وحید الحسن ہاشمی

وحید الحسن ہاشمی

دنیا کو کچھ خبر نہیں کتنا اثر کیا

    دنیا کو کچھ خبر نہیں کتنا اثر کیا داغِ غم حسینؑ نے ہر دل میں گھر کیا اصغرؑ کا دیکھئے تو ذرا شوقِ کربلا کھلتے ہی ماں کی گود میں آنکھیں سفر کیا کس نے بجز حسینؑ کہو کائنات میں اپنے لہو کو مرہمِ زخمِ بشر کیا کتنی قریب ہو گئی راہِ تلاشِ حق حق تھا اُدھر حسینؑ نے چہرہ جدھر کیا منزل نہ اس کے پاؤں کو چومے تو کیا کرے گردن کٹا کے جس نے شروع سفر کیا ناموس اس کی در بدری سےہوئی دو چار خالق نے جس کے واسطے کعبے میں در کیا نورِ خدا بچا رہے ظلمت کی آنچ سے شبیرؑ نےیہ کام فقط عمر بھر کیا بچے کو قبر کھود کے اس میں سُلا دیا مشکل تھا کام شاہِ ہدیٰؑ نے مگر کیا