گروہِ شر میں وہی جنگ کی فضا ہے ابھی
گروہِ شر میں وہی جنگ کی فضا ہے ابھی حسنؑ کی صلح کا نقّارہ بج رہا ہے ابھی عدم کی راہ سے ہے بے خبر وجودِ حسنؑ حسنؑ جئیں کہ یہی مرضیِ خدا ہے ابھی ابھی برستے ہیں نامِ حسنؑ پہ ظلم کے تیر حسنؑ کے نام کو دشمن کا سامنا ہےابھی ابھی جہان میں باقی ہے اہلِ بیتؑ کی فرد خدا کا شکر کہ ہر دَرد کی دَوا ہے ابھی حسنؑ نے توڑے تھے جس سے ملوکیت کے صنم بشر کے دل میں وہ احساس جاگتا ہے ابھی انہی کی صلح سے آیا شباب قاسم ؑپر حسنؑ ہیں زندہ کہ موجود کربلا ہے ابھی حسنؑ کا قتل وہ دنیا میں قتل ہے جس میں ہے زہر سامنے قاتل مگرچھپا ہے ابھی ہزاروں ظلم کے طوفاں ڈبو نہیں سکتے ہماری کشتی کا موجود ناخدا ہے ابھی