وحید الحسن ہاشمی

وحید الحسن ہاشمی

مراد دل کی بشر عمر بھر نہ پائے گا

    مراد دل کی بشر عمر بھر نہ پائے گا علیؑ کا نام نہ جب تک زباں پہ آئے گا سوئے عدم میں چلا ہوں یہی یقیں لے کر علیؑ ہی حشر کے میداں میں کام آئے گا علاج دل کی کسک کا اِدھر اُدھر سے نہ کر علیؑ کے ذکر سے تسکین قلب پائے گا یہ سوچ کر ہی نبوّت ہے منتظر اب تک علیؑ ہی خانۂ کعبہ کے بُت گرائے گا جہاں بھی ذکر ِمہمات ہو گا عالم میں بہادروں میں علیؑ ہی کا نام آئے گا نبیؐ یہ کہتے ہوئے جا رہے ہیں دنیا سے خدا کے دین کو بس اِک علیؑ بچائے گا مٹانا چاہے گی پیغامِ حق کو جب دنیا تو سامنے ابو طالبؑ کا لال آئے گا تھا انتظار خدا کو فقط علیؑ کے لیے جدارِ کعبہ میں اِک دَر نیا بنائے گا