وحید الحسن ہاشمی

وحید الحسن ہاشمی

کیسے مہک سفر کرے رہتے ہوئے صبا سے دُور

    کیسے مہک سفر کرے رہتے ہوئے صبا سے دُور ہو نہ کبھی مرا وجود آپ کے نقشِ پا سے دُور میں ہوں اسیر آپ کا مجھ کو رہا نہ کیجئے دیکھا کبھی کسی نے بھی عشق رہا وفا سے دُور دین ہو یا کتاب ہو دونوں کا ماحصل ہے یہ آپ سے جو جدا ہوا بس وہ ہوا خدا سے دُور ایسی مسافرت کبھی ہو نہ سکی نتیجہ خیز ساتھ بھی رہنما کے اور مرضیِ رہنما سے دُور آپ ؐکے اشتیاق میں اب تو عجیب حال ہے مانگ رہا ہوں یہ دعا درد نہ ہو دوا سے دُور جن کی زباں پہ رات دن حق کے نبی کا نام تھا اب وہی لوگ ہو گئے سیرتِ مصطفےٰؐ سے دُور مقصدِ قرب آستاں پورا ہوا تو یوں ہوا دل کے قریں حضورؐ ہیں در ہے شکستہ پا سے دُور قربِ خدا کے راستے ڈھونڈیں گے تم کو خود وحید پہلے تمہارا دل تو ہو اُلفتِ ماسوا سے دُور