وحید الحسن ہاشمی

وحید الحسن ہاشمی

تہذیبِ زندگی کا جو چہرہ بحال ہے

    تہذیبِ زندگی کا جو چہرہ بحال ہے یہ آمنہؑ کی گود کا سارا کمال ہے ان تک خیال جا نہیں سکتا کسی طرح جن کے طفیل خود ہی وجودِ خیال ہے شق ہو کے چاند پھر اسی مرکز پہ آ گیا وجہِ کشش نہیں یہ نبیؐ کا کمال ہے عشقِ محمدیؐ کی جھلک وہ دُور ہے جس آئینے میں ردِّ اطاعت کا بال ہے تنہا ہوئے تو دل میں مدینہ بسا لیا زخمِ مفارقت کا یہی اندمال ہے چاہیں تو یہ اُلٹ دیں بساطِ زمیں ابھی لیکن بقائے نسلِ بشر کا خیال ہے پہنچا جہاں حضورؐ کا نقشِ قدم وہاں ذہنِ بشر کی اب بھی رسائی محال ہے اپنی تو اے وحید گزرتی ہے اس طرح لب پر مرے کتاب ہے، سینے میں آلؑ ہے