وحید الحسن ہاشمی

وحید الحسن ہاشمی

تمام عمر طریقہ یہی رہا اپنا

    تمام عمر طریقہ یہی رہا اپنا علیؑ کا نام لیا کام بن گیا اپنا مرے سفر میں، نجف بھی ہے، کربلا بھی ہے الگ ہے سارے زمانے سے راستا اپنا وہ ہاتھ ملتے رہیں جن کے رہنما نہ رہے خدا کا شکر ہے قائم ہے رہنما اپنا نجات کے لیے غیروں سے کیوں مدد مانگیں رسولؐ اپنا، امامؑ اپنا ،ہے خدا اپنا ذرا بھی پاؤں پھسلنے کا احتمال نہیں علیؑ کے گرد ہے بخشش کا دائرہ اپنا علیؑ کی تیغ کے سائے میں ہم ہیں جب محفوظ جدید دور کا مرحب کرے گا کیا اپنا مجھے نجف سے اٹھانا فرشتگانِ حساب کہ بعدِ مرگ بدل جائے گا پتہ اپنا زباں سے کرنے لگوں گا میں ورد نادِ علیؑ لحد میں ہو گا جو مولاؑ سے سامنا اپنا