شعورِ عشق، دلِ حق شناس رکھتے ہیں
شعورِ عشق، دلِ حق شناس رکھتے ہیں بہ فیضِ نعت، شفاعت کی آس رکھتے ہیں نبیؐ کا عشق ہے راہِ نجات کا ضامن یہ وہ سند ہے جو ہم اپنے پاس رکھتے ہیں ہمیں عزیز بہت ہیں کتاب اور عترت حضورؐ کہہ گئے ہم اس کا پاس رکھتے ہیں اسی لیے تو ہماری ہے منتظر جنت نبیؐ کے عشق کے پھولوں کی باس رکھتے ہیں جو عاشقانِ نبیؐ ہیں عجب ہے ان کا عمل بشکلِ اشک، وفا کی اساس رکھتے ہیں خدا کے اذن سے کرتا ہے بات حق کا نبیؐ ہم اپنے ذہن میں یہ اقتباس رکھتے ہیں وہی تو حُبِّ پیمبرؐ کے ہیں امین کہ جو بدن پہ فقر کا اپنے لباس رکھتے ہیں