کسی کو کیا، فلک سے کیوں چلا تارا ،کہاں ٹھہرا
کسی کو کیا، فلک سے کیوں چلا تارا ،کہاں ٹھہرا جہاں اللہ کا چہرہ نظر آیا وہاں ٹھہرا نہ جانے اک ذرا سے لفظ میں کیا کیا ہیں تاثیریں ادھر منہ سے علیؑ نکلا ،اُدھر دردِ نہاں ٹھہرا جسے دیکھو اسی نے نصرتِ حق کی قسم کھائی مگر سچا بس اک عمرانؑ ہی کا خانداں ٹھہرا قیامت تک اسے اک سائباں کی جستجو رہتی علیؑ ضامن ہوئے تو پھر زمیں پر آسماں ٹھہرا وہ لہجہ خطبۂ عقدِ نبیؐ کا اور ابو طالبؑ وہی لہجہ تھا جو قرآں کا اندازِ بیاں ٹھہرا خدا خواہاں تھا اس کے گھر میں اک ہمنام آ جائے وگرنہ گھر کی کیا حاجت اسے وہ لامکاں ٹھہرا تعصب کی کوئی حد ہے کہ شک ہے اس کے ایماں میں پسر جس مردِ حق کا گُلِّ ایماں کا نشاں ٹھہرا جسے منہ میں زباں دے کر نبیؐ کعبے میں چپ چپ ہیں وہی بچہ بڑا ہو کر نبوّت کی زباں ٹھہرا