچا لو زمین کو