جشنِ طرب ہے یا کوئی بزمِ ثواب ہے
جشنِ طرب ہے یا کوئی بزمِ ثواب ہے ذکرِ علیؑ نہیں ہے تو میرا جواب ہے برہم ہے کیوں علیؑ کی ولایت پہ مجھ سے خلق یا رب مرا نہیں یہ ترا انتخاب ہے خوشبوئے خلد جس کے پسینے سے بھیک لے میں کیوں کہوں کہ اس کا پسینہ گلاب ہے جو روک لے نظامِ جہاں کو وہ آفتاب روکے جو آفتاب کو وہ بوترابؑ ہے انگڑائی لے رہی ہے زمینِ غدیرِ خُم یہ زلزلہ نہیں ہے، علیؑ کا شباب ہے اترا رہے ہو چاند پہ رکھ کر قدم مگر دیکھو نبیؐ کے ہاتھ پہ اک آفتاب ہے یہ مظہرِ جلالِ محمدؐ نہیں کوئی دستِ نبیؑ پہ امرِ خدا کا شباب ہے ہےانقلاب جنبشِ پائے علیؑ کا نام ڈھونڈو وہیں علی ؑ کو جہاں انقلاب ہے