ظلم کی رات مختصر ہو گی
-
ظلم کی رات مختصر ہو گی اب حسینؑ آئے ہیں سحر ہو گی جس زمیں پر وہ بس گئے کچھ دن خاک بھی اس کی معتبر ہو گی آج یکجا ہوئے ہیں اہلِ کِسا عید اب فاطمہؑ کے گھر ہو گی کیا خبر تھی کہ پیشِ حق ان کی کمسنی اتنی معتبر ہو گی ان سے پھر کر جو سو گیا شب میں پھر نہ اس کی کبھی سحر ہو گی تم کو مل جائیں گے حسینؑ ادھر مرضیٰ مصطفےٰؐ جدھر ہو گی جس میں شامل نہیں ہے بوئے حسینؑ وہ دَوا خاک کارگر ہو گی پرسشِ حبِ آلؑ جب بھی ہوئی ارضِ ملتان عرش پر ہو گی