ہر سعادت کی بلندی پہ مقام آئے گا
ہر سعادت کی بلندی پہ مقام آئے گا تذکرہ حق کا کہیں ہو تراؑ نام آئے گا کیوں نہ بھائی کو کلیجے سے لگائے بھائی آج کمسن ہے مگر کل یہی کام آئے گا ہوں گی جس بزم میں اللہ و نبیؐ کی باتیں بیچ میں نفس پیمبرؐ کا بھی نام آئے گا حق کی تبلیغ کا آغاز رسالت سے ہوا اب امامت کے سہارے سے دوام آئے گا اس تیقن سے سوئے ملکِ عدم جاتا ہوں جب کوئی کام نہ آئے گا امام آئے گا ایک تمہید تھی موسیٰؑ کے تکلم کی ادا اب کلیم آیا ہے اب لطفِ کلام آئے گا بے طلب رند رہیں تشنہ تو رہ جائیں وحید تو نہ گھبرا کہ ترے واسطے جام آئے گا