جو مزہ اُن کی التفات میں ہے
-
جو مزہ اُن کی التفات میں ہے کب وہ شیرینیِ حیات میں ہے انؐ کے حسنِ کرم کی ہے خیرات آج جو کھ بھی کائنات میں ہے دو جہاں کے کمال کی منزل صرف سرکارؐ ہی کی ذات میں ہے جو نہ سمجھا حضورؐ کا پیغام وہ ابھی راہِ سومنات میں ہے عاشقانِ نبیؐ سمجھتے ہیں وزن جو ان کی بات بات میں ہے ساری محرومیوں کی ایک دوا آپ کی شانِ التفات میں ہے شعر کا حسن ہے فقط دل میں فاعلاتن نہ فاعلات میں ہے ان کے دیدار کو ترستا ہوں یہ کمی بس مری حیات میں ہے