وحید الحسن ہاشمی

وحید الحسن ہاشمی

بیٹھے جو لوگ مصلحتِ دل کی دل کی ناؤ پر

    بیٹھے جو لوگ مصلحتِ دل کی دل کی ناؤ پر ان کا مدارِ ذوقِ سفر ہے بہاؤ پر طوفانِ زندگی سے ڈریں وہ جنہیں ہو شک ہم کیوں ڈریں ہمیں تو بھروسہ ہے ناؤ پر ایسے علیؑ کو چھوڑ کے مضطر ہے زندگی یہ قافلہ پہنچ نہ سکے گا پڑاؤ پر حیرت ہے وہ بھی لاتے ہیں قرآن سے سند مٹی جو بیچتے رہے سونے کے بھاؤ پر کہتے ہیں اہل بیت پیمبرؑ جنہیں وہی چودہ سواریاں ہیں نبوّت کی ناؤ پر دامن علیؑ کا چھوڑ کے کرتے ہیں جو سفر وہ بے خبر سوار ہے کاغذ کی ناؤ پر طوفان طاقتوں کے اُبلتے رہے مگر آیا نہ اہلبیت ؑکا ساحل کٹاؤپر مختار کائنات ہو اور بھوک سے نڈھال سلطانیاں نثار ہیں اس رکھ رکھاؤ پر