جی چاہتا ہے مدحِ پیمبرؐ کی بات ہو
جی چاہتا ہے مدحِ پیمبرؐ کی بات ہو دل کی زمیں پہ نور کے پیکر کی بات ہو گونگے معاشرے میں سخنور کی بات ہو مے نوش تشنہ کام ہیں کوثر کی بات ہو ایسا سرورِ عشق کا ساغر ہو سامنے پیاسوں کے لب ہلیں تو سمندر ہو سامنے محبوبِ کبریا کی ثنا کر رہا ہوں میں حکمِ وفا ملا ہے وفا کر رہا ہوں میں پوچھو نہ جوشِ عشق میں کیا کر رہا ہوں میں اک فرضِ مستقل ہے ادا کر رہا ہوں میں اس سے گریز فکر و نظر کی ممات ہے یہ ذکر ہو رہا ہے تو سمجھو حیات ہے میں سوچتا ہوں پہلے لکھوں انبیاؑ کا نام کہتا ہے یہ قلم کہ لکھو مصطفےٰؐ کا نام کتنا عظیم ہے پسرِ آمنہؑ کا نام اس نام سے چلا ہے جہاں میں خدا کا نام یہ فیصلہ ہے شرعِ مبین و متین کا دینِ خدا ہے نام محمؐد کے دین کا آیات کا نزول نوائے رسولؐ ہے ہر آسماں نگاہِ گدائے رسولؐ ہے عرشِ بریں حکایتِ پائے رسولؐ ہے کون و مکاں میں جو ہے برائے رسولؐ ہے سہرا ہے ایک فخر کا دونوں کے بخت پر منبر پہ میں ہوں اور سلیمانؑ ہیں تخت پر آئے حضورؐ دہر میں حق کا نشاں ملا انساں کو غم کی دھوپ میں اک سائباں ملا قرآن کو مفسر ِلفظ و بیان ملا تاریخِ کائنات کو تاریخ داں ملا ہر ارجمند سے بخدا ارجمند ہیں معراج کہہ رہی ہے یہ سب سے بلند ہیں